علی سخن ور
ضربت خان کو میں کچھ زیادہ نہیں جانتا تھا، مجھے تو بس اتنا ہی معلوم تھا کہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان کا رہائشی ہے، اس کا چھوٹا بھائی دل کے بائی پاس آپریشن کےلئے ملتان کے کارڈیالوجی ہسپتال میں داخل تھا، آپریشن میں کچھ پیچیدگی کے باعث ڈاکٹروں کو ایک بار پھر محنت کرنا پڑی اور اس صورتحال میں اس کے بھائی کو او نیگٹیو خون کی ضرورت تھی۔ او نیگٹیو،خون کا ایک نایاب گروپ ہے، ضربت خان ایک روز پہلے اپنے بہن بھائیوں کی مدد سے اس گروپ کے خون کی کئی بوتلوں کا انتظام کر چکا تھا، اب پردیس میں مزید خون کہاں سے لائے۔اس کے گاﺅں سے ملتان تک کا سفر کم از کم آٹھ گھنٹوں کا تھا جبکہ ڈاکٹروں نے اسے یہ انتظام کرنے کےلئے چار پانچ گھنٹے کی مہلت دی تھی۔اب ضربت خان کے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ شہر کی سڑکوں پر نکلے، سکول‘ کالجوں میں جائے، بازاروں اور پارکوں میں تلاش کرے، مسجدوں میں اعلان کرائے کہ اس کے بھائی کو او نیگٹیو خون کی اشد ضرورت ہے۔ایک سرکاری دفتر میں اس کی مجھ سے سر راہ ملاقات ہوگئی۔ جیسے اس نے بےشمار لوگوں کو اپنی داستان سنائی تھی مجھے بھی سنادی اور مدد کا طالب ہوا۔ میں نے اپنے جاننے والے دو چار لوگوں سے فون پر رابطہ کیا مگر کامیابی نہیں ہوئی۔جو ڈاکٹر صاحب ضربت خان کے بھائی کا علاج کر رہے تھے، میں نے خبریںکے حوالے سے اپنا تعارف کراتے ہوئے، متعلقہ مریض کے بارے میں ان سے تفصیلات حاصل کیں لیکن مسئلہ اپنی جگہ موجود رہا۔سر پر بھاری سی پگڑی، بوسکی کا شلوار قمیض،اوپر دھاری دار واسکٹ اور خالص چمڑے کے سیاہ پشاوری سینڈل پہنے ہوئے ضربت خان کو اگلے منظر سے خوف آ رہا تھا ” صاحب تم کچھ کرو، ہمارا بھائی مر جائے گا“ میں مشورہ دینے کے علاوہ اور کیا کر سکتا تھا۔ ضربت خان کا ایک مسئلہ اور بھی تھا، وہ پشتو لہجے میں جس طرح اردو بولتا تھا اسے سمجھنا ہر آدمی کے بس میں نہیں تھا۔ وہ جمعہ کا دن تھا، میں نے ضربت خان کو ایک راستہ دکھایا کہ ایک بڑے سے کاغذ پر موٹے مارکر سے اپنی ساری بات لکھ لو اور کسی مدرسے یا مسجد میں چلے جاﺅ، جمعہ کی نماز میں لوگ معمول سے زیادہ ہوتے ہیں، شاید کوئی نہ کوئی مدد گار مل جائے۔ضربت خان نہایت شکرگزاری کے ساتھ مجھ سے رخصت ہوا اور رابطے میں رہنے کےلئے موبائل نمبروں کا تبادلہ بھی کر لیا۔
اگلے روز مجھے مصروفیت کے باعث اس کی خیریت معلوم کرنے کی مہلت نہیں مل سکی۔ اتوار کی دوپہر میں خود ہی کارڈیالوجی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں پہنچ گیا۔ ضربت خان باہر راہداری میں ایک بنچ پر بیٹھا اونگھ رہا تھا، مجھے دیکھ کر ایک دم چونک گیا، نہایت خلوص سے گلے ملا، میں نے پوچھا ”خان صاحب! بھائی کا حال اب کیسا ہے؟“ ضربت خان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ صاحب اللہ نے بڑا کرم کیا، میرا بھائی بچ گیا، آپ کے علاقے کے لوگ بہت اچھے ہیں مجھے تو دو بوتل خون کی ضرورت تھی، مجھے دس آدمی مل گئے۔میں نے اندر وارڈ میں جاکر اس کے بھائی کو دیکھا، ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر صاحب اتفاق سے میرے شناسا تھے۔ میں نے ان سے خصوصی توجہ کی درخوست کی اور باہر آگیا۔ ضربت خان مجھے نہایت اصرار سے چائے پلانے کینٹین پر لے گیا۔ خان صاحب! خون کا انتظام کیسے ہوا؟ میں نے چائے میں چینی چلاتے ہوئے پوچھا۔ خان صاحب کی آنکھیں ایک بار پھر نم ہوگئیں، کہنے لگے ”میں کاغذ پر مارکر سے اپنی درخواست لکھ کر ایک جامع مسجد پہنچا تو جماعت کھڑی ہونے والی تھی، اچھا بھلا ہجوم تھا۔ نماز ختم ہوتے ہی میں اپنی جگہ سے اٹھا اور وہ کاغذ لوگوں کے سامنے کر دیا اور خود بھی بلند آواز میں اپنا مسئلہ بیان کرتا رہا مگر لوگ شاید جلدی میں تھے میری زبان تو انہیں ویسے ہی سمجھ میں نہیں آرہی تھی، کاغذ پڑھنے کی بھی کسی نے زحمت نہیں کی، تاہم مدد کا جذبہ ہر ایک میں تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے میرے سامنے پانچ، دس، سو، پچاس اور پانچ سو والے نوٹوں کا ڈھیر لگ گیا،رفتہ رفتہ ساری مسجد خالی ہوگئی۔ایک آدمی نے کہیں دور سے مجھے آواز لگائی‘ خان صاحب اب بس بھی کرو، سب چلے گئے ہیں، تم بھی جاﺅ۔ میں نہایت بے بسی کے ساتھ وہاں سے اٹھا، سارے نوٹوں کو جمع کیا اور مسجد ہی کے چندہ بکس میں ڈال دیا۔ میں بھکاری نہیں ہوں مجھے پیسوں کی کوئی کمی نہیں، مجھے تو بھائی کےلئے خون کا عطیہ درکار تھا لیکن لوگوں نے مجھے بھکاری سمجھ لیا۔احساس شرمندگی نے قدموں کو اتنا بوجھل کر دیا کہ ایک قدم چلنا بھی مشکل ہوگیا۔میں اپنے خیالات میں الجھا سڑک کے کنارے کنارے پیدل جارہا تھا کہ اچانک پولیس کی ایک گاڑی نے میرے بالکل نزدیک آکر بریک لگائی، ”خان صاحب! کدھر پھر رہے ہو؟ “گاڑی میں سے نہایت کرخت سی آواز آئی۔ ”شناختی کارڈ ہے؟“ میں نے جیب سے کارڈ نکالا اور پولیس والے کو دکھادیا اپنی مجبوری بھی بتائی مگر شاید پولیس والوں کو میری بات پر یقین نہیں آیا، حکم دیا کہ گاڑی میں بیٹھ جاﺅ۔مجھے اندازہ ہوچکا تھا کہ میں ایک نئی مصیبت میں پھنس چکا ہوں، مگر کیا کرتا، میرے پاس اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا مجبوراً گاڑی میں بیٹھ گیا۔راستے بھر دعا کرتا رہا کہ میرے اللہ مجھے اس مصیبت سے نکال دے۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد گاڑی کارڈیالوجی ہسپتال کے مین گیٹ سے اندر داخل ہورہی تھی۔ پولیس والے مجھے میرے بیان کی تصدیق کےلئے کارڈیالوجی ہسپتال لے آئے تھے۔ان کے ایک افسر نے ڈیوٹی ڈاکٹر سے میرے بھائی کے بارے میں مکمل معلومات لیں۔ میرے بارے میں بھی سرسری طور پر پوچھا اور پھر اطمینان ہونے پر وہاں سے باہر آگیا۔ میں راہداری میں ایک بنچ پر بیٹھا ہوا تھا۔ پولیس والا میرے قریب آیا اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا ”خان صاحب معذرت، ہماری مجبوری ہے، ہمیں ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔ اللہ آپ کے بھائی کو صحت دے“۔ مجھ سے معذرت معافی کے بعدوہ سب واپس چلے گئے۔ شاید ایک گھنٹہ گزرا تھا وہی پولیس والا ایک بار پھر مجھے ڈھونڈتا ہوا وہاں پہنچ گیا مگر اس بار وہ اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ سادہ کپڑوں میں تین افراد اور بھی تھے۔ آنے والے خطرے کے پیش نظر میں تھوڑا خبردار ہوگیا۔ پولیس والے نے قریب پہنچ پر مجھے سلام کیا اور کہنے لگا ”خان صاحب! بڑی تلاش کے بعدہماری فورس میں دو افراد ایسے نکلے جن کے خون کا گروپ او نیگٹیو ہے، میں انہیں ساتھ لے آیا ہوں، تیسرے ساتھی کا گروپ بی پازیٹو ہے، اس کا خون بلڈ بنک میں دے کر مطلوبہ خون حاصل کیا جاسکتا ہے“۔ پولیس والوں کا یہ رویہ میرے لئے بالکل نیا اور نا آشنا سا تھا۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا،اللہ نے پولیس والوں کے روپ میں میرے بھائی کےلئے زندگی کے فرشتے بھیج دیئے تھے۔میرے بھائی کو صحت مل گئی، اب وہ آئی سی یو سے وارڈ میں منتقل ہوگیا ہے“۔
ضربت خان کی یہ ساری روداد سن کر میرا سینہ تن گیا اور سر غرور سے بلند ہوگیا، میرے شہر کے پولیس والوں نے مجھ سمیت میرے وسیب کے تمام لوگوں کا مان بڑھا دیا۔کینٹین سے باہر نکلتے ہوئے ضربت خان نے مجھ سے کہا، ”صاحب! میں تمہارا ہمیشہ احسان مند رہوں گا۔ پٹھان احسان فراموش نہیں ہوتا۔ میں بھائی کی بیماری کا سن کر تین دن پہلے ہی دبئی سے آیا ہوں، ابھی اپنے گھر ڈی آئی خان بھی نہیں گیا، سیدھا ہسپتال آگیا تھا۔ دبئی میں میرا ٹرانسپورٹ کا بزنس ہے اور میں وہیں رہتا ہوں۔جب مسجد میں لوگ مجھے بھکاری سمجھ کر پیسے دے رہے تھے تو میری آنکھوں کے سامنے پاکستانی حساب سے لاکھوں روپے کا وہ چیک گھوم رہا تھا جس کے ذریعے ہر مہینے کی پہلی کو میں اپنے کاروباری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کرتا ہوں۔ مجھے کل بھی یقین تھا اور آج بھی میں اس بات پر قائل ہوں کہ پولیس‘ فوج‘ رینجرز‘ ایف سی‘ انٹیلی جنس غرض تمام سکیورٹی اداروں سے وابستہ لوگوں کو اگر جرائم پیشہ افراد کی عینک سے دیکھا جائے تویقینا ان سے زیادہ برا اور کوئی بھی نہیں لیکن اگر ان سب کو شریف آدمی کی عینک لگا کر دیکھا جائے تو ہمیںمخلص، ہمدرد، دیانتدار اور محب وطن چہروں کی بہتات ملے گی۔عینک کا غلط نمبر آنکھوں کو برباد کر دیتا ہے۔

 

فرشتے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: