رؤف کلاسرا
میرے پچھلے کالم ”دیس پردیس“ پر اپنے پڑھنے والوں نے جہاں تنقید کی ہے وہاں اس بات کو بھی سراہا گیا ہے کہ رٹے کی بنیاد پر چلنے والے ہمارے بوگس تعلیمی نظام میں اگر ہم یونیورسٹی اور بورڈز ٹاپ کر بھی لیں تو اس سے کوئی بہت بڑا فرق نہیں پڑنے والا۔ Continue reading »
اے این پی کے معزز رکن اسمبلی حاجی عدیل کی کل ایک ٹی وی چینل پر گفتگو سن کر میرا جی چاہا کہ اس موضوع پر لکھوں ورنہ تو آج شیخ رشید پر لکھے گئے کالم پر اتنے رنگا رنگ تبصرے بذریعہ ایس ایم ایس موصول ہوئے ہیں کہ شاید میں ایک بار پھر لال حویلی کا مسافر بن جاتا۔ بہرحال اس پر پھر کبھی لکھوں گا کیونکہ شیخ صاحب تو سدا بہار موضوع ہیں فی الحال تو مجھے حاجی عدیل صاحب کے ایک دعویٰ کی تصدیق کرنی ہے۔ Continue reading »
پاکستان اور افغانستان کو ایک ہی پالیسی کی لاٹھی سے ہانکنے کا شوق رکھنے والا سامراجی میڈیا ان دونوں ملکوں پر مشتمل خطے کو ”پاک افغان“ خطہ قرار دیتا ہے چنانچہ اگر یورپی ملکوں اور امریکہ پر مشتمل سامراجی دنیا کو ”یوریکن“ لکھا جائے تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور لندن کے اخبار ”گارجین“ نے پیش گوئی کی ہے کہ سال 2010ء سے سال 2020ء تک کا عشرہ عالمی تاریخ میں سادگی اپنانے کی مجبوری کا عشرہ کہلائے گا اور کچھ بعید نہیں کہ سادگی اپنانے کی مجبوری کا یہ عشرہ پھیل کر پوری اکیسویں صدی پر اپنا تسلط جمالے Continue reading »
Article written by Javed Chaudhry (Zero Point), published in Daily Express Lahore on 4th March 2010 Continue reading »
امریکی صدر بارک اوباما نے گزشتہ ماہ تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ سے ملاقات کی تھی جس کے نتیجے میں عوامی جمہوریہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کے آثار نمایاں ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بیجنگ نے امریکی صدر کی دلائی لامہ سے ملاقات پر غم وغصے کا اظہار کیا کیونکہ چین کی نظروں میں دلائی لامہ Continue reading »
منوبھائی
امریکہ اور دیگر مغربی سامراجی دنیا خود اپنے مفاد میں اس حقیقت کو اب زبانی طور پر تسلیم کرنے لگی ہے کہ کابل کا راستہ کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے یعنی جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پرامن ہمسایہ ملکوں جیسے تعلقات قائم نہیں ہوں گے اور کابل میں کسی مستحکم حکومت کے قائم ہونے کا Continue reading »
شیخ رشید آف لال حویلی ہماری فلم کے ایسے ہیرو ہیں جن پر کچھ لکھا گیا ہے لیکن بہت کچھ لکھا جائے گا۔ میرے نزدیک یہی ان کی زندگی کا حاصل ہے ورنہ ہار جیت تو زندگی کا حصہ ہے لیکن اکثر لوگ مسلسل دو تین الیکشن ہار کر سیاست سے یوں غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ بہرحال مجھے یقین ہے کہ شیخ صاحب سیاست سے کبھی تائب نہیں ہوں گے، وہ چپو سے محروم کشتی کی مانند سیاست کے سمندر کی لہروں پر اِدھر اُدھر تیرتے رہیں گے Continue reading »
عبادات کا ”اصل“ اور ”مغز“ فراموش کر بیٹھنے کے حوالہ سے یا یوں کہہ لیجئے کہ ہم لوگوں میں روح عمل کے فقدان کو سمجھنے کیلئے مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ تبصرہ ہمیں جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہونا چاہئے۔ مولانا عبدالمجید سالک راوی ہیں کہ ایک دن تصوف پر گفتگو کرتے ہوئے ابوالکلام آزاد کہنے لگے کہ تصوف کی کتابوں اور اولیاء کے تذکروں میں اس قسم کے واقعات اکثر نظر سے گزرتے ہیں کہ خواجہ قطب الدین کاکی محفل سماع میں بیٹھے تھے۔ مطرب نے شیخ احمد جام کا یہ شعر پڑھا Continue reading »
رؤف کلاسرا
اکتوبر 2006ء کو پہلے دن کلاس میں پہنچا تو میرے کلاس فیلوز سر جھکا کر کوئی چیز پڑھنے میں مصروف تھے۔ پتہ چلا کہ ہماری کلاس کے پروفیسر نے تمام طالبعلموں میں پورے ایک سال کا سلیبس اور اس کے ساتھ پوچھے جانے والے تمام سوالات پہلے دن ہی حوالے کر دیئے تھے۔ ہم سب کو بتایا گیا کہ آپ سے یہ فلاں فلاں سوالات پوچھے جائیں گے اور ان کے جوابا ت کیلئے فلاں کتابیں پڑھ لیں۔ میں بڑا Continue reading »
Recent Comments