Article written by Javed Chaudhry, published in Daily Express on 23th April 2010 Continue reading »

پشاور کے ایک دھماکے میں اپنا فرض نبھاتے ہوئے جاں بحق ہونے والے خان رازق مرحوم سرحد پولیس کے منفرد کردار تھے۔ فرض شناس‘ دیانتدار اور انتہائی بذلہ سنج ۔ پولیس اور اپنی ملازمت سے متعلق قصے کہانیاں سنا کر نہ صرف دوستوں کا دل بہلاتے اور خوش رکھتے تھے بلکہ پولیس دربار کے موقع پر بھی انہیں اسٹیج پر بلاکر پولیس افسران کا محاسبہ کرنے اور محفل کو گرمانے کا کام لیا جاتا تھا۔ ایک قصہ جو وہ اکثر سنایا کرتے تھے یہ تھا کہ ”افغان جنگ کے دنوں میں پشاورکے اندر دھماکوں کا سلسلہ زوروں پر تھا۔ ہمارے ایک ڈی آئی جی صاحب کا ایک اور صوبے سے پشاور تبادلہ ہوگیا۔ ان کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ بیرون ملک سے انسداد دہشت گردی کے خصوصی کورسز کرکے لوٹے ہیں اور دھماکوں کی تحقیق و تفتیش کے معاملے میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ڈی آئی جی صاحب خود بھی یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ آواز سن کر یا موقع واردات دیکھ کر دھماکے کے ملزمان کا پتہ لگاسکتے ہیں۔ ایک روز پشاور میں ایک بڑا دھماکہ ہوگیا جس میں کئی افراد لقمہ اجل بنے۔ ہم پولیس والوں نے جائے واردات کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور شواہد اکٹھے کررہے تھے۔ اتنے میں ڈی آئی جی صاحب پہنچ گئے۔ ہم سب نے سیلوٹ مارا اور ڈی آئی جی صاحب کو راستہ دے کر ان کے فن کا مظاہرہ دیکھنے لگے۔ بڑے فاتحانہ انداز میں انہوں نے عینک اور اسٹک ہمیں تھمادی۔ پھر ایک خاص انداز میں گڑھے کے کنارے زمین پر لیٹ گئے۔ ہم سب سراپا حیرت بن کر دیکھ رہے تھے کہ ڈی آئی جی صاحب کس سائنسی اور انوکھے انداز میں تحقیق کررہے ہیں۔ وہ اپنے منہ کو گڑھے کے اندر لے گئے اور مٹی کو سونگھنے لگے ۔ ہم حیران تھے کہ گڑھے کو سونگھنے کی کیا منطق ہے۔ تقریباً پانچ منٹ تک گڑھے کے مختلف اطراف سونگھنے کے بعد وہ مٹی سے آلودہ وردی اور چہرے کے ساتھ اوپر اٹھے۔ ہماری طرف دیکھا اور کہنے لگے کہ اس طرح کی جاتی ہے تحقیق ۔ میں جان گیا کہ یہ دھماکہ ہے۔ خدا کی قسم دھماکہ ہے کیونکہ مٹی سے بارود کی بو آرہی ہے ۔ یہ کہہ کر وہ اپنی گاڑی کی طرف چل دئے اور ہم ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے ۔ ہم سوچنے لگے کہ ڈی آئی جی صاحب نے کیا تحقیق کی ہے ۔ دھماکہ ہی تھا تب ہی تو پورے شہر میں آواز سنی گئی ‘ درجنوں لوگ ہلاک ہوئے اور یہ تباہی ہوئی۔ بارود کی بو تو ہم اس مشق کے بغیر بھی محسوس کررہے تھے جس کاسہارا ڈی آئی جی صاحب نے لیا لیکن ہم چپ رہے کیوں کہ وہ افسر تھے اور ہم ماتحت“۔ سچ پوچھیں تو بے نظیر قتل کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے وہی حرکت کی جو مذکورہ ڈی آئی جی نے خان رازق مرحوم اور ان کے ساتھیوں کے سامنے کی تھی۔ غریب پاکستان کے کروڑوں روپے خرچ کرنے اور مہینوں انتظار کروانے کے بعد ہمیں کمیشن کی طرف سے یہ بتایا جارہا ہے کہ حکومت وقت اور اس وقت کی پارٹی کے وہ ذمہ دار جو سیکورٹی کے انچارج تھے‘ کی غفلت سے بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس نتیجے میں کون سی نئی بات سامنے آئی ہے ۔ حکومت اور رحمان ملک وغیرہ کی غفلت ہی تھی تبھی تو وہ حملے کا نشانہ بنیں۔ یہ تو پوری قوم کو علم تھا ۔ بابرغوری کی یہ بات قابل غور ہے کہ اس طرح کی تحقیقات تو ہمارے ایک اے ایس آئی بھی کرسکتے تھے ۔ اصل سوال تو یہ ہیں کہ محترمہ کو کس نے‘ کیوں اور کس کے اشارے پر قتل کیا؟ اور ان کا جواب رپورٹ میں نظر نہیں آتا ۔ لیکن شاید یہ کمیشن کی نہیں‘ زرداری صاحب کی حکومت کی غلطی ہے ۔ کمیشن کے سامنے یہ سوال رکھے گئے تھے اور نہ اسے یہ مینڈیٹ دیا گیا تھا۔ جو مینڈیٹ اسے دیا گیا تھا ‘ اس کے اندر اس نے مناسب کام کیا ہے لیکن اب سوال یہ ہے کہ اس رپورٹ کی روشنی میں حکومت کریمینل انویسٹی گیشن کس طرح کرتی ہے اور ذمہ داروں کو کیا سزا دیتی ہے ؟ لیکن یہاں پھر یہ سوال آتا ہے کہ موجودہ حکومت یہ کام کیوں کر کرسکے گی کیوں کہ جب وہ اس رپورٹ کی روشنی میں آگے کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس بلاتی ہے‘ جس میں وہ لوگ بھی بیٹھے ہوتے ہیں جن کے کردار پر مذکورہ رپورٹ میں انگلی اٹھائی گئی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ سے رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ قوم بھی رسوا ‘ حکومت بھی رسوا اور پیپلز پارٹی بھی رسوا۔ ہم دنیا کو بتاتے رہتے ہیں کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے لیکن قتل کی تحقیقات کے لئے اقوام متحدہ کو درخواست کرکے ہم نے دنیا کو پیغام دے دیا کہ اس ملک کے اداروں پراس ملک کے حکمرانوں کو بھی اعتماد نہیں۔ اب اگر دنیا سے ہم کہیں گے کہ ہمارا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے تو جواب دیا جاسکتا ہے کہ جس ملک کے اداروں پر آپ کے صدر اور وزیراعظم اعتماد نہیں کرتے‘ ان پر دنیا کیسے اعتماد کرے؟۔ ہم اگر دنیا سے کہیں گے کہ بھارت کو مطلوب افراد اس لئے اس کو نہیں دئے جاسکتے کہ ہماری عدالتوں نے انہیں بے گناہ قرار دیا ہے تو ہمیں جواب ملے گا کہ تمہاری عدالتیں اگر آزاد ہیں تو ان سے بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کیوں نہیں کروائی؟ ہم مختلف ممالک کے حکمرانوں ‘ کھلاڑیوں اور سرمایہ کاروں کو تسلی دیتے رہیں گے کہ آپ لوگ اعتماد کے ساتھ پاکستان آئیں، ہم آپ کو سیکورٹی کی گارنٹی دیں گے تو وہ جواب دے سکتے ہیں کہ جو شخص اپنے لیڈر کی سیکورٹی کا مناسب بندوبست نہیں کرسکا ‘ وہ پورے ملک اور اس میں آنے والے غیرملکیوں کو کیوں کر تحفظ فراہم کرسکتا ہے ؟
رپورٹ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ پرویز مشرف نے براہ راست بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش تیار نہیں کی لیکن ان کی حکومت سیکورٹی کے لئے مناسب انتظامات نہ کرنے کی وجہ سے بالواسطہ طور پر قتل کی ذمہ دار ہے ۔ ایک طرف ان کی حکومت ان کی سیکورٹی کے مناسب انتظامات نہیں کرسکی اور دوسری طرف حادثے کے بعد حواس باختگی میں یا پھر کسی سازش کے تحت ایسے کام کئے(پوسٹ مارٹم نہ کرنا اور جائے حادثہ کو دھونا وغیرہ) کہ جن کی وجہ سے نہ صرف تحقیقات میں دقتیں پیش آئیں بلکہ شکوک و شبہات نے بھی جنم لیا۔ لیکن دوسری طرف اسی غفلت کی مرتکب خود پیپلز پارٹی بھی قرار پاتی ہے ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے منتظمین نے بھی ان کی سیکورٹی کے پیش نظر مناسب انتظامات نہیں کئے ۔
اسی طرح محترمہ کی سیکورٹی کے انچارج اور موجودہ وزیرداخلہ رحمان ملک کو بھی نہ صرف سیکورٹی کا مناسب انتظام نہ کرنے کے حوالے سے ذمہ دار قرار دیا گیا ہے بلکہ کور اپ گاڑی کی عدم موجودگی کی وجہ سے محترمہ کے اسپتال پہنچنے میں تاخیر کے لئے بھی بڑی حد تک ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ڈال دی گئی ہے ۔ اسی طرح بے نظیر بھٹو کی سیکورٹی ٹیم میں شامل خالد شہنشاہ کی اسٹیج پر پُراسرار حرکا ت اور پھر پراسرار ہلاکت کے معمے کو کمیشن بھی حل نہیں کرسکا اور اس حوالے سے شکوک و شبہات ذہنوں میں مزید پختہ ہوگئے ۔ یوں جتنا پرویز مشرف ذمہ دار قرار پاتے ہیں ‘ اتنی ہی ”سعادت“ خود محترمہ کی پارٹی اور آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں کے حصے میں بھی آتی ہے ۔
پرویز مشرف اور پی پی پی حکومت کی کارکردگی میں رپورٹ کے مطابق ایک اور حوالے سے بھی مماثلت پائی جاتی ہے ۔ وہ یہ کہ اگر مشرف حکومت نے پوسٹ مارٹم نہ کرنے‘ جائے حادثہ کو دھونے ‘ اگلے ہی روز بیت اللہ محسود کو ذمہ دار قرار دینے اور دھماکے کی بجائے ہلاکت کو گاڑی کے ہینڈل سے ٹکرانے کا نتیجہ قرار دینے جیسی حرکتوں کے ذریعے تحقیقات کے عمل کو الجھا دیا تو دوسری طرف رپورٹ میں موجودہ سیٹ اپ کو بھی تاخیری حربوں اور بعض افراد کی طرف سے عدم تعاون کا مرتکب قرار دیا گیا ہے ۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کا ایک فائدہ البتہ ضرور ہوا اور وہ یہ کہ پرویز مشرف کے ساتھ زرداری کی ہمدردی کا معمہ حل ہوگیا ۔ ہمیں پرویز مشرف اور رحمان ملک کی قربت کے رشتے کی کڑیاں نہیں مل رہی تھیں، اس رپورٹ سے واضح ہوگیا کہ چونکہ بے نظیر بھٹو کے قتل اور تحقیقات کے حوالے سے دونوں کا کردار کم وبیش ایک جیسا ہے اس لئے دونوں کی قربت رہی اور دونوں ایک دوسرے پر مہربان رہے اور اسی لئے دونوں ایک دوسرے کو بچاتے اور معاف کرتے رہے۔

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha