مجھے غصہ شوکت ترین پر نہیں ان کے ان ملاقاتیوں پر ہے جو ان کے دفتر جاتے ہیں اور ان کا یہ اعلان سن کر کہ ہمیں ساڑھے چار ارب ڈالر کی IMF سے اور 1.5 ارب ڈالر کی امریکہ سے 3 ارب ڈالر کی چین سے امداد مل گئی ہے ‘ واپس آجاتے ہیں لیکن انہیں ٹوک کر’ ایک لمحے کے لئے ٹوک کر یہ نہیں پوچھتے ”جناب یہ رقم خرچ کہاں ہوگی” کیا اس سے وہ ریلوے لائن زندہ ہو جائے گی جو برسوں پہلے 8775 کلومیٹر پر پہنچ کر دم توڑ گئی تھی ‘ اس رقم سے 781 ریلوے سٹیشنوں میں اضافہ ہوگا’ 102,176 کلومیٹر کچی سڑکیں پختہ کی جائیں گی’ 13,409 پوسٹ آفسز کی تعداد بڑھ جائے گی’ 1724000 ایڑیاں رگڑتے مریضوں کو ایک کی جگہ دو ڈاکٹر دیئے جائیں گے’ دانت درد کے 42,823 مریضوں کے لئے ایک کی بجائے دو ڈینٹسوں کا بندوبست کیا جائے گا’ 5,440 چیختے چلاتے مریضوں کو ایک نہیں دو چار نرسیں فراہم کی جائیں گی ‘ Continue reading »

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha