ان کی آنکھوں میں پانی آ گیا ، انہوں نے آنسو روکنے کیلئے تیز تیز پلکیں ہلائیں اور پھر مسکرا کر بولے ’’مجھے کبھی قدرت کی مصلحت سمجھ نہیں آئی ، قدرت نے اگر ان کی جان لینی تھی تو وہ آرام سے لے لیتی، وہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کی طرح چند لمحوں میں فوت ہو جاتیں، اللہ تعالیٰ کو انہیں یوں چار برس تک ہسپتالوں میں دھکے کھلانے کی کیا ضرورت تھی، مجھے ان کی تکلیف نہیں بھولتی ، میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو میرے دماغ میں ان کی چیخیں گونجنے لگتی ہیں ، میں تڑپ کر اٹھ جاتا ہوں اور اس کے بعد مجھے ساری رات نیند نہیں آتی، انہوں نے رومال سے آنکھیں صاف کیں، ٹھنڈا سانس بھر اور خاموش ہو گئے۔ Continue reading »

پیر دسمبر 29, 2008

میری جانب سے اہل وطن کونیاسال مبارک۔ اگرچہ کرسمس کی مانند نئے سال کی خوشی منانا ہماری روایت میںتو نہیںہے لیکن ہم کھلے دل کے لوگ ہیں اپنے عیسائی ہم وطنوں کی خوشیوں میںبرابر کے شریک ہوتے ہیں، یہ الگ بات کہ ہم اپنی فراغ دلی میںاپنے عیسائی ہم وطنوں سے بھی کہیں آگے نکل جاتے ہیں اوروہ بھی حیران اورپریشان ہوتے ہیں کہ یاالٰہی یہ ماجرا کیاہے کہ یہ لوگ ہمارے تہوار ہم سے بھی زیادہ جوش وخروش سے منانے لگے ہیں نئے سال کی رات کو شہر کے اہم مقامات پرپولیس کے پہرے ہوتے ہیں ڈنڈہ برداروں کے گروہ ہوتے ہیں اوراس کے باوجود ہمارے مسلمان اہل وطن بلندآہنگ موسیقی کی تال پرکاروں کی چھتوں پرچڑھ کر دیوانہ وار رقص کرتے ہیں ،موٹرسائیکلوں کے سائلنسر اتارکرشاہراہوں پرچنگھاڑتے پھرتے ہیںاورمہنگی کاروں میںسوار پیاس بجھاتے Continue reading »

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha