فرشتوں کی بریگیڈ ایک استعارہ ہے۔ جس بریگیڈ کا ہمیں سامنا ہے، متوسط طبقے پر مشتمل دن رات عہد حاضر کی خرابیوں کے خلاف سراپا احتجاج اور امید لگائے بیٹھی ہے کہ اچانک معجزے برپا ہوں گے جس سے بربادی کے تاریک بادل ہمیشہ کیلئے چھٹ جائیں گے ۔
حق و سچ کے یہ علمبردار ، جو گلی کوچے میں مل جاتے ہیں ،کو یہ کہا جائے کہ ثابت قدم رہیں اور سیاسی عمل کو موقع دیں کہ اس کے ذریعے سیاسی نظام کی صفائی ہو سکے اور حقیقی تبدیلی برپا ہو،تو فوری جواب یہ ملے گا کہ اگر قوم نے مزید انتظار کیا تو بچانے کو کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اگر فرشتوں کی فوج سے متبادل نظام کے بارے میں سوال کیا جائے تو مختلف جواب گھڑنے لگ پڑتے ہیں۔ ان فرشتوں کا دل ٹٹولا جائے تو اس میں ایک نئی فوجی مداخلت کی خواہش کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ Continue reading »
صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
براہ کرم یہ بات شروع ہی سے نوٹ فرما لیں کہ یہ کہانی تو میری ہے لیکن یہ بپتا ہر اس شخص کی ہے جس کا تعلق پاکستان کی مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس سے ہے چونکہ ان کے روزمرہ کے مسائل ایک ہی جیسے ہیں جبکہ حکمرانوں اور روساء کو ان مسائل کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ وہ جس دنیا میں رہتے ہیں اس دنیا کے مسائل اور پر یشانیاں کچھ اور طرح کی ہیں۔ اسی طرح غریب اور محروم طبقوں کے مسائل کچھ اور ہیں اور ان کی اپنی ایک دنیا ہے جس کا مڈل کلاس اور روساء کی دنیاؤں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ Continue reading »
برطانیہ میں25فی صد بچے پاکستان اور بھارتی خاندانوں کے ہاں پیدا ہوتے ہیں۔ بھارتی اخبار’ساوٴتھ ایشیا میل‘ نے خبر رساں ادارے کے حوالے سے لکھا کہ برطانیہ میں پیدا ہونے والے چوتھائی بچے تارکین وطن کے ہاں ہوتے ہیں ان میں زیادہ تر پاکستان، بھارت اور پولینڈ شامل ہے۔2009میں گزشتہ برسوں کی نسبت بھارت ،پاکستان اور پولینڈ میں3500 زیادہ بچوں کی پیدائش کے ساتھ یہ تعداد170,834 سے بڑھ Continue reading »
Article written by Talat Hussain, published in Daily Express on 24th July, 2010 Continue reading »
Article written by Orya Maqbool Jan, published in Daily Express on 24th July 2010 Continue reading »
گریبان …منوبھائی
وزیر قانون، انصاف اور پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے جنگ گروپ کے خصوصی پینل انٹرویو میں ملک کے سیاسی معروض کے بارے میں اپنی پارٹی کے موقف کا حسب معمول بھرپور ہمت اور جرات مندانہ بے تکلفی کے ساتھ دفاع کیا ہے اور بتایا ہے کہ” ڈگری ڈرامہ“ جمہوری نظام کا بوریا بستر اگول کرنے کی سازش کے تحت رچایا گیاہے جس کا مقصد ملک میں مڈ ٹرم انتخابات برپا کرنے کے حالات پیدا کرنا تھا جن کے دوران قومی سیاست کی جمہوری بساط لپیٹی جاسکتی ہے مگر وزیر اعظم گیلانی نے اس سازش کو ناکام بناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے یا ہٹائے جانے والوں کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کروائے جائیں گے۔ Continue reading »
Article by Amjad Islam Amjad, published in Daily Express on 22nd July, 2010. Continue reading »
Article written by Javed Chaudhry, published in Daily Express on 22nd July 2010. Continue reading »
آخر کیوں؟…رؤف کلاسرا
میرا خیال تھا کہ 2006ء میں اپنے ساتھ ہونے والے ایک ہزار پاؤنڈ فراڈ کے بعد میرے دوست ثناء اللہ مستی خیل کو عقل آ گئی ہوگی اور اسے اب پتہ چل گیا ہوگا کہ وہ ایک سادہ لوح انسان ہے اور دنیا تیز ترین اور چالاک لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ تاہم ثناء اللہ مستی خیل نے میرے اس خیال کو پنجاب اسمبلی میں اپنے نئے سیاسی آقاؤں کے ہاتھوں استعمال ہوکر نہ صرف غلط کر دیا ہے بلکہ اپنے ساتھ ایک بڑا فراڈ بھی کرا لیا ہے۔ اس تازہ ترین سیاسی فراڈ سے مستی خیل نے ایک اور بات بھی ثابت کی ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جا سکتا۔پہلے آپ ثناء اللہ مستی خیل کے ساتھ ہونے والے 2006ء کے فراڈ کی کہانی سن لیں پھر آپ کو نواز شریف کی یہ بات بخوبی سمجھ آ جائے گی کہ کیسے بھکر سے آنے والے اس Continue reading »
گریبان …منوبھائی
یہ کیسی بات ہے کہ گزشتہ صدی کے شروع میں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی سلطنت تاج برطانیہ پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا اور کرہ ارض کے کسی نہ کسی ملک میں برطانیہ کا یونین جیک لہرا رہا ہوتا تھا مگر اگلے چالیس سالوں میں اس کے گوری چمڑی والے انگریز اپنے ہی ملک میں اقلیت بن کر رہ جائیں گے اور اگر اس وقت مغربی طرز کی موجودہ طبقاتی بنیادوں پر برپا کی گئی نام نہاد جمہوریت برقرار رہ سکی تو انگلستان کے سفید فام لوگوں پر گندمی ،کالے، سانولے اور پیلی رنگت کے لوگ حکمرانی کررہے ہوں گے۔
یہ کوئی درفنطنی نہیں انگریز ماہرین عمرانیات کی جدید ترین تحقیق ہے کہ برطانیہ عظمی ٰمیں رواں صدی کی پانچویں دہائی سے پہلے ہی سفید فام انگریزی آبادی اپنے ملک کے اندر اقلیت میں چلی جائے گی اور گندمی،کالے،سانولے اور پیلی رنگت کے لوگ جو یہاں غلام بنا کر لائے گئے تھے یا محنت مزدوری سے روزگار کمانے آئے تھے ان کی اولاد اکثریت میں آجائے گی اور غلاموں کی بجائے آقا بن جائے گی۔ Continue reading »
Recent Comments