امریکی صدر بارک اوباما نے گزشتہ ماہ تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ سے ملاقات کی تھی جس کے نتیجے میں عوامی جمہوریہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کے آثار نمایاں ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بیجنگ نے امریکی صدر کی دلائی لامہ سے ملاقات پر غم وغصے کا اظہار کیا کیونکہ چین کی نظروں میں دلائی لامہ Continue reading »
منوبھائی
امریکہ اور دیگر مغربی سامراجی دنیا خود اپنے مفاد میں اس حقیقت کو اب زبانی طور پر تسلیم کرنے لگی ہے کہ کابل کا راستہ کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے یعنی جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پرامن ہمسایہ ملکوں جیسے تعلقات قائم نہیں ہوں گے اور کابل میں کسی مستحکم حکومت کے قائم ہونے کا Continue reading »
شیخ رشید آف لال حویلی ہماری فلم کے ایسے ہیرو ہیں جن پر کچھ لکھا گیا ہے لیکن بہت کچھ لکھا جائے گا۔ میرے نزدیک یہی ان کی زندگی کا حاصل ہے ورنہ ہار جیت تو زندگی کا حصہ ہے لیکن اکثر لوگ مسلسل دو تین الیکشن ہار کر سیاست سے یوں غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ بہرحال مجھے یقین ہے کہ شیخ صاحب سیاست سے کبھی تائب نہیں ہوں گے، وہ چپو سے محروم کشتی کی مانند سیاست کے سمندر کی لہروں پر اِدھر اُدھر تیرتے رہیں گے Continue reading »
عبادات کا ”اصل“ اور ”مغز“ فراموش کر بیٹھنے کے حوالہ سے یا یوں کہہ لیجئے کہ ہم لوگوں میں روح عمل کے فقدان کو سمجھنے کیلئے مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ تبصرہ ہمیں جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہونا چاہئے۔ مولانا عبدالمجید سالک راوی ہیں کہ ایک دن تصوف پر گفتگو کرتے ہوئے ابوالکلام آزاد کہنے لگے کہ تصوف کی کتابوں اور اولیاء کے تذکروں میں اس قسم کے واقعات اکثر نظر سے گزرتے ہیں کہ خواجہ قطب الدین کاکی محفل سماع میں بیٹھے تھے۔ مطرب نے شیخ احمد جام کا یہ شعر پڑھا Continue reading »
رؤف کلاسرا
اکتوبر 2006ء کو پہلے دن کلاس میں پہنچا تو میرے کلاس فیلوز سر جھکا کر کوئی چیز پڑھنے میں مصروف تھے۔ پتہ چلا کہ ہماری کلاس کے پروفیسر نے تمام طالبعلموں میں پورے ایک سال کا سلیبس اور اس کے ساتھ پوچھے جانے والے تمام سوالات پہلے دن ہی حوالے کر دیئے تھے۔ ہم سب کو بتایا گیا کہ آپ سے یہ فلاں فلاں سوالات پوچھے جائیں گے اور ان کے جوابا ت کیلئے فلاں کتابیں پڑھ لیں۔ میں بڑا Continue reading »
کبھی نہ بھولنے اور ہمیشہ یاد رکھنے والی اک حسین حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی عبادات باقی مذاہب کی عبادات سے مختلف و منفر د ہیں۔ ہماری ہر عبادت کثیرالمقاصد، بامقصد اور بامعنی ہے اور ہماری کوئی بھی عبادت خود ENDنہیں بلکہA mean to achieve verious ends یعنی عبادت خود منزل نہیں بلکہ بے شمار منزلوں تک پہنچنے کا رستہ ہے بشرطیکہ ہم ہر عبادت کے”اصل“…”جوہر“…”روح“ کو سمجھ کر ادا کی گئی نماز مندرجہ ذیل تحائف عطا کرے گی۔
Continue reading »
Recent Comments