شنگھائی(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر جنرل پرویز مشرف ریٹائرڈ نے کہا کہ امریکی صدر براک اوبامہ کی پاکستان اورافغانستان کے بارے میں نئی حکمت عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس میں بھارت کو شامل نہ کیا جائے اور مسئلہ کشمیر حل نہ کیا جائے۔ چین کے شنگھائی انسٹی ٹیوٹ میں طلبہ سے خطاب میں پرویز مشرف نے کہا کہ افغانستان کے بارے میں امریکی صدر براک اوبامہ کی نئی حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع ہے تاہم بھارت کی شمولیت کے بغیر تمام کوششیں نامکمل ہیں۔ Continue reading »
By Talat Hussain, published in Daily Express on 11th April 2009. Continue reading »
چند روز بیشتر میں نے اخبار میں کراچی کے چڑیا گھر کی ایک تصویر دیکھی جس میں ایک شاندار دھاریوں والا شیر اپنے پنجرے کے ایک کونے میں دبکا بیٹھا ہے اور پنجرے کے فرش پر پتھر، اینٹیں ، روڑے اورکنکر بکھرے ہوئے ہیں یہ کنکر اور پتھر پنجرے میں اس لئے نہیں بچھائے گئے کہ شیر فارغ اوقات میں ان کے ساتھ شٹاپو کھیلتاہے بلکہ یہ کنکر اور پتھر اسے مارے گئے ہیں تماشائیوں نے اسے اشتعال دلانے کیلئے یا چھیڑنے کی خاطر اس پر پھینکے ہیں ہر روز پتھروں اور اینٹوں کا ایک انبار جمع ہو جاتا ہے جسے خاکروب سمیٹ کر لے جاتا ہے اور پھر اگلے روز ایک مرتبہ پھر سنگساری کا عمل شروع ہو جاتا ہے پنجرے میں قید جانوروں کو تنگ کرنا ہم لوگوں کی ایک قبیح عادت ہے لیکن شائد یہ پہلی بار ہے کہ شیر کو سنگسار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کی بے چارگی سے لطف اٹھایا جاتا ہے اس اذیت پسندی کا جواز تلاش کرنے کے لئے آپ کو ذہن پر زیادہ زور نہیں دینا پڑتا جس معاشرے میں ایک سترہ برس کی بچی کو سڑک پر اوندھا لٹا کر کوڑے مارے جاسکتے ہیں اور سنگساری کو جائز ثابت کرنے کے لئے میڈیا پر نہائت ظالمانہ تبصرے ہوئے ہیں وہاں اس نوعیت کا رویہ جنم لیتا ہے یعنی لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک ایسا دور آنے والا ہے تو کیوں نہ ابھی سے سنگساری کی پریکٹس کرلی جائے اس کا ایک اور جواز بھی ممکن ہے کہ عوام الناس اپنے اپنے صوبوں کے سیاسی شیروں سے اتنے تنگ آچکے ہیں کہ اپنا غصہ سچ مچ کے اس شیر پر نکالتے ہیں۔ آج کے اخبار میں ایک ایسے گھوڑے کی تصویر ہے جس کا بدن زخموں سے بھرا پڑا ہے اس سے مشقت لینے والے نے جانے اسے کن کوڑوں سے مارا ہے کہ وہ اس قدر شدید زخمی ہو گیا ہے ۔ Continue reading »
پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی ایلچی رچرڈہالبروک کو دونوں ملکوں کے حالیہ دورے میں ملے جلے سلوک کا سامنا کرنا پڑا ۔ کابل میں صدر حامد کرزئی کی حکومت کو یہ رنج ہے کہ امریکہ نے کابل میں ناقص گورننس اور ایوان صدر میں بدعنوانیوں کو بے نقاب کرکے اس کی شہرت خراب کی۔ ادھر واشنگٹن میں کرزئی کے مستقبل کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کررہی ہیں۔ افغانستان میں آئندہ عام انتخابات سر پر ہیں جس کیلئے بہت سے امریکہ نواز مہرے کرزئی کے مقابلے میں امریکی حمایت حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔
اسلام آباد میں صورتحال اس سے بھی زیادہ گھمبیر ہے۔ صدر آصف زرداری کی حکومت ناقابل مزاحم قوت ( امریکہ) اور غیر منقولہ شے ( پاک فوج ) کے درمیان لڑھک رہی ہے۔ زرداری چاہتے ہیں کہ مغرب امریکی قیادت میں کوئی ایسا مارشل پلان دے جس سے پاکستان کو آئندہ پانچ برسوں میں 30 ارب ڈالر مل جائیںتاکہ وہ اپنے موجودہ مالی بحران سے نکل سکے۔ زرداری القاعدہ‘ طالبان نیٹ ورک کو بھی اپنی حکومت کے استحکام اور ملکی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ لہٰذا وہ امریکیوں کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ تاہم پاک فوج جو اگر آزاد نہیں تو خود مختار ضرور ہے، اس انداز میں نہیں سوچتی۔ قومی سکیورٹی کی حکمت عملی پر اس کا کنٹرول زیادہ ہے جس کا وہ تانا بانا اس طریقے سے بنتی ہے جس سے اس کے اپنے مفادات کا تحفظ ہو۔ اس کا لائحہ عمل طویل المیعاد جبکہ سویلین حکومت کا قلیل المیعاد ہے۔ اسے ملک میں امریکہ اور زرداری مخالف جذبات کے وسیع ذخیرے اور میڈیا اور اسٹبلشمنٹ کو بڑے موثر طریقے سے اپنے حق میں استعمال کر نے کی اہلیت اور صلاحیت بھی حاصل ہے۔ Continue reading »
پالیسیاں تشکیل پاگئیں اور ان کے خدوخال بھی واضح ہونے لگے ہیں ۔ امریکہ کی نئی حکومت کی پالیسی بھی سامنے آنے لگی اور القاعدہ کی زیرقیادت مزاحمت کرنے والوں کی بھی دونوں اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ میدان جنگ پاکستان کو بناناہو گا ۔ امریکی ڈرونز کا رخ بھی پاکستان کی طرف ہے اور فدائین کے لشکر بھی پاکستانی شہروں کا رخ کررہے ہیں جنگ ہوگی امریکہ اور اس کے مخالف عربی اور عجمی مخالفین کی ،لیکن میدان بنے گا پاکستان اور مریں گے پاکستان کے ستم رسیدہ مظلوم پاکستانی ۔ گھر اجڑیں گے تو مسلمان پاکستانیوں کے اور جنازے اٹھیں گے تویہاں سے اٹھیں گے۔ القاعدہ کے تعاقب میں ڈرون حملوںکا نشانہ بھی اسلام کے شیدائی قبائلی ہوں گے اور اسلام آباد ، پشاور یا لاہور میں خودکش حملے کی صورت جو بدلہ لیا جائے گا،اس کا نشانہ بھی یہی لوگ ہوں گے (اسلام آباد میں ایف سی کیمپ پر حملے کے نتیجے میں مرنے والے تمام ایف سی کے سپاہی بیٹنی قبیلے کے پختون تھے) ۔ یہ ہے ہماری جرنیل صاحبان اور سیاسی و مذہبی قیادت کی پالیسیوں کا نتیجہ ۔یہی ہماری منافقتوں کا صلہ ہے بلکہ شاید یہ مکافات عمل ہے جس کا اب ہمیں سامنا کرنا پڑے گا۔ اب بھی کچھ لوگ اس غلط فہمی کے شکار ہیں کہ وہ اور ان کے گھر بچے رہیں گے لیکن میرا نہیں خیال کہ کوئی بچ سکے گا۔اب سب قومیتیوں ، سب طبقات اور سب شخصیات کو اپنا اپنا حصہ مل کے رہے گا۔ Continue reading »
مایوسی اور بیزاری کے غلبے کے باوجود پچھلے ہفتے پاکستان میں امریکی عہدیداروں کی بھرپور سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ مولن،پیٹریاس،ہالبروک ایک ساتھ پاکستان آئے اور اپنے ساتھ دہشت گردی اور بربریت بھی ساتھ لائے۔ لاہور میں مناواں پولیس اکیڈمی کو نشانہ بنانے کے بعد دہشت گردوں نے اسلام آباد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی چوکی پر ہلہ بولا۔ فاٹا میں امریکی ڈرون حملوں سے معصوم بچوں اور عورتوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔چکوال میں ایک امام بارگاہ کو ہدف بنایا گیا۔ معاملہ اسی پر موقوف نہ رہا سوات میں ایک بچی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو ریلیز کی گئی۔ ایسا لگتا ہے کہ ان تمام واقعات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ عورتوں سے زیادتی صرف طالبان ہی نہیں کرتے وہ لوگ جو اپنے آپ کو مہذب کہلاتے ہیں ان کے بس میں ہو توکچھ کم نہیں کرتے لیکن ہم سیاسی مصلحتوں کے باعث ان سے چشم پوشی کر لیتے ہیں۔ Continue reading »
بچپن میںفلمی گانے ہمارے کچے دماغوںاورکچے بدنوں پربہت اثر کرتے تھے۔ کوئی فلمی گاناسناتو خواہ مخواہ پہروںاداس رہے یابے وجہ خوش ہوگئے۔ ان دنوں محمدرفیع کاگایا ایک گیت’’ یہ زندگی کے میلے دنیا میںکم نہ ہوںگے افسوس ہم نہ ہوںگے‘‘ بے حد پاپولرتھا اورعام لوگوں کے علاوہ یہ فقیر حضرات کابھی بے حد پسندیدہ تھا جواسے گلی گلی الاپتے دست سوال دراز کرتے تھے۔ تب مجھے بھی یہ گیت اچھالگتا تھا لیکن ایک بات کی سمجھ نہ آتی تھی کہ یہ تودرست ہے کہ یہ زندگی کے میلے دنیا میںکم نہ ہوںگے لیکن آخر میںیہ کیاہے کہ افسوس ہم نہ ہوںگے۔بھلا ہم کیوں نہ ہوں گے۔ اگر گھرنہیںہوںگے تو بازار میں ہوں گے، سکول میںہوںگے،کہیں نہ کہیںتو ہوںگے توافسوس کاہے کا ۔ ابھی تک یہ احساس نہ ہوا تھا کہ یہ زندگی ، خوبصورت اورمزے کی زندگی بالآخر اختتام کوپہنچتی ہے۔انسان ایک چارپائی پررخصت ہوجاتاہے اورمیلے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔اسی نوعیت کاایک پنجابی گیت’’جگ والا میلہ یاروتھوڑی دیر دا۔ ہسدیاںرات لنگھی پتہ نہیں سویر د ا‘‘ بھی بہت پسندکیاجاتا تھااوریہ گیت بھی ہماری مختصر عقل پرسے گزرجایاکرتاتھا کہ اس جہان کامیلہ اے یاروتھوڑی دیرکاہے ہنستے ہوئے رات گزری لیکن سویر کاکچھ پتہ نہیں توبھلا میلہ تھوڑی دیرکاکیوں ہے اوریہ کیابات ہوئی کہ اگر رات ہنستے ہوئے گزرگئی ہے تو سویرکاکیوں پتہ نہیں،سویر تو ہوکررہتی ہے اوراب اس عمر میںآکریہ آشکارہوتاہے کہ واقعی اس جہان کامیلہ تھوڑی دیرکاہوتاہے اورپھرسویر کاکچھ پتہ نہیں کہ ہویانہ ہو۔
آج یہ میلے خواہ مخواہ یاد آتے چلے جاتے ہیں۔
صدر اوبامہ کے پاکستان اور افغانستان کیلئے نشانچی اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں براجمان ہیں۔ ان کے ہمراہ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن بھی ٹھہرے ہوئے ہیں۔ دونوں امریکی عہدیداروں کا پاکستان آنے کا مقصد دو منہ والے سانپ کو مارنا ہے جس کا ایک منہ عسکریت پسندی کا اور دوسرا امریکہ مخالف جذبات کا ہے۔ بظاہر یہ عفریت امریکی کی سرزمین کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان کی پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر نظر ہے۔ یونانی دیومالا کہانیوں کا کرداروں میں کوئی ہرکولیس آگے بڑھ کر اس عفریت کو ہلاک کرے گا۔ لہٰذا ہالبروک ‘ مولن یا جنرل پیٹریاس اس عفریت سے دنیا کو نجات دلائیں گے۔
ایک سابق پاکستانی سفارتکار کا کہنا ہے کہ امریکیوں نے ابھی فلم کا ٹریلر دیکھا ہے اصل فلم ابھی چلنی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ امریکہ نے جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا تعاون حاصل نہ کیا تو مذہبی انتہا پسندی غالب آجائے گی۔ کوئی جنگ عوام کی حمایت کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی۔ پچھلے ہفتے جو خودکش حملے ہوئے تحریک طالبان کے ایک لیڈرحکمت اللہ محسود نے ان کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ آئندہ طالبان ہفتے میں دو خودکش حملے کریں گے اور یہ حملے امریکہ کو میزائل حملوں کی اجازت دینے پر پاکستان کے خلاف انتقاماً کئے جائیں گے۔
تاہم امریکی پھر بھی بچے رہیں گے۔
I have received the following true story by email Continue reading »
مناواں لاہور میں پولیس کے ٹریننگ سکول پر حملے کے حوالے سے ایک پولیس افسر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی چینلز کو ایسے سانحوں کی ویڈیو کوریج میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔اسی ایک بات پر الیکڑونک میڈیا کے بہت سے یار لوگ سخت جزبز ہوئے ان کا کچھ اس قسم کا خیال تھا کہ یہ بھی ’’آزادی میڈیا‘‘ کے برعکس بات ہے کیونکہ اس شعبے سے تعلق رکھنے والے تو اپنے فرائض سے پوری طرح واقف ہیں انہیں کوئی کیوں سمجھائے بات صرف اتنی تھی کہ اس ’’لائیو کوریج‘‘ میں احتیاط سے کام لینے کا مشورہ تھا جس میں دہشت گردوں یا دشمنوں پر قابو پانے کیلئے جان ہتھیلی پر رکھ کر کسی عمارت کے اندر جانے والے جوانوں یا کمانڈوز کو لائیو کوریج میں ٹیلی ویژن سکرین پر دکھایا جاتا ہے ظاہر ہے کہ سکرین پر ایسے مناظردیکھنے والوں میں ایسے ملک دشمن بھی ہوسکتے ہیں جو موقع واردات سے دور موبائل قوتوں سے دہشت گردوں کو ہدایات دے رہے ہوں یا انہیں باخبر رکھنے کیلئے حقیقت حال سے آگاہ کررہے ہوں جس سے دہشت گردوں یا حملہ آوروں پر قابو پانے کی راہ میں رکاوٹ یا مشکل پیش آسکتی ہو۔مقصد یہ کہ ملزموں پر اس منصوبے کا راز کسی بھی طریقے سے ظاہر نہیں ہونا چاہیے جو انہیں قابو کرنے کیلئے مرتب کرکے اس پر عمل درآمد کیا جارہا ہو۔بہرحال لائیو کوریج کے حوالے سے پولیس کے ایک ذمہ دار آفیسر کا جو مشورہ تھا وہ اپنی جگہ درست تھا یا نہیں اس کا فیصلہ کرنا اس کے بعد ان کے کھلاڑیوں کا کام ہے۔ایسے بڑے بڑے اہل دانش پولیس ٹریننگ سکول پر حملے کے دوران اپنے اپنے ٹی وی چینل کو جو سٹکر فراہم کرتے رہے یعنی لمحہ لمحہ ان کی جو خبریں چینلوں پر سٹکر بن کر ناظرین کیلئے باعث غم و تشویش بنتی رہیں وہ گویا الیکڑانک میڈیا کے فیلڈ سٹاف کے مابین مقابلے کی ایک دوڑ کی طرح تھی۔سٹکر مختلف ٹیلی ویژن چینلوں پر کچھ اس طرح چلتے رہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی یا بڑھائی جاتی رہی اور پھر ٹیلی ویژن سکرین پر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 22 تک پہنچا دی گئی۔اس تعداد کا سٹکر ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر مسلسل چلتا رہا۔ اس کے ساتھ فیلڈ سٹاف کے بعض ذمہ دار افسروں کے ساتھ گفتگو بھی واہ کیا گفتگو تھی اور کیسے سوالات پوچھے جارہے تھے۔دہشت گردوں کی طرف سے فائرنگ جاری تھی سوال پوچھا گیا۔
سوال :۔آپ بتا سکتے ہیں اس وقت اندر کیا ہورہا ہے؟
Recent Comments