Article by Orya Maqbool Jaan published in Daily Express on 26th March 2009. Continue reading »
پچھلے ہفتے ہم نے لکھا تھا کہ زرداری اور نوازشریف اپنی ضد سے باز آجائیں کیونکہ وہ آتش فشاں کے دہانے پر کھڑے ہیں، اس سے آگے بڑھے تو واپسی ممکن نہ ہو گی ۔ہم نے یہ بھی باور کرایا تھا کہ فوج سامنے آنے کی بجائے پس منظر میں رہ کر تبدیلی کیلئے کام کرے گی۔ دونوں لیڈروں کو تنبیہہ کرنا ہمارا فرض تھا، سو ہم نے ادا کیا۔ فوج کے کردار کے بارے میں جو پیش گوئی کی گئی، اس کے بارے میں بھی کوئی ابہام نہ تھا کیونکہ حالات کے آئینے میں صاف نظر آر ہا تھا کہ معاملات کیا کروٹ لے سکتے ہیں۔
پچھلا پورا ہفتہ سیاسی کشاکش اور دوڑ دھوپ میں گزر ا۔ صدر آصف زرداری کے کہنے پر مولانا فضل الرحمن،اسفندیار ولی اور نواب اسلم رئیسانی نے نوازشریف کو پیشکش کی کہ حکومت تمام مسائل کے حل کیلئے جن میں افتخار محمد چوھدری کی بحالی اور 17 ویں ترمیم کی منسوخی بھی شامل ہے آئینی پیکج لانے کیلئے تیار ہے بشرطیکہ وہ لانگ مارچ کا ارادہ ترک کردیں۔ تاہم نوازشریف اس بات پر مصر رہے کہ کسی بھی ڈیل سے پہلے افتخار چوھدری کو بحال کیا جائے‘ دراصل وہ لانگ مارچ کے ذریعے اپنی قوت کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔ اس امر نے ’’ ڈبل اے ‘‘ یعنی امریکہ اور آرمی کو خفی انداز میں مداخلت کا موقع فراہم کیا۔ دونوں قوتوں کواندازہ تھا کہ سیاسی تنازعہ بڑھنے سے ان کے مفادات متاثر ہوں گے کیونکہ ریاست اور حکومت کی توجہ پاکستان کو درپیش اقتصادی مسائل اور مشرقی اور مغربی سرحدوں پر صورتحال سے ہٹ جائے گی۔ Continue reading »
اگرآپ کبھی بچے رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ بچے رہیں ہوں گے کہ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ کوئی بچہ نہ رہا ہو اور وہ یکدم بڑا ہو جائے تو آپ جانتے ہوں گے کہ جب سکول میں آدھی چھٹی ہوتی ہے تو کیسے بچوں کا ایک سیلاب امڈتا ہوا باہر آتا ہے اور کھانے پینے کے ٹھیلوں کا گھیراو کرلیتا ہے ٹھیلے والوں کی جان پہ بن آتی ہے کہ کیسے سب بچوں کو بھگتا ئیں اور ساتھ میں پیسے بھی وصول کرتے جائیں تو ایسے ہی ایک سکول کے باہر ایک گول گپے بیچنے والا تھا آدھی چھٹی ہوئی تو سکول کے اندر سے بچوں کا ایک ہجوم برآمد ہوا اور کھانے پینے کی اشیاء پر پل پڑا گول گپوں کے ٹھیلے کا بھی گھیراؤ کرلیا کچھ دیر تو خیریت گزری بچے گول گپے حاصل کر کے ان کی قیمت ادا کرتے رہے لیکن پھر رش زیادہ ہوگیا کہ آدھی چھٹی ختم ہونے کو تھی اور بچوں نے گول گپوں پر ہلا بول دیا اور اتنا وقت کہاں کہ جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے برآمد کر کے گول گپوں والے کی ہتھیلی پر رکھے جائیں جس کو جتنے گول گپے ملے اس نے اڑا دئیے لوٹ مار شروع ہو گئی گول گپوں والا کچھ دیر تو احتجاج کرتا رہا شور مچاتا رہا کہ کم بختو پیسے تو ادا کرو اور جب کسی نے اس کی چیخ وپکار پر دھیان نہ دیا تو وہ بہ نفس نفیس ذاتی طور پر اپنے ہی گول گپوں پر پل پڑا اور دونوں ہاتھوں سے انہیں اپنے شکم میں اتارنے لگا اس پر کسی راہگیر نے پوچھا کہ بھئی تم خود ہی اپنے گول گپے کیوں کھائے جارہے ہو تو اس نے اس افراتفری میں جواب دیا کہ میں جتنے بھی پیسے پورے ہو سکتے ہیں پورے کر رہا ہوں منافع تو ہونے سے رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ Continue reading »
Harf-i-raaz by Orya Maqbool Jaan, published in Daily Express on 16th March 2009. Continue reading »
شہزاد ملک
گزشتہ دو سال کے دوران معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلی عدالتوں کے ججوں کی بحالی اور آزاد عدلیہ کے لیے چلائی جانے والی وکلاء کی تحریک بلاشبہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی تحریک ہے۔
اس تحریک میں نشیب و فراز آتے رہے موجودہ اور سابق حکومت کی طرف سے اس تحریک میں شامل وکلاء کو مختلف نوکریاں دی گئیں جن میں ہائی کورٹ کے جج بنانا بھی شامل تھا لیکن اس کے باوجود یہ تحریک چلتی رہی۔
نو مارچ سنہ دو ہزار سات کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا جسے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دیا گیا۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بینچ نے حکومتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اُنہیں بیس جولائی سنہ دوہزار سات کو بحال کردیا۔ Continue reading »
Artical originally published in Daily Express (Zero Point) on 13th March 2009. Continue reading »
میراخیال ہے کہ صحافی حضرات خواہ مخواہ مائنڈ کرگئے ہیں اگر گورنر پنجاب نے انہیں ڈڈو کہہ دیاہے تو بھلا اس میں براماننے کی کون سی بات ہے میں بھی پچھلے پچیس تیس برس سے باقاعدگی سے اخباروں میں کالم لکھ رہاہوں اورکسی حد تک صحافی کہلاسکتاہوں تو میں نے تو ہرگز مائنڈ نہیں کیا صرف ان لوگوںنے مائنڈ کیاہے جوڈڈوں کی تاریخی اورمعاشرتی حیثیت سے آگاہ نہیںہیں علاوہ ازیں نوٹ کیجئے کہ انہوں نے صحافیوں کو مینڈک نہیں کہاڈڈو کہاہے اوران دونوں میںزمین آسمان کافرق ہے مینڈک عام طور نہایت شریف النفس ہوتے ہیں کسی حد تک صوفی سے ہوتے ہیں ایک مقام پربیٹھے آنکھیں جھپکاتے رہتے ہیں جبکہ ڈڈو ان سے حجم میں چھوٹے اورنہایت کیوٹ ہوتے ہیں اورہمہ وقت اچھلتے رہتے ہیں۔ Continue reading »
Hasan Nisar’s article published in daily Jang (chauraha) on 10th March 2009 Continue reading »
Another wonderful article written by Javed chaudhry and published in Daily Express on Marh 9th 2009. Continue reading »
ہیلی کاپٹروں کے پروں کی کھٹ کھٹ میرے کانوں کے پردوں پر بے رحمی سے دستک دے رہی ہے میرے اندر بے گھری کاایک خوف، اپنے ہی گھونسلے میں دبکے پرندے کی دہشت کو جنم دے رہا ہے۔
میرے گھر کے اوپر ہیلی کاپٹروں کے سائے حرکت میں ہیں
میں بھی گھیرے میںآچکا ہوں
آخر میں کہاں ہوں کونسے میدان جنگ میںہوں کیا میں غزہ میں ہوں بغداد میں ہو یا قندھار میںوقفے وقفے کے ساتھ آٹو میٹک ہتھیاروں کی گولیوں کے تڑخنے کی مہیب گونج میرے گھر کے کمروں میں گونجتی ہے یہاں تک کہ میری سٹڈی جو ایک گوشہ عافیت تھی جس میں صرف کتابیں ہیں میرے پین اور سفید کاغذ ہیں ایک ناول کا مسودہ ہے اس کے اندر بھی ہلاکت کی آوازیں داخل ہو جاتی ہیں دنیا بھر کے ادب شاعری،تاریخ اور فلسفے کے علاوہ ایک شیلف میں سیرت النبی کی متعدد کتابیں ہیں اور میں انکی جانب دیکھتا ہوں جن میں امن کے پیغامبر کے پیام ہیں صرف ایک انسان کو ہلاک کرنا پوری انسانیت کو مارڈالنے کے مترادف ہے ان کتابوں میں سلامتی اور امن کے درس ہیں سیرت النبیکی ان کتابوں نے بھی تو گولیوں کی آواز سنی ہوگی ہیلی کاپٹروں کی کھٹ کھٹ نے ان کے اوراق کو بھی بے آرام کیا ہوگا اس سٹڈی کے ایک شیلف پر مہاتما بدھ کا ایک نیم شکستہ مجسمہ سجا ہے گندھارا عہد کا یہ قدیم شاہکار جو ڈیڑھ ہزار برس سے زیادہ قدامت کا ہے آج اس کے خدوخال بھی ذرا پرتشویش نظر آرہے ہیں ایک پرامن چہرہ جس کی آنکھیں نیم دائیں اور ہونٹ نہایت خوبصورت یہ بھی ہیلی کاپٹرکی کھٹ کھٹ اور گولیوں کے دھماکوں سے لرز گیا ہے۔
Recent Comments