سارے طا لبان دھشت گرد نھيں ـ جاويد چوھدری
Article published in Daily Express on 30th April 2009.
پاکستان میں تعلیمی انقلاب، اساتذہ کے استحصال کے خاتمہ سے مشروط
کاشف اسد
یہ بات اب حقیقت بن کر سامنے آ رہی ہے کہ ہم نے پاکستان میں تعلیم کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا فوجی حکومت ہو یا جمہوری حکومت ہر دور میں تعلیم کبھی بھی ہماری ترجیح نہیں رہی۔ آج تعلیم کے معیار اور خواندگی کے تناسب میں ہمارے ملک کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ارباب اقتدار تعلیم کی طرف کوءی توجہ دینے پر تیار نہیں، یہ بات بھی سب پر عیاں ہے کہ حکومت وقت تعلیم کی ترقی کے لءے جو مہم چلاتی ہے اس کا مقصد بین الاقوامی برادری خصوصا اقوام متحدہ کو مطمعن کرنا ہوتا ہے جو پاکستان میں تعلیم کی سہولتوں کے فقدان پر اپنی تشویش کا اظہار اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں۔ قومی اور صوباءی حکومتیں اس مہم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی امداد حاصل کرنے میں تو کامیاب ہو جاتی ہیں لیکن اس امداد کو صحیح مصرف میں خرچ نہیں کیا جاتا، نتیجتا وہ امداد حکومتی اللے تللوں اور اشتہار بازی کی مہم میں ختم ہوجاتی ہے اور تعلیم کے شعبہ جات میں صرف اجلاسوں کی کارواءیوں تک ہی فنڈ کا استعمال عمل میں آتا ہے۔
آج بھی ہمارا تعلیمی نظام ایک تجربہ گاہ بنا ہوا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس تجربہ گاہ میں تجربے بھی وہ لوگ کررہے ہیں جن کا تعلیم سے کوءی واسطہ ہی نہیں۔ صرف ذاتی تعلق اور اثر و نفوذ کی بنا پر انہیں اس شعبہ میں طبع آزماءی کا موقع دیا جاتا ہے کیونکہ بین الاقوامی امداد اور حکومتی بجٹ کو کہیں نہ کہیں استعمال بھی تو کرنا ہے اور اس کا نتیجہ پوری قوم اور اقوام عالم کے سامنے ہے کہ آج تک پاکستان میں کوءی تعلیمی نظام جاری نہ ہوسکا اور آنے والی ہر نءی حکومت نےنظام تعلیم میں رخنہ اندازی کرکے سرے سے نظام کا ستیاناس کردیا ۔ یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں خواندگی کا تناسب انتہاءی کم ہے اور خواندہ افراد میں ان کو بھی شامل کیا جاتا ہے جو صرف اپنا نام لکھنا جانتے ہیں۔
آنے والی ہر حکومت نے یہ دعویٰ کیا کہ تعلیم ان کی ترجیحات میں شامل ہے (خواہ آخری ہی ہو) لیکن اس کے لیے انہوں نے اپنی ساری توجہ سابقہ پالیسی کو ختم کرنے اور نءی حکمت عملی تشکیل دینے پر صرف کردی اور انہوں نے اساتذہ سے مشاورت کرنےکی بجاءے اپنے من پسند ارکان کو محکمہ تعلیم کے بجٹ پر تعینات کیا۔
یہ بات بھی دلچسپی سےخالی نہ ہوگی کہ ہر حکومت نے سابقہ حکمرانوں کی ایک حکمت عملی کو تسلسل سے جاری رکھا بلکہ اس میں ہر دور میں اضافہ کیا اور وہ ہے اساتذہ کا استحصال۔ ہر حکومت نے اساتذہ کرام کے استحصال کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور اگر پاکستان کے تعلیمی ڈھانچے کا جاءزہ لیا جاءے تو ایک حقیقت سب پر عیاں ہوجاتی ہے کہ پاکستان میں جس قدر استحصال اساتذہ کا کیا گیا شاید ہی کسی اور طبقہ ملازمین کے ساتھ ایسی زیادتی کی کوءی مثال سامنے آءے۔
غلامی کے خوگر حکمران اور بے سُرے ”اسلامی“ موٴذن!….روزن دیوار سے… عطا الحق پاسمی
ایک شخص کے ہاتھ میں کہیں سے ایک روایتی چراغ لگا جس کے رگڑنے سے ایک تابعدار قسم کا جن برآمد ہوا اور اس نے کورنش بجا لاتے ہوئے کہا ”میرے آقا کیا حکم ہے؟“ مگر ساتھ ہی اس جن نے یہ وضاحت کردی کہ وہ گریڈ 14کا جن ہے چنانچہ وہ کوئی چھوٹا موٹا کام ہی کرسکتا ہے نیز اس کے بس میں اپنے آقا کی صرف ایک خواہش پوری کرنا ہے۔ آقا نے کہا ”ٹھیک ہے۔ تم یہ کرو کہ اسلام آباد سے واشنگٹن تک ایک پل بنا دو“ جن نے دست بستہ عرض کی ”میرے آقا! اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان پہلے ہی بے شمار پل ہیں اب آپ ایک اور پل کیوں بنانا چاہتے ہیں؟ ویسے بھی میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ میں بہت معمولی قسم کا جن ہوں یہ کام میرے بس سے باہر ہے، چنانچہ اگر آپ کوئی متبادل خواہش بتائیں تو مجھے تعمیل ارشاد میں خوشی محسوس ہوگی۔“ یہ سن کر چراغ کے مالک نے کہا ”ٹھیک ہے۔ تم یوں کرو کہ میرے صرف ایک سوال کا جواب دے دو، سوال یہ ہے کہ یہ عورت ذات کیا چیز ہے؟“ جن نے یہ سن کر ایک لمحہ کے لئے توقف کیااور پھر بولا ”میرے آقا! وہ پل یک طرفہ بنانا ہے یا دو طرفہ بنانا ہے؟“
اقبال بانو ،دشت تنہائی میں۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
موت اور آپ کے درمیان ایک فاصلہ ہو تو وہ رومانوی لگتی ہے اس کادکھ محسوس تو ہوتا ہے پر سینے میں ایک گھاؤ نہیں لگاتا اور یہ فاصلے عمرے کے ہوتے ہیں برسوں کے ہوتے ہیں جب آپ جوان ہوتے ہیں اور مرنے والا آپ سے بہت دور بڑھاپے کی منزلوں پر ہوتا ہے تو آپ اس کی موت کو اپنے ساتھ متعلق نہیں کرتے کہ یہ اصولی طور پر آپ کے مرنے کے دن نہیں ہوتے لیکن پھر آپ برسوں کے فاصلے طے کرتے اس مقام پر جاپہنچتے ہیں جس کے آگے جینے کے بہت سے دن نہیں ہوتے جیسے بابا فرید نے کہا تھا کہ اے فرید اب نیند سے بیدار ہوجاؤ کہ تمہاری داڑھی سفید ہوچکی ہے اور تمہارا پیچھا یعنی گزشتہ حیات بہت دور ہوگئی ہے اور تمہارا آگا یعنی جو کچھ آگے ہے وہ نزدیک آگیا ہے تو ان زمانوں میں موت بہت اثر کرتی ہے کہ آپ بھی اس کے اتنے نزدیک آچکے ہوتے ہیں کہ اگلی باری آپ کی بھی ہوسکتی ہے یوں جب کبھی کسی عزیز یا جان پہچان والے کی موت کی خبر آتی ہے تو وہ ایک یادہانی کے طور پر آتی ہے اور آپ نہ صرف اس شخص کے بچھڑنے پر ملال میں چلے جاتے ہیں بلکہ اپنے خاک ہوجانے کے ڈر سے بھی خوفزدہ ہوجاتے ہیں تب یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ بابا لوگ کسی کے مرنے پراتنا واویلا کیوں کرتے ہیں اور جو بھی مرتا ہے اس کے چلے جانے کا اتنا چرچا کیوں کرتے ہیں اس کے ساتھ اپنی رفاقت کی کہانیاں کیوں سنانے بیٹھ جاتے ہیں۔
یہ خواب کیوں آیا۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
مجھے خواب کم ہی آتے ہیں اور میں اکثر ان لوگوں کو نہایت رشک سے دیکھتا ہوں جن کے پاس ہر صبح درجن بھر خوابوں کی ایک فہرست ہوتی ہے اور وہ انہیں پوری تفصیل کے ساتھ آپ کو سنانا اپنا فرض سمجھتے ہیں چاہے آپ کو ان سے دلچسپی ہو یا نہ ہو۔ ہر شخص کو اس کے عقیدے ، خاندان ، رسم ورواج اور موسموں کے مطابق خواب آتے ہیں یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک مسلمان کو مہاتما بدھ خواب میں دکھائی دینے لگیں یا تبت کا کوئی بدھ لامہ حضرت یحییٰ کو خواب میں دیکھنے لگے۔ اس طور ایک افریقن اپنے خواب میں وہی جانور دیکھے گا جو اس کے آس پاس گھومتے ہیں اور انہی موسموں کے خواب دیکھے گا جو اس کے اپنے ملک کے ہوںگے یعنی ایک افریقی خواب میں یہ نہیں دیکھے گا کہ وہ اپنے برف سے بنے گھر ’’اگلو‘‘ میں قیام پذیر ہے اور وہ برفانی کتے جو اس کی گاڑی برفزاروں پر کھینچتے ہیں وہ کہیں گم ہوگئے ہیں اور وہ فکر مند ہے کہ اب مزید برفانی کتے کہاں سے حاصل کروں گا اس طور ایک اسکیمو کو یہ خواب نہیں آئے گا کہ وہ کسی صحرا میں پیاس کی شدت سے نڈھال ہے اس کا اونٹ فوت ہوچکا ہے اور دور دور تک کھجور کے کسی درخت کا نام ونشان نہیں۔ویسے میرے پورے خاندان والوں کو خواب کم ہی آتے ہیں یاد رکھئے کہ خواب آنے اور خواب دیکھنے میں واضح فرق ہوتا ہے میں ذاتی طور پر خواب تو بہت دیکھتا ہوں لیکن عالم بیداری میں اپنے خاندان اور اپنے ملک کی بہتری کے خواب کچھ خواہشوں کے خواب لیکن نیند کے دوران مجھے
سبق ناتمام—ھاروں رشيد
جنرل محمد ضیاء الحق نے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف اپنی جنگ جیت لی تھی پھر وہ قتل کیوں کر دیئے گئے۔ کیا اس کے سوا بھی ان کا کوئی جرم تھا کہ وہ فتح کے تمام ثمرات امریکہ کی جھولی میں ڈالنے پر آمادہ نہ تھے اور کیا انہوں نے اس کے سوا بھی کسی حماقت کا ارتکاب کیا تھاکہ اپنی قوم کو انہوں نے اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ کیا ابھی اس نکتے پر غور کرنے کا وقت نہیں آیاکہ افراد اور اقوام غلطیوں سے نہیں، اپنی غلطیوں پر اصرار سے تباہ ہوتی ہیں؟
صدر زرداری کو ٹوکیو میں دہشت گردی کے خلاف آموختہ دہراتے دیکھنا تکلیف دہ تھا۔ ٹوکیو میں ٹی وی کے نمائندے سے یہ سوال کہ "جاپان اور امریکہ کے علاوہ کون کون سے ممالک پاکستان کو فراخدلی سے مدد دیں گے" اس سے بھی زیادہ اذیت ناک۔ کیا ہم، دنیا کی سب سے زیادہ سر سبز زمین پر بسنے والے لوگ ، دنیا کے بھکاری ہیں؟ کرہٴ ارض پر سب سے زیادہ فی کس زیرِ کاشت رقبے کا ملک، دنیا میں سب سے بڑے نہری نظام کی حامل قوم۔ کیا اب کشکول ہی ہماری علامت، شناخت اور پہچان ہے۔ زخموں پر نمک واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والی رپورٹ کا ایک پیراگراف ہے"اگر پاکستان کی حالت اسی طرح خراب ہوتی گئی تو اس منظر کو تصور میں لانا مشکل نہیں، جس میں جنرل کیانی جنرل مشرف بن جائیں گے اور باقاعدہ طور پر اقتدار پر قبضہ کر لیں گے… مگر اپنے" دوست مائیکل ملن "کو اطلاع دیئے بغیر نہیں کہ صورتِ حال ان کے قابو میں ہے اور جس قدر جلد ممکن ہوگا وہ جمہوریت بحال کر دیں گے "۔
کنفيوژن کا پھاڑـــ جاويد چوھدری
Published in Daily Express (Zero Point) on 16th April 2009
گھڑیاں آگے۔ ۔ ۔ قوم پیچھے۔۔۔۔ سردار نعیم خان
پاک سرزمین کے منتخب پارلیمنٹ کی وسیع البنیاد کابینہ پھر سے تشریف فرما ہوئی اور کئی ایک اہم فیصلے کئے جن میں انتہائی اہم فیصلہ گھڑیاں آگے کرنا بھی تھا (میں گھڑیاں آگے کرنے کا لفظ استعمال کروں گا کہ وقت تو ہم آگے کرنے سے رہے میں اس کو اہم فیصلہ اس لئے بھی قرار دے رہا ہوں کہ شاید ابھی کابینہ کا اجلاس جاری ہی تھا کہ تمام ٹی وی چینلز نے اس فیصلے کی فوٹیج چلانا شروع کردی یعنی سب کے لئے اہم ترین فیصلہ شاید یہی تھا گھڑیاں آگے کرنے کی توجیح یہ تھی کہ اس سے بجلی کی اٹھائیس سو(2800) میگا واٹ بچت متوقع ہے اس سے مجھے گزشتہ برس کی یہی ریہرسل یاد آرہی ہے کہ جب گھڑیاں آگے کرنے کا حکومتی فیصلہ ہوا تو ایک اخبار نے کارٹون چھاپا جس میں ایک کردار جمال دین لگاتار گھڑی کے ساتھ الجھا ہوا ہے بیوی کے استفسار پر جمال دین کہتا ہے کہ وہ گھڑی لگاتار آگے دوڑا رہا ہے چونکہ حکومت کہتی ہے اس سے بجلی کی بچت ہوگی اور عین اسی وقت جمال دین کے بجلی، بلب، پنکھے، فریج وغیرہ بھی آن رہتے ہیں کئی ہماری بچت بھی ایسی ہی نہ ہو چونکہ بجلی بچت تو کہیں نظر نہیں آئی سوائے حکومتی اعداد وشمار کے اور یہ اعداد وشمار تو ایسے ہی ہوتے ہیں کہ جنہیں ہر نئی آنے والی حکومت غلط قرار دیتی ہے اور جب وہ غلط قرار دیتی ہے تو پرانی حکومت اسے باز پرس کون کرے اور اگر کرے بھی تو وقت کا پہیہ کیسے گھومے؟
ناشتے پہ ناشتہ – مستنصر حسین تارڑ
کہا تو یہی جاتا ہے کہ ایک دوسرے کو کھلانے پلانے اور دعوتیں دینے سے آپس میں پیار محبت بڑھتا ہے لیکن میرا تجربہ ہے کہ پیار محبت کم اور وزن زیادہ بڑھتا ہے اور ان دنوں میرے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے ۔
لاہور کے پارکوں اور باغوں میں کھانے پینے کی رسم بے حد پرانی ہے مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب کبھی شدید گرمی کے بعد بادل امڈ امڈ کر آنے لگتے اور رم جھم پھوار پڑھنے لگتی تو میرے ماموں جان فوری طور پر اپنے دوست ابراہیم کو طلب کرتے کہ یار موسم بڑا ظالم ہورہا ہے کچھ کرو۔ ۔ ۔ ابراہیم صاحب فوری طور پر آموں کے دو ٹوکرے حاصل کرتے انہیں کپڑے دھونے والے ٹپ میں کم از کم ایک من برف میں دفن کرتے اور پھر اس ٹب کو کانوں سے پکڑ کر ایک ریڑھے پر رکھا جاتا اور ہم سب بھی ریڑھے پر سوار اور چل بھئی لارنس گارڈن۔ ۔ ۔
جن دنوں میں ان زمانوں کے لارنس گارڈن اور آج کے جناح باغ میں سیر کیا کرتا تھا تو وہاں ایک بہت گورا چٹے پہلوان آیا کرتے تھے وہ سیر تو کم ہی کرتے تھے البتہ اپنے پسندیدہ بنچ پر بیٹھ کر توندزیادہ کھجایا کرتے تھے ہر اتوار ان کی جانب سے دوستوں کے لئے ناشتے کا بندوبست ہوتا جس کا آغاز باداموں والے دودھ اور انجام بدہضمی پر ہوتا کہ یہ ایک خصوصی اور لاہوری ناشتہ ہوتا جس میں کلسٹرول کی مقدار خوراک سے زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کا ہماری صحت پر مضر اثر ہرگز نہ ہوتا کہ ان دنوں کلسٹرول دریافت نہیں ہوا تھا اور اگر دریافت ہی نہیں ہوا تھا تو بھلا وہ صحت کے لئے نقصان دہ کیسے ثابت ہوسکتا تھا یہ ایک سادہ فلسفہ ہے۔
محبت نامے کا جواب…!,,,,شیخ رشیداحمد
برادرم نذیر ناجی۔ السلام علیکم۔ سویرے سویرے آپ کا محبت نامہ پڑھا۔ آپ نے میرے کندھے پر بندوق رکھ کر امریکن شہریت یافتہ پاکستان کے سفیر کی شان میں اپنے دو قیمتی کالم سیاہ کر دیئے جناب والا۔
1۔ آپ نے مجھ پر الزام لگایا ہے کہ نواز شریف کی دونوں دفعہ بے وقت رخصتی کا میں ذمہ دار ہوں، حالانکہ میں نے سابق صدر مشرف کی نہ تعیناتی کا مشورہ دیا اور نہ ان کی برطرفی کے احکامات میرے مشورے سے ہوئے۔
2۔ برصغیر کی سب سے مہنگی تقریر آپ نے دوبئی اور بہاولپور کے ہوائی سفر میں ان کو لکھ کر دی۔ اگر آپ کو نواز شریف نے کالم نگاروں کی میٹنگ میں نہیں بلایا، تو آپ اس کو خوش کرنے کے لئے مجھے ” جاتی امرا “ جانے کے جتن “ سے کیوں نواز رہے ہیں۔ خدا وہ وقت نہ لائے جب میں کسی کے در پر جانے کے لئے جتن کروں ، وہ چاہے جاتی امرا ( رائے ونڈ ) ہی کیوں نہ ہو۔
3۔ جہاں تک پرویز مشرف کے ہاتھ باندھ کر اقتدار سے نکالنے کا الزام مجھ پر لگایا ہے، تو گزارش یہ ہے کہ نواز شریف نے ٹکٹ نہ دے کر مجھے صدر مشرف کی طرف خود دھکا دیا۔ صدر مشرف کو اقتدار سے NRO اور لال مسجد نے نکالا اور لال مسجد پر میرے شدید اختلافات کی وجہ سے مجھے ریلوے میں بھیج دیا گیا، جس پر آپ نے خوشی کا اظہار کیا کیونکہ میں نے آپ کے ساتھ کبھی نیکی نہیں کی تھی اور آج NRO پر نواز شریف بھی خاموش ہیں اور کئی دوسرے اور بھی کیونکہ حقیقی حکمرانوں کا یہی حکم ہے اور سب مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ میں جلا وطنی اور جیل جانے والوں میں نہیں تھا، تو عرض ہے کہ یہ خودساختہ جلاوطنی اور تحریر زدہ روانگی سیاستدانوں کا شیوہ نہیں اور اس خودساختہ جلاوطنی پر جس طرح عمل کروایا گیا میں اس سے واقف ہوں۔
4۔ آپ نے میری آصف زرداری سے ملاقات اور مشورہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ آپ اس ملک کے اکلوتے کالم نگار ہیں جو اسلام آباد سے واپسی پر ان کے لئے ” سب اچھا “ لکھتے ہیں۔ آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے انہیں پہلا اور آخری مشورہ یہی دیا تھا کہ شہباز شریف کو نا اہل قرار نہ دیا جائے، ورنہ انہیں سخت نقصان ہوگا اور وقت نے ثابت کیا کہ صدر آصف زرداری کو سخت نقصان پہنچا اور کچھ لوگ ملکی اور غیر ملکی طاقتوں کا فرمان مان کر ہیرو بن گئے۔
پاک افغان نئی امریکی پالیسی مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی،مشرف
شنگھائی(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر جنرل پرویز مشرف ریٹائرڈ نے کہا کہ امریکی صدر براک اوبامہ کی پاکستان اورافغانستان کے بارے میں نئی حکمت عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس میں بھارت کو شامل نہ کیا جائے اور مسئلہ کشمیر حل نہ کیا جائے۔ چین کے شنگھائی انسٹی ٹیوٹ میں طلبہ سے خطاب میں پرویز مشرف نے کہا کہ افغانستان کے بارے میں امریکی صدر براک اوبامہ کی نئی حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع ہے تاہم بھارت کی شمولیت کے بغیر تمام کوششیں نامکمل ہیں۔
Army aur Baluchistan آرمی اور بلوچستا ن
By Talat Hussain, published in Daily Express on 11th April 2009.
ہم ابوہریرہؓ کی بلیاں بھول گئے ہیں۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
چند روز بیشتر میں نے اخبار میں کراچی کے چڑیا گھر کی ایک تصویر دیکھی جس میں ایک شاندار دھاریوں والا شیر اپنے پنجرے کے ایک کونے میں دبکا بیٹھا ہے اور پنجرے کے فرش پر پتھر، اینٹیں ، روڑے اورکنکر بکھرے ہوئے ہیں یہ کنکر اور پتھر پنجرے میں اس لئے نہیں بچھائے گئے کہ شیر فارغ اوقات میں ان کے ساتھ شٹاپو کھیلتاہے بلکہ یہ کنکر اور پتھر اسے مارے گئے ہیں تماشائیوں نے اسے اشتعال دلانے کیلئے یا چھیڑنے کی خاطر اس پر پھینکے ہیں ہر روز پتھروں اور اینٹوں کا ایک انبار جمع ہو جاتا ہے جسے خاکروب سمیٹ کر لے جاتا ہے اور پھر اگلے روز ایک مرتبہ پھر سنگساری کا عمل شروع ہو جاتا ہے پنجرے میں قید جانوروں کو تنگ کرنا ہم لوگوں کی ایک قبیح عادت ہے لیکن شائد یہ پہلی بار ہے کہ شیر کو سنگسار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کی بے چارگی سے لطف اٹھایا جاتا ہے اس اذیت پسندی کا جواز تلاش کرنے کے لئے آپ کو ذہن پر زیادہ زور نہیں دینا پڑتا جس معاشرے میں ایک سترہ برس کی بچی کو سڑک پر اوندھا لٹا کر کوڑے مارے جاسکتے ہیں اور سنگساری کو جائز ثابت کرنے کے لئے میڈیا پر نہائت ظالمانہ تبصرے ہوئے ہیں وہاں اس نوعیت کا رویہ جنم لیتا ہے یعنی لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک ایسا دور آنے والا ہے تو کیوں نہ ابھی سے سنگساری کی پریکٹس کرلی جائے اس کا ایک اور جواز بھی ممکن ہے کہ عوام الناس اپنے اپنے صوبوں کے سیاسی شیروں سے اتنے تنگ آچکے ہیں کہ اپنا غصہ سچ مچ کے اس شیر پر نکالتے ہیں۔ آج کے اخبار میں ایک ایسے گھوڑے کی تصویر ہے جس کا بدن زخموں سے بھرا پڑا ہے اس سے مشقت لینے والے نے جانے اسے کن کوڑوں سے مارا ہے کہ وہ اس قدر شدید زخمی ہو گیا ہے ۔
پاک امریکہ تعلقات نازک موڑ پر!۔۔۔۔ نجم سیٹھی
پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی ایلچی رچرڈہالبروک کو دونوں ملکوں کے حالیہ دورے میں ملے جلے سلوک کا سامنا کرنا پڑا ۔ کابل میں صدر حامد کرزئی کی حکومت کو یہ رنج ہے کہ امریکہ نے کابل میں ناقص گورننس اور ایوان صدر میں بدعنوانیوں کو بے نقاب کرکے اس کی شہرت خراب کی۔ ادھر واشنگٹن میں کرزئی کے مستقبل کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کررہی ہیں۔ افغانستان میں آئندہ عام انتخابات سر پر ہیں جس کیلئے بہت سے امریکہ نواز مہرے کرزئی کے مقابلے میں امریکی حمایت حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔
اسلام آباد میں صورتحال اس سے بھی زیادہ گھمبیر ہے۔ صدر آصف زرداری کی حکومت ناقابل مزاحم قوت ( امریکہ) اور غیر منقولہ شے ( پاک فوج ) کے درمیان لڑھک رہی ہے۔ زرداری چاہتے ہیں کہ مغرب امریکی قیادت میں کوئی ایسا مارشل پلان دے جس سے پاکستان کو آئندہ پانچ برسوں میں 30 ارب ڈالر مل جائیںتاکہ وہ اپنے موجودہ مالی بحران سے نکل سکے۔ زرداری القاعدہ‘ طالبان نیٹ ورک کو بھی اپنی حکومت کے استحکام اور ملکی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ لہٰذا وہ امریکیوں کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ تاہم پاک فوج جو اگر آزاد نہیں تو خود مختار ضرور ہے، اس انداز میں نہیں سوچتی۔ قومی سکیورٹی کی حکمت عملی پر اس کا کنٹرول زیادہ ہے جس کا وہ تانا بانا اس طریقے سے بنتی ہے جس سے اس کے اپنے مفادات کا تحفظ ہو۔ اس کا لائحہ عمل طویل المیعاد جبکہ سویلین حکومت کا قلیل المیعاد ہے۔ اسے ملک میں امریکہ اور زرداری مخالف جذبات کے وسیع ذخیرے اور میڈیا اور اسٹبلشمنٹ کو بڑے موثر طریقے سے اپنے حق میں استعمال کر نے کی اہلیت اور صلاحیت بھی حاصل ہے۔
ہمارے لئے رونے اور دشمنوں کے لئے خوشی کا مقام ۔۔۔۔ سلیم صافی
پالیسیاں تشکیل پاگئیں اور ان کے خدوخال بھی واضح ہونے لگے ہیں ۔ امریکہ کی نئی حکومت کی پالیسی بھی سامنے آنے لگی اور القاعدہ کی زیرقیادت مزاحمت کرنے والوں کی بھی دونوں اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ میدان جنگ پاکستان کو بناناہو گا ۔ امریکی ڈرونز کا رخ بھی پاکستان کی طرف ہے اور فدائین کے لشکر بھی پاکستانی شہروں کا رخ کررہے ہیں جنگ ہوگی امریکہ اور اس کے مخالف عربی اور عجمی مخالفین کی ،لیکن میدان بنے گا پاکستان اور مریں گے پاکستان کے ستم رسیدہ مظلوم پاکستانی ۔ گھر اجڑیں گے تو مسلمان پاکستانیوں کے اور جنازے اٹھیں گے تویہاں سے اٹھیں گے۔ القاعدہ کے تعاقب میں ڈرون حملوںکا نشانہ بھی اسلام کے شیدائی قبائلی ہوں گے اور اسلام آباد ، پشاور یا لاہور میں خودکش حملے کی صورت جو بدلہ لیا جائے گا،اس کا نشانہ بھی یہی لوگ ہوں گے (اسلام آباد میں ایف سی کیمپ پر حملے کے نتیجے میں مرنے والے تمام ایف سی کے سپاہی بیٹنی قبیلے کے پختون تھے) ۔ یہ ہے ہماری جرنیل صاحبان اور سیاسی و مذہبی قیادت کی پالیسیوں کا نتیجہ ۔یہی ہماری منافقتوں کا صلہ ہے بلکہ شاید یہ مکافات عمل ہے جس کا اب ہمیں سامنا کرنا پڑے گا۔ اب بھی کچھ لوگ اس غلط فہمی کے شکار ہیں کہ وہ اور ان کے گھر بچے رہیں گے لیکن میرا نہیں خیال کہ کوئی بچ سکے گا۔اب سب قومیتیوں ، سب طبقات اور سب شخصیات کو اپنا اپنا حصہ مل کے رہے گا۔