آفتابیاں – آفتاب اقبال

ویسے تو دنیا کے ہرحصے میں ہیرو پیدا ہوتے اور مرتے کھپتے رہتے ہیں مگر ان کے معاملے میں اہل مغرب سے بڑا بیوقوف شاید روئے زمین پر کوئی نہ ہوگا۔ یہ لوگ اپنے ہیروز کی قدر کچھ اس انداز اور فیاضی سے کرتے ہیں کہ ہم جیسے لوگ باقاعدہ جھلاہٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ چھچھور پنے کی انتہا دیکھیں کہ یہ لوگ اپنے ہیروز کے نہ صرف مجسمے بنا بنا کر اپنا اور پوری قوم کا وقت اور پیسہ ضائع کرتے ہیں بلکہ ڈاک ٹکٹ جیسی مقدس شے پر بھی اپنے دو دوٹکے کے کھلاڑیوں، سائنسدانوں، شاعروں اور لکھاریوں کی تصاویر چھاپ ڈالتے ہیں۔
مختلف ممالک میں تعمیر و ترقی کی شرح ناپنے کے لئے مورخین اور تجزیہ کار بھی آج کل ایک عجیب سی حماقت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ آپ کے شہریوں نے اب تک کتنے نوبل انعامات Continue reading »

 

ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے ابوظبی میں منعقد ہونے والی سالانہ سربراہی کانفرنس ایک ایسے وقت میں حکمت و دانش کا مرکز ثابت ہوئی جب بڑھتے ہوئے عالمی چیلنج نئے اور اختراعی حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نوّے ممالک کے مندوبین نے اس دو روزہ کانفرنس کے دوران جس کا اہتمام متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کیا تھا مختلف مسائل کے حوالے سے اپنے اپنے دماغوں کا سارا زور صرف کر دیا۔ ان سوچنے والوں کا تعلق علمی اداروں، حکومت، تاجر اور سول سوسائٹی سے تھا اور انہیں انّاسی کونسلوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا تاکہ وہ عالمی ایجنڈے پر مسائل کی ایک وسیع سطح پر گفت و شنید کر سکیں۔ ان کے تحقیقاتی نتائج ایسی سفارشات مرتب کرنے میں مدد دیں گے جو کلیدی فیصلہ سازوں کے لئے 2012ء میں ڈیووس میں منعقد ہونے والی سالانہ میٹنگ میں ضروری ہوں گی جس کا موضوع ہوگا ”عظیم تبدیلی : نئے ماڈلوں کی Continue reading »

 

چوراہا- حسن نثار

باہر ڈرون
اندر ڈینگی
کیا یہ لیتھل قسم کا مقامی اور غیر ملکی کومبینیشن بھی ہمیں مجبور کرنے کے لئے کافی نہیں کہ ہمیں اپنے کرتوتوں پر ازسرنو غور کرنا چاہئے کیونکہ اگر اوپر اللہ اور نیچے دنیا ہم سے خفا ہے تو آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
بغیر عمل کے دعا قدرت کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے سو یہ جان لینا ہو گا کہ اعمال تبدیل کئے بغیر حال تبدیل نہیں ہو گا اور اگر حالات میں تبدیلی کی خواہش ہے تو پہلے اپنی عادات تبدیل کرو لیکن یہ المیہ بھی Continue reading »

 

سب جھوٹـ امر جلیل

آج ہم بات کریں گے ان عناصر کے بارے میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک جیسے ہیں۔ ہم ان عناصر کے بارے میں بات نہیں کریں گے جو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کامن یعنی مشترکہ نہیں ہیں۔ مثلاً ہم دونوں ممالک میں رائج ریلوے نظام کے بارے میں بات نہیں کریں گے۔ کیونکہ اگر بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائے گی۔ ہم دونوں ممالک کے تعلیمی نظام کا بھی موازنہ نہیں کریں گے۔ ہم دونوں ممالک میں سائنس Continue reading »

 

جرگہ- سلیم صافی

کاش ایسا نہ ہوتا لیکن لگتا ہے کہ اب کچھ نہ کچھ ہوکر رہے گا۔ پشتو کے ایک مقولے کا مفہوم ہے کہ ہوشیار پرندہ شکاری کی جال میں مشکل سے پھنستا ہے لیکن جب ایک باربھی پھنستا ہے تو پھر ایک نہیں دونوں ٹانگوں کو پھنسواکر چھوڑتا ہے۔پاکستانی سیاست کا ہوشیار ترین پرندہ بے حد ہوشیار ثابت ہوا ۔ انہوں نے ہر طرف کے شکاریوں کو یوں رام کرلیا تھا کہ وہ گزشتہ سالوں میں اپنے اپنے دام تک کو سمیٹ کر ایک طرف رکھ چکے تھے۔ اس پرندے نے الٹا ہر شکاری کو شکار کرلیا تھا اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ ان کے داموں میں پھنس کر رہ گیا تھالیکن لگتا ہے کہ اب ہر شکاری اپنے آپ کو سنبھال چکا ہے ۔ وہ نہ صرف ہوشیار Continue reading »

 

 نجم سیٹھی

پاک امریکہ تعلقات میں رخنہ پڑ چکا ہے اور امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد معطل کر دی ہے ، کیری لوگر برمان کے تحت ملنے والے سولین فنڈز اگر مکمل طور پر ختم نہیں کیے گئے تو منجمد ضرور ہیں۔ خود پسند پاکستانیوں نے سینہ تان کر دعویٰ کیا ہے کہ وہ گھاس کھا لیں گے ،اگر ضرورت پڑی، مگر اپنے وطن کی خود مختاری کا تحفظ کر یں گے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ جب ہمارے آزمودہ اور قابل اعتماد دوست موجود ہیں اور وہ ہمارے معاشی مسائل حل کر نے میں مدد دیں گے تو اس مونگ پھلی کے چھلکے یو ایس ایڈ کی کیا وقعت ہے۔
پچاس کی دھائی میں ہم نے امریکہ سے دوستی کی اور پھر ہم خوشی کے ساتھ سویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ ساتھ رہے اور اس حقیقت کو بھول گئے کہ وہ ہماری جنگ نہیں تھی۔ ایک مرتبہ پھر80 کی دھائی میں اور پھر2000 میں ہم نے اپنی خدمات افغانستان میں امریکہ کے سپرد کر دیں۔آج ہم جس بھیانک دہشت گردی کے گرداب کا شکار ہیں اُس کی وجہ ہمارا لالچ اور موقع پرستی ہے۔تاہم ایک بات سوچنے کی ہے کہ ہمیں امریکہ سے دشمنی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم خود ہی اپنے بدترین دشمن ہیں۔ آج پہلے سے زیادہ لوگ ”گھاس “ کھار ہے ہیں۔ پانچ سال پہلے سطح ِ غربت سے نیچے27 فیصد پاکستانی زندگی گزار رہے تھے، آج ان کی تعداد 33 فیصد ہے اور اس بگڑتی ہوئی معاشی صورت ِ حال میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں ہے۔ پانچ سال پہلے ہماری معاشی ترقی کی شرح 6.5 فیصد سالانہ تھی، آج 3 فیصد ہے، تجارتی خسارہ جی ڈی پی کا ساڑھے سات فیصد ہے جبکہ پانچ سال پہلے یہ ساڑھے چار فیصد تھا۔ اس تمام معاشی گراوٹ میں امریکہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ان پانچ سالوں میں ٹیکس کی شرح جی ڈی پی کے 11.5 فیصد سے گر کر8.7 فیصد تک آگئی ہے۔ اس میں امریکی ہاتھ تلاش کرنا بے سود ہے۔سیلاب مسلسل ہمارے در پے ہیں اور اس ملک کے لاکھوں افراد ان سے ہر سال متاثر ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے آبی وسائل کا انتظام نہیں کرسکتے اور ان کو آفت میں تبدیل ہونے دیتے ہیں تو اس میں امریکہ کا کوئی قصور نہیں ہے۔
مذہبی انتہا پسند قتل و غارت پر تلے ہوئے ہیں۔ بے گناہوں کا قتل معمول کی بات ہے۔ لسانی تنظیمیں کراچی کے شہریوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہی ہیں۔ ان کے پیچھے کوئی امریکی ہاتھ نہیں ہے۔ برقی رو کی تعطلی نے کروڑوں افراد کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ لاکھوں مزدوربے روزگار ہیں۔ اس میں کوئی امریکی سازش ملوث نہیں ہے۔ اپنے معاشرے میں پاکستانیت کی جڑیں مضبوط کرنے کی بجائے ہم اپنے آپ کو بڑے فخر سے پہلے مسلمان پھر سندھی، مہاجر، بلوچ، پختون، پنجابی، سرائیکی، کشمیری، سنی شیعہ، دیوبندی، بریلوی کہتے ہیں۔ قومیت کے قاتل ، اس بکھرے ہوئے ہجوم کی ذہنیت تراشنے میں کسی امریکی آلے کا عمل دخل نہیں ہے۔ ہم دنیا کی بدعنوان ترین قوموں میں شمار ہوتے ہیں۔ہم نے بلاوجہ بھارت کے ساتھ چار جنگیں لڑیں اور ان کے نتیجے میں آدھا ملک گنوا دیا۔ اس اندھی مہم جوئی کا مشورہ واشنگٹن سے نہیں آیا تھا۔ اگر ان خود ساختہ حماقتوں کی فہرست کم لگے تو دہرے منافقت بھرے رویے ہماری ناکامیوں کے پلڑے کو مزید جھکائے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ امریکہ نے فاٹا میں مداخلت کا ارتکاب کرکے ہماری قومی خود مختاری کی خلاف ورزی کی ہے ، لیکن اس طرح تو افغان طالبان اور القاعدہ نے بھی ہماری علاقائی سرحدوں کے تقدس کو پامال کیا ہے اور اپنے محفوظ ٹھکانے بنائے ہیں۔ لیکن ہم امریکہ پر تو گرجتے ہیں (برسے بغیر ) مگر القاعدہ اور طالبان کے لیے ہمارے پاس تراشیدہ بہانہ ہے کہ وہ معصوم مہاجرین ہیں جن کو ہماری روایتی مہمان نوازی کی ضرورت ہے۔ یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی ہے۔ ہم آئی ایم ایف سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ مالیاتی ادارہ یہ گستاخانہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم صاحب ِ حیثیت افراد پرٹیکس لگائیں ، بدعنوانی کی مد میں دولت کے زیاں اور بجلی کی چوری کو روکیں اور اپنے پاؤں پھیلاتے وقت چادر دیکھ لیا کریں۔ امریکی امداد کی کیا ضرورت ہے۔ ہم نے کون سا ڈیم تعمیرکرنے ہیں یا اپنے قدرتی وسائل سے استفادہ کرنا ہے یا غریبوں کے لیے سکول یا ہسپتال بنانے ہیں۔ہمیں فخر ہے اپنے آزمودہ دوستوں پر اور اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ جب زلزلے اور سیلاب نے ہمیں برباد کرڈالا یا جب غیرملکی ادائیگیوں کے لیے ہمارے پاس زرِ مبادلہ کی کمی تھی توکوئی ہماری مدد کو نہ آیا۔ ذرا بتائیں تو سہی کہ کون اپنے وطن کے دفاع کے لیے گھاس کھاتا ہے ؟ کیا بڑے بڑے پیٹ والے مگرمچھ نما بزنس مین؟ کیا گالف سے شغل فرمانے والے جنرل ؟ کیا ڈیفنس کے پر تعیش بنگلوں میں رہنے والے اہل ثروت ؟ کیا غیر ملکی بنکوں میں سرمایہ رکھنے والے سیاست دان جن کے بچے یورپی ممالک کے اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ؟یا بدعنوان سرکاری افسران ؟ بتائیں تو سہی ان میں سے گھاس کس کی خوراک ہے ؟کیا یہ اس بدقسمت ملک کے غریب عوام نہیں جنھیں اس سبزے کو اپنے سرخ خون میں اتارنا پڑے گا؟ کب تک ہم اپنی ناکامیاں گھر سے باہر تلاش کرتے رہیں گے؟ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے گھرکو درست کریں تاکہ امریکی امداد کی ذلت نہ اٹھانی پڑے ۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

 

آفتابیاں – آفتاب اقبال

وہ دوست جو سہواً یا مجبوراً قومی ایئرلائنز پر سفر کرنے جارہے ہیں، انہیں ہمارا مفت مشورہ ہے کہ جہاز پر جاتے ہوئے اپنے ہمراہ ایک عدد چھینی، ایک ہتھوڑا، ایک رینچ اور ایک عدد چھوٹا ویلڈنگ پلانٹ ضرور لیتے جائیں کیونکہ جس سیٹ پر بیٹھ کر آپ کو یہ اذیتناک سفر طے کرنا ہے، وہ اول تو آپ کے پہنچتے پہنچتے منسوخ ہوچکی ہوگی اور گر سیٹ بچ گئی تو اغلب یہ ہے کہ پوری فلائٹ ہی منسوخ ہوچکی ہوگی۔ تاہم اگر خوش قسمتی سے یہ دونوں صورتیں رونما نہیں ہوتیں اور آپ کو مطلوبہ سیٹ مل بھی جاتی ہے تو خاطر جمع رکھئے کہ اس کی چولیں انتہائی ڈھیلی اور پشت نہایت بیہودہ ہوگی۔ بہرحال دل چھوٹا کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ تمام ضروری اوزار آپ کے پاس ہیں۔ آپ نہایت اطمینان کے ساتھ سیٹ کی چولیں کس لیں اور اس کی پشت کسی معقول زاویئے پر فکس کرکے اپنے ٹول بکس میں موجود ویلڈنگ پلانٹ سے ویلڈ کرلیں۔ عرف ِ عام میں اس عمل کو ”ٹُچ“ لگانا بھی کہتے ہیں مگر آپ اس قماش کی اصطلاحات کے چکر میں پڑے بغیر اپنے کام سے کام سے رکھیں کیونکہ اس سفر میں ابھی چند اور مشکل مقام آنے والے ہیں۔
فلائٹ کے اندر کھانے پینے سے جس حد تک پرہیز کرسکیں اتنا ہی اچھا ہے۔ بلکہ احسن یہی ہے کہ جس روز آپ سفر کا ارادہ رکھتے ہوں، اس روز آپ روزہ رکھ لیں۔ اس کے دو فوائد ہوں گے۔ ایک تو یہ کہ آپ کی نیکیوں کا اکاؤنٹ جوسال بھر سے تقریباً منجمد چلا آرہا ہے، ہلکی سی جنبش کرے گا اور آپ کے درجات بلند ہونے کا قوی امکان پیدا ہوگا۔ دوسرا یہ کہ فلائٹ میں ملنے والا کھانا کھا کر آپ کے معدے، انتڑیوں و دیگر اعضا کا جو حشر ہوگا اس سے بچنے کا بہترین طریقہ وہی ہے جو ہم نے اوپر عرض کر دیا ہے۔ تاہم اگر آپ پیدائشی ”لینج“ یعنی بھوکے اور پیٹو واقع ہوئے ہیں اور کھانے کے تصور ہی سے آپ کی عقل اور آنکھوں پر پردہ پڑ جاتا ہے تو پھر آپ یہ کھانا ضرور تناول فرمایئے مگر یاد رہے کہ قصد سفر کرتے وقت اپنے ضروری سامان مثلاً ٹول بکس کے ہمراہ ایک چھوٹا فرسٹ ایڈ بکس رکھنا ہرگز نہ بھولیں۔ اس فرسٹ ایڈ بکس میں دو طرح کی ادویا ہونی ضروری ہیں۔ ایک کا تعلق بعد از تناول ماحضر کی صورتحال سے ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ مختلف اقسام کی پھکی اور چورن وغیرہ ہمہ وقت اپنے ساتھ رکھیں۔ علاوہ ازیں موٹیلیم، باسکوپان، بلڈپریشر، شوگر، عارضہ قلب اور نل ترنج وغیرہ سے نمٹنے کا سامان بھی کم از کم ہنگامی مقدار میں ضرور موجود ہونا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ چھوٹی ایکس رے مشین اور دانت نکالنے والا جمور بھی ہمراہ لے جائیں تو اپ کی آن بورڈ پریکٹس بھی خوب چل سکتی ہے۔
ایک خوش خبری ہم آپ کو دینا بھول ہی گئے تھے اور وہ یہ کہ اگر آپ کے سامان میں چھوٹاویلڈنگ پلانٹ موجود ہے اور آپ سفر سے پہلے تھوڑی بہت ”مشق سخن“ بھی کرچکے ہوں تو اس سے بڑے بڑوں کا بھلا ہوسکتا ہے۔ تقریباً ہر نشست پربیٹھا کم نصیب مسافر آپ کا کلائنٹ بننے کیلئے بے تاب ہوگا حتیٰ کہ پائلٹ اور کوپائلٹ تک اپنی چوں چوں پک پک کرتی سیٹیں آپ سے مرمت کروانے کے خواہشمند ہوں گے۔ اگر آپ لاہور اور کراچی کے درمیان روزانہ دو چکر لگانے کا حوصلہ پیداکرلیں تو اس سے ایک تو زبردست رفاہی کام کرنے کا موقع ملے گا، دوسرا یہ کہ ایک معقول آمدنی بھی شروع ہوجائے گی اور آپ یونہی بیٹھے بٹھائے ایک ہوائی معالج اور فضائی مکینک بن جائیں گے۔اب واپس چلتے ہیں فرسٹ ایڈ بکس میں موجود دوسری ہر قسم کی ادویا کی طرف۔ ان دوائیوں میں پائیوڈین، پٹیاں، اینٹی بائیوٹکس، پلستر چڑھانے والا سامان اور آپریشن کرنے والے ضروری آلات جراحی شامل ہیں۔ ان اشیاء کی ضرورت آپ کو عام طور پر تو نہیں پڑتی مگر ہمارے جہاز چونکہ ایئرپاکٹ میں پھنسے اور پھنستے چلے جانے میں یدِطولیٰ رکھتے ہیں، اس لئے مذکورہ صورتحال میں ہیڈکمپارٹمنٹ میں پڑے مسافروں کے بھاری بھرکم بیگ، پھلوں کی پیٹیاں، گندم، چاول اور غالباً آٹے کی بوریاں ، پرانا گھریلو فرنیچر، بائیسیکل ، زرعی آلات و دیگر اشیاء کا آپ کے سر پر گرنا یقینی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا پچھلے ماہ اسی قسم کا ایک واقعہ پیش آیا تھا اور ایئرپورٹ سے نکلنے والے ہر دوسرے مسافر کی حالت وہی تھی جو بسنت والے دن غریب بچوں کی پتنگ کی ہوتی ہے۔ ہمارا اپنا دوست اس ”معرکے“ میں بری طرح ”پھٹڑ“ ہوا تھا۔ خیر ہمارا کام صرف مشورہ دینا ہے، آگے اس پر عمل کرنا یا نہ کرنا آپ کا کام ہے۔ اپنے نفع نقصان کا آپ کے سوا اور بھلا کسے اندازہ ہوگا؟

بشکریہ روزنامہ جنگ

 

واشنگٹن (اے پی پی) امریکی سائنسدانوں نے دو سال سے کم عمر بچوں کے ٹی وی دیکھنے کو انکی ذہنی نشوونما کیلئے خطرناک قرار دے دیا۔ امریکی پیڈیاٹریشن گروپ کے مطابق والدین کو دو سال یا اس سے کم عمر بچوں کو مصروف رکھنے کیلئے ان کو وڈیوز یا ٹی وی دکھانے کے بجائے ان سے بات چیت کرنی چاہئے اور ان کو آزاد طریقے سے کھیلنے کودنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹریکس نے جدید مطالعے کے پیش نظر گائیڈ لائن جاری کی ہے جس میں کہا ہے کہ دو سال اور اس سے کم عمر بچوں کو ٹی وی ہرگز نہ دکھائیں۔ امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹریکس نے اسی قسم کی گائیڈ لائن 1999ء میں بھی جاری کی تھی تاہم اس مرتبہ گائیڈ لائن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ والدین کی اپنی ٹی وی دیکھنے کی عادت اور اس دوران بچوں کو سامنے بٹھانے یا گود میں لئے رکھنے سے بچوں کی ذہنی نشوونما پر کسی قدر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اس قسم کے معمولات بچوں کی وقت پر بولنے کی صلاحیت کو کم کر دیتے ہیں۔ سروے کے دوران 90 فیصد والدین نے اعتراف کیا کہ ان کے دو سال سے کم عمر کے بچے الیکٹرانک میڈیا کو دیکھتے ہیں۔

 

 

Article by Ali Sukhanver Continue reading »

 

Article by Professor Ali Sukhanver Continue reading »

© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha