اپنا اپنا سا لگنے والا ایک صدر! – عطاء الحق قاسمی
سچ پوچھیں تو مجھے صدر آصف علی زرداری سے ہمدردی سی پیدا ہوگئی ہے۔ انہیں بہت عرصے سے آدھا زمین میں گاڑھ کر سنگسار کیا جا رہا ہے بلکہ میرے ایسے بہت سے نو آموز بھی ان پر اپنے نشانے ”پکا“ رہے ہیں،
آصف علی زرداری کے ”جرائم“ اور ”کارنامے“…سلیم صافی
محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری برسی کے موقع پر پرجوش خطاب کسی صدر پاکستان کا خطرناک ترین لیکن اپنی ذات کے لئے آصف علی زرداری کا ان کی زندگی کا بہترین خطاب تھا ۔ برسی محترمہ بے نظیر بھٹو کی تھی لیکن خطاب کا محور و مرکز آصف علی زرداری کی ذات تھا ۔ یقینا ایسا خطاب صدر پاکستان کو زیب نہیں دیتا
ایک درویش کا پیغام ان کے نام…ڈاکٹر صفدر محمود
میں طویل عرصے سے اس مرد درویش کا عقیدت مند ہوں ،کیونکہ میرا مشاہدہ ہے کہ اس شخص کا باطن روشن ہے، یہ ولی اللہ ہے اور میں نے اکثر اس کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو سچ ہوتے دیکھا ہے۔ اس شخص نے اپنے آپ کو چھپا رکھا ہے اور ظاہر کرنے سے کتراتا ہے، کبھی کبھی جب اس پر جذب کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے اس کے باطن کا چراغ روشن ہوگیا ہے اور وہ دور تک دیکھ رہا ہے جہاں تک ہماری نظر نہیں پہنچ سکتی۔
سال 2009ء کی صف ماتم – منوبھائی
سال 2009ء کے دوران عالمی سیاست، معیشت اور معاشرت کو متاثر کرنے والے لوگوں میں سے جو لوگ اس دنیا ئے فانی سے رخصت ہوئے ان میں سے رابرٹ میکن مارا، کورا زون اکینو، مائیکل جیکسن، جان اُپ ڈاٹک، ایڈورڈ کینڈی، بیت اللہ محسود اور ندا آغا سلطان نے سب سے زیادہ مثبت یا منفی شہرت حاصل کی۔
خواہش بغیر کوشش – حسن نثار
سیاسی رونے تو روتے ہی رہتے ہیں، کبھی کبھی اپنے رویوں پر بھی غور کر لینا چاہئے۔ ہمارے نہ کرتوت سیدھے نہ قریے کوچے کسی ترتیب میں ،نہ قبروں میں کوئی تنظیم اور سلیقہ۔ فاتحہ کے بعد قبرستان میں کھڑا بدنظمی پر کڑھ رہا تھا کہ ساتھی نے کہا ”کیوں خون جلاتے ہو اپناجو زندہ حالت میں سلیقے قرینے اور نظم و ضبط سے محروم ہوں وہ مرنے کے بعد منظم کیسے ہو سکتے ہیں؟
سرگودھا سے گرفتار 5امریکیوں سے چشمہ بیراج کے نقشے برآمد
اسلام آباد(جنگ نیوز)سرگودھا سے گرفتارکئے گئے پانچ امریکی شہریوں سے چشمہ بیراج کے نقشے برآمدہوئے ہیں اوران افرادنے پاکستان میں مختلفتنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
صوبوں کی زنجير بمقابلہ غصے کی تصوير
Article written by Talat Hussain, published in "Express" on 26th December 2009
بابر اعوان بنيں
Article published in Express on 22nd December (Zero Point), written by Javed Chaudhry.
اب تیرا کیا ہوگا کالیا–امر جلیل
کالیا ٹیلیوژن کے سامنے اپنے نرم، گداز اور آرام دہ صوفہ پر دھنسا ہوا بیٹھا تھا اور ریموٹ کنٹرول سے چینل بدل بدل کر این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اور فیصلہ پر ماہر وکیلوں اور ریٹائرڈد ججوں کے تاثرات نہایت اطمینان سے سن رہا تھا۔ اسکے چہرے سے لگتا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ وہ برسوں سے پینے پلانے کا عادی ہے۔ جب بھی آپ اس کو ملیں گے اس کی آنکھوں کے پپوٹے پھولے پھولے دیکھیں گے یہ علامت ہینگ اوور کی نشانی ہے۔
صوفہ سے منسلک سائیڈ ٹیبل پر سگار کا ڈبہ اور سگریٹ کے پیکٹ رکھے تھے۔ ایشٹرے سگریٹ کے ٹوٹوں سے تقریباً بھر چکا تھا۔ قریب ہی اسکاچ وسکی کی ایک خالی
طالبان سے طالبات تک- حسن نثار
اصل موضوع تو فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبات کا احتجاج اور احتجاجی خط ہے لیکن کیا کروں کہ ابھی تک نئے نئے نظر آنے والے امیر جماعت اسلامی منور حسن کے ”اقوال زریں“ پر تبصرہ کئے بغیر آگے نکل جانا میرے نزدیک ”مجرمانہ غفلت“ سے کم نہیں۔ منور حسن فرماتے ہیں کہ مسلمان دھماکے نہیں کر سکتے۔ مطلب یہ کہ مسلمان مسلمان بھائیوں کا قتل عام نہیں کر سکتا۔ حکم بھی یہی ہے اور مفروضہ بھی اچھا ہے لیکن بدقسمتی سے حقائق ذرا مختلف ہیں۔ برا ہو تاریخ کا جو ہمیں خون کے