دس سالوں میں دو لاکھ خودکشیاں- منوبھائی
سال 1997ء اور 2007ء کے درمیانی دس سالوں میں ہندوستان کے دو لاکھ کاشتکاروں نے اجتماعی خودکشی کی ہے جس کی دو بنیادی وجوہات بتائی جاتی ہیں ایک زرعی پیداوار کی بہت زیادہ کمرشلائزیشن اور دوسری کسانوں کا ناقابل برداشت قرضے کا بوجھ۔ ہندوستان کے کثیر الاشاعت اخبار ”ہندو“ کے مطابق کسانوں کے قرضے معاف کرنے کی شہرت رکھنے والے سال 2008ء کے دوران بھی ہندوستان میں سولہ ہزار ایک سو چھیانوے
متنجن -حسن نثار
بہت کم موضوعات ایسے ہوتے ہیں جن پر پورے کا پورا کالم قربان کیا جا سکتا ہے ورنہ لسی، لڑائی اور کالم کا کیا ہے، جتنا چاہو لمبا کر لو لیکن مجھ سے ایسا نہیں ہوتا اس لئے اکثر ایک سے زیادہ موضوعات کو لپیٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔
پاک بھارت ایٹمی جنگ ماحول کیلئے تباہ کن، دنیا بھر کی فصلیں متاثر ہونگی، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ : پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ سے ماحول پر تباہ کن اثرات مرتب ہونگے اور اس سے دنیا بھر کی زراعت پر انتہائی منفی اثرات پڑیں گے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے نیوکلیئر تخفیف اسلحہ پر ایک مشترکہ رپورٹ اقوام متحدہ میں پیش کردی ہے جس میں کہاگیا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ ہوتی ہے تو نہ صرف ماحول بلکہ دنیا بھر کی فصلوں پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہونگے
وہ يا يہ – جاويد چوہدری
Written by Javed Chaudhry, published in Express on 29th January, 2010
کیا بددیانتی میں جرأت ہوتی ہے؟,,,,گریبان …منوبھائی
ہمارے کچھ کالم نویس چیف جسٹس پاکستان کے اس فرمودے کوزیربحث لائے ہوئے ہیں کہ ”کرپشن سے داغدار شخص میں اتنی جرأت ہونی چاہئے کہ وہ کھل کر اس کااعتراف کرے“ یہ طے کرنے میں کچھ زیادہ علم اور قانونی قابلیت کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے کہ کرپشن یعنی بددیانتی سے داغدار شخص اور بددیانت شخص میں کچھ فرق اور امتیاز ہوتا ہے۔
روشن آدمی…کالے قول-حسن نثار
حقانی صاحب ان لوگوں میں سے تھے جوصحیح معنوں میں تمام تر سنجیدگی کے ساتھ ملکی مستقبل بارے فکرمند رہتے اور معاشرے کے انحطاط پرکڑھتے سو اس حوالہ سے دیکھیں توان کا رخصت ہونا ہمارے لئے نقصان دہ لیکن خود ان کے لئے باعث آسودگی ہوگا کہ اس اذیت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات پا گئے جس میں آدمی روز جیتا اور روزمرتا ہے۔ حقانی صاحب سے پہلی ملاقات اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ مجھے آج بھی یادہے۔
کل کے دن – جا ويد چوہدری
Article written by Javed Chaudhry, published in Express on 26th January 2010
آئین کا ضمیر-.ایازا میر
قومی مفاہمتی آرڈر (NRO) اس وقت ہی فنا ہوچکا تھا جب قومی اسمبلی نے اس کی حمایت کرنے سے انکار کردیاتھا۔ مزید رہی سہی کسر سپریم کورٹ کا ایک ڈویژن بنچ نکا ل دیتا۔ اس کیس کے حالیہ فیصلے تک پہنچنے میں کسی غیرمعمولی آئینی تھیوری کا سہار ا لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن یہ ہماری کوئی زیادہ خوش قسمتی
محفوظ حالات کے نقصانات – منوبھائی
یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ کب مگر بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور گیس کی عدم سپلائی کا سلسلہ کبھی نہ کبھی تو ختم ہو گا اور جب بھی ختم ہو گا اپنے ساتھ کچھ مزید پریشانیاں لے کر آئے گا یا کچھ مزید پریشانیاں چھوڑ جائے گا جن کو عبور کرنا ضروری ہو گا اور بقول منیر نیازی مرحوم ہماری آزمائش کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا کہ #
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
جو ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
ابراہم لنکن، ہم اور کوئٹہ کی ہوائیں-اطہر شاہ خان
لیجئے صاحب: آٹھ سال بعد ہمارا گمشدہ سوٹ مل گیا ہے اور ملا بھی کہاں سے؟ ٹین کے اس خاصے بڑے بکسے سے جس میں فنائل کی گولیاں ڈال کر ہماری بیگم نے گھر بھر کے پرانے گرم کپڑے آئندہ زمانوں کیلئے محفوظ کردیئے ہیں۔ ہم تو اس سوٹ کو بھول بھی چکے تھے مگر اب کی سردیوں میں جب کچھ مہمان نادیدہ آفات کی طرح اچانک آگئے تو بستروں کی ضرورت محسوس ہوئی، ہماری بیگم نے گرم کپڑوں کے ساتھ کچھ لحاف اور گدے
امن کے پيامبر – اوريا مقبول جان
Written by Orya Maqbool Jan, published in Express on 23rd January 2010
عزت کا لاشہ – طلعت حسين
Article written by Talat Hussain, published in Daily Express on 23rd January 2010
میر اِن نیم باز آنکھوں میں ۔ ساری مستی شراب کی سی ہے-ڈاکٹر صفدر محمود
صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کو دعویٰ ہے کہ وہ باز کی سی آنکھیں رکھتے ہیں جن سے سازشیوں کو دیکھ رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح نیلگوں فضاؤں میں بلندیوں پر اڑتا ہوا باز اور چٹانوں پر بسیرا کرنے والا شاہین آسمانوں کے قریب پرواز کرنے کے باوجود زمین پر اپنے شکار پر نظر رکھتا ہے۔