خبريں اردو سے محبت کرنے والوں کے لۓ

26Mar/090

Chalay chalo keh woh manzil abhi nahin aayee

Article by Orya Maqbool Jaan published in Daily Express on 26th March 2009.

  • Share/Bookmark
21Mar/090

تازہ ڈیل سے نئے بحران جنم لیں گے!۔۔۔۔ نجم سیٹھی

پچھلے ہفتے ہم نے لکھا تھا کہ زرداری اور نوازشریف اپنی ضد سے باز آجائیں کیونکہ وہ آتش فشاں کے دہانے پر کھڑے ہیں، اس سے آگے بڑھے تو واپسی ممکن نہ ہو گی ۔ہم نے یہ بھی باور کرایا تھا کہ فوج سامنے آنے کی بجائے پس منظر میں رہ کر تبدیلی کیلئے کام کرے گی۔ دونوں لیڈروں کو تنبیہہ کرنا ہمارا فرض تھا، سو ہم نے ادا کیا۔ فوج کے کردار کے بارے میں جو پیش گوئی کی گئی، اس کے بارے میں بھی کوئی ابہام نہ تھا کیونکہ حالات کے آئینے میں صاف نظر آر ہا تھا کہ معاملات کیا کروٹ لے سکتے ہیں۔
پچھلا پورا ہفتہ سیاسی کشاکش اور دوڑ دھوپ میں گزر ا۔ صدر آصف زرداری کے کہنے پر مولانا فضل الرحمن،اسفندیار ولی اور نواب اسلم رئیسانی نے نوازشریف کو پیشکش کی کہ حکومت تمام مسائل کے حل کیلئے جن میں افتخار محمد چوھدری کی بحالی اور 17 ویں ترمیم کی منسوخی بھی شامل ہے آئینی پیکج لانے کیلئے تیار ہے بشرطیکہ وہ لانگ مارچ کا ارادہ ترک کردیں۔ تاہم نوازشریف اس بات پر مصر رہے کہ کسی بھی ڈیل سے پہلے افتخار چوھدری کو بحال کیا جائے‘ دراصل وہ لانگ مارچ کے ذریعے اپنی قوت کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔ اس امر نے ’’ ڈبل اے ‘‘ یعنی امریکہ اور آرمی کو خفی انداز میں مداخلت کا موقع فراہم کیا۔ دونوں قوتوں کواندازہ تھا کہ سیاسی تنازعہ بڑھنے سے ان کے مفادات متاثر ہوں گے کیونکہ ریاست اور حکومت کی توجہ پاکستان کو درپیش اقتصادی مسائل اور مشرقی اور مغربی سرحدوں پر صورتحال سے ہٹ جائے گی۔

  • Share/Bookmark
21Mar/090

گول گپے، ناہید خان اور شیری رحمان ۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

اگرآپ کبھی بچے رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ بچے رہیں ہوں گے کہ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ کوئی بچہ نہ رہا ہو اور وہ یکدم بڑا ہو جائے تو آپ جانتے ہوں گے کہ جب سکول میں آدھی چھٹی ہوتی ہے تو کیسے بچوں کا ایک سیلاب امڈتا ہوا باہر آتا ہے اور کھانے پینے کے ٹھیلوں کا گھیراو کرلیتا ہے ٹھیلے والوں کی جان پہ بن آتی ہے کہ کیسے سب بچوں کو بھگتا ئیں اور ساتھ میں پیسے بھی وصول کرتے جائیں تو ایسے ہی ایک سکول کے باہر ایک گول گپے بیچنے والا تھا آدھی چھٹی ہوئی تو سکول کے اندر سے بچوں کا ایک ہجوم برآمد ہوا اور کھانے پینے کی اشیاء پر پل پڑا گول گپوں کے ٹھیلے کا بھی گھیراؤ کرلیا کچھ دیر تو خیریت گزری بچے گول گپے حاصل کر کے ان کی قیمت ادا کرتے رہے لیکن پھر رش زیادہ ہوگیا کہ آدھی چھٹی ختم ہونے کو تھی اور بچوں نے گول گپوں پر ہلا بول دیا اور اتنا وقت کہاں کہ جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے برآمد کر کے گول گپوں والے کی ہتھیلی پر رکھے جائیں جس کو جتنے گول گپے ملے اس نے اڑا دئیے لوٹ مار شروع ہو گئی گول گپوں والا کچھ دیر تو احتجاج کرتا رہا شور مچاتا رہا کہ کم بختو پیسے تو ادا کرو اور جب کسی نے اس کی چیخ وپکار پر دھیان نہ دیا تو وہ بہ نفس نفیس ذاتی طور پر اپنے ہی گول گپوں پر پل پڑا اور دونوں ہاتھوں سے انہیں اپنے شکم میں اتارنے لگا اس پر کسی راہگیر نے پوچھا کہ بھئی تم خود ہی اپنے گول گپے کیوں کھائے جارہے ہو تو اس نے اس افراتفری میں جواب دیا کہ میں جتنے بھی پیسے پورے ہو سکتے ہیں پورے کر رہا ہوں منافع تو ہونے سے رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  • Share/Bookmark
16Mar/090

Nafrat karnay waalay- Mohabbat karnay waalay

Harf-i-raaz by Orya Maqbool Jaan, published in Daily Express on 16th March 2009.

  • Share/Bookmark
16Mar/090

وکلاء کی کامیاب تحریک کے نشیب فراز

شہزاد ملک

گزشتہ دو سال کے دوران معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلی عدالتوں کے ججوں کی بحالی اور آزاد عدلیہ کے لیے چلائی جانے والی وکلاء کی تحریک بلاشبہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی تحریک ہے۔

اس تحریک میں نشیب و فراز آتے رہے موجودہ اور سابق حکومت کی طرف سے اس تحریک میں شامل وکلاء کو مختلف نوکریاں دی گئیں جن میں ہائی کورٹ کے جج بنانا بھی شامل تھا لیکن اس کے باوجود یہ تحریک چلتی رہی۔

نو مارچ سنہ دو ہزار سات کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا جسے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دیا گیا۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بینچ نے حکومتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اُنہیں بیس جولائی سنہ دوہزار سات کو بحال کردیا۔

  • Share/Bookmark
15Mar/090

Minus One – By Javed Chaudhry

Artical originally published in Daily Express (Zero Point) on 13th March 2009.

  • Share/Bookmark
10Mar/090

ہم سب ڈڈو ہیں -مستنصر حسین تارڑ

میراخیال ہے کہ صحافی حضرات خواہ مخواہ مائنڈ کرگئے ہیں اگر گورنر پنجاب نے انہیں ڈڈو کہہ دیاہے تو بھلا اس میں براماننے کی کون سی بات ہے میں بھی پچھلے پچیس تیس برس سے باقاعدگی سے اخباروں میں کالم لکھ رہاہوں اورکسی حد تک صحافی کہلاسکتاہوں تو میں نے تو ہرگز مائنڈ نہیں کیا صرف ان لوگوںنے مائنڈ کیاہے جوڈڈوں کی تاریخی اورمعاشرتی حیثیت سے آگاہ نہیںہیں علاوہ ازیں نوٹ کیجئے کہ انہوں نے صحافیوں کو مینڈک نہیں کہاڈڈو کہاہے اوران دونوں میںزمین آسمان کافرق ہے مینڈک عام طور نہایت شریف النفس ہوتے ہیں کسی حد تک صوفی سے ہوتے ہیں ایک مقام پربیٹھے آنکھیں جھپکاتے رہتے ہیں جبکہ ڈڈو ان سے حجم میں چھوٹے اورنہایت کیوٹ ہوتے ہیں اورہمہ وقت اچھلتے رہتے ہیں۔

  • Share/Bookmark
10Mar/090

Bhutto taa Bilawal brasta Nawaz Sharif

Hasan Nisar's article published in daily Jang (chauraha) on 10th March 2009

  • Share/Bookmark
8Mar/090

Jungle – Javed Chaudhry

Another wonderful article written by Javed chaudhry and published in Daily Express on Marh 9th 2009.

  • Share/Bookmark
6Mar/090

سری لنکا کے مہمانوں کی آؤ بھگت۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

ہیلی کاپٹروں کے پروں کی کھٹ کھٹ میرے کانوں کے پردوں پر بے رحمی سے دستک دے رہی ہے میرے اندر بے گھری کاایک خوف، اپنے ہی گھونسلے میں دبکے پرندے کی دہشت کو جنم دے رہا ہے۔
میرے گھر کے اوپر ہیلی کاپٹروں کے سائے حرکت میں ہیں
میں بھی گھیرے میںآچکا ہوں
آخر میں کہاں ہوں کونسے میدان جنگ میںہوں کیا میں غزہ میں ہوں بغداد میں ہو یا قندھار میںوقفے وقفے کے ساتھ آٹو میٹک ہتھیاروں کی گولیوں کے تڑخنے کی مہیب گونج میرے گھر کے کمروں میں گونجتی ہے یہاں تک کہ میری سٹڈی جو ایک گوشہ عافیت تھی جس میں صرف کتابیں ہیں میرے پین اور سفید کاغذ ہیں ایک ناول کا مسودہ ہے اس کے اندر بھی ہلاکت کی آوازیں داخل ہو جاتی ہیں دنیا بھر کے ادب شاعری،تاریخ اور فلسفے کے علاوہ ایک شیلف میں سیرت النبی کی متعدد کتابیں ہیں اور میں انکی جانب دیکھتا ہوں جن میں امن کے پیغامبر کے پیام ہیں صرف ایک انسان کو ہلاک کرنا پوری انسانیت کو مارڈالنے کے مترادف ہے ان کتابوں میں سلامتی اور امن کے درس ہیں سیرت النبیکی ان کتابوں نے بھی تو گولیوں کی آواز سنی ہوگی ہیلی کاپٹروں کی کھٹ کھٹ نے ان کے اوراق کو بھی بے آرام کیا ہوگا اس سٹڈی کے ایک شیلف پر مہاتما بدھ کا ایک نیم شکستہ مجسمہ سجا ہے گندھارا عہد کا یہ قدیم شاہکار جو ڈیڑھ ہزار برس سے زیادہ قدامت کا ہے آج اس کے خدوخال بھی ذرا پرتشویش نظر آرہے ہیں ایک پرامن چہرہ جس کی آنکھیں نیم دائیں اور ہونٹ نہایت خوبصورت یہ بھی ہیلی کاپٹرکی کھٹ کھٹ اور گولیوں کے دھماکوں سے لرز گیا ہے۔

  • Share/Bookmark
6Mar/090

دہشت گردوں کی سیر۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

کہنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک صاحب شرف الدین نام کے روزگار کے سلسلے میں کسی اور شہر میں منتقل ہوئے تو انہوں نے سوچا کہ اس شہر میں زور آور لوگوں کی، دھانسوں لوگوں کی بہت عزت ہوتی ہے لوگ باگ ان سے ڈرتے ہیں تو یہاں کون جانتا ہے کہ میں شرف الدین اپنے محلے میں نہائت شرافت کی زندگی بسر کرتا تھا تو کیوں نہ میں یہاں اپنے آپ کو بدمعاش مشہو ر کر کے معزز ہو جاؤں انہیں کوئی اور طریقہ تو نہ سوجھا چنانچہ انہوں نے اپنے گھر کے باہر جو نیم پلیٹ لگوائی اس پر لکھوایا’’ یہ شرف الدین بدمعاش کاگھر ہے ‘‘ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ آس پاس کہیں کوئی واردات ہو گئی تو پولیس سیدھی ان کے گھر چلی آئی تو شرف الدین ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا کہ سرکار میں تو بہت شریف آدمی ہوں میرا اس واردات میں کوئی عمل دخل نہیں اس پر پولیس والوں نے کہا کہ تم نے تو خود اپنی نیم پلیٹ پر’’ یہ شرف الدین بدمعاش کا گھر ہے‘‘ لکھ رکھا ہے توشرف الدین نے لجاجت سے کہاکہ سرکار یہ تو صرف شوشا کے لئے لکھوا رکھا ہے۔

  • Share/Bookmark
6Mar/090

یہ کس کا کام ہے!۔۔۔۔ نجم سیٹھی

22جنوری 2009ء کو سی آئی ڈی نے سرکاری طور پر آئی جی پنجاب کو متنبہ کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘نے سری لنکا کرکٹ ٹیم کو نشانہ بنانے کیلئے اپنے ایجنٹ چھوڑ دیئے ہیں ۔اغلب امکان ہے کہ حملہ ہوٹل اور اسٹیڈیم کے درمیان سفر کے دوران کیا جائے گا تاکہ دنیا کو دکھایا جائے سکے کہ پاکستان میں کھیلوں کا انعقاد انتہائی خطرناک ہے۔ اس سلسلے میں انتہائی چوکس رہنے اور سخت حفاظتی انتظامات کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا۔ اس واقعہ کے چند منٹ بعد ہمارے پاکستانی تجزیہ کاروں ‘ ٹی وی اینکروں ‘ سیاستدانوں اور آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ کو بھی یہ سن گن ہوگئی کہ حملہ میں سرحد پار سے غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے۔ ان کے مطابق اصل میں یہ حملہ ممبئی واقعات کا ری پلے اور ادلے کا بدلہ ہے۔ اس دعوے کے ثبوت میں ان کی دلیل یہ تھی کہ دہشتگرد صحیح سالم فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے خودکشی نہیں کی جو مقامی اسلامی جہادی تنظیموں کا ایک طرہ امتیاز ہے۔’’را‘ کی سازش کی تھیوری بھی بھارتی وزیرخارجہ پرناب مکھرجی اور وزیر داخلہ پی چدم برم کے بیانات آنے سے پوری ہو گئی کہ جب تک پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کو سہولتیں میسر رہیں گی اور ان کے زیر قبضہ علاقے واگزار نہیں کرائے جائیں گے، اس قسم کے واقعات ہوتے رہیں گے ۔ بھارتی رہنماؤں نے اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان نہ بھیجنے کے فیصلہ کے اعلان کا بھی فوری اعادہ کیا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں کھیلوں میں حصہ لینے والے ممالک کے ماہرین کی آوازیں کورس کی شکل میں آنے لگیں کہ پاکستان میں کھیلوں کے مقابلے منعقد کرنے پر طویل عرصہ کیلئے پابندی لگادی جائے۔

  • Share/Bookmark
3Mar/090

قوم کی کسے پروا ہے؟۔۔۔۔ شمشاد احمد

ہر شخص پریشان ہے کہ کیا کبھی اس ملک کو بحرانوں اور حادثوں سے نجات ملے گی؟ ہم اپنے مسائل سے اس طریقے سے نمٹتے رہے ہیں کہ سوائے تباہی اور نہ ختم ہونے والے انتشار کے ہمیں کچھ نہ ملا۔ ہم ایک جنگجو قوم ہیں اور انتھک جنگوں میں ملوث ہیں۔ ہم صرف فوجی جنگوں تک ہی محدود نہیں ‘ہر قسم کی جنگوں کا ہمیں سامنا ہے۔ ہم صرف دوسروں کی لڑائیاں ہی نہیں لڑتے بلکہ نسلی‘ فرقہ وارانہ اور سیاسی جنگیں بھی لڑ رہے ہیں۔
یہ جنگیں کسی خودکشی سے کم نہیںہیں۔ ہم اپنے آپ کو بھی ہلاک کررہے ہیں اور اپنے اداروں کو بھی اور ہمارا مستقبل بھی تباہ ہورہا ہے۔ ہم نے ان جنگوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے اور ہم بدانتظامی اور قیادت کی غلطیوں کی آئندہ بھی سزا بھگتتے رہیں گے۔ ہم نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا ۔اس کی بجائے ہم نے اپنے آپ کو شام کی ’’ بریکنگ نیوز ‘‘ اور صبح کی ’’ شہ سرخیوں ‘‘ تک محدود کرلیا ہے۔

  • Share/Bookmark
2Mar/090

Punjab and Peoples Party – By Hassan Nisar

Article published in Daily Jang on 2nd March 2009                                                                                                                                

  • Share/Bookmark
1Mar/090

پھر اسی موڑ پر۔۔۔ اردشیر کاؤس جی

سپریم کورٹ نے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی اہل سربراہی میں برادر نواز شریف اور شہباز شریف کو ان کی کرتوتوں اور حرکتوں کی وجہ سے نااہل قرار دے دیا ہے۔ ملک میں ایسے ان کے سینکڑوں بھائی بند ایسے ہیں جن کے ساتھ اوپر سے نیچے تک یہی سلوک ہونا چاہئے لیکن وہ عدالت عظمیٰ کی نظر سے بچے ہوئے ہیں۔تاہم اب لڑائی کیلئے صفیں سیدھی ہو چکی ہیں لکیریں کھینچ دی گئی ہیں لیکن فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اس نتیجہ کیا نکلتا ہے کیونکہ دونوں فریق غیر مستقل مزاج ہیں ان کی دوستی اور دشمنی بھی ان کی طرح بھروسے کے لائق نہیں لہٰذا کچھ پتہ نہیں کہ کل پھر وہ ایک دوسرے کی بانہوں میں موجود ہوں اور پہلو بہ پہلو دیکھے جائیں۔

  • Share/Bookmark

Canonical URL by SEO No Duplicate WordPress Plugin