23 مئ 2009 Continue reading »

بہت دنوں سے یہ سوات ہے جس کا اجاڑ پن دل میں اداسی بھرتا ہے اس وادی کے پیارے سو ہنے لوگ ہیں جن کی بے گھری کا خیال آتا ہے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے اخبار میں جب کسی بھی لیڈر کا ایسا بیان پڑھتا ہوں جو سوات سے متعلق نہیں ہوتا تو اس کی شکل اچھی نہیں لگتی کہ بھائی میاں آپ اندھے ہو آپ کو سوات دکھائی نہیں دیتا حالانکہ میں اقرار کرتا ہوں کہ یہ رویہ بہت زیادہ مثبت نہیں ہے کہ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں سوات کے سوا ملک کو اس کے علاوہ بھی مسائل درپیش ہیں لیکن کیا کروں کہ فی الحال طبعیت ادھر نہیں آتی یوں میری تحریریں بھی سوات تک محدود ہو گئی ہیں چنانچہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج دکھ کے سلسلے بھول کر آپ کے چہروں پر مسکراہٹ لاؤں گا اور آپ کو ایک عمدہ سا لطیفہ سناؤں گا کہتے ہیں کہ کسی بستی میں کہیں سے ایک بہت بڑا مینڈک آگیا اور بستی والوں نے آج تک کبھی کوئی مینڈک دیکھا نہیں تھا تو شدید پریشان ہوئے کہ یہ کیا جانور ہے اب پلیز آپ یہ اعتراض نہ کیجئے گا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی بھی بستی والوں نے مینڈک نہ دیکھا ہو، کیا وہاں کوئی جوہڑ نہ تھا اور کیا وہاں ساون بھادوں کے موسموں میں ننھے منے مینڈک ہر سو اچھلتے نہ تھے جناب من لطیفہ لطیفہ ہوتا ہے اسے حقائق پر نہیں پرکھا جاتا آپ نے کبھی اپنے سیاستدانوں کے بیانات کو حقائق پر پرکھا ہے وہ دن رات آپ کو لطیفے سناتے رہتے ہیں تو آپ نے کبھی اعتراض کیا ہے تو پلیز میرے لطیفے پر بھی اعتراض مت کیجئے بہرحال وہ بستی والے جنہوں نے آج تک کوئی مینڈک نہ دیکھا تھا مینڈک کو ایک سیانے بابے کے پا س لے گئے،اور اس سے اس حوا لے سے پوچھا، یوں بھی اپنے ان سیانے بابوں کی قدر کرنی چاہیے جو ابھی زندہ ہیں اگرچہ بابا جی فربہ اور خوب ٹروتے ہوئے مینڈک کو اپنے درمیان پاکر بے حد پریشان ہوئے کہ آخر یہ کوانسا جانور ہے چنانچہ انہوں نے چند کوس پر واقع ایک اوربستی میں مقیم ایک’’ سیانے سے رجوع کیا جو اتنا سیانا تھا کہ اس کا نام ہی سیانا بابا پڑگیاتھا سیانا بابا نے گھر سے چلتے ہوئے اپنے مریدوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے ساتھ باجرے کی ایک پوٹلی اور چند گنے لیتے چلیں حکم کی تعمیل ہو گئی سیانا بابا نے جب مینڈک دیکھا تو ان کی بھی سٹی گم ہو گئی کہ انہوں نے بھی ایسا جانور کبھی نہیں دیکھاتھا انہوں نے سب سے پہلے مینڈک کے آگے باجرے کے دانے ڈالے اور جب مینڈک نے انہیں قابل توجہ نہ سمجھا تو سیانا بابا نے وثوق سے کہا، یہ طے ہے کہ یہ بٹیرا نہیں ہے پھر اس کے آگے گنے رکھے گئے تو وہ پھر بھی متوجہ نہ ہوا تو سیانا بابا نے کہا کہ اگر یہ گنے کھالیتا تو یقیناً ہاتھی تھا تو گویا ہاتھی بھی نہیں ہے اس دوران مینڈک نے اچھلنا شروع کردیا تو سیانا بابا نے نعرہ لگایا کہ اوہو یہ تو ہرن ہے اس پر بستی والے بے حد شکر گزار ہوئے اور بابا سیانا زندہ باد کے نعرے لگانے لگے لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ باباسیانا تو نہایت دھواں دھار طریقے سے روئے چلا جارہا ہے اور جب اسے چپ کرانے Continue reading »

jannat

Article by Javed Chaudhry,  published in Daily Express on 21th May 2009 Continue reading »

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت“(اور اتنی ہی بڑی غربت)ہندوستان کی بالغ رائے عامہ نے تازہ ترین عام انتخابات کے ذریعے دنیا کے سامنے جو تناظر پیش کیا ہے وہ نام نہاد ”دائیں“ اور”بائیں“ دونوں نظریاتی بازوؤں اور ”لیفٹ“ اور ”رائٹ“ کی سیاست کو مسترد کرنے والا ہے جس کی وجہ سے ماہرین سیاست کی توقعات اور اندیشوں کے برعکس متوازن سوچ کی شہرت رکھنے والی سیاست کو ابھرنے کا موقع ملا ہے۔ جہاں تک ہندوستان کی بائیں اور دائیں بازو کی سیاست کا تعلق ہے اگر تھوڑا سا غورکیا جائے تو ان دونوں میں اب اتنا فرق بھی نہیں رہ گیا جتنا دنیا کی اکلوتی سپرپاور کی ”ری پبلکن“ اور ”ڈیمو کریٹ“کہلانے والی پارٹیوں میں پایا جاتا ہے جن کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ہی سانپ کے دو منہ ہیں۔ ہندوستان کے تناظر میں لیفٹ او رائٹ کا تفاوت تو
نتھا سنگھ اینڈ پریم سنگھ
ون اینڈ دی سیم تھنگ
والا ہے۔ Continue reading »

By S J Raghbi Continue reading »

Article written by Talat Hussain (Rah-i-Rast) published in Daily Express on 16th May 2009 Continue reading »

رنجیت سنگ سکھوں کی تاریخ کا پہلا حکمران تھا،وہ13نومبر 1780ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوا ، اس کا والد مہمان سنگھ چھوٹی سی’’مثل‘‘ کا سردار تھا ، ان دنوں پنجاب میں جاگیریں اور چھوٹی سرداریاں مثل کہلاتی تھیں، رنجیت سنگھ پر بچپن میں چیچک کا حملہ ہوا اوروہ اس کی ایک آنکھ لے گئی ، بارہ سال کی عمر میں وہ اپنی مثل کا سردار بن گیا ، وہ ایک مہم جو و انسان تھا ، وہ آگے بڑھنا چاہتا تھا ، اس وقت لاہور پر تین سکھ سردار قابض تھے ، رنجیت سنگھ نے لاہور کے مسلمانوں سے خفیہ رابطے قائم کئے مسلمانوں نے اسے لاہور بلایا اور شہر اس کے حوالے کردیا ، اس نے سکھ سرداروں کو مار بھگایا اور لاہور پر قابض ہو گیا ، اس وقت اس کی عمر صرف 19برس تھی ،1802ء میں اس نے امرتسر پربھی قبضہ کر لیا 1806ء میں اس کا انگریزوں کے ساتھ پہلا معاہدہ ہوا جس کے بعد وہ وسطی ، جنوبی اور شمالی پنجاب کی طرف متوجہ ہو گیا Continue reading »

جب موٹروے کی تعمیر اور تکمیل ہوئی تو اس کے بارے میں طرح طرح کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ قومی خزانہ خالی ہوگیا ہے ہمارا ملک موٹروے کی عیاشی افورڈ نہیں کرسکتا اس سے کہیں بہتر تھا کہ جی ٹی روڈ کی حالت زار پر توجہ دی جاتی اور دراصل یہ صرف اس لئے تعمیر کی گئی ہے وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ اس پر اپنی سپورٹس کاریں دوڑاتے پھریں لیکن اب جاکر احساس ہوتا ہے کہ قومی خزانہ تو یوں بھی خالی ہونا تھا اور غیر ملکی قرضوں میں بھی بہرطور اضافہ ہونا تھا اور یہ رقمیں ہمیشہ کی طرح جانے کن منصوبوں پر خرچ ہونی تھی یا خوردبرد ہو جانی تھیں تو کیا ہی اچھا ہوا کہ موٹروے تعمیر ہو گئی جو کم از کم دکھائی تو دیتی ہے اور مجھ ایسے بزرگ ڈرائیور حضرات کو آرام سے اسلام آباد پہنچا دیتی ہے ورنہ پچھلی دنوں صرف گوجرانولا تک کا سفر جی ٹی روڈ پر کیا جس کے نتیجے میں میری بدنی ساخت میں خاصا ردوبدل ہوگیا ریڑھ کی ہڈی کے مہر ے شطرنج کے مہروں کی مانند آگے پیچھے ہو گئے ایک دو پسلیوں کو بھی ضعف پہنچا اور کم از کم تین روز تک ’’ ہائے ہائے کرتا پھرا۔ ۔ ۔ Continue reading »

Article written by Javed Chaudhry (Zero Point and published in Daily Express on 12-May-09 Continue reading »

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha