پاکستان میں سیاحت کے محکمے کے ساتھ وہی سلوک ہوتا چلا آیا ہے جو غریب کی جورو کے ساتھ ہوتا ہے مجھے ٹھیک طر ح سے علم نہیں کہ غریب کی جورو کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے لیکن یہ علم ہے کہ اس کے سا تھ یعنی غر یب کی جو رو سا تھ وہی سلو ک ہو تا ہو گا جو پاکستان میں سیاحت کے محکمے کے ساتھ ہوتا ہے اور اب تو جناب کمال ہی ہوگیا ہے یعنی مولانا فضل الرحمن کے برادر عزیز اور ظاہر ہے وہ بھی ایک مولانا ہیں سیاحت کے محکمے کے وزیر ہو گئے ہیں یہ تقریباً ایسے ہے جیسے ایک فیشن شو میں سب سے خوبصورت ماڈل کے چناؤ کے لیے یا مقابلہ حسن میں سب سے متناسب بد ن دوشیزہ کی پرکھ کے لیے کسی مولانا کو جج بنا دیا جائے لیکن نہیں یہ مثال بھی کچھ مناسب نہیں ہے کہ آخر یہ حضرات بھی سینے میں دل رکھتے ہیں اور حسن کی پرکھ رکھتے ہیں اگرچہ اس کے ا ظہار کے لئے پہلے سبحان اللہ کہتے ہیں اور پھر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر انشاء اللہ کہتے ہیں Continue reading »

Article published in Daily Express on 23rd February, 2009 Continue reading »

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha