یہ ایک کرن ایک مسکراہٹ ہی کافی ہے – مستنصر حسین تارڑ
میں کرکٹ سے جان چھڑاتا ہوں اور یہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ۔ ۔ میں اس کے آگے ہاتھ باندھتا ہوں ،منت سماجت کرتا ہوں کہ بی بی اور بھی دکھ ہیں زمانے میں کرکٹ کے سوا لیکن اس نازنین پر کچھ اثر نہیں ہوتا جہاں میں جاتا ہوں پیچھے پیچھے چلی آتی ہے میں نے بھی بچپن اور اوائل عمری میں مقدور بھر کرکٹ کھیلنے کی کوشش کی لیکن جیسے میرے پلے الجبرا نہیں پڑتا، کمپیوٹر اور سیل فون نہیں پڑتا اسی طور کرکٹ کے حوالے سے بھی میں ہمیشہ پسڈی رہا ہوں۔ ۔ ۔ بیٹنگ کرنے جاتا تھا تو گیند دونوں ٹانگوں کے درمیان میں سے جانے کیسے گزر جاتی تھی اور سیدھی وکٹوں میں جاتی تھی یا لگتی تھی تو بیٹ کو نہیں گھٹنے کو جالگتی تھی اور میں لنگڑاتا پھرتا البتہ میری باؤلنگ کی بڑی دہشت تھی کیونکہ میں دوسرے بچوں کی نسبت ذرا مضبوط ہاتھ پاؤں والا تھا بال کرتا تو وہ بیٹس مین کے دائیں یا بائیں سے خاصے فاصلے پر سے گزر جاتی میری پھینکی ہوئی گیند کا یہ عالمی ریکارڈ ہے کہ وہ آج تک کبھی وکٹوں میں نہیں لگی اور پھر میری شاندار کرکٹ کو زوال سعادت حسن منٹو اور ان کی بیگم صفیہ کے ہاتھوں آیا۔ ۔ ۔ لکشمی فیشن کے گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلتے ہوئے میری گیند اکثر نہایت تیز رفتاری سے منٹو صاحب کے گھر کا رخ کرلیتی پھر ایک تڑاخ کی آواز کے ساتھ شیشہ ٹوٹنے کی آواز آتی اور اسکے ساتھ ہی کرکٹ ٹیم میں شامل بچہ لوگ ادھر ادھر روپوش ہو جاتے اور سارا نزلہ مجھ پر گرجاتا اگر تو منٹو صاحب گھر میں موجود ہوتے تو وہ مجھے تھوڑی بہت ڈانٹ ڈپٹ کر کے گیند واپس کردیتے اور اگر صفیہ آپا ہوتیں تو وہ ڈانٹ ڈپٹ کے علاوہ کان بھی مروڑتیں اور گیند بھی ضبط کرلیتیں منٹوصاحب کے برآمدے میں لگے بیشتر شیشے میرے کمال کرکٹ کی نذر ہوئے بیٹنگ کرتے ہوئے جب کبھی میں ذرا امتیاز احمد کے سٹائل میں
’طالبان کی کھلی مخالفت سے گریز‘ سبب کیا ھے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حالیہ فوجی آپریشن کو شروع ہوئے تقریباً ایک ماہ ہو چکا ہے لیکن تاحال طالبان کے کسی اہم کمانڈر یا رہنما کو ہلاک یا گرفتار نہیں کیا جا سکا جس سےسوات کے عوام کے ذہنوں میں کئی قسم کے سوالات جنم لے رہے ہیں۔