سیانے بابے اور سوات – مستنصر حسین تارڑ
بہت دنوں سے یہ سوات ہے جس کا اجاڑ پن دل میں اداسی بھرتا ہے اس وادی کے پیارے سو ہنے لوگ ہیں جن کی بے گھری کا خیال آتا ہے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے اخبار میں جب کسی بھی لیڈر کا ایسا بیان پڑھتا ہوں جو سوات سے متعلق نہیں ہوتا تو اس کی شکل اچھی نہیں لگتی کہ بھائی میاں آپ اندھے ہو آپ کو سوات دکھائی نہیں دیتا حالانکہ میں اقرار کرتا ہوں کہ یہ رویہ بہت زیادہ مثبت نہیں ہے کہ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں سوات کے سوا ملک کو اس کے علاوہ بھی مسائل درپیش ہیں لیکن کیا کروں کہ فی الحال طبعیت ادھر نہیں آتی یوں میری تحریریں بھی سوات تک محدود ہو گئی ہیں چنانچہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج دکھ کے سلسلے بھول کر آپ کے چہروں پر مسکراہٹ لاؤں گا اور آپ کو ایک عمدہ سا لطیفہ سناؤں گا کہتے ہیں کہ کسی بستی میں کہیں سے ایک بہت بڑا مینڈک آگیا اور بستی والوں نے آج تک کبھی کوئی مینڈک دیکھا نہیں تھا تو شدید پریشان ہوئے کہ یہ کیا جانور ہے اب پلیز آپ یہ اعتراض نہ کیجئے گا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی بھی بستی والوں نے مینڈک نہ دیکھا ہو، کیا وہاں کوئی جوہڑ نہ تھا اور کیا وہاں ساون بھادوں کے موسموں میں ننھے منے مینڈک ہر سو اچھلتے نہ تھے جناب من لطیفہ لطیفہ ہوتا ہے اسے حقائق پر نہیں پرکھا جاتا آپ نے کبھی اپنے سیاستدانوں کے بیانات کو حقائق پر پرکھا ہے وہ دن رات آپ کو لطیفے سناتے رہتے ہیں تو آپ نے کبھی اعتراض کیا ہے تو پلیز میرے لطیفے پر بھی اعتراض مت کیجئے بہرحال وہ بستی والے جنہوں نے آج تک کوئی مینڈک نہ دیکھا تھا مینڈک کو ایک سیانے بابے کے پا س لے گئے،اور اس سے اس حوا لے سے پوچھا، یوں بھی اپنے ان سیانے بابوں کی قدر کرنی چاہیے جو ابھی زندہ ہیں اگرچہ بابا جی فربہ اور خوب ٹروتے ہوئے مینڈک کو اپنے درمیان پاکر بے حد پریشان ہوئے کہ آخر یہ کوانسا جانور ہے چنانچہ انہوں نے چند کوس پر واقع ایک اوربستی میں مقیم ایک’’ سیانے سے رجوع کیا جو اتنا سیانا تھا کہ اس کا نام ہی سیانا بابا پڑگیاتھا سیانا بابا نے گھر سے چلتے ہوئے اپنے مریدوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے ساتھ باجرے کی ایک پوٹلی اور چند گنے لیتے چلیں حکم کی تعمیل ہو گئی سیانا بابا نے جب مینڈک دیکھا تو ان کی بھی سٹی گم ہو گئی کہ انہوں نے بھی ایسا جانور کبھی نہیں دیکھاتھا انہوں نے سب سے پہلے مینڈک کے آگے باجرے کے دانے ڈالے اور جب مینڈک نے انہیں قابل توجہ نہ سمجھا تو سیانا بابا نے وثوق سے کہا، یہ طے ہے کہ یہ بٹیرا نہیں ہے پھر اس کے آگے گنے رکھے گئے تو وہ پھر بھی متوجہ نہ ہوا تو سیانا بابا نے کہا کہ اگر یہ گنے کھالیتا تو یقیناً ہاتھی تھا تو گویا ہاتھی بھی نہیں ہے اس دوران مینڈک نے اچھلنا شروع کردیا تو سیانا بابا نے نعرہ لگایا کہ اوہو یہ تو ہرن ہے اس پر بستی والے بے حد شکر گزار ہوئے اور بابا سیانا زندہ باد کے نعرے لگانے لگے لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ باباسیانا تو نہایت دھواں دھار طریقے سے روئے چلا جارہا ہے اور جب اسے چپ کرانے
مستقبل قریب کا ہندوستان….گریبان … منوبھائی
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت“(اور اتنی ہی بڑی غربت)ہندوستان کی بالغ رائے عامہ نے تازہ ترین عام انتخابات کے ذریعے دنیا کے سامنے جو تناظر پیش کیا ہے وہ نام نہاد ”دائیں“ اور”بائیں“ دونوں نظریاتی بازوؤں اور ”لیفٹ“ اور ”رائٹ“ کی سیاست کو مسترد کرنے والا ہے جس کی وجہ سے ماہرین سیاست کی توقعات اور اندیشوں کے برعکس متوازن سوچ کی شہرت رکھنے والی سیاست کو ابھرنے کا موقع ملا ہے۔ جہاں تک ہندوستان کی بائیں اور دائیں بازو کی سیاست کا تعلق ہے اگر تھوڑا سا غورکیا جائے تو ان دونوں میں اب اتنا فرق بھی نہیں رہ گیا جتنا دنیا کی اکلوتی سپرپاور کی ”ری پبلکن“ اور ”ڈیمو کریٹ“کہلانے والی پارٹیوں میں پایا جاتا ہے جن کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ہی سانپ کے دو منہ ہیں۔ ہندوستان کے تناظر میں لیفٹ او رائٹ کا تفاوت تو
نتھا سنگھ اینڈ پریم سنگھ
ون اینڈ دی سیم تھنگ
والا ہے۔
بے غيرت بورڈ
Article written by Talat Hussain (Rah-i-Rast) published in Daily Express on 16th May 2009
یہ بھی حقیقت ہے۔۔۔۔ ملک ریاض حسین کا کالم حقیقت
رنجیت سنگ سکھوں کی تاریخ کا پہلا حکمران تھا،وہ13نومبر 1780ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوا ، اس کا والد مہمان سنگھ چھوٹی سی’’مثل‘‘ کا سردار تھا ، ان دنوں پنجاب میں جاگیریں اور چھوٹی سرداریاں مثل کہلاتی تھیں، رنجیت سنگھ پر بچپن میں چیچک کا حملہ ہوا اوروہ اس کی ایک آنکھ لے گئی ، بارہ سال کی عمر میں وہ اپنی مثل کا سردار بن گیا ، وہ ایک مہم جو و انسان تھا ، وہ آگے بڑھنا چاہتا تھا ، اس وقت لاہور پر تین سکھ سردار قابض تھے ، رنجیت سنگھ نے لاہور کے مسلمانوں سے خفیہ رابطے قائم کئے مسلمانوں نے اسے لاہور بلایا اور شہر اس کے حوالے کردیا ، اس نے سکھ سرداروں کو مار بھگایا اور لاہور پر قابض ہو گیا ، اس وقت اس کی عمر صرف 19برس تھی ،1802ء میں اس نے امرتسر پربھی قبضہ کر لیا 1806ء میں اس کا انگریزوں کے ساتھ پہلا معاہدہ ہوا جس کے بعد وہ وسطی ، جنوبی اور شمالی پنجاب کی طرف متوجہ ہو گیا
امریکی ویزا اور موٹروے – مستنصر حسین تارڑ
جب موٹروے کی تعمیر اور تکمیل ہوئی تو اس کے بارے میں طرح طرح کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ قومی خزانہ خالی ہوگیا ہے ہمارا ملک موٹروے کی عیاشی افورڈ نہیں کرسکتا اس سے کہیں بہتر تھا کہ جی ٹی روڈ کی حالت زار پر توجہ دی جاتی اور دراصل یہ صرف اس لئے تعمیر کی گئی ہے وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ اس پر اپنی سپورٹس کاریں دوڑاتے پھریں لیکن اب جاکر احساس ہوتا ہے کہ قومی خزانہ تو یوں بھی خالی ہونا تھا اور غیر ملکی قرضوں میں بھی بہرطور اضافہ ہونا تھا اور یہ رقمیں ہمیشہ کی طرح جانے کن منصوبوں پر خرچ ہونی تھی یا خوردبرد ہو جانی تھیں تو کیا ہی اچھا ہوا کہ موٹروے تعمیر ہو گئی جو کم از کم دکھائی تو دیتی ہے اور مجھ ایسے بزرگ ڈرائیور حضرات کو آرام سے اسلام آباد پہنچا دیتی ہے ورنہ پچھلی دنوں صرف گوجرانولا تک کا سفر جی ٹی روڈ پر کیا جس کے نتیجے میں میری بدنی ساخت میں خاصا ردوبدل ہوگیا ریڑھ کی ہڈی کے مہر ے شطرنج کے مہروں کی مانند آگے پیچھے ہو گئے ایک دو پسلیوں کو بھی ضعف پہنچا اور کم از کم تین روز تک ’’ ہائے ہائے کرتا پھرا۔ ۔ ۔
ڈالر کماؤ پاليسی
Article written by Javed Chaudhry (Zero Point and published in Daily Express on 12-May-09
وزير اعظم کے لئے ايک اور موقع ـ طلعت حسين
Article published in Daily Express (Rah-i-Rast) on 9th May 2009
’طالبان فوج بھائی بھائی‘
عبدالحئی کاکڑ
’ آصف علی زرداری نے روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا تھا اور اب انہوں نے ہم سے یہ تینوں چیزیں چھین لی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کا نعرہ ہے اپنی دھرتی اپنا اختیار مگر اس نے ہمیں بے گھر کرکے ہم سے ہماری دھرتی چھین لی ہے، طالبان اور فوج بھائی بھائی ہیں، اگر آپکو اس قسم کی باتیں سننے کا شوق ہے توجنگ زدہ ضلع بونیر سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے قائم کیےگئے کیمپوں میں تشریف لےجائیے۔
جب سے فوج نے بونیر میں کارروائی شروع کی ہے تب سے اب تک چھ لاکھ آبادی کے اس ضلع سے صوابی کے ناظم شہرام خان کے بقول غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ڈیڑھ لاکھ لوگ صوابی آئے ہیں۔ جبکہ سرکاری تعداد چالیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔
ضلع بونیر سے متصل صوابی میں درجن بھر سے زیادہ کیمپ قائم ہیں جن میں ایک اسلام آباد پشاور موٹروے پر چھوٹا لاہور جہاں پر اٹھارہ سو پچاس جبکہ باقی صوابی کے شیوے اڈہ اور آس پاس کے علاقوں میں قائم ہیں۔ زیادہ تر کیمپ صوابی کے ناظم شہرام خان کا خاندان اپنی ذاتی خرچ سے چلا رہے ہیں جن میں بقول ولایت خان ترکئی کے پانچ ہزار افراد پناہ گزین ہیں۔

چھوٹا لاہور میں قائم بنگلہ کیمپ قدرے منظم ہے جہاں یو این ایچ سی آر کی فراہم کردہ خیمے قطار در قطار کھڑے نظر آتے ہیں۔ صحت کا مرکز اور لڑکوں اور لڑکیوں کے سکول خیموں میں کھول دیئےگئے
کیا پاکستان آگے بڑھ رہا ہے؟ نجم سیٹھی
اس ہفتے امریکی صدر باراک اوباما نے پاک افغان صدور کے ساتھ 20منٹ کی علیحدہ علیحدہ ملاقات کی، بعد ازاں تینوں کے درمیان 20منٹ تک سہ فریقی مذاکرات ہوئے۔صدر اوباما پاک افغان صدور پر جو باتیں واضح کرنا چاہتے تھے ان میں پہلی یہ کہ امریکہ کے ساتھ رولز آف بزنس تبدیل ہو چکے ہیں،افغان صدر کرزئی کے ساتھ وائٹ ہاؤس آئندہ ہفتہ وار ویڈیو کانفرنس نہیں کر ے گا نہ ہی پاکستانی صدر کے ساتھ طویل ٹیلیفونک بات چیت ہو گی جو ماضی میں ذاتی روابط کے باعث صدر بش کا طریقہ کار رہا مگر نتائج نہ دے سکا۔ دوسرا یہ کہ تینوں کے درمیان روابط کی بازپرس طے کردہ مشترکہ مقاصد اور ان کے حصول کی مانیٹرنگ کی بنیاد پر ہو گی۔
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں,,,,حرف تمنا…ارشاد احمد حقانی
وطن عزیز جن مشکل حالات سے گزر رہا ہے ہرشخص اس سے آگاہ ہے اور ہر شخص کی یہ خواہش ہے کہ اسے امن و سکون کا کوئی لمحہ میسر ہو لیکن فی الحال یہ امید پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ اس گھٹاٹوب اندھیرے میں اقبال نے ہماری رہنمائی یوں کی ہے ملاحظہ فرمایئے:
گمان آباد ہستی میں یقیں مردِ مسلماں کا
بیاباں کی شبِ تاریک میں قندیل رہبانی
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کوجس نے
وہ کیا تھا، زور حیدر، فقر بُوذر، صدقِ سلمانی
ہوئے احرارِ ملت جادہ پیماکس تجمل سے
تماشائی شگافِ در سے ہیں صدیوں کے زندانی
ثباتِ زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میں
کہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تُورانی
جب اس انگارہٴ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پر رُوح الامیں پیدا
آپ نے اقبال کا تجویز کردہ نسخہ ملاحظہ فرمایا لیکن میری دانست میں اقبال کے تجویز کردہ نسخے میں کلیدی حیثیت ان اشعار کی ہے:
غلامی ِمیں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جوہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا!
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
میں نے ان اشعار کو کلیدی اہمیت کا حامل کیوں کہاہے اس لئے کہ ان پر عمل کرکے ہی ہم نجات کاراستہ تلاش کرسکتے ہیں ۔ میری دانست میں اس وقت جنرل اشفاق پرویز کیانی ہی اس ملک کی کشتی کو منجدھار سے نکال سکتے ہیں۔ تمام آثار و قرآئن اس طرف اشارہ کررہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ جنرل کیانی ان توقعات پر پورا اتریں گے جو قوم نے ان سے وابستہ کررکھی ہیں۔ میں اپنے اس کالم میں جو میں نے ان سے تین گھنٹے کی ملاقات کے بعدلکھا تھا واضح طور پر بتایا تھا کہ جنرل کیانی ہی اس ملک کی کشتی کو منجدھار سے نکال سکتے ہیں۔ اب میری توقعات کا امتحان ہونے کا وقت آگیا ہے اور مجھے امید ہے کہ میں اس امتحان میں سرخرو رہوں گا۔ انشاء اللہ
رؤف کلاسرا کی انکشافات سے لبریز رپورٹ
اخلاقی جرات کی ايک سياسی روايت کا آغازـ اوريا مقبول جان
Article published in Daily Express on 7th May 2009.
