Published in Daily Express on 25-07-09, Rah-i-Rast by Talat Hussain Continue reading »
غیر ملکی قرضے، ہر شاخ پہ الو، اندرونی وبیرونی تخریب کار، طبقاتی نظام، منشیات ،ایڈہاک ازم غیر قانونی اسلحہ، رشوت ، اقربا پروری، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، جائلانہ رسوم ورواج ، فرقہ واریث جذبایت، ہنگامے، لاقانونیت ، قابل لوگوں کا ملک چھوڑ جانا، اسمگلنگ، سرخ فیتہ بے حساب محکمے، ٹیکس چوری، کالی دولت، ذہنی و معاشی غلامی، ملکی دولت کا سیاسی استعمال، ہر لیڈر رہنما نہیں ہوتا اور ہماری تمام اسمبلیوں میں ماسوائے ایک آدھ کے سب نظام دادا گیری سے وجود میں آئے ہیں 1947ء سے لے کر آج تک تمہاری جمہوریت کے نام پر بننے والے لوگ جاگیر دار اور سرمایہ دار طبقات سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا ہم مثالی مملکت نہ کبھی تھے نہ ہیں اور آگے۔ ۔ ۔ اللہ ہی اللہ کیا کرو۔ ۔ ۔ اگر تو ہم مملکت خداداد سے مخلص ہیں تو ہمیں سوچنا پڑے گا کہ ہماری اسمبلی میں جاگیردار صرف اپنے طبقات کی نمائندگی کرے، خواتین خواتین کی، علماء علماء کی، کسان کسان کے لئے صنعت کار اور نئی نسل کے لوگ اور یہی جمہوریت ہے اور اسی میں بقاء ہے! Continue reading »
پرویز مشرف نے دفاع کیلئے وکلاء کی کمیٹی بنادی
اسلام آباد… سابق صدر پرویز مشرف نے سپریم کورٹ میں اپنے دفاع کیلئے وکلاء کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ سابق صدر کی لیگل کمیٹی کے س
ربراہعبدالحفیظ پیرزادہ ہونگے جبکہ خالد رانجھا،ملک عبدالقیوم اور چوہدری فوادکمیٹی میں شامل ہیں۔سابق صدر پرویز مشرف نے چوہدری فواد سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دور حکومت میں جوکیا ملکی مفاد میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھاوقت بھی دیکھا ہے اب براوقت بھی دیکھ لیں گے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ججز تقرری کیس اور ایمرجنسی کے خلاف دائر درخواستوں پر سابق صدر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 29جولائی کو طلب کیا ہے۔ Continue reading »
Published in Daily Express on 24th July 2009 (Zero Point by Javed Chaudhry) Continue reading »
Published in Daily Express on 23-JUL-09 Continue reading »
یہ اگست 2008ء کا پہلا ہفتہ تھا، آرمی ہاؤس راولپنڈی میں سابق صدر پرویز مشرف اپنے ایک انتہائی قابل اعتماد دوست سے محوگفتگو تھے۔ ان کے دوست نے پوچھا کہ ”سر! آپ نے اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچا ہے؟“ مشرف نے بڑے اطمینان سے جواب میں کہا کہ پارلیمنٹ مجھے دوبارہ پانچ سال کیلئے صدر منتخب کرچکی ہے، نیا وزیراعظم آچکا ہے، میں نئے وزیراعظم کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کروں گا لیکن مجھے ”ق“ لیگ کی طرف سے پریشانی ہے، اگر اس پارٹی کی لیڈر شپ تبدیل ہوجائے تو پھر ایک قومی حکومت بن سکتی ہے جس میں ”ق“ لیگ بھی شامل ہوجائے گی لیکن جب تک چوہدری شجاعت حسین اس پارٹی کا صدر ہے، نہ آصف زرداری مانے لگا نہ نواز شریف قومی حکومت کیلئے مانے گا۔ یہ سن کر مشرف کے دوست نے کہا کہ ”سر! میں آپ کا جونیئر رہا ہوں، آپ نے ہمیشہ مجھ پر اعتماد کیا اور میں جو بھی کہوں گا وہ آپ کے بھلے کیلئے کہوں گا۔ سر…! جب تک آپ صدر کی کرسی پر بیٹھے ہیں، ملک میں استحکام پیدا نہیں ہوگا، ہر خرابی کی ذمہ داری فوج پر ڈالی جائے گی لہٰذا میری گزارش یہ ہے کہ آپ صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں“۔ Continue reading »
اداس کردینے والی خبروں اور مایوسی میں اضافہ کرنے والے تجزیوں سے قوم کے اعصاب جواب دیتے جارہے ہیں ۔ کسی طرف سے اگر کوئی خوشخبری آتی بھی ہے تو وہ عارضی نوعیت کی ہوتی ہے۔ ہمارا ا لیکٹرانک میڈیا بری خبروں کی تلاش میں رہتا ہے اور پھر سارا سارا دن ا س کی لائیو کوریج کے ذریعے ہمارے اعصاب کا امتحان لینے میں مشغول ہوجاتا ہے۔ ان حالات میں چہروں پر مسکراہٹ لانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ میں بھی اسی قوم کا ایک فرد ہوں جس پر چاروں طرف سے مسائل اور مصائب کی یلغار ہورہی ہے۔ میں بھی اداس ہوتا ہوں بلکہ کبھی کبھی مایوس بھی ہونے لگتا ہوں۔ اس کے باوجود میں مسکرانے کی کو شش کرتا ہوں اور میری خواہش ہوتی ہے کہ میں اس مسکراہٹ میں آپ کو بھی شریک کروں ۔آج مجھے بیٹھے بٹھائے ا پنے وہ ادیب دوست یاد آئے جن کی سنجیدہ تحریریں ہمارے دل و دماغ کو روشن کرتی ہیں ، تاہم انتہائی سنگین مسائل کا تخلیقی اظہار کرنے والا یہ طبقہ اپنی نجی محفلوں میں منہ بسور کر نہیں بیٹھا رہتا بلکہ خوش گپیاں بھی کرتا ہے۔ ان کی محفلوں میں بذلہ سنجی کے مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ایک دوسرے پر خوبصورت جملے بھی کستے ہیں اور دوسری طرف بعض اوقات مشاعروں وغیرہ میں ان کے ساتھ بعض ستم ظریف قسم کے لوگ ہاتھ بھی کرجاتے ہیں اور اگر یہ حرکت تہذیب کے دائرے میں ہو تو یہ اس کا برا ماننے کی بجائے اس سے محظوظ ہوتے ہیں۔ ادیبوں اور شاعروں میں کچھ ا یسے لوگ بھی گزرے ہیں جو”اصولوں“ پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے سامعین سے تصادم بھی مول لینے سے نہیں کتراتے اوراس سے مزید دلچسپ صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ آج صبح میں خود کو اداسی کے چنگل میں پھنسا محسوس کررہا تھا مگر اپنے دوستوں کی بذلہ سنجیاں یاد آئیں تو میں اداسی کی کیفیت سے نکل Continue reading »
پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے چھ چیزیں بہت اہمیت کی حامل ہیں، (۱) غیر روایتی اور بغیر کسی بنیاد کی حکومت، (۲) اہم امور پر فیصلہ سازی کا کام ایک محدود حلقے میں انجام پارہا ہے جس کے صدر سے قریبی روابط ہیں، (۳) مختلف ایشوز سے نمٹنے کے لئے غیر متحرک انداز، (۴) پالیسیوں میں مسلسل تبدیلیاں، (۵) پالیسی سازی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں بحث کرکے اسے سب سے اہم عنصر ثابت کرنے کے بجائے ایوان کو ایک مجہول ادارے کے طور پر استعمال کرنا، اور (۶) داخلی مسائل و معاملات سے نمٹنے کے لئے خارجی عناصر کا زیادہ سہارا لینا۔ ایسا ہی انداز حکمرانی سابقہ دور حکومت میں اور ہماری خراب اور اہلیت سے کم حکمرانی کی طویل تاریخ میں بارہا دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن صدر زرداری کی قیادت میں موجودہ حکومت کے اقدامات اور پالیسیوں نے اسے سب سے ممتاز کردیا ہے۔ Continue reading »
Zero Point by Javed Chaudhry, published in Daily Express on 21-07-09 Continue reading »
تقسیم ہند کے بعد پہلی دفعہ کسی بھارتی وزیراعظم پر بھارت میں یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اُس نے پاکستان کے سامنے ہتھیار پھینک دیئے۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ مصر کے شہر شرم الشیخ میں پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ملاقات کے بعد واپس نئی دہلی پہنچے تو ہندی اور انگریزی اخبارات کی چیختی چنگھاڑتی سرخیوں نے اُن کا استقبال کیا۔ ”دی میل ٹوڈے“ کی ہیڈلائن میں کہا گیا تھا کہ ”وزیراعظم نے سب کچھ پاکستان کو بیچ دیا۔“ بھارتی پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر ایل کے ایڈوانی نے شرم الشیخ میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی طرف سے جاری کئے جانے والے مشترکہ اعلامیے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کو دہشت گردی سے علیحدہ کرنا پاکستان کی کامیابی ہے۔ من موہن سنگھ پارلیمنٹ میں موجود تھے اور اُنہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان کے ساتھ اُس وقت تک جامع مذاکرات شروع نہیں ہوں گے جب تک ممبئی حملوں کے ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں پیش نہیں کیا جاتا Continue reading »
Recent Comments