خبريں اردو سے محبت کرنے والوں کے لۓ

28Sep/094

پرویز مشرف اور اداکارہ میرا- عطاالحق قاسمی

جنرل (ر) پرویز مشرف خود کو اور پاکستان کو لازم و ملزوم سمجھتے تھے حالانکہ صورت حال لازم و ملزوم نہیں، ظالم و مظلوم والی تھی۔ موصوف اپنی ذات کے عشق میں کچھ اس بری طرح مبتلا تھے کہ مجھے یقین ہے اپنی سالگرہ پر وہ اپنے اہل خانہ کو مبارک باد کا پیغام بھیجتے ہوں گے۔ جنرل صاحب خود کو عقل کل سمجھتے تھے اور یوں انہیں یقین تھا کہ اس بے عقل قوم کی رہنمائی ان پر فرض ہے۔ وہ اس فرض کو ”فرضِ کفایہ“ بھی
  • Share/Bookmark
28Sep/090

غلامی کی نئی دستاویز–حامد میر

یہ زیادہ پرانی بات نہیں…یہ اس دن کی بات ہے جب صدر آصف علی زرداری امریکہ کے دورے پر روانہ ہوئے اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کو سیکورٹی فراہم کرنے والے ایک پرائیویٹ ادارے کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا۔ چھاپہ مارنے کا فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں تین بڑے خفیہ اداروں نے اسلام آباد میں امریکیوں کی پراسرار سرگرمیوں کے بارے میں اپنی اپنی رپورٹیں پیش کیں۔

  • Share/Bookmark
26Sep/090

آٹھ سو سالہ تاریخ کا اعادہ – ایاز میر

ہمارے ماضی کے تقریباً تمام عظیم مسلمان حکمران یا تو ترک تھے یا افغان، محمود غزنوی سے لیکر مغل حکمرانوں تک سبھی کاکیشین تھے اور انہوں نے شمال کے ٹھنڈے علاقوں سے نکل کر ہندوستان پر حملے کئے، اسے فتح کیا اور اس پر حکومت کی۔
1192عیسوی سے لیکر اگلے آٹھ سو سال تک ہندوستان کسی نہ کسی صورت کاکیشیائی حکمرانوں کے زیرنگین رہا۔ یہ 1192کا ہی واقعہ ہے جب پرتھوی راج چوہان کو محمد غوری نے موجودہ دور کے ہریانہ میں شکست فاش سے دوچار کیا۔ لیکن اس آٹھ سو سال پر محیط تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے معلوم ہو گا کہ موجودہ دور کے سرزمین پاکستان نے کسی اہم یا قابل قدر رہنما یا حکمران کو جنم نہیں دیا،

  • Share/Bookmark
24Sep/090

Meer kia sadaa hein

Written by Orya Maqbool Jan, published in Daily Express on 24th September 2009.

  • Share/Bookmark
24Sep/090

صدر زرداری کے خلاف تحريک استحقاق

RaghbiBy S. J. Raghbi-

 

  • Share/Bookmark
24Sep/090

حد سے بڑھی ہوئی سیاستکاری اور ریاکاری ـ2ـ ایازا میر

ہماری فوج نے سوات میں ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ فضل اللہ اور اس کے طالبان ساتھی دفاعی پوزیشن پر چلے گئے ہیں اور جان بچانے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ فاٹا کے طالبان پر بھی دباؤ بڑھ چکا ہے، وزیرستان میں بھی فوج نے مخصوص علاقوں میں آپریشن کر کے طالبان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ لیکن اگر پاکستانی فوج کو ”جہاد“ کے میدانوں میں جھونکنے والے مائنڈ سیٹ سے نجات حاصل کرنی ہے تو اس کے لئے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں سب سے اہم پیش رفت اذہان کی تبدیلی ہے۔ ہمیں ایک ایسے سماجی انقلاب کی ضرورت ہے جو ہماری سوچ پر لگے جالوں کو صاف کر دے۔پاکستان اس وقت تک اس مائنڈ سیٹ سے چھٹکارا نہیں پا سکتا جب تک ہماری قانون کی کتابوں میں سے ریاکاری پر مبنی پرسائی کے وہ تمام نشانات کامل طور پر مٹا نہیں دیئے جاتے جو ضیائی دور میں ثبت کئے گئے ہیں۔
  • Share/Bookmark
24Sep/090

حد سے بڑھی ہوئی سیاستکاری اور ریاکاری ـ1ـ ایازا میر

آخر کار ایک معقول اور صحیح الدماغ شخص کتنے اور کس قدر من گھڑت افسانے اور کہانیاں برداشت کر سکتا ہے۔ کچھ یوں لگتا ہے کہ ہماری قوم حالت جنگ میں نہیں ہے بلکہ یہ ایک مسلسل و مستقل بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ اگر کوئی حقیقی بحران نہ بھی ہو ، تب بھی قوم کو بے چینی و بے قراری ڈستی رہتی ہے۔دنیا کا کوئی اور ملک ہوتا تو وہاں بریگیڈئیر امتیاز بلا جیسے شخص کی خرافات کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا جاتا لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوا۔
  • Share/Bookmark
24Sep/090

ہميں سب ہے ياد ذرا ذرا ـ2ـ اطہر شاہ خان

حافظے کے سلسلے میں اپنا دماغ چو پٹ ہوجانے کی وجہ سے اب ہمیں کافی شک ہوتا جا رہا ہے کہ ہم کہیں فلسفی ہی نہ ہوں کیونکہ ہم یادداشت کی خرابی کی اس منزل تک پہنچ چکے ہیں جہاں اکثر بڑے فلسفی اپنا نام تک بھول جایا کرتے ہیں اور کچھ عجب نہیں کہ کسی دن کوئی ہمارا نام پوچھے تو انکسار سے عرض کریں کہ…۔ خاکسار کو برٹرینڈ رسل کہتے ہیں۔

  • Share/Bookmark
18Sep/090

ایک سویلین کی فرعونیت!-روزن دیوار سے…عطا الحق قاسمی

افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی کا دلی شکریہ کہ انہوں نے میرے کالم میں گورنمنٹ کالج پبی (صوبہ سرحد)کے ایک معزز استاد انور جمال صاحب کی توہین کی داستان پڑھ کر اس افسوسنا ک واقعہ کا نوٹس لیا اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور پروفیسرصاحب کی دلجوئی کے لئے فوری اقدامات کئے۔ میرے کالم کی اشاعت کے بعد مجھے صوبہ سرحد سے بہت سے قارئین کے ٹیلیفون اور خطوط موصول ہوئے جن میں کم و بیش اس سے ملتی جلتی صورتحال کا احوال بیان کیا گیا تھا جس سے پروفیسر انور جمال دوچارہوئے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے بہادر فوجی ملک و قوم کے لئے اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں، ان کا مقابلہ دہشت

  • Share/Bookmark
18Sep/090

سیاسی قیادت کی سیاسی خودکشی- سلیم صافی

پاکستان میں اقتدار کے تین راستے اور تین ستون ہیں۔عوام،اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ۔موجودہ سیاسی قیادت تیسرے عامل سے قربت کے نشے میں اس قدر آپے سے باہر ہوگئی ہے کہ ثانی الذکر عامل کو بھی درخوداعتناء نہیں سمجھتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف فوج نے اپنے آپ کوگذشتہ الیکشن میں ملوث نہیں کیا بلکہ اس کے بعد بھی حکومت کو فری ہینڈ دیا۔ شاید جنرل اشفاق پرویز کیانی پہلے آرمی چیف تھے جنہوں نے خود حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت کو سیکورٹی معاملات پر بریف کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ابتداء میں سوات‘ بلوچستان اور قبائلی علاقوں جیسے حساس معاملات بھی اس کے سپرد کئے لیکن سیاسی قیادت خود بچگانہ روش کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوج کو دخیل کرتی رہی۔بلوچستان کو دیکھ لیجئے ۔ وہاں کے لئے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی تیاری میں ایک سال سے زائد کا وقت ضائع کیا گیا۔ اپنا بھی یہ خیال تھا کہ شاید فوج عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ہے لیکن اب معلوم ہوا کہ آرمی چیف اور کورکمانڈر کوئٹہ جب اس حوالے سے وزیراعظم سے ملے تو نہ صرف تمام سفارشات پر ہاں کردی بلکہ آگے بڑھ کر بلوچوں کو مزید مراعات اور اختیارات دینے کی سفارش کردی جس پر خود وزیراعظم کو کہنا پڑا کہ آپ لوگ تو ہم سے بھی دو قدم آگے نکل گئے لیکن نہ جانے کیوں ان سفارشات پر عمل درآمد نہیں کیاجارہا اور لامحالہ بلوچستان فوج کے سپرد ہے۔ملاکنڈ آپریشن کو دیکھ لیجئے ۔ اس سے متعلق سیاسی قیادت کی لاتعلقی کا یہ عالم تھا کہ کورکمانڈر پشاور کو سرحد حکومت کی اہم شخصیات کو طلب کرکے دھمکی دینا پڑی کہ اگر وہ اس آپریشن کو اون نہیں کریں گے تو آپریشن ادھورا چھوڑ کر وہ فوج کو واپس بلالیں گے، تب سرحد حکومت زبانی کلامی اس آپریشن کو سپورٹ کرنے لگی۔آپریشن سے بے گھر ہونے والے لاکھوں متاثرین کو سنبھالنا سیاسی حکومت کے حصے میں آیا تو اس ضمن میں نااہلی اور بدانتظامی کی نئی تاریخ رقم کی گئی۔ بحالی کی رقم میں خردبرد کے قصے زبان زدعام ہیں۔ سیاسی رشوت کے طور پر ملاکنڈ ڈویژن کے ایم پی ایز کو حیات میں پلاٹ دئے جارہے ہیں اور حقیقی متاثرین ہنوز امدادی رقم کے منتظر ہیں۔آپریشن کے بعد سول اداروں کی بحالی میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ ہورہا ہے ۔ اگرچہ محمد ادریس خان کی صورت میں دیانتدار اور بہادر پولیس آفیسر کوڈی آئی جی تعینات کیا گیا ہے لیکن سرحد حکومت کی طرف سے پولیس کی بحالی کے لئے مطلوبہ دلچپسی نظرآتی ہے اور نہ درکار رقم فراہم کی جارہی ہے ۔ آپریشن کا فیصلہ عسکری قیادت کا تھا، پلاننگ بھی اس کی تھی اور سینکڑوں کی تعداد میں جانوں کے نذرانے بھی فوجی آفیسرز اور جوانوں نے دئے لیکن اب پی پی پی اور اے این پی کی قیادت اس سے اس کا کریڈٹ چھیننا چاہتی ہے ۔

  • Share/Bookmark
18Sep/090

کھراب سسٹم کی کھراب نیکیاں۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

ایک مرتبہ کسی انٹرویو کے دوران ایدھی بابا سے پوچھاگیا کہ جناب یہ جوصاحب حیثیت لوگ غریب لوگوں کیلئے دیگیںچڑھاتے ہیںاورانہیں اپنے ہاتھوںسے تقسیم کرتے ہیں یاکسی خاص دن خیرات تقسیم کرتے ہیں تواس کے بارے میں آپ کاکیاخیال ہے تو ایدھی صاحب نے اپنے مخصوص لہجے میںکہا’’یہ کھراب سسٹم کی کھراب نیکیاںہیں‘‘ یعنی اگر معاشرہ بے ایمان اوربے انصاف ہے ،مساوات پرقائم نہیںہے تو اس میں کی جانے والی نیکیاں بھی اسی کاایک پرتوہوںگی میںاس نوعیت کی کھراب نیکیاں اپنے آس پاس دیکھتارہتاہوں۔

  • Share/Bookmark
18Sep/090

نائن الیون کی روحیں۔۔۔۔ نجم سیٹھی

اس سال نائن الیون کی یاد میں منائی جانے والی تقریبات پاکستان، امریکہ ، افغانستان اور بھارت کے لئے کئی وجوہات سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ 8سال پہلے اس تباہ کن دن کے بعد پہلی مرتبہ پاکستانی فوج نے سوات میں طالبان کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا۔ اہم دہشت گردوں کو مارڈالا یا گرفتار کر لیااور اب وہ وزیرستان میں القاعدہ کے خلاف لڑنے کے لئے بھی تیار ہے ۔
یہ بڑی پیش رفت امریکہ کے افغانستان پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پاکستان کو لاحق اندرونی خطرات کی حقیقت کو نمایاں کرتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آخر کار پاکستانی حکومت ، اپوزیشن، فوج اور میڈیا کا اس بات پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا کہ یہ جنگ صرف امریکہ کی جنگ نہیں بلکہ پاکستان کی جنگ ہے ۔ اور ملک کو لاحق متوقع خطرات سے نمٹنے کے لئے جنگ اگرچہ اکیلی کافی نہ ہو مگرضروری ہو چکی ہے ۔

  • Share/Bookmark
15Sep/090

وہ میرا گھر ہے ، جہاں روشنی نہیں ہوتی !۔ ۔ ۔ (1) رانا عبداباقی

پاکستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے موجودہ سیاسی منظر نامے کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ہمارے حکمران ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں نہ صرف تاریخ سے سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں ہیں بلکہ خطے کی اُلجھنوں کو سمجھنے ، پاکستان کو درپیش مسائل کا معروضی جائزہ لینے اور اِس سے منسلک جدید تقاضوں کا ادراک کرنے سے بھی محروم نظر آتے ہیں ۔ عہد حاضر میں پاکستان کو کیا خطرات درپیش ہیں اور اِن خطرات کے پیش نظر بانیانِ پاکستان کی وراثت کو کس طرح محفوظ کیا جا سکتا ہے ، وہم و گمان سے بے نیاز ہمارے حکمران کسی بھی نازک صورتحال سے بے پرواہ ہو کر آج پھر سے باہم دست و گریباں ہیں ۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان کے بعد جو کچھ کہا تھا وہ آج کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی منطبق نظر آتا ہے ۔

  • Share/Bookmark
14Sep/090

امریکہ کے فیشن ۔۔۔۔ انجم نیاز

گرمیوں کے آخری ایام کے ساتھ ہی ماحول میں اداسی کی لہر چھاجاتی ہے لیکن زندگی اپنے سفر پر رواں دواں رہتی ہے ۔ گرمیوں کی رخصتی اور خزاں کی آمد کی باتیں چل رہی ہیں۔ا سکولوں کی پیلی بسیں بچوں کو گھروں سے اٹھانے کے لئے سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ کالجز میں بھی نئے طلباء کی آمد سے چہل پہل بڑھ گئی ہے۔ گرمیوں کے مختصر لباس طے کر کے رکھ دیے گئے ہیں۔ لوگوں نے دھوپ سے بچاؤ کی اشیاکو بھی خیرآباد کہہ دیاہے ۔

  • Share/Bookmark
13Sep/090

کھائيں پئيں اور شادياں کرتے رہيں – اردشير کاؤس جی

Article written by Ardsher Kaosji, published in Daily Express on 13th September 2009

  • Share/Bookmark

Canonical URL by SEO No Duplicate WordPress Plugin