خبريں اردو سے محبت کرنے والوں کے لۓ

23Feb/091

سیاحت کے شرعی مسائل – مستنصر حسین تارڑ

پاکستان میں سیاحت کے محکمے کے ساتھ وہی سلوک ہوتا چلا آیا ہے جو غریب کی جورو کے ساتھ ہوتا ہے مجھے ٹھیک طر ح سے علم نہیں کہ غریب کی جورو کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے لیکن یہ علم ہے کہ اس کے سا تھ یعنی غر یب کی جو رو سا تھ وہی سلو ک ہو تا ہو گا جو پاکستان میں سیاحت کے محکمے کے ساتھ ہوتا ہے اور اب تو جناب کمال ہی ہوگیا ہے یعنی مولانا فضل الرحمن کے برادر عزیز اور ظاہر ہے وہ بھی ایک مولانا ہیں سیاحت کے محکمے کے وزیر ہو گئے ہیں یہ تقریباً ایسے ہے جیسے ایک فیشن شو میں سب سے خوبصورت ماڈل کے چناؤ کے لیے یا مقابلہ حسن میں سب سے متناسب بد ن دوشیزہ کی پرکھ کے لیے کسی مولانا کو جج بنا دیا جائے لیکن نہیں یہ مثال بھی کچھ مناسب نہیں ہے کہ آخر یہ حضرات بھی سینے میں دل رکھتے ہیں اور حسن کی پرکھ رکھتے ہیں اگرچہ اس کے ا ظہار کے لئے پہلے سبحان اللہ کہتے ہیں اور پھر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر انشاء اللہ کہتے ہیں

  • Share/Bookmark
23Feb/090

Trading or Gambling? By Orya Maqbool Jaan

Article published in Daily Express on 23rd February, 2009

  • Share/Bookmark
19Feb/090

بے بے اوربابا – جمیل مرغز

امیر کاکا علاقے کے بزرگ اور نیک انسان تھے۔پہلی بیوی مر چکی تھی ۔اس کی صرف دو بیٹیاں تھیںجن کی شادیاں ہو چکی تھیں۔بیوی کے مرنے کے بعدکاکا گھر میں اکیلے رہ گئے ۔ کھانا اکثر بیٹی کے گھر جاکر کھا لیتے۔کاکا نے مسجد کو اپنا مسکن بنا لیا ۔دن عبادت میں گزر جاتا۔رات کو گھر کی تنہائی سے گھبرا کر عبادت میں مشغول ہوجاتے۔رات کا اکثر حصہ بھی عبادت میں گزارتے۔کھانے پینے کے علاوہ بھی انسان کی کافی ضرورتیں ہوتی ہیں۔گھر میں بیوی نہ ہونے کی وجہ سے کاکا کبھی پڑوسن سے کہہ کر قمیص میں بٹن لگواتے کبھی کپڑے دھونے کا مسئلہ درپیش ہوتا۔ایک بیٹی کسی دوسرے گاؤں میں بیاہی گئی تھی۔دوسری بیٹی اپنے گاؤں میں تھی لیکن اس کے اپنے بھی بچے تھے ۔صبح اٹھ کر بچوں کو سکول کے لئے تیار کرنا ۔ان کے لئے ناشتہ تیار کرنا ۔پھر مال مویشیوں کا خیال رکھنا ۔ان کاموں میں اکثر کاکا کے ناشتے کو دیر ہوجاتی۔کاکا کو جلدی ناشتے کی عادت تھی ۔اس لئے اکثر بھوکے ہی گھر سے نکل جاتے۔ آہستہ آہستہ کاکا کو تنہائی اور دیگر مشکلات کا احساس ہونے لگا۔ان کے چند ہم عمر دوستوں نے بھی زور دیا ۔آخر کار کاکا دوسری شادی کے لئے تیار ہوگئے۔ان کے دہقان کی ایک بیٹی تھی۔ شکل و صورت واجبی ہونے کی وجہ سے کوئی اچھا رشتہ نہیں آیا تھا ۔دہقان نے وہ بیٹی ان کے عقد میں دے دی ۔کاکا کی عمر تقریباً ستر سال اور لڑکی کی عمر تقریباً تیس پینتیس برس۔بہرحال شادی کے بعد کاکا گھر آباد ہو نے سے خوش تھا اور دن رات اچھے گزرنے لگے۔

  • Share/Bookmark
17Feb/090

دریا سوکھ رہے ہیں ۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

اس گرم اوربدن کوپیاس سے سکھادینے والی رات کو گزرے بیس برس سے زیادہ کاعرصہ ہوچکا ہے دن بھر قہرکی گرمی پڑی تھی اورسورج سے آگ برسی تھی اورجب رات آئی تو اس میںبھی سکھ کاایک سانس بھی نہ تھا بدن کے اندر پیاس کاصحرا تھا اوراس کے باہر تن پسینے سے بھیگتا تھا اورزبان سوکھتی ہوئی تالو سے چپکتی تھی میری عادت ہے کہ سردیاں ہوںیاگرمیاں میںاپنے سرہانے پانی کاایک گلاس رکھ کرسوتاہوں کیونکہ لامحالہ رات کے اندر مجھے پیاس محسوس ہوتی ہے اورمیںپانی کے گھونٹ بھرتا رہتاہوں

  • Share/Bookmark
17Feb/090

سوات کا المیہ ۔ اندر کی ایک کہانی ۔۔۔۔ سلیم صافی

جماعت اشاعت التوحیدوالسنۃ کے بانی ‘ شیخ القرآن مولانا محمد طاہر کئی حوالوں سے صاحب عزیمت انسان تھے۔ مولوی کا نہیں بلکہ صوابی کے ایک خان کا بیٹا ہوکر بھی انہوں نے دین کا طالب علم بننا پسند کیا۔ نہ صرف عظیم مفسر قرآن بنے بلکہ اس خطے میں درس قرآن کے حلقوں کو بھی رواج دیا۔اپنی تحریک میں تشدد اور سیاست کو داخل کئے بغیر پختون معاشرہ میں بدعات و رسومات کے خاتمہ کے لئے انہوں نے جو مظلومانہ جدوجہد کی ‘ وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ قیدوبند سے لے کر پتھر کھانے تک ‘ ہر مرحلے سے وہ گزرے

  • Share/Bookmark
14Feb/091

Sahafat aur Munafiqat- By Talat Hussain

Following article published in Daily Express on 14th February 1009

  • Share/Bookmark
13Feb/090

میں ایک مخبوط الحواس بابا ہوچکا ہوں – مستنصر حسین تارڑ

سکول کے زمانے میںایک حکایت پڑھی تھی کہ ایک کمرخمیدہ بڑھیا کوگلی کے بچے چھیڑتے تھے کہ اماں یہ کمان کہاںسے حاصل کی تو اس نے کہاکہ بیٹے جب تم میری عمرکوپہنچو گے تو ایسی کمان تمہیں بھی مل جائے گی تب ہم اس حکایت پرہنساکرتے تھے اوراب یہی حکایت یاد آتی ہے تو رونا آتاہے کہ بڑھیا نے بھی کیاپتے کی بات کی تھی ویسے اپنی عمر ابھی اتنی نہیں ہوئی کہ ہمیںوہ کمان خود بخود حاصل ہوجائے لیکن بڑھاپے میںاورکمانیں بھی ہوتی ہیں جوآپ نہ بھی چاہیںتو قدرت کی جانب سے مل جاتی ہیںاور ان میںایک کمان مخبوط الحواسی کی ہے جوالحمداللہ مجھے مل چکی ہے بچپن میں ہی جب ہم مخبوط الحواس بوڑھوں کے قصے سنتے تھے تو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے تھے اورنہیں جانتے تھے کہ یہ وقت ہم پربھی آئے گا مثلاً مجھے چراغ دین دکاندار یاد آتاہے جوہرصبح اپنی دکان کھول کراس میںخود ہی جھاڑو دیاکرتا تھا جھاڑو دیتے ہوئے گرد اٹھتی تو اسے احساس ہوتا کہ یہ گرد اس کے کپڑوں پرپڑ رہی ہے وہ اسی جھاڑو سے اپنے کوٹ کی گرد صاف کرتا اورپھرسے صفائی

  • Share/Bookmark
13Feb/090

پاکستان کو درپیش چیلنج!۔۔۔۔ نجم سیٹھی

امریکی صدر اوبامہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں تاکہ ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجوں کا جائزہ لیں اور طے کریں کہ ان چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کیلئے امریکہ پاکستان کی کیونکر مدد کرسکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ داخلی سیاست ‘اقتصادیات اور خارجہ تعلقات کے مابین نقائص سے پاک رابطہ پہلی بار قائم کیا گیا ہے۔ اس سے قوم کی بہتری اور بقاء کی خواہش کے واضح خدو خال سامنے آسکیں گے ۔

  • Share/Bookmark
13Feb/090

طالبانیت کی روح غائب ہے۔۔۔۔ ایاز امیر

میرا خیال ہے کہ ہم اس سارے معاملے کو سمجھ نہیں پا رہے۔ افغانستان میں جاری طالبانیت امریکی تسلط کے خلاف بغاوت ہے۔ وہ لوگ جو اس سادہ سی حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے ، انہیں ازسرنو کسی تعلیم بالغاںکے ادارے میں داخلہ لینے کی ضرورت ہے۔ سو اگر ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ طالبانیت ، امریکی تسلط کے خلاف بغاوت ہے تو اس نکتہ نظر سے افغان بغاوت کا حقیقی سرپرست یا سرچشمہ تو پھر متحدہ ریاست ہائے امریکہ ہی ہے۔

  • Share/Bookmark
9Feb/090

Dharna-By Orya Maqbool Jaan

Another article by Orya Maqbool Jaan, published in Daily Express on 9th February 2009.

  • Share/Bookmark
9Feb/090

تجھے ہیجڑے پسند ہیں – مستنصر حسین تارڑ

مجھے ہیجڑے اچھے لگتے ہیں اچھے لگنے سے میری مراد یہ نہیں کہ وہ مجھے پیارے لگتے ہیں اگرچہ کچھ لوگوں کولگتے ہیں بلکہ میںان کی کچھ ایسی خوبیوںکامداح ہو جوعام لوگوں میں ناپید ہوتی جارہی ہیں مثلاً وہ کرپٹ نہیں ہوتے۔ عقیدے کے نام پرایک دوسرے کوقتل نہیںکرتے، سول انتظامیہ فوج یاعدلیہ میں نہیں جاتے ، صرف تالیاں بجا کربے ہنگم سے رقص کرکے رزق حلال کماتے ہیں ان میںسے کبھی کوئی اپنے بدن کے ساتھ بارود باندھ کر دوسرے ہیجڑوں کی ہلاکت کاسبب نہیںبنتا کہ ابھی تک یہ طے نہیںہوا کہ ہیجڑے بالآخر جنت یادوزخ میںجائیںگے بھی یانہیں اور اگر جنت میں جائیںگے تو وہاں ان کوکیاملے گا علاوہ ازیں انہیں خاندانی منصوبہ بندی کے لیکچر دینے کی ضرورت نہیںپڑتی کہ اس معاملے میں وہ قدرتی طورپر خودکفیل ہوتے ہیں غرض کہ وہ بے شمار خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں۔

  • Share/Bookmark
   

Canonical URL by SEO No Duplicate WordPress Plugin