Article published in daily express on 29th January 2009, about hopeless socio political situation in Pakistan.
میں نے اپنے گزشتہ کالم میں اچھو شیخ کی داستان سنائی تھی جو کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر بیٹھا کسی تیز دھار کانچ کے ٹکڑے سے اپنی گردن کاٹتا رہتا تھا اور اس عمل سے لطف اندوز ہوتا تھا یہاں تک کہ جب گردن کے زخم میں سے بہنے والے خون سے اس کی مٹھی آلودہ ہوجاتی تو بھی اسے کچھ خبر نہ ہوتی تھی اور وہ مسکراتا ہوا اپنے آپ کو ہلاک کرنے کے عمل میں مشغول رہتا تھا، اب یہ آپ کی صوابدید پر منحصر ہے کہ آپ اس داستان کو پاکستان کی موجودہ صورتحال پر کیسے منطبق کرتے ہیں۔
آج ’’ ہزار داستان‘‘ میں سے میں آپ کو ایک اور داستان سناؤں گا اور اس کا ماخذ بھی گاؤں میں بسر کیا ہوا بچپن کا ایک برس ہے۔ میں اسے ایک آپ بیتی کے طور پر پیش نہیں کر رہا بلکہ ایک ایسی
Article published in Daily Express on 22nd January 2009.
اب سوال یہ ہے کہ اگر کسی گھر میں ایک فرد حکومت کو مطلوب ہے تو اس کے جرم میں پورے گھرانے کو سر کے سائے سے کیوں محروم کیا جارہا ہے ؟۔ ان دنوں ہم دیکھتے ہیں کہ پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی روزانہ میڈیا کے سامنے بڑے فخر سے اعلان کرتے ہیں کہ آج ہم نے اتنے گھروں کو مسمار کردیا لیکن ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ گھروں کی مسماری سے عسکریت پسندوں کو کیا نقصان ہورہا ہے بلکہ جن کے گھر مسمار ہوجاتے ہیں انہیں پھر لامحالہ سرچھپانے اور بدلہ لینے کے لئے طالبان کی طرف جانا پڑتا ہے ۔ حکومت کے اس طرح کے اقدامات بھی طالبان کی قوت میں اضافے کے موجب بنے ہیں اور بن رہے ہیں۔اسی طرح ملک میں انصاف کی عدم موجودگی نے بھی عوام کو طالبان کی طرف مائل کیا ۔ سوات اور قبائلی علاقوں کے وہ عوام جو اپنے تنازعات کے تصفیے کے خاطر سالوں سے
اس خطے میں جاری عالمی اور علاقائی طاقتوں کی سٹریٹجک جنگ ہی سب سے بڑا عامل ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے ڈبل گیم اور سازش کی تھیوری میں بھی وزن نظرآتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ خود حکومت کی غلط پالیسیاں بھی قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں طالبان کی کامیابی اور حکومتی رٹ کے خاتمے کا موجب بن رہی ہیں ۔ بلاشبہ خوف اور دہشت بھی ایک بڑا عامل ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت کے مقابلے میں بعض حوالوں سے طالبان عوام کا دل جیتنے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں وجہ صاف ظاہر ہے۔ ہماری حکومت اسی عطار (امریکہ) کے لونڈے سے دوا لیتی ہے جو بیماری کا سبب بنا ہے ۔ تاویلات اور حکومتی ترجمانوں کے بیانات اپنی جگہ لیکن قبائلی علاقہ جات اور سوات کی صورت حال سے باخبر ہر فرد اعتراف کرے گا کہ وہاں پر سیکورٹی فورسز کو شکست ہوئی اور سوات سے لے کر باجوڑ تک اور پھر وہاں سے لے کر جنوبی وزیرستان تک آج طالبان کی حکومت قائم ہے ۔اس شکست کی سب سے بڑی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ عوام ان سیکورٹی فورسز اور اس حکومت کو امریکہ کا اتحادی گردانتے ہیں اور قبائلی عوام سے یہ توقع کوئی احمق ہی کرسکتا ہے کہ وہ امریکہ کے اتحادیوں کا ساتھ دے دیں گے ۔
Another article of Javed Chaudhry published in Daily Express on 21st January 2009.
Published in Daily Express on 18th January 2009 (Zero Point)
قرون وسطیٰ میں سلطنت روما بازن طینی سلطنت کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کا دارالحکومت قسطنطنیہ تھا جو ان دنوں استنبول کہلاتا ہے۔انیسویں صدی کا ایک برطانوی مورخ اس سلطنت کی نوعیت بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ سلطنت مذہبی لیڈروں، خواجہ سراؤں اور عورتوں کی زہر آلود سازشوں کی یکساں کہانی اور خوفناک چالوں سے عبارت تھی۔ یوںبازن طین کی ترکیب وجود میں آئی جو سازشوں قتلوں اور غیر مستحکم سیاسی حالات کی ترجمان ہے۔
پاکستان میں اس وقت جوحالات ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ملک بھی بازن طین ریاست کاصحیح معنوں میں نقشہ پیش کر رہا ہے۔1947میں اس کی آزادی سے اب تک درجنوں سیاسی قتل ہو چکے
تاریخ کے اس موڑ پر جب افغان سرحد کے ساتھ ہماری سات قبائیلی ایجنسیوں میں کسی بھی قسم کے حکومتی کنٹرول کا فقدان ہے اورجنت نظیر سوات دوزخ کی جیتی جاگتی تصویر بن کر آہستہ آہستہ قرون وسطیٰ کی طرف لوٹ رہا ہے ،بلوچستان کے بڑے حصے پر بے اطمینانی چھائی ہوئی ہے اور فوج کو اب وہ اخلاقی اتھارٹی اور کمانڈ حاصل نہیں جو کبھی اسے حاصل ہوا کرتی تھی تو ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کے محصور فیڈریشن میں بڑے بھائی کی حیثیت رکھنے والا پنجاب اپنی تاریخی ذمہ داری کی اہمیت کو سمجھ رہا ہے؟
اگر یہ کہا جائے کہ پنجاب وہ محور ہے جس کے گرد پاکستان زیر گردش ہے تو بیجا نہ ہوگا لیکن برائے کرم اسے پنجابی شاؤنزم نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے دیگر صوبوں کے حوالے سے عدم
The article published in Daily Khabrain on 16th January 2009.
قومی سلامتی کے سابق مشیر محمود علی درانی کی واردات اور برطرفی سے اگرچہ بعض باتیں کھل کر سامنے آگئی ہیں لیکن شاید اندر کا انتشار ابھی پوری طرح سامنے نہیں آیا ۔ میری معلومات کے مطابق اصل کہانی کچھ یوں تھی کہ تقریبا دو ہفتے قبل حکومتی سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اجمل قصاب کو پاکستانی تسلیم کرلیا جائے ۔ یہ فیصلہ صدر اور آرمی چیف کے ساتھ بھی ڈسکس کیا گیا تھا جبکہ اینٹیلی جنس کمیٹی میں بھی اس فیصلے پر اتفاق ہوا تھا۔ طے یہ ہوا تھا کہ نومنتخب نائب امریکی صدر جوزف بائیڈن کے دورہ پاکستان تک سابقہ موقف کو ہی دھرایا جائے گااور جس روز وہ پاکستان آئیں گے تو ان کے ساتھ اس فیصلے کو شیئر کرنے کے بعد اسی روز دہلی میں پاکستانی سفیر ہندوستانی وزارت خارجہ کو آگاہ کریں گے جبکہ اسی ہی روز پاکستانی دفتر خارجہ اس حوالے سے
اسلام آباد (آن لائن) قومی سلامتی کے سابق مشیر محمود علی درانی نے کہا ہے کہ اجمل قصاب کو پاکستانی شہری تسلیم کرنے کا فیصلہ اعلی سطح کے اجلاس میں ملک کی اعلی ترین سکیورٹی ایجنسی کی مشاورت سے کیا گیا تھا وزیر اعظم کی جانب سے برطرفی کے بعد صدر زرداری نے مجھے فون کر کے اس پر افسوس کا اظہار کیا ۔انہوںنے انکشاف کیا کہ جنرل ضیاء الحق کا طیارہ فضاء میں نہیں بلکہ زمین کے ساتھ ٹکرانے سے تباہ ہوا۔ اپنی رہائش گاہ پر خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اجمل قصاب کی قومیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کوئی خلاف ورزی نہیں کی انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا ،غالباً وزیر اعظم نے محسوس کیا کہ ایوان صدر میں تمام بڑے فیصلے کئے جارہے ہیں جبکہ یہ فیصلے ایوان وزیر اعظم میں ہونے چاہیں ، انہوں نے کہا کہ اعلی سطح کے اجلاس میں اجمل قصاب کو پاکستانی
Sach sunnay kaa hosla; published in Daily Express on 13th January 2009 (Zero Point).
Article (Harfi-i-Raaz) published in Daily Express on 12th January 2009.
اگلے روز لاہور میں ایک سیمینار ہوا جس میں ممتاز دانشوروں اور معتبر شخصیات نے شرکت کی۔ شرکاء اس موضوع پر رائے زنی فرما رہے تھے کہ پاکستان میں ایک نیاطوفان جنم لے رہا ہے۔شاید سیمینار کے منتظمین بھی نہ جانتے تھے کہ یہ طوفان کس نوعیت کا ہے جس کا اتنا ذکر ہو رہا ہے۔ہر کوئی اپنا نتیجہ اخذ کر رہا تھا۔ کسی کے خیالات واضح نہ تھے اور نہ کوئی یہ جانتا تھا کہ ملک کو درپیش اصل بحران اور چیلنج کیا ہیں۔
ان کی اکثریت اپنی ناک سے آگے نہ دیکھ سکتی تھی۔ طوفان سے ان کی مراد بھارت اور امریکہ اور ان کے تعلقات کے تناظر میں دہشت گردی تھی۔پچھلے دو دن کا احوال کسی کے ذہن میں نہ تھا کہ اس دوران رونما ہونے والے واقعات نے ہماری سیاسی اور اقتصادی حالت کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔صرف چند لوگوں نے ہمارے حکمرانوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں اور فوجی حکومتوں کے تسلسل کی خرابیوں کی نشاندہی کی۔