ایک مرتبہ کسی انٹرویو کے دوران ایدھی بابا سے پوچھاگیا کہ جناب یہ جوصاحب حیثیت لوگ غریب لوگوں کیلئے دیگیںچڑھاتے ہیںاورانہیں اپنے ہاتھوںسے تقسیم کرتے ہیں یاکسی خاص دن خیرات تقسیم کرتے ہیں تواس کے بارے میں آپ کاکیاخیال ہے تو ایدھی صاحب نے اپنے مخصوص لہجے میںکہا’’یہ کھراب سسٹم کی کھراب نیکیاںہیں‘‘ یعنی اگر معاشرہ بے ایمان اوربے انصاف ہے ،مساوات پرقائم نہیںہے تو اس میں کی جانے والی نیکیاں بھی اسی کاایک پرتوہوںگی میںاس نوعیت کی کھراب نیکیاں اپنے آس پاس دیکھتارہتاہوں۔ Continue reading »
اس سال نائن الیون کی یاد میں منائی جانے والی تقریبات پاکستان، امریکہ ، افغانستان اور بھارت کے لئے کئی وجوہات سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ 8سال پہلے اس تباہ کن دن کے بعد پہلی مرتبہ پاکستانی فوج نے سوات میں طالبان کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا۔ اہم دہشت گردوں کو مارڈالا یا گرفتار کر لیااور اب وہ وزیرستان میں القاعدہ کے خلاف لڑنے کے لئے بھی تیار ہے ۔
یہ بڑی پیش رفت امریکہ کے افغانستان پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پاکستان کو لاحق اندرونی خطرات کی حقیقت کو نمایاں کرتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آخر کار پاکستانی حکومت ، اپوزیشن، فوج اور میڈیا کا اس بات پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا کہ یہ جنگ صرف امریکہ کی جنگ نہیں بلکہ پاکستان کی جنگ ہے ۔ اور ملک کو لاحق متوقع خطرات سے نمٹنے کے لئے جنگ اگرچہ اکیلی کافی نہ ہو مگرضروری ہو چکی ہے ۔ Continue reading »
پاکستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے موجودہ سیاسی منظر نامے کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ہمارے حکمران ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں نہ صرف تاریخ سے سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں ہیں بلکہ خطے کی اُلجھنوں کو سمجھنے ، پاکستان کو درپیش مسائل کا معروضی جائزہ لینے اور اِس سے منسلک جدید تقاضوں کا ادراک کرنے سے بھی محروم نظر آتے ہیں ۔ عہد حاضر میں پاکستان کو کیا خطرات درپیش ہیں اور اِن خطرات کے پیش نظر بانیانِ پاکستان کی وراثت کو کس طرح محفوظ کیا جا سکتا ہے ، وہم و گمان سے بے نیاز ہمارے حکمران کسی بھی نازک صورتحال سے بے پرواہ ہو کر آج پھر سے باہم دست و گریباں ہیں ۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان کے بعد جو کچھ کہا تھا وہ آج کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی منطبق نظر آتا ہے ۔ Continue reading »
گرمیوں کے آخری ایام کے ساتھ ہی ماحول میں اداسی کی لہر چھاجاتی ہے لیکن زندگی اپنے سفر پر رواں دواں رہتی ہے ۔ گرمیوں کی رخصتی اور خزاں کی آمد کی باتیں چل رہی ہیں۔ا سکولوں کی پیلی بسیں بچوں کو گھروں سے اٹھانے کے لئے سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ کالجز میں بھی نئے طلباء کی آمد سے چہل پہل بڑھ گئی ہے۔ گرمیوں کے مختصر لباس طے کر کے رکھ دیے گئے ہیں۔ لوگوں نے دھوپ سے بچاؤ کی اشیاکو بھی خیرآباد کہہ دیاہے ۔ Continue reading »
Article written by Ardsher Kaosji, published in Daily Express on 13th September 2009 Continue reading »
فوج اور فضائیہ نے طالبان کے چھکے چھڑا دئیے ہیں اور اسکا ہم پر اجتماعی نفسیاتی اثر یہ ہوا ہے کہ طالبان کا خوف ہمارے ذہنوں سے محو ہوتا جا رہا ہے۔ گو کہ دہشت گردی سے متعلق خطرات ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، تاہم یہ ضرور ہے کہ ان خطرات میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ طالبان اور دہشت گردی کی حد تک تو حکومت کی کارروائی درست ہے لیکن بھلا یہ تو بتائیے کہ صنعت و تجارت اور بینکوں سے متلعق بڑے بڑے استحصالی جھتوں سے کون نمٹے گا کیونکہ حکومت اپنی تمام تر طاقت کے باوجود ان کے سامنے بالکل بے بس اور لاچار ہے؟ Continue reading »
چند برس قبل مجھے لاہور کے مشہور امراض قلب کے ہسپتال (پی آئی سی) میں جانا پڑا۔ کہیں یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ میں دل کا مریض ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں نہایت نرم دل رکھنے کے باوجود ابھی تک امراض سے محفوظ ہوں۔ ایک مریض کے معائنے کے لئے ہارٹ سپیشلسٹ سے وقت لے رکھا تھا اور ہم دونوں اس ڈاکٹر کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں سپریم کورٹ کے دو جج صاحبان تشریف لے آئے۔ ان میں سے ایک حاضر سروس تھے اور دوسرے سابق جج حالانکہ میرا مشاہدہ ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے آتے ہی ڈاکٹر صاحب کے بارے میں دریافت کیا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ آپریشن کر رہے ہیں اور تھوڑی دیر میں آنے والے ہیں۔ حاضر سروس جج صاحب کی انجو گرافی ہونی تھی اور انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے وقت لے رکھا تھا۔ چنانچہ انہیں غصہ آ گیا اور انہوں نے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے درشت لہجے میں کہا کہ ڈاکٹر نے مجھے صبح 9 بجے کا وقت دیا تھا لیکن خود موجود نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے اسسٹنٹ نے جج صاحب کے غصے کو بھانپتے ہوئے التجا کی کہ بس وہ آنے ہی والے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر صاحب آپریشن سے فارغ ہو کر آ گئے اور انہوں نے جج صاحب کا گرمجوشی سے استقبال کرتے ہوئے تاخیر پر معذرت کی۔ اس موقع پر جج صاحب نے ایک ایسا تاریخی فقرہ کہا جو میرے ذہن پر نقش ہو گیا۔ مجھے جب بھی وہ فقرہ یاد آتا ہے میں مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جج صاحب نے غصے سے ڈاکٹر صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی جج ہسپتال میں قدم رکھتا ہے تو سارا ہسپتال اس کی ڈسپوزل (رحم و کرم) پر ہوتا ہے۔ جج صاحب سے میرا معمولی سا تعارف تھا۔ میں مسکرایا تو وہ جھینپ گئے اور ان کے ساتھی سابق جج صاحب وضاحتیں کرنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب نے میرے ساتھی مریض کی جانب توجہ کرنی چاہی تو میں نے نہایت سنجیدگی سے عرض کیا کہ ڈاکٹر صاحب! اب سارا ہسپتال جج صاحب کی ڈسپوزل پر ہے۔ براہ کرم ان کی انجو گرافی کر لیں۔ ہم انتظار کرتے ہیں ورنہ خطرہ ہے کہ ہمیں توہین عدالت میں جیل بھجوا دیا جائے گا۔ اس پر مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا اور بات آئی گئی ہو گئی۔ Continue reading »
Article written by Talat Hussain and published in Express on 12th September 2009 Continue reading »
میرا ایک دوست بہت ذہین ہے تاہم اس کا ذہن کاروباری معاملات میں زیادہ فعال نظر آتا ہے، اسے ہرروز نت نئے کاروبار سوجھتے ہیں لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے مار کھاجاتا ہے اور یوں اس کا کوئی خواب شرمندہ ٴ تعبیر نہیں ہوتا۔ گزشتہ روز وہ دو تین نئے آئیڈیاز کے ساتھ میرے پاس آیا اور کچھ کاروباری ”پروپوزلز“ میرے ساتھ ”ڈسکس“ کیں۔ میں اس معاملے میں بالکل پھسڈی واقع ہوا ہوں چنانچہ اس کا ”مصرعہ“ تو اٹھاتا رہا لیکن کوئی حتمی بات نہیں کی۔
ایک تجویز جو اس نے میرے سامنے پیش کی اس کا تعلق سیاسی جماعتوں پر لگائے جانے والے الزامات سے تھا۔اس کا کہنا تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں ساری عمر الزامات کی کالک منہ پرلگائے شرمندہ شرمندہ سی پھرتی نظر آتی ہیں۔ حالانکہ میں انہیں بچوں کی طرح معصوم ثابت کرسکتا ہوں اس نے بتایاکہ اس کا اردہ ایک کاروباری ادارہ ”سیاسی ڈرائی کلینرز“ کے نام سے کھولنے کا ہے۔جس کی شاخیں پاکستان کے چاروں صوبوں میں ہوں گی اور جہاں سیاسی جماعتوں کی داغ دھبوں سے بھری ہوئی پوشاکیں ڈرائی کلین کی جائیں گی چنانچہ جب وہ نئی پوشاک کے ساتھ عوام کے سامنے آئیں گی تو عوام سو جان سے ان پر فدا ہوجائیں گے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم یہ کام کیسے کروں گے؟ اس نے جواب دیا ”یہ ایک بڑا پروجیکٹ ہے اس میں قوم کے تمام طبقوں سے تعاون حاصل کرنا پڑے گا۔ اگر کوئی خوشدلی سے تعاون کرے گا تو اس سے ہمارا کام آسان ہو جائے گا اور Costبھی کم ہو جائے گی۔ بصورت ِ دیگر تمام حربے استعمال کئے جائیں گے۔“ میں نے پوچھا کہ ان ”تمام حربوں“ کے لئے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ بولا میں یہ کام کوئی خدمت ِ خلق کے جذبے سے نہیں کر رہا بلکہ میرا یہ کاروبارہے چنانچہ میں سیاسی جماعتوں سے ان کی ڈرائی کلیننگ کا پورا پورا معاوضہ وصول کروں گا۔
لندن - لامذہبیت فطرت سے جنگ ہے انسانوں کو اپنے ارتقا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ پر یقین کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ سائنس دانوں نے طویل تحقیق کے بعد کیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہناہے کہ بچوں کے دماغ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کے دماغ میں وقت گزرنے کے ساتھ ہونے والی تبدیلیاں مذہبی تجربات سے تعلق رکھتی ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق مذہبی رجحانات کے ساتھ ارتقا پانے والے گروپس اپنے عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ وہ اجتماعیت کے عادی ہوتے ہیں اور ان کی بقا کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ Continue reading »
Recent Comments