| جنرل (ر) پرویز مشرف خود کو اور پاکستان کو لازم و ملزوم سمجھتے تھے حالانکہ صورت حال لازم و ملزوم نہیں، ظالم و مظلوم والی تھی۔ موصوف اپنی ذات کے عشق میں کچھ اس بری طرح مبتلا تھے کہ مجھے یقین ہے اپنی سالگرہ پر وہ اپنے اہل خانہ کو مبارک باد کا پیغام بھیجتے ہوں گے۔ جنرل صاحب خود کو عقل کل سمجھتے تھے اور یوں انہیں یقین تھا کہ اس بے عقل قوم کی رہنمائی ان پر فرض ہے۔ وہ اس فرض کو ”فرضِ کفایہ“ بھی Continue reading » |
یہ زیادہ پرانی بات نہیں…یہ اس دن کی بات ہے جب صدر آصف علی زرداری امریکہ کے دورے پر روانہ ہوئے اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کو سیکورٹی فراہم کرنے والے ایک پرائیویٹ ادارے کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا۔ چھاپہ مارنے کا فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں تین بڑے خفیہ اداروں نے اسلام آباد میں امریکیوں کی پراسرار سرگرمیوں کے بارے میں اپنی اپنی رپورٹیں پیش کیں۔ Continue reading »
ہمارے ماضی کے تقریباً تمام عظیم مسلمان حکمران یا تو ترک تھے یا افغان، محمود غزنوی سے لیکر مغل حکمرانوں تک سبھی کاکیشین تھے اور انہوں نے شمال کے ٹھنڈے علاقوں سے نکل کر ہندوستان پر حملے کئے، اسے فتح کیا اور اس پر حکومت کی۔
1192عیسوی سے لیکر اگلے آٹھ سو سال تک ہندوستان کسی نہ کسی صورت کاکیشیائی حکمرانوں کے زیرنگین رہا۔ یہ 1192کا ہی واقعہ ہے جب پرتھوی راج چوہان کو محمد غوری نے موجودہ دور کے ہریانہ میں شکست فاش سے دوچار کیا۔ لیکن اس آٹھ سو سال پر محیط تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے معلوم ہو گا کہ موجودہ دور کے سرزمین پاکستان نے کسی اہم یا قابل قدر رہنما یا حکمران کو جنم نہیں دیا، Continue reading »
Written by Orya Maqbool Jan, published in Daily Express on 24th September 2009. Continue reading »
حافظے کے سلسلے میں اپنا دماغ چو پٹ ہوجانے کی وجہ سے اب ہمیں کافی شک ہوتا جا رہا ہے کہ ہم کہیں فلسفی ہی نہ ہوں کیونکہ ہم یادداشت کی خرابی کی اس منزل تک پہنچ چکے ہیں جہاں اکثر بڑے فلسفی اپنا نام تک بھول جایا کرتے ہیں اور کچھ عجب نہیں کہ کسی دن کوئی ہمارا نام پوچھے تو انکسار سے عرض کریں کہ…۔ خاکسار کو برٹرینڈ رسل کہتے ہیں۔ Continue reading »
افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی کا دلی شکریہ کہ انہوں نے میرے کالم میں گورنمنٹ کالج پبی (صوبہ سرحد)کے ایک معزز استاد انور جمال صاحب کی توہین کی داستان پڑھ کر اس افسوسنا ک واقعہ کا نوٹس لیا اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور پروفیسرصاحب کی دلجوئی کے لئے فوری اقدامات کئے۔ میرے کالم کی اشاعت کے بعد مجھے صوبہ سرحد سے بہت سے قارئین کے ٹیلیفون اور خطوط موصول ہوئے جن میں کم و بیش اس سے ملتی جلتی صورتحال کا احوال بیان کیا گیا تھا جس سے پروفیسر انور جمال دوچارہوئے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے بہادر فوجی ملک و قوم کے لئے اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں، ان کا مقابلہ دہشت Continue reading »
پاکستان میں اقتدار کے تین راستے اور تین ستون ہیں۔عوام،اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ۔موجودہ سیاسی قیادت تیسرے عامل سے قربت کے نشے میں اس قدر آپے سے باہر ہوگئی ہے کہ ثانی الذکر عامل کو بھی درخوداعتناء نہیں سمجھتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف فوج نے اپنے آپ کوگذشتہ الیکشن میں ملوث نہیں کیا بلکہ اس کے بعد بھی حکومت کو فری ہینڈ دیا۔ شاید جنرل اشفاق پرویز کیانی پہلے آرمی چیف تھے جنہوں نے خود حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت کو سیکورٹی معاملات پر بریف کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ابتداء میں سوات‘ بلوچستان اور قبائلی علاقوں جیسے حساس معاملات بھی اس کے سپرد کئے لیکن سیاسی قیادت خود بچگانہ روش کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوج کو دخیل کرتی رہی۔بلوچستان کو دیکھ لیجئے ۔ وہاں کے لئے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی تیاری میں ایک سال سے زائد کا وقت ضائع کیا گیا۔ اپنا بھی یہ خیال تھا کہ شاید فوج عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ہے لیکن اب معلوم ہوا کہ آرمی چیف اور کورکمانڈر کوئٹہ جب اس حوالے سے وزیراعظم سے ملے تو نہ صرف تمام سفارشات پر ہاں کردی بلکہ آگے بڑھ کر بلوچوں کو مزید مراعات اور اختیارات دینے کی سفارش کردی جس پر خود وزیراعظم کو کہنا پڑا کہ آپ لوگ تو ہم سے بھی دو قدم آگے نکل گئے لیکن نہ جانے کیوں ان سفارشات پر عمل درآمد نہیں کیاجارہا اور لامحالہ بلوچستان فوج کے سپرد ہے۔ملاکنڈ آپریشن کو دیکھ لیجئے ۔ اس سے متعلق سیاسی قیادت کی لاتعلقی کا یہ عالم تھا کہ کورکمانڈر پشاور کو سرحد حکومت کی اہم شخصیات کو طلب کرکے دھمکی دینا پڑی کہ اگر وہ اس آپریشن کو اون نہیں کریں گے تو آپریشن ادھورا چھوڑ کر وہ فوج کو واپس بلالیں گے، تب سرحد حکومت زبانی کلامی اس آپریشن کو سپورٹ کرنے لگی۔آپریشن سے بے گھر ہونے والے لاکھوں متاثرین کو سنبھالنا سیاسی حکومت کے حصے میں آیا تو اس ضمن میں نااہلی اور بدانتظامی کی نئی تاریخ رقم کی گئی۔ بحالی کی رقم میں خردبرد کے قصے زبان زدعام ہیں۔ سیاسی رشوت کے طور پر ملاکنڈ ڈویژن کے ایم پی ایز کو حیات میں پلاٹ دئے جارہے ہیں اور حقیقی متاثرین ہنوز امدادی رقم کے منتظر ہیں۔آپریشن کے بعد سول اداروں کی بحالی میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ ہورہا ہے ۔ اگرچہ محمد ادریس خان کی صورت میں دیانتدار اور بہادر پولیس آفیسر کوڈی آئی جی تعینات کیا گیا ہے لیکن سرحد حکومت کی طرف سے پولیس کی بحالی کے لئے مطلوبہ دلچپسی نظرآتی ہے اور نہ درکار رقم فراہم کی جارہی ہے ۔ آپریشن کا فیصلہ عسکری قیادت کا تھا، پلاننگ بھی اس کی تھی اور سینکڑوں کی تعداد میں جانوں کے نذرانے بھی فوجی آفیسرز اور جوانوں نے دئے لیکن اب پی پی پی اور اے این پی کی قیادت اس سے اس کا کریڈٹ چھیننا چاہتی ہے ۔ Continue reading »
By S. J. Raghbi-
Recent Comments