رنجیت سنگ سکھوں کی تاریخ کا پہلا حکمران تھا،وہ13نومبر 1780ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوا ، اس کا والد مہمان سنگھ چھوٹی سی’’مثل‘‘ کا سردار تھا ، ان دنوں پنجاب میں جاگیریں اور چھوٹی سرداریاں مثل کہلاتی تھیں، رنجیت سنگھ پر بچپن میں چیچک کا حملہ ہوا اوروہ اس کی ایک آنکھ لے گئی ، بارہ سال کی عمر میں وہ اپنی مثل کا سردار بن گیا ، وہ ایک مہم جو و انسان تھا ، وہ آگے بڑھنا چاہتا تھا ، اس وقت لاہور پر تین سکھ سردار قابض تھے ، رنجیت سنگھ نے لاہور کے مسلمانوں سے خفیہ رابطے قائم کئے مسلمانوں نے اسے لاہور بلایا اور شہر اس کے حوالے کردیا ، اس نے سکھ سرداروں کو مار بھگایا اور لاہور پر قابض ہو گیا ، اس وقت اس کی عمر صرف 19برس تھی ،1802ء میں اس نے امرتسر پربھی قبضہ کر لیا 1806ء میں اس کا انگریزوں کے ساتھ پہلا معاہدہ ہوا جس کے بعد وہ وسطی ، جنوبی اور شمالی پنجاب کی طرف متوجہ ہو گیا Continue reading »

جب موٹروے کی تعمیر اور تکمیل ہوئی تو اس کے بارے میں طرح طرح کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ قومی خزانہ خالی ہوگیا ہے ہمارا ملک موٹروے کی عیاشی افورڈ نہیں کرسکتا اس سے کہیں بہتر تھا کہ جی ٹی روڈ کی حالت زار پر توجہ دی جاتی اور دراصل یہ صرف اس لئے تعمیر کی گئی ہے وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ اس پر اپنی سپورٹس کاریں دوڑاتے پھریں لیکن اب جاکر احساس ہوتا ہے کہ قومی خزانہ تو یوں بھی خالی ہونا تھا اور غیر ملکی قرضوں میں بھی بہرطور اضافہ ہونا تھا اور یہ رقمیں ہمیشہ کی طرح جانے کن منصوبوں پر خرچ ہونی تھی یا خوردبرد ہو جانی تھیں تو کیا ہی اچھا ہوا کہ موٹروے تعمیر ہو گئی جو کم از کم دکھائی تو دیتی ہے اور مجھ ایسے بزرگ ڈرائیور حضرات کو آرام سے اسلام آباد پہنچا دیتی ہے ورنہ پچھلی دنوں صرف گوجرانولا تک کا سفر جی ٹی روڈ پر کیا جس کے نتیجے میں میری بدنی ساخت میں خاصا ردوبدل ہوگیا ریڑھ کی ہڈی کے مہر ے شطرنج کے مہروں کی مانند آگے پیچھے ہو گئے ایک دو پسلیوں کو بھی ضعف پہنچا اور کم از کم تین روز تک ’’ ہائے ہائے کرتا پھرا۔ ۔ ۔ Continue reading »

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha