Published in Express on 28th August 2009, written by Orya Maqbool Jan. Continue reading »

By S J RaghbiR-photo

 

 

 

Continue reading »

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ ان دنوں بینکوں کے باہر ’’یہاں حج کی درخواستیں وصول کی جاتی ہیں ‘‘ کہ جو بینر آویزاں ہیں انہیں دیکھ کر میں ایک عجیب اضطراب میں مبتلا ہوجاتا ہوں کہ وہ کیسے نصیب والے ہیں جو یہاں درخواستیں دیں گے اور حج پر جانے کے حقدار ٹھہریںگے۔ میں نے یہ بھی تذکرہ کیا تھا کہ کیفیت تب سے ہے جب سے میں نے حج کیا ہے ورنہ اس سے پیشتر یہ بینر مجھ پر کچھ اثر نہ کرتے تھے یعنی ایک بار اگر حج کی سعادت حاصل ہوجائے تو دوبارہ پھر سے جانے کی خواہش ہر برس اضطراب میں مبتلا کردیتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟ بے شک خانہ کعبہ کے گرد طواف، منیٰ کے دن اور منیٰ کی راتیں، مزدلفہ کے کھلے آسمان تلے ایک رات اور عرفات کی جانب لبیک لبیک پکارتا لاکھوں کا ہجوم اثر انگیز تجربے ہیں لیکن میرے نزدیک حج پر دوبارہ جانے میں سب سے بڑی اور آبدیدہ کردینے والی کشش اس سبز گنبد کی ہے جس کے سامنے دنیا بھر کی عمارتیں حکومتیں اور خزانے ہیچ ہیں۔ حج سے واپسی پر مجھ سے کسی دوست نے پوچھا کہ کیا حج کرنے سے تم میں کچھ تبدیلی واقع ہوئی ہے یا Continue reading »

Written by Orya Maqbool Jan, published in Express on 24th August 2009. Continue reading »

Source: Daily Express, Lahore Continue reading »

یہ کہانی صرف ایک لڑکی کی نہیں بلکہ ایک طبقے کی کہانی ہے۔ اس کہانی کا آغاز بھی درد اور انجام بھی درد ہے۔ دکھ درد میں ڈوبا ہوا یہ طبقہ پاکستان کی اصل اکثریت ہے۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانوں کی آمدنی چھ سات ہزار روپے سے دس بارہ ہزار روپے ماہانہ کے درمیان ہے۔ کسی زمانے میں آمدنی کے لحاظ سے یہ طبقہ لوئر مڈل کلاس کہلاتا تھا لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افراط زر نے اس طبقے کو لوئر کلاس یعنی غریب طبقے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اس طبقے کیلئے پاکستان میں عزت کے ساتھ رہنا مشکل ہو چکا ہے حالانکہ یہ طبقہ ہی اصل میں پاکستان ہے۔ Continue reading »

ایک زمانے میں میں بہت بدنام تھا کہ یہ شخص انسانوں کے بارے میں کم کالم لکھتا ہے اور جانوروں کے بارے میں زیادہ لکھتا ہے۔ اسے انسانوں کی نسبت الو،گدھے، دریائی گھوڑے، مگر مچھ اور اودبلاؤ وغیرہ زیادہ پیارے ہیں۔ اس الزام سے بچنے کے لیے میں نے مسلسل انسانوںکے بارے میں کالم لکھے لیکن یہ بے نوازی نہ میرے کام آئی اور نہ ہی انسانوں کے کام آئی۔ انسان جیسے تھے ویسے ہی رہے بلکہ پہلے سے بھی بدتر ہوگئے لوگوں کی لاشیں کھمبوں پر لٹکانے لگے۔ انہیں ذبح کرنے لگے یا پھر اقلیتوں کی بستیوں پرحملے کرکے انہیں زندہ جلانے لگے تو اس صورت میں کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ میں پھر سے انسانوں کو ترک کرکے جانوروں کے قریب آجاؤں کہ وہ اس نوعیت کی ’’تہذیب یافتہ ‘‘ حرکات نہیں کرتے۔
Continue reading »

Daily Express, 21-08-09 Continue reading »

Written by Javed Chaudhry and published in Express on 21th August 2009 Continue reading »

لندن(نمائندہ جنگ) برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے مبینہ طور پر بینظیر بھٹو اور عمران خان کے درمیان تعلقات کی خبر کو قطعی بے بنیاد،اسکینڈل پر مبنی اور بدنام کرنے کی سوچی سمجھی سازش قراردیا ہے۔لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے بدھ کو جاری ایک پریس ریلیز میں اس اسٹوری پر تبصرہ کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ پاکستان کی شہید وزیراعظم کا عمران خان کے ساتھ کبھی بھی ایسا کوئی معاملہ نہیں نہیں رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے خود سے منسوب اس مبینہ اسٹوری کی سختی سے تردید کی ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے کہاکہ وہ 60ء کی دہائی سے بھٹو خاندان سے منسلک ہیں اوروہ 1979ء سے بینظیر بھٹو کے قریبی معتمد رہے ہیں اوروہ یہ بات ریکارڈ پر لاسکتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کا کبھی بھی کسی سے بھی کوئی افیئر نہیں رہے ہیں۔آصف زرداری سے ان کی شادی پاکستانی روایت کے مطابق دو خاندانوں کی جانب سے طے کردہ تھی۔واجد شمس الحسن نے اسکینڈل پر مبنی اس اسٹوری کو مستردکرتے ہوئے اسے پاکستان کی مقبول وزیراعظم کو بدنام کرنے کی واضح اورناپسندیدہ کوشش قراردیا۔انہوں نے کہا کہ یہ عمران خان کی نئی سوانح کی مارکیٹنگ کے لئے اختیار کیا گیا سستاطریقہ کار ہے۔ واضح رہے کہ ایک نئی سوانح میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو زمانہ طالب علمی میں عمران خان سے بہت متاثر تھیں۔ کتاب کے مصنف کرسٹوفر سینڈفورڈ Continue reading »
© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha