گریبان… منوبھائی

عزیزم اسلم شاہد لکھتے ہیں کہ ”گریبان کی تازہ اشاعت میں آپ نے وطن عزیز کے ایک معروف و متمول بزنس مین کی جانب سے اہل زر کے نام ایک کھلے خط کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں دولت مند گھرانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فی الفور پانچ کروڑ روپے فی گھرانہ سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے لئے دیدیں اور پھر ماہانہ بیس لاکھ روپے اس مد میں وقف کریں۔ آپ نے اپنے قارئین کے وسیع حلقے سے کہا ہے کہ وہ اس کھلے خط کے متوقع جواب کے بارے میں اپنے اندازے بتائیں۔
یہ عاجز اس حوالے سے پنجاب کے بعض علاقوں میں رائج ایک ڈھکوسلہ نما لوک داستان کا ذکر کرنا چاہتا ہے کہ اس میں کھلے خط کا متوقع جواب بھی پنہاں ہے۔ داستان کچھ یوں ہے کہ پرانے زمانے میں کسی گاؤں میں ایک شخص ایسے موذی مرض کا شکار ہوا کہ بالکل قریب المرگ ہوگیا۔ لواحقین اس کی زندگی سے مایوس ہی ہوگئے تھے کہ ایک عمررسیدہ طبیب حاذق نے یہ کہہ کر ان کی ڈھارس بندھائی کہ وہ اس مرض کا علاج کر سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ اسے کہیں سے ایک سو سال پرانا گڑ لاکر دیا جائے جس سے وہ مریض کے لئے دوا تیار کرے گا۔ زندگی بچانے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں۔
مرتے کیا نہ کرتے۔ مریض کے گھرانے کے تمام افراد سو سال قدیم گڑ کی تلاش میں قریہ قریہ بستی بستی کی خاک چھاننے نکل کھڑے ہوئے مگر یہ جستجو گڑ کی نہ تھی گویا عنقا کی تھی کہ ملنا تھانہ ملا۔ پرانی شراب کی طرح اس زمانے میں برسوں پرانا گڑ بھی اپنی مٹھاس اور تاثیر کے اعتبار سے خاصے کی چیز ہوتا تھا اور ایک سو سال پرانا گڑ دستیاب ہونا قریب قریب ناممکن ہی تھا۔
لواحقین کی بڑی مایوسی کو اس اطلاع نے بڑی امید میں بدل دیا کہ فلاں گاؤں کے سب سے بڑے رئیس خان بہادر فلاں ابن فلاں کے ذاتی گوشہ خانہ میں یہ گوہر یکتا موجود ہے۔ مریض کے سب اہل خانہ بلکہ گاؤں والے میلوں کی مسافت طے کرکے خان بہادر کے دراقدس پر دست بستہ حاضر ہوگئے اور عرض گزاری کہ حضور والا اس نعمت کا تھوڑا سا حصہ ان کے پیارے کی جان بچانے کے لئے عنایت فرما دیں اور ہم سب کی دعائیں لیں۔
رئیس اعظم خان بہادر فلاں ابن فلاں نے خالصتاً خاندانی شرفا اور نجیب لوگوں کی طرح نہایت وقار اور تحمل کے ساتھ لوگوں کی پوری بات سنی اور پھر اسی تحمل اور تجمل کے ساتھ، زیر لب مسکراتے ہوئے ان فقرے طلب گاروں کو جواب دیا ”بھولے بادشاہو! میرے پاس اپنے بزرگوں کی نشانی ایک سو سال کی قدامت کا گڑ موجود ضرور ہے لیکن اس ایک سو سال میں سینکڑوں لوگ تمہاری طرح اس کی تلاش میں ہمارے پاس آتے بھی رہے ہیں کہ ذرا سا گڑ حاصل کرسکیں اور اپنے پیاروں کی جان بچا سکیں۔ اگر میں اور میرے باپ دادا احمق ہوتے اور ہر طلب گار کے حوالے تھوڑا تھوڑا گڑ کرتے رہتے تو بھلا تم ہی بتاؤ کہ آج میرے خاندان کو سوسال پرانا گڑ رکھنے کا جو اعزاز حاصل ہے کیا فخر کرنے کے لئے ہمارے پاس اب تک کچھ بچا ہوتا؟؟…
پیارے منوبھائی! عہد حاضر کے ان خاندانی شرفا کے پاس بھی وجہ افتخار ان کا یہی گڑ ہے اگر یہ لوگ ہر مصیبت، آفت، مشکل اور آزمائش کے وقت اس دولت کو یوں لٹانے لگے تو احمق بھی کہلائیں گے اور کل ان کے پاس فخر کرنے کو بھلا کیا بچے گا؟؟
بہت ہی نیک خواہشات کے ساتھ اسلم شاہد
اسلم شاہد کے نوازش نامے کے علاوہ مجھے اپنے ایک ساتھی ناصر بشیر کے دو بھیگے ہوئے اشعار اور ایک سیلابی غزل بھی موصول ہوئی ہے۔ بھیگے ہوئے اشعار یوں ہیں کہ:
مجھ سے بھیگے ہوئے منظر نہیں دیکھے جاتے
بپھرے پانی میں کھڑے گھر نہیں دیکھے جاتے
چلتے چلتے جو میرے گاؤں تک آپہنچے ہیں
چھوٹے چھوٹے یہ سمندر نہیں دیکھے جاتے
اس پر شہزاد احمد کا یہ شعر بھی یاد آتا ہے کہ:
میں کہ خوش ہوتا تھا دریا کی روانی دیکھ کر
کانپ اٹھا ہوں گلی کوچوں میں پانی دیکھ کر
ناصر بشیر کی ”سیلابی غزل“ یوں ہے:
یہ سیل آب نہ کیوں سیل غم دکھائی دے
جسے بھی دیکھئے با چشم غم دکھائی دے
طلوع مہر کا انداز باغیانہ ہے
چمکتی صبح بھی شام الم دکھائی دے
زمین چاٹتے، لاشیں اگلتے پانی میں
سمندروں کا سا جا و حشم دکھائی دے
یہ بے کسوں کو زیادہ دکھائی دیتا ہے
یہ چارہ گر کو مگر کم سے کم دکھائی دے
یہ روتے چیختے منظر بناتا جاتا ہے
مصوروں کو یہ سوئے قلم دکھائی دے
کسی کی سنتا نہیں، اپنی بات منوائے
سخن وروں کو ستم گر صنم دکھائی دے
بہت کہانیاں اس نے سمیٹ رکھی ہیں
فسانہ گر کو یہ کاغذ قلم دکھائی دے
اس دوران میرے ایک مہربان اور محترم شاعر ظفر اقبال نے بھی کچھ اشعار عنایت فرمائے ہیں جن کے ایک ایک مصرے میں ایک ایک ہزار داستانیں موجود ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
یہ بظاہر جو سیدھے سادھے ہیں
جان لو ان کے جو ارادے ہیں
دے بھی سکتے ہیں آپ کو للہ مات
یہ جو بے حیثیت پیارے ہیں
تن پہ خوابوں کے چیتھڑے ہیں اور
وہ بھی پورے نہیں ہیں آدھے ہیں
کچھ زمین بھی سکڑ گئی شاید
اور کچھ لوگ بھی زیادہ ہیں
ہو رہی ہے گزر بسر جن پر
کچھ امیدیں ہیں، چند وعدے ہیں
کتنے ہمدرد ہیں غریبوں کے
یہ جو دس بیس خانوادے ہیں
بھوکی ننگی ہے قوم اور ان کے
کیا تن و توش کیا لبادے ہیں
کھا رہے ہیں حرام کی روزی
اور سارے حلال زادے ہیں
یہی مشکل کشا ہمارے ظفر#
بوجھ اپنا بھی ہم پہ لادے ہیں

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=460669

سو سال پرانے گڑ کی داستان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: