دہشت گرد صرف وہی نہیں جنہوں نے خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے ذریعے سارے ملک میں آگ لگا رکھی ہے، ہزاروں لوگوں کا خون بہانے کے بعد ہزاروں گھروں کوویران کر دیا ہے اور ہمارا چین برباد کر رکھا ہے بلکہ دہشت گرد وہ بھی ہیں جو ہر چند برسوں بعد جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اور آئین کو پامال کرکے قوم کو یرغمال بنا لیتے ہیں اور دہشت گرد وہ بھی ہیں جو غریب ملک کے خزانے پر ڈاکے ڈالتے، اربوں روپے ہضم کرجاتے یا اربوں کے قرض لے کر انہیں رائٹ آف یعنی معاف کروا لیتے ہیں، Continue reading »
| زندگی کس رفتار سے کس طرف رواں دواں ہے، اس کا درست اندازہ لگانے کے لئے تو ہمارے فکری، مذہبی اور سیاسی لیڈروں کے پاس نہ علم ہے نہ عقل نہ وژن نہ وقت نہ رغبت لیکن صورتحال کو سمجھنے کے لئے چند بظاہر معمولی باتوں پر غور کر لیں تو ذہن کا زنگ کافی حد تک صاف ہو سکتا ہے۔ صرف 30,25 برس پہلے تک ٹیلیفون کا لگنا کسی خبر سے کم نہ تھا۔ وفاقی وزیر سے کم کی سفارش پر مہینوں بلکہ سالوں انتظار کرنا پڑتا اور فون لگنے پر مبارکبادیں ملتی تھیں اور فون کی گھنٹی بجتے ہی دلوں کے تار بج اٹھتے تھے۔ آج ”چھیدا“ ایک ہاتھ سے دانے بھون اور دوسرے سے فون سن رہا ہوتا ہے۔ کیمرہ، گھڑی، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر وغیرہ ماضی قریب میں باقاعدہ ”اثاثے“ سمجھے جاتے تھے … آج یہ سب کچھ ”جھونگے“ میں مل جاتا ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے، دنیا اس تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے کہ آنکھ نہیں ٹکتی۔ ابھی کل ہی یہ چونکا دینے والی خبر نظر سے گزری ہے کہ البرٹ آئن سٹائن میڈیکل کالج کے سائنس دانوں نے انسان کو سو سال تک زندہ رکھنے والا جین دریافت کر لیا ہے۔ یہ جین عمر رسیدگی کو نمایاں کرنے والے خلیوں کی نشو و نما میں مزاحم ہو گا وغیرہ وغیرہ۔ ”بے راہرو، اخلاقیات سے عاری اور گمراہ“ قومیں موت کے ساتھ مقابلہ میں مصروف ہیں، چاند سے Continue reading » |
|
Recent Comments