پچھلے سال کی بات ہے موبائل فون پر ایک ٹیکسٹ میسج آیا کہ میرا نام حمیرا ہے۔ میں آپ کی بیوی کے ساتھ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہتی تھی۔ مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ میں نے اپنی بیوی سے پوچھا اور حمیرا کو فون کیا تو مجھے پتہ نہیں تھا کہ ایک دردناک کہانی میرا انتظار کر رہی تھی۔ حمیرا کی شادی راشد سے ہوئی تھی جو 1994ء سے زرعی ترقیاتی بینک اسلام آباد میں کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ میں ایک اچھے عہدے پر نوکری کر رہا تھا۔ 18 اکتوبر 2007ء کی ایک دوپہر جس دن بینظیر بھٹو پاکستان واپس آ رہی تھیں، راشد پر باتھ روم میں برین ہیمرج کا حملہ ہوا۔ ایک بے بس شوہر اور دو معصوم بچوں کا باپ بے بسی سے باتھ روم میں پڑا اپنے ناک اور منہ سے خون بہتا دیکھتا رہا۔ دفتر کے کسی بھی کولیگ کو پتہ نہیں چلا۔ شام ڈھل گئی اور راشد گھر نہیں پہنچا تو گھر پر بچوں نے شور مچانا شروع کیا کہ بابا پہلے تو لیٹ نہیں ہوتے تھے آج کیا ہوا ہے۔ ایک پریشان حال بیوی نے گاڑی نکالی۔ بینک کھلوایا اور رات گئے چوکیداروں کے ساتھ مل کر حمیرا نے راشد کو باتھ روم میں جا ڈھونڈا۔ تین دن بعد راشد کی موت واقع ہو گئی۔ حمیرا اور اس کے دو معصوم بچوں کی زندگی یکدم بدل گئی۔ تیسرا بیٹا ابھی پیٹ میں تھا۔ یوں ایک خوشحال خاندان بکھر کر رہ گیا تھا۔ بڑا بیٹا علی کچھ سمجھدار تھا لیکن سات سالہ عمر کو ماں اور بھائی نے یہی بتایا ہوا ہے کہ اس کا بابا امریکہ گیا ہوا تھا، کبھی لوٹ آئے گا۔ اچھا ہوا مصطفیٰ اپنے باپ کی موت کے بعد پیدا ہوا لہذا اسے جھوٹ بول کر تسلی دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
میں اور میری بیوی پتہ نہیں کتنے دن ایک صدمے کی کیفیت میں رہے۔ مجھے ایک ہی خیال آرہا تھا کہ اگر یہ سب کچھ میرے ساتھ ہو تو میرے دو بچوں اور بیوی کی کہانی بھی شاید اس سے مختلف نہ ہو۔
مجھے خیال آیا کہ شوکت عزیز نے بطور وزیر اعظم ایک اچھا فیصلہ کیا تھا کہ سرکاری ملازم کی موت کی صورت میں اس کی بیوی یا خاوند کو حکومت پاکستان یا وہ محکمہ نوکری دینے کے علاوہ اچھی خاصی مالی امداد بھی دے گا۔ میں نے کابینہ ڈویژن کا 2006ء کا وہ سرکاری نوٹیفیکیشن نکلوایا۔ اپنے ذاتی دوست اور چیئرمین پاکستان زرعی ترقیاتی کونسل کے پاس گیا اور ان سے اس بیوہ اور اس کے بچوں کیلئے مدد کی درخواست کی۔ وہ بولے کہ بینک کے صدر ذکاء اشرف تھوڑی دیر میں ان سے ملنے کیلئے آنے والے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی تسلی دی کہ اگر بینک میں نہ بھی ہو سکا تو وہ اس بیوہ کو اپنے محکمے میں نوکری دے دیں گے۔ ذکاء اشرف سے بات ہوئی اور اگلے دن میں ان سے جا کر بینک میں ملا۔لیکن مجھے اس وقت شدید جھٹکا لگا جب ہیومن ریسورس کے ایک اعلیٰ افسر نے اس نوٹیفیکیشن کو ہی ماننے سے انکار کر دیا جو شوکت عزیز نے جاری کیا تھا۔ تاہم کچھ دنوں بعد جب بینک میں آسامیاں نکلیں تو حمیرا کو بھی نوکری دے دی گئی۔ بینک کے صدر نے پھر اس خاندان کوکالونی میں ایک خالی پڑے گھر کو الاٹ کر دیا۔
ایک گھرانہ نئے سرے سے زندگی کی دوڑ میں شامل ہو گیا۔ جب حمیرا پہلے دن دفتر گئی تو اسے احساس ہوا کہ شاید اس سے کوئی بہت بڑا جرم ہو چکا ہے۔ آہستہ آہستہ بینک کے صدر کے خلاف بھی تحریک شروع ہوگئی۔ جس سے بھی کنی کترانے کی کوشش کی وہ اس کا دشمن بنتا گیا۔ کیمپ لگنا شروع ہو گئے۔ بینک کے ملازمین سے لے کر صحافیوں تک پورا معاشرہ ایک بیوہ عورت کو اس بات کی سزا دینے پر تل گیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کا مستقبل بنانے کے لیے گھر سے کیوں نکلی تھی۔ اس کو غلیظ قسم کے خطوط بھیجے جانے لگے۔ اس کے بعد موبائل فون پر گھٹیا قسم کے میسجز شروع ہو گئے۔ میں نے تسلی دی۔ فون کر کے آئی جی کو سارا ماجرا سنایا۔ انہوں نے فوراً ایکشن لینے کا وعدہ کیا۔ دو ہفتے گزر گئے ہیں نہ ایکشن ہوا ہے اور نہ ہی وہ خطوط اور موبائل فون کے میسجز رکے ہیں۔ بینک کے کچھ ملازمین نے رات کو حمیرا کے گھر کی کھڑکیوں پر آ کر پتھر مارنے شروع کیے۔ ایک بینک آفیسر نے بچے علی کو تھپڑ بھی مارا اور اگلے دن اسکی سائیکل بھی چوری ہو گئی۔
ہم سوات کو روتے تھے اور یہ سب کچھ اسلام آباد میں کچھ لوگ دیدہ دلیری سے کر رہے ہیں۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ بینک کے رحمدل صدر کو ایک بیوہ عورت اور اس کے بچوں کے ساتھ کی گئی نیکی کی اتنی بڑی سزا ملے گی۔ میرا خیال تھا کہ شاید کلیم امام جیسا اچھا آفیسر اس خاندان کو تحفظ دے سکے لیکن وہ بھی بینک کے ان بہادر اور غیور لوگوں کے سامنے بے بس نکلے ہیں۔ ذکاء اشرف کا ایک پیغام آیا تھا کہ میں نے تو ایک نیکی کرنے کی کوشش کی تھی تو پھر یہ سب کچھ کیوں۔ میں نے ان سے معافی مانگ کر صرف اتنا لکھ بھیجا ہے کہ اس بیمار معاشرے میں آپ، میں، ڈاکٹر ظفر الطاف، کلیم امام، ایک بیوہ عورت اور اس کے تین یتیم بچے ہار گئے اور یہ چند مٹھی بھر بدبودار عناصر جیت گئے تھے !!

Courtesy: Daily Jang, 10-08-09

ا یک مریض معاشرے کی کہانی !-آخر کیوں؟-رؤف کلاسرا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: