ان کی آنکھوں میں پانی آ گیا ، انہوں نے آنسو روکنے کیلئے تیز تیز پلکیں ہلائیں اور پھر مسکرا کر بولے ’’مجھے کبھی قدرت کی مصلحت سمجھ نہیں آئی ، قدرت نے اگر ان کی جان لینی تھی تو وہ آرام سے لے لیتی، وہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کی طرح چند لمحوں میں فوت ہو جاتیں، اللہ تعالیٰ کو انہیں یوں چار برس تک ہسپتالوں میں دھکے کھلانے کی کیا ضرورت تھی، مجھے ان کی تکلیف نہیں بھولتی ، میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو میرے دماغ میں ان کی چیخیں گونجنے لگتی ہیں ، میں تڑپ کر اٹھ جاتا ہوں اور اس کے بعد مجھے ساری رات نیند نہیں آتی، انہوں نے رومال سے آنکھیں صاف کیں، ٹھنڈا سانس بھر اور خاموش ہو گئے۔
وہ پاکستان کے سب سے بڑے صنعت کار ہیں ، ان کی فیکٹریوں میں کتنے لوگ کام کرتے ہیں ، ان کے کتنے بینک ا کاؤنٹس ہیں اوران اکاؤنٹس میں روزانہ کتنی رقم جمع ہوتی ہے ، وہ نہیں جانتے ، وہ پچھلے 20برس سے پاکستان کی 20امیر ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں ان کے پاس حقیقتاً دنیا کی ہر نعمت ہے انہوں نے زندگی میں خوشی، کامیابی اور آسائش کو بڑے قریب سے دیکھا ، وہ ایک ایسے شخص ہیں جن پر لوگ رشک کرتے ہیں ، لوگ ان جیسا کامیاب شخص بننا چاہتے ہیں لیکن پھر ان کی زندگی میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ، ان کی بیگم کو کینسر ہو گیا ، ان کے پاس بے تحاشا دولت تھی لٰہذا ان کا خیال تھا ان کی دولت کے سامنےیہ مرض بہت چھوٹا ہے ، وہ دنیا کے بہترین ہسپتالوں اور ماہرترین ڈاکٹروں سے بیگم کا علاج کرائیں گے اور بیگم صحت مند ہو کر گھر آ جائیں گی۔ انہوں نے دنیا کے ایک سرے سے علاج شروع کیا اور دوسرے کونے تک چلے گئے ، وہ بیگم کو لے کر دنیا کے تمام بڑے ڈاکٹروں کے پاس گئے انہوں نے بیگم کے سرہانے قیمتی ترین ادویات کا ڈھیر لگا دیا انہوں نے کوئی پیر فقیر ، کوئی حکیم کوئی بابا نہ چھوڑا لیکن بیگم کی تکلیف میں اضافہ ہوتا چلا گیا ، وہ چار سال تک ہسپتالوں میں دھکے کھاتے رہے مگر بیگم کے درد میں کمی نہ آئی، یہاں تک کہ بیگم صاحبہ کو مارفین کے ٹیکے لگنے شروع ہو گئے پچھلے سال بیگم صاحبہ کا انتقال ہو گیا میں تعزیت کیلئے ان کے پاس حاضر ہوا ، وہ بڑی دیر تک بیگم صاحبہ کاذکر کرتے رہے ، وہ کہتے تھے ’’ مجھے ان کے انتقال کا دکھ نہیں ، دنیا کے ہر شخص نے فوت ہو جانا ہے ، مجھے صرف ان کی تکلیف کا دکھ ہے ان کا آخری وقت بہت کرب ، بہت تکلیف میںگزرا تھا، میں بھی ان دنوں کو یاد کرتا ہوں تو میں اندر سے زخمی ہو جاتا ہوں میں اپنے دوستوں سے ذکر کرتا ہوں تو سب اسے اللہ کی رضا ، اسے قدرت کی مصلحت کہتے ہیں لیکن میرا دل نہیں مانتا میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں ایک شخص کو چار سال تک مسلسلتکلیف دینے میں اللہ کی کیا مصلحت ہو سکتی ہے ان میں اللہ کی کیا رضا ہو سکتی ہے میں اپنی بیگم کو جانتا ہوں وہ بے انتہا پرہیز گار، متقی ، مخلص اور سخی خاتون تھیں ، وہ ہر سال کروڑوں روپے ضرورت مندوں میں تقسیم کرتی تھیں انہوں نے سینکڑوں غریب بچوں کو تعلیم دلائی اور ہزاروں بچیوں کی شادیاں کرائیں اور وہ چیرٹی ہسپتال چلاتی تھیں ، ایسی خاتون کو اتنی اذیت دینا یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے۔‘‘
میں ان کا سوال سمجھ گیا ، میں نے ان سے غرض کیا ’’ سر شاید آپ کو معلوم نہیں دنیا کے تمام طاقتور، صاحب اقتدار ، صنعت کار اور سرمایہ کار لوگ اور ان کے اہل خانہ کسی نئی ، حیران کن اور شدید بیماری کا شکار ہوتے ہیں ، یہ لوگ عموماً کسی ایسے مرض کے ہاتھوں فوت ہوتے ہیں جو میڈیکل سائنس کے لئے نیا ہوتا ہے یا پھر اس مرض کی یہ نوعت انوکھی ہوتی ہے آپ کیونکہ پاکستان کے امراء میں شمار ہوتے ہیں لہذا آپ کی بیگم صاحبہ بھی قدرت کے اس قانون کا شکار ہو گئیں‘‘ مجھے ان کے چہرے پر حیرت کے آثار دکھائی دیئے مجھے محسوس ہوا وہ میری بات پر یقین کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں میں نے عرض کیا ’’ سر آپ دنیا کے تمام بڑے لوگوں کی تاریخ نکال کر دیکھ لیں ، آپ کو وہ لوگ اپنی محبوب ہستیوں کو ہسپتالوں میں اٹھائے پھرتے نظر آئیں گے‘‘ انہوں نے پہلو بدلا اور ٹھنڈے لہجے میں لولے ’’ لیکن کیوں، میں قدرت کی یہ مصلحت جاننا چاہتا ہوں‘‘ میں نے مسکرا کر عرض کیا ’’ سر اس میں قدرت کی تین مصلحتیں ہوتی ہیں اول بڑے لوگوں کی تکلیف بنیادی طور پر صدقہ جاریہ ہوتا ہے یہ لوگ جب کسی حیران کن بیماری کا شکار ہوتے ہیں تو دنیا بھر کے سائنس دان ، ڈاکٹر اس بیماری پر ریسرچ شروع کر دیتے ہیں ، ماہرین اس بیماری کا علاج تلاش کرتے ہیں اس کی دوا بناتے ہیں اور یہ دوا، یہ علاج اور یہ تحقیق آگے چل کر عام انسان کو فائدہ پہنچاتی ہے ، آپ ڈسپرین سے انسولین تک دنیا کی تمام ادویات کی ہسٹری دیکھ لیں ان تمام ادویات کا محرک آپ جیسے بڑے لوگ تھے یہ ادویات بنیادی طور پر امراء کے لئے ایجاد ہوئی تھیں لیکن پھر ان کا فیض عام انسان کو پہنچا، دوم بڑے لوگوں کی تکلیفوں سے دنیا میں بے شمار نئے ہسپتال بنے تھے آپ دنیا کے تمام بڑے ہسپتالوں کی تاریخ نکال کر دیکھ لیں ، یہ تمام ہسپتال آپ جیسے لوگوں نے اپنے اپنے پیاروں کی یاد میں بنوائے تھے اگر آپ جیسے لوگوں کے پیارے کسی مہلک بیماری کا شکار نہ ہوتے ، آپ لوگ انہیں اٹھا کر طبیبوں اور ہسپتالوںمیں نہ پھرتے تو یہ ہسپتال، یہ لیبارٹریاں اور یہ کیئرسنٹر نہ بنتے اور آج ان اداروں سے عام لوگ فائدہ نہ اٹھا رہے ہوتے‘‘ وہ خاموشی سے میری بات سنتے رہے میں نے عرض کیا ’’ مثلاً سر آپ عمران خان کو لیجئے ، اگر عمران خان کی والدہ کو کینسر نہ ہوتا تو شاید عمران خان کو اس مرض کا پتہ نہ چلتا ، انہیں یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ پاکستان میں کوئی کینسر ہسپتال نہیں ، یہ عمران خان کی والدہ کی بیماری کا صدقہ جاریہ ہے کہ آج پاکستان میں نہ صرف شوکت خانم میموریل ہسپتال ہے بلکہ اس میں ہر مہینے سینکڑوں ہزاروں غریبوں کا علاج ہوتا ہے اسی طرح آپ دنیا کے دوسرے بڑے لوگوں کو دیکھئے اینٹل کمپنی کا مالک اینڈریو گرو’’پراسٹریٹ کینسر‘‘ کا مریض ہے اس نے اس مرض کے علاج کے لئے اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ وقف کر رکھا ہے اس وقت دنیا کی 11 بڑی لیبارٹریاں اینڈریوگرو کیلئے علاج دریافت کر رہی ہیں ، ذرا سوچئے جب یہ علاج دریافت ہو گا تو کتنے عام لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں گے اسی طرح دنیا کا امیر ترین شخص بل گیٹس بھی ایک عجیب و غریب مرض کا شکار ہے وہ دودھ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ، بل گیٹس ہر وقت دودھ پیتا رہتا ہے اس کی میز اس کی گاڑی اس کے بریف کیس حتیٰ کہ اس کی جیب تک میں دودھ کا پیکٹ ہوتا ہے سائنس دان اس عجیب و غریب بیماری کے بارے میں تحقیق کر رہے ہیں اس تحقیق کے تمام تر اخراجات بل گیٹس برداشت کر رہا ہے اسی طرح بل گیٹس کا ایک قریب دوست ایڈز کا شکار ہو گیا ، بل گیٹس نے اس کا علاج کرایا لیکن وہ فوت ہو گیا اس وقت بل گیٹس کو اس مرض کی شدت کا اندازہ ہوا لٰہذا دنیا میں اس وقت ایڈزکے بارے میں جتنی ریسرچ ہورہی ہے اس کے تمام اخراجات بل گیٹس ادا کررہا ہے‘ دنیا کا پانچواں امیر ترین شخص شہزادہ ولید بن طلال ٹکٹکی کے مرض کا شکار ہے‘ اس کی آنکھوں کی پتلیاں حرکت نہیں کرتیں‘ وہ صرف سیدھا دیکھ سکتا ہے‘ اس وقت اس مرض پر تحقیق ہورہی ہے اور اس تحقیق کے اخراجات بھی شہزادہ طلال برداشت کررہا ہے‘ آپ ذرا سوچئے جب اس مرض کا علاج دریافت ہو گا تو اس سے کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ کتنے لوگوں کی زندگیاں تبدیل ہو جائیں گی۔‘‘
وہ خاموشی سے میری بات سنتے رہے‘ میں نے عرض کیا ’’سر بیگم صاحبہ کی اس بیماری میں اللہ کی ایک تیسری مصلحت بھی پوشیدہ تھی‘ آپ نے اس مصلحت پر غور نہیں کیا ہو گا‘ آپ ذرا یاد کیجئے جب آپ بیگم صاحبہ کو لے کر کسی ڈاکٹر‘ کسی ہسپتال میں جاتے تھے تو وہاں آپ اور بیگم صاحبہ کو کتنے ضرورت مند لوگ ملتے تھے‘ یہ وہ لوگ تھے جن کے پیارے ہسپتالوں میں داخل تھے لیکن ان کے پاس دواؤں اور خون کے لیے پیسے نہیں تھے‘ ان دنوں آپ کا دل نرم تھا چنانچہ مجھے یقین ہے آپ نے بے شمار ضرورت مندوں کی مدد کی ہو گی‘‘ میں خاموش ہو کر ان کی طرف دیکھنے لگا۔ انہوں نے فوراً ہاں میں سر ہلا دیا‘ میں نے عرض کیا ’’سر اگر بیگم صاحبہ اپنے بیڈ روم میں فوت ہو جاتیں تو آپ ان ہسپتالوں کا چکر نہ لگاتے‘ آپ ان ضرورت مندوں سے نہ ملتے‘ آپ ان کی امداد نہ کرتے اور یوں ان لوگوں کے عزیزوں کو صحت نہ ملتی لہٰذا سر قدرت بیگم صاحبہ کی تکلیف کے ذریعے آپ کو ان لوگوں تک پہنچانا چاہتی تھی‘ آپ ان لوگوں تک پہنچے‘ آپ نے چند کروڑ روپے خرچ کئے اور آپ کے یہ چند کروڑ روپے بے شمار لوگوں کو زندگی دے گئے اور یوں بیگم صاحبہ کی تکلیف سے بے شمار لوگوں کو شفا ملی‘ آپ ان لوگوں کو یاد کیجئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیجئے‘‘ میں خاموش ہو گیا۔
انہوں نے سر اٹھایا اور مسکرا کر بولے ’’واقعی میں نے ان پہلوؤں پر کبھی غور نہیں کیا تھا‘ جب آپ گفتگو کررہے تھے تو میں سوچ رہا تھا مجھے دو کام کرنے چاہئیں‘ مجھے بیگم صاحبہ کے نام سے کینسر کا ایک ایسا ہسپتال بنانا چاہیے جس میں غریبوں کا مفت علاج ہو اور مجھے ایک ایسا میڈیکل کالج بھی بنانا چاہیے جس میں ڈاکٹروں کو کینسر کی سپیشلائزیشن کرائی جائے‘ یہ سپیشلائزیشن بھی فری ہو‘ بس ڈاکٹروں سے یہ وعدہ لیا جائے وہ زندگی بھر غریبوں کا مفت علاج کریں گے‘ ان کے الفاظ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی‘ میں نے ان سے عرض کیا ’’سر یہ تھی اللہ تعالیٰ کی وہ مصلحت جس تک لے جانے
کے لیے قدرت کو آپ پر چار سال محنت کرنا پڑی۔

مصلحت۔۔۔۔۔ ملک ریاض حسین کا لم حقیقتMaslihat-By Malik Riaz

One thought on “مصلحت۔۔۔۔۔ ملک ریاض حسین کا لم حقیقتMaslihat-By Malik Riaz

  • 01/08/2014 at 5:02 pm
    Permalink

    ملک ریاض کی اس ملک اور قوم کے لیے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بس آنکھوں پر کوئی سیاسی لسانی پردہ نہ پڑا ہو
    پاکستان میں تین ہزار ایسے افراد ہیں جنکی ماہانہ آمدنی ایک کروڑ سے زیادہ ہے تین سو افراد ارب پتی ہیں جن میں سے ایک ملک ریاض بھی ہیں مگر اس ملک اور عوام پر جب بھی کوئ مشکل گھڑی آتی ہے ملک ریاض دل کھول کر اپنے ملک اور قوم کی مدد میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ جبکہ باقی تمام صاحب ثروت لوگ ایسے موقعوں پر خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔ مگر ہم عجیب قوم ہیں جو ہمارے لیے مخلص ہو ہم اسے ہی سب سے زیادہ ستاتے ہیں۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: