میں کرکٹ سے جان چھڑاتا ہوں اور یہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ۔ ۔ میں اس کے آگے ہاتھ باندھتا ہوں ،منت سماجت کرتا ہوں کہ بی بی اور بھی دکھ ہیں زمانے میں کرکٹ کے سوا لیکن اس نازنین پر کچھ اثر نہیں ہوتا جہاں میں جاتا ہوں پیچھے پیچھے چلی آتی ہے میں نے بھی بچپن اور اوائل عمری میں مقدور بھر کرکٹ کھیلنے کی کوشش کی لیکن جیسے میرے پلے الجبرا نہیں پڑتا، کمپیوٹر اور سیل فون نہیں پڑتا اسی طور کرکٹ کے حوالے سے بھی میں ہمیشہ پسڈی رہا ہوں۔ ۔ ۔ بیٹنگ کرنے جاتا تھا تو گیند دونوں ٹانگوں کے درمیان میں سے جانے کیسے گزر جاتی تھی اور سیدھی وکٹوں میں جاتی تھی یا لگتی تھی تو بیٹ کو نہیں گھٹنے کو جالگتی تھی اور میں لنگڑاتا پھرتا البتہ میری باؤلنگ کی بڑی دہشت تھی کیونکہ میں دوسرے بچوں کی نسبت ذرا مضبوط ہاتھ پاؤں والا تھا بال کرتا تو وہ بیٹس مین کے دائیں یا بائیں سے خاصے فاصلے پر سے گزر جاتی میری پھینکی ہوئی گیند کا یہ عالمی ریکارڈ ہے کہ وہ آج تک کبھی وکٹوں میں نہیں لگی اور پھر میری شاندار کرکٹ کو زوال سعادت حسن منٹو اور ان کی بیگم صفیہ کے ہاتھوں آیا۔ ۔ ۔ لکشمی فیشن کے گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلتے ہوئے میری گیند اکثر نہایت تیز رفتاری سے منٹو صاحب کے گھر کا رخ کرلیتی پھر ایک تڑاخ کی آواز کے ساتھ شیشہ ٹوٹنے کی آواز آتی اور اسکے ساتھ ہی کرکٹ ٹیم میں شامل بچہ لوگ ادھر ادھر روپوش ہو جاتے اور سارا نزلہ مجھ پر گرجاتا اگر تو منٹو صاحب گھر میں موجود ہوتے تو وہ مجھے تھوڑی بہت ڈانٹ ڈپٹ کر کے گیند واپس کردیتے اور اگر صفیہ آپا ہوتیں تو وہ ڈانٹ ڈپٹ کے علاوہ کان بھی مروڑتیں اور گیند بھی ضبط کرلیتیں منٹوصاحب کے برآمدے میں لگے بیشتر شیشے میرے کمال کرکٹ کی نذر ہوئے بیٹنگ کرتے ہوئے جب کبھی میں ذرا امتیاز احمد کے سٹائل میں Continue reading »
بہت دنوں سے یہ سوات ہے جس کا اجاڑ پن دل میں اداسی بھرتا ہے اس وادی کے پیارے سو ہنے لوگ ہیں جن کی بے گھری کا خیال آتا ہے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے اخبار میں جب کسی بھی لیڈر کا ایسا بیان پڑھتا ہوں جو سوات سے متعلق نہیں ہوتا تو اس کی شکل اچھی نہیں لگتی کہ بھائی میاں آپ اندھے ہو آپ کو سوات دکھائی نہیں دیتا حالانکہ میں اقرار کرتا ہوں کہ یہ رویہ بہت زیادہ مثبت نہیں ہے کہ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں سوات کے سوا ملک کو اس کے علاوہ بھی مسائل درپیش ہیں لیکن کیا کروں کہ فی الحال طبعیت ادھر نہیں آتی یوں میری تحریریں بھی سوات تک محدود ہو گئی ہیں چنانچہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج دکھ کے سلسلے بھول کر آپ کے چہروں پر مسکراہٹ لاؤں گا اور آپ کو ایک عمدہ سا لطیفہ سناؤں گا کہتے ہیں کہ کسی بستی میں کہیں سے ایک بہت بڑا مینڈک آگیا اور بستی والوں نے آج تک کبھی کوئی مینڈک دیکھا نہیں تھا تو شدید پریشان ہوئے کہ یہ کیا جانور ہے اب پلیز آپ یہ اعتراض نہ کیجئے گا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی بھی بستی والوں نے مینڈک نہ دیکھا ہو، کیا وہاں کوئی جوہڑ نہ تھا اور کیا وہاں ساون بھادوں کے موسموں میں ننھے منے مینڈک ہر سو اچھلتے نہ تھے جناب من لطیفہ لطیفہ ہوتا ہے اسے حقائق پر نہیں پرکھا جاتا آپ نے کبھی اپنے سیاستدانوں کے بیانات کو حقائق پر پرکھا ہے وہ دن رات آپ کو لطیفے سناتے رہتے ہیں تو آپ نے کبھی اعتراض کیا ہے تو پلیز میرے لطیفے پر بھی اعتراض مت کیجئے بہرحال وہ بستی والے جنہوں نے آج تک کوئی مینڈک نہ دیکھا تھا مینڈک کو ایک سیانے بابے کے پا س لے گئے،اور اس سے اس حوا لے سے پوچھا، یوں بھی اپنے ان سیانے بابوں کی قدر کرنی چاہیے جو ابھی زندہ ہیں اگرچہ بابا جی فربہ اور خوب ٹروتے ہوئے مینڈک کو اپنے درمیان پاکر بے حد پریشان ہوئے کہ آخر یہ کوانسا جانور ہے چنانچہ انہوں نے چند کوس پر واقع ایک اوربستی میں مقیم ایک’’ سیانے سے رجوع کیا جو اتنا سیانا تھا کہ اس کا نام ہی سیانا بابا پڑگیاتھا سیانا بابا نے گھر سے چلتے ہوئے اپنے مریدوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے ساتھ باجرے کی ایک پوٹلی اور چند گنے لیتے چلیں حکم کی تعمیل ہو گئی سیانا بابا نے جب مینڈک دیکھا تو ان کی بھی سٹی گم ہو گئی کہ انہوں نے بھی ایسا جانور کبھی نہیں دیکھاتھا انہوں نے سب سے پہلے مینڈک کے آگے باجرے کے دانے ڈالے اور جب مینڈک نے انہیں قابل توجہ نہ سمجھا تو سیانا بابا نے وثوق سے کہا، یہ طے ہے کہ یہ بٹیرا نہیں ہے پھر اس کے آگے گنے رکھے گئے تو وہ پھر بھی متوجہ نہ ہوا تو سیانا بابا نے کہا کہ اگر یہ گنے کھالیتا تو یقیناً ہاتھی تھا تو گویا ہاتھی بھی نہیں ہے اس دوران مینڈک نے اچھلنا شروع کردیا تو سیانا بابا نے نعرہ لگایا کہ اوہو یہ تو ہرن ہے اس پر بستی والے بے حد شکر گزار ہوئے اور بابا سیانا زندہ باد کے نعرے لگانے لگے لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ باباسیانا تو نہایت دھواں دھار طریقے سے روئے چلا جارہا ہے اور جب اسے چپ کرانے Continue reading »
جب موٹروے کی تعمیر اور تکمیل ہوئی تو اس کے بارے میں طرح طرح کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ قومی خزانہ خالی ہوگیا ہے ہمارا ملک موٹروے کی عیاشی افورڈ نہیں کرسکتا اس سے کہیں بہتر تھا کہ جی ٹی روڈ کی حالت زار پر توجہ دی جاتی اور دراصل یہ صرف اس لئے تعمیر کی گئی ہے وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ اس پر اپنی سپورٹس کاریں دوڑاتے پھریں لیکن اب جاکر احساس ہوتا ہے کہ قومی خزانہ تو یوں بھی خالی ہونا تھا اور غیر ملکی قرضوں میں بھی بہرطور اضافہ ہونا تھا اور یہ رقمیں ہمیشہ کی طرح جانے کن منصوبوں پر خرچ ہونی تھی یا خوردبرد ہو جانی تھیں تو کیا ہی اچھا ہوا کہ موٹروے تعمیر ہو گئی جو کم از کم دکھائی تو دیتی ہے اور مجھ ایسے بزرگ ڈرائیور حضرات کو آرام سے اسلام آباد پہنچا دیتی ہے ورنہ پچھلی دنوں صرف گوجرانولا تک کا سفر جی ٹی روڈ پر کیا جس کے نتیجے میں میری بدنی ساخت میں خاصا ردوبدل ہوگیا ریڑھ کی ہڈی کے مہر ے شطرنج کے مہروں کی مانند آگے پیچھے ہو گئے ایک دو پسلیوں کو بھی ضعف پہنچا اور کم از کم تین روز تک ’’ ہائے ہائے کرتا پھرا۔ ۔ ۔ Continue reading »
موت اور آپ کے درمیان ایک فاصلہ ہو تو وہ رومانوی لگتی ہے اس کادکھ محسوس تو ہوتا ہے پر سینے میں ایک گھاؤ نہیں لگاتا اور یہ فاصلے عمرے کے ہوتے ہیں برسوں کے ہوتے ہیں جب آپ جوان ہوتے ہیں اور مرنے والا آپ سے بہت دور بڑھاپے کی منزلوں پر ہوتا ہے تو آپ اس کی موت کو اپنے ساتھ متعلق نہیں کرتے کہ یہ اصولی طور پر آپ کے مرنے کے دن نہیں ہوتے لیکن پھر آپ برسوں کے فاصلے طے کرتے اس مقام پر جاپہنچتے ہیں جس کے آگے جینے کے بہت سے دن نہیں ہوتے جیسے بابا فرید نے کہا تھا کہ اے فرید اب نیند سے بیدار ہوجاؤ کہ تمہاری داڑھی سفید ہوچکی ہے اور تمہارا پیچھا یعنی گزشتہ حیات بہت دور ہوگئی ہے اور تمہارا آگا یعنی جو کچھ آگے ہے وہ نزدیک آگیا ہے تو ان زمانوں میں موت بہت اثر کرتی ہے کہ آپ بھی اس کے اتنے نزدیک آچکے ہوتے ہیں کہ اگلی باری آپ کی بھی ہوسکتی ہے یوں جب کبھی کسی عزیز یا جان پہچان والے کی موت کی خبر آتی ہے تو وہ ایک یادہانی کے طور پر آتی ہے اور آپ نہ صرف اس شخص کے بچھڑنے پر ملال میں چلے جاتے ہیں بلکہ اپنے خاک ہوجانے کے ڈر سے بھی خوفزدہ ہوجاتے ہیں تب یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ بابا لوگ کسی کے مرنے پراتنا واویلا کیوں کرتے ہیں اور جو بھی مرتا ہے اس کے چلے جانے کا اتنا چرچا کیوں کرتے ہیں اس کے ساتھ اپنی رفاقت کی کہانیاں کیوں سنانے بیٹھ جاتے ہیں۔ Continue reading »
مجھے خواب کم ہی آتے ہیں اور میں اکثر ان لوگوں کو نہایت رشک سے دیکھتا ہوں جن کے پاس ہر صبح درجن بھر خوابوں کی ایک فہرست ہوتی ہے اور وہ انہیں پوری تفصیل کے ساتھ آپ کو سنانا اپنا فرض سمجھتے ہیں چاہے آپ کو ان سے دلچسپی ہو یا نہ ہو۔ ہر شخص کو اس کے عقیدے ، خاندان ، رسم ورواج اور موسموں کے مطابق خواب آتے ہیں یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک مسلمان کو مہاتما بدھ خواب میں دکھائی دینے لگیں یا تبت کا کوئی بدھ لامہ حضرت یحییٰ کو خواب میں دیکھنے لگے۔ اس طور ایک افریقن اپنے خواب میں وہی جانور دیکھے گا جو اس کے آس پاس گھومتے ہیں اور انہی موسموں کے خواب دیکھے گا جو اس کے اپنے ملک کے ہوںگے یعنی ایک افریقی خواب میں یہ نہیں دیکھے گا کہ وہ اپنے برف سے بنے گھر ’’اگلو‘‘ میں قیام پذیر ہے اور وہ برفانی کتے جو اس کی گاڑی برفزاروں پر کھینچتے ہیں وہ کہیں گم ہوگئے ہیں اور وہ فکر مند ہے کہ اب مزید برفانی کتے کہاں سے حاصل کروں گا اس طور ایک اسکیمو کو یہ خواب نہیں آئے گا کہ وہ کسی صحرا میں پیاس کی شدت سے نڈھال ہے اس کا اونٹ فوت ہوچکا ہے اور دور دور تک کھجور کے کسی درخت کا نام ونشان نہیں۔ویسے میرے پورے خاندان والوں کو خواب کم ہی آتے ہیں یاد رکھئے کہ خواب آنے اور خواب دیکھنے میں واضح فرق ہوتا ہے میں ذاتی طور پر خواب تو بہت دیکھتا ہوں لیکن عالم بیداری میں اپنے خاندان اور اپنے ملک کی بہتری کے خواب کچھ خواہشوں کے خواب لیکن نیند کے دوران مجھے Continue reading »
کہا تو یہی جاتا ہے کہ ایک دوسرے کو کھلانے پلانے اور دعوتیں دینے سے آپس میں پیار محبت بڑھتا ہے لیکن میرا تجربہ ہے کہ پیار محبت کم اور وزن زیادہ بڑھتا ہے اور ان دنوں میرے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے ۔
لاہور کے پارکوں اور باغوں میں کھانے پینے کی رسم بے حد پرانی ہے مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب کبھی شدید گرمی کے بعد بادل امڈ امڈ کر آنے لگتے اور رم جھم پھوار پڑھنے لگتی تو میرے ماموں جان فوری طور پر اپنے دوست ابراہیم کو طلب کرتے کہ یار موسم بڑا ظالم ہورہا ہے کچھ کرو۔ ۔ ۔ ابراہیم صاحب فوری طور پر آموں کے دو ٹوکرے حاصل کرتے انہیں کپڑے دھونے والے ٹپ میں کم از کم ایک من برف میں دفن کرتے اور پھر اس ٹب کو کانوں سے پکڑ کر ایک ریڑھے پر رکھا جاتا اور ہم سب بھی ریڑھے پر سوار اور چل بھئی لارنس گارڈن۔ ۔ ۔
جن دنوں میں ان زمانوں کے لارنس گارڈن اور آج کے جناح باغ میں سیر کیا کرتا تھا تو وہاں ایک بہت گورا چٹے پہلوان آیا کرتے تھے وہ سیر تو کم ہی کرتے تھے البتہ اپنے پسندیدہ بنچ پر بیٹھ کر توندزیادہ کھجایا کرتے تھے ہر اتوار ان کی جانب سے دوستوں کے لئے ناشتے کا بندوبست ہوتا جس کا آغاز باداموں والے دودھ اور انجام بدہضمی پر ہوتا کہ یہ ایک خصوصی اور لاہوری ناشتہ ہوتا جس میں کلسٹرول کی مقدار خوراک سے زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کا ہماری صحت پر مضر اثر ہرگز نہ ہوتا کہ ان دنوں کلسٹرول دریافت نہیں ہوا تھا اور اگر دریافت ہی نہیں ہوا تھا تو بھلا وہ صحت کے لئے نقصان دہ کیسے ثابت ہوسکتا تھا یہ ایک سادہ فلسفہ ہے۔ Continue reading »
چند روز بیشتر میں نے اخبار میں کراچی کے چڑیا گھر کی ایک تصویر دیکھی جس میں ایک شاندار دھاریوں والا شیر اپنے پنجرے کے ایک کونے میں دبکا بیٹھا ہے اور پنجرے کے فرش پر پتھر، اینٹیں ، روڑے اورکنکر بکھرے ہوئے ہیں یہ کنکر اور پتھر پنجرے میں اس لئے نہیں بچھائے گئے کہ شیر فارغ اوقات میں ان کے ساتھ شٹاپو کھیلتاہے بلکہ یہ کنکر اور پتھر اسے مارے گئے ہیں تماشائیوں نے اسے اشتعال دلانے کیلئے یا چھیڑنے کی خاطر اس پر پھینکے ہیں ہر روز پتھروں اور اینٹوں کا ایک انبار جمع ہو جاتا ہے جسے خاکروب سمیٹ کر لے جاتا ہے اور پھر اگلے روز ایک مرتبہ پھر سنگساری کا عمل شروع ہو جاتا ہے پنجرے میں قید جانوروں کو تنگ کرنا ہم لوگوں کی ایک قبیح عادت ہے لیکن شائد یہ پہلی بار ہے کہ شیر کو سنگسار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کی بے چارگی سے لطف اٹھایا جاتا ہے اس اذیت پسندی کا جواز تلاش کرنے کے لئے آپ کو ذہن پر زیادہ زور نہیں دینا پڑتا جس معاشرے میں ایک سترہ برس کی بچی کو سڑک پر اوندھا لٹا کر کوڑے مارے جاسکتے ہیں اور سنگساری کو جائز ثابت کرنے کے لئے میڈیا پر نہائت ظالمانہ تبصرے ہوئے ہیں وہاں اس نوعیت کا رویہ جنم لیتا ہے یعنی لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک ایسا دور آنے والا ہے تو کیوں نہ ابھی سے سنگساری کی پریکٹس کرلی جائے اس کا ایک اور جواز بھی ممکن ہے کہ عوام الناس اپنے اپنے صوبوں کے سیاسی شیروں سے اتنے تنگ آچکے ہیں کہ اپنا غصہ سچ مچ کے اس شیر پر نکالتے ہیں۔ آج کے اخبار میں ایک ایسے گھوڑے کی تصویر ہے جس کا بدن زخموں سے بھرا پڑا ہے اس سے مشقت لینے والے نے جانے اسے کن کوڑوں سے مارا ہے کہ وہ اس قدر شدید زخمی ہو گیا ہے ۔ Continue reading »
بچپن میںفلمی گانے ہمارے کچے دماغوںاورکچے بدنوں پربہت اثر کرتے تھے۔ کوئی فلمی گاناسناتو خواہ مخواہ پہروںاداس رہے یابے وجہ خوش ہوگئے۔ ان دنوں محمدرفیع کاگایا ایک گیت’’ یہ زندگی کے میلے دنیا میںکم نہ ہوںگے افسوس ہم نہ ہوںگے‘‘ بے حد پاپولرتھا اورعام لوگوں کے علاوہ یہ فقیر حضرات کابھی بے حد پسندیدہ تھا جواسے گلی گلی الاپتے دست سوال دراز کرتے تھے۔ تب مجھے بھی یہ گیت اچھالگتا تھا لیکن ایک بات کی سمجھ نہ آتی تھی کہ یہ تودرست ہے کہ یہ زندگی کے میلے دنیا میںکم نہ ہوںگے لیکن آخر میںیہ کیاہے کہ افسوس ہم نہ ہوںگے۔بھلا ہم کیوں نہ ہوں گے۔ اگر گھرنہیںہوںگے تو بازار میں ہوں گے، سکول میںہوںگے،کہیں نہ کہیںتو ہوںگے توافسوس کاہے کا ۔ ابھی تک یہ احساس نہ ہوا تھا کہ یہ زندگی ، خوبصورت اورمزے کی زندگی بالآخر اختتام کوپہنچتی ہے۔انسان ایک چارپائی پررخصت ہوجاتاہے اورمیلے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔اسی نوعیت کاایک پنجابی گیت’’جگ والا میلہ یاروتھوڑی دیر دا۔ ہسدیاںرات لنگھی پتہ نہیں سویر د ا‘‘ بھی بہت پسندکیاجاتا تھااوریہ گیت بھی ہماری مختصر عقل پرسے گزرجایاکرتاتھا کہ اس جہان کامیلہ اے یاروتھوڑی دیرکاہے ہنستے ہوئے رات گزری لیکن سویر کاکچھ پتہ نہیں توبھلا میلہ تھوڑی دیرکاکیوں ہے اوریہ کیابات ہوئی کہ اگر رات ہنستے ہوئے گزرگئی ہے تو سویرکاکیوں پتہ نہیں،سویر تو ہوکررہتی ہے اوراب اس عمر میںآکریہ آشکارہوتاہے کہ واقعی اس جہان کامیلہ تھوڑی دیرکاہوتاہے اورپھرسویر کاکچھ پتہ نہیں کہ ہویانہ ہو۔
آج یہ میلے خواہ مخواہ یاد آتے چلے جاتے ہیں۔
افغانستان کتنا پیارا،کتنا نیارا ،کتنا راج دلارا ملک تھا اورپھراسے نظر لگ گئی جس نے ڈالی بری نظر ڈالی۔ پہلی بری نظر سوویت یونین نے ڈالی۔ پھر افغانوں نے خود ہی ڈالی اورپاکستان نے بھی اسے اپنے مفادات کی خاطر،ایک مونچھوںوالے آمر کی آمریت کی خاطر ڈالی۔ سب لوگوں نے جھولیاں بھریں جن میں سی آئی اے کے عطاکردہ ڈالروں کے ڈھیرتھے اور پھر رہی سہی کسر طالبان نے نکال دی سب کچھ برباد ہوگیا تو افغانستان کے کھنڈروں میں جمہوریت اورآزادی کی زہریلی بین بجانے کے امریکی سپیرے آگئے۔
اس ملک کے زمینی مناظر نے آپ کومتاثر کیاتو میںہمیشہ کہتاہوں کہ یہ افغانستان کی وسیع تیز ہواؤں میں شوکتی ویرانیاںاور بلندیاں ہیں جومیرے دل پراثرانداز ہوتی ہیں۔ کابل سے قندھار جاتے ہوئے ایک بار ہماری بس کاٹائرپنکچر ہوگیا چونکہ فالتو ٹائر کی سہولت حاصل نہ تھی اس لیے ڈرائیور صاحب نے مسافروں کوایک ویرانے میںچھوڑ کرایک اوربس پرسوارہوکر جانے کون سے قصبے کوکوچ کرگئے جہاں سے ٹائرکوپنکچر لگوایا جاسکتا تھا۔ میں سڑک سے اتر کرایک نیم صحرائی سرزمین پرچلتا ان پہاڑوں کی قربت میں چلاگیا جن کی عظمت میںایک آبائی دہشت تھی یوں تن تنہا اس ویرانے میں بیٹھے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ کائنات ابھی ابھی تخلیق ہوئی ہے اور کن فیکون کی گونج ابھی ہواؤں میں ہے۔ ان زمانوں کاکابل ایک سحرانگیز شہرتھا۔ یورپ سے جوہپی ٹریل شروع ہوکرنیپال تک جاتاتھا اس کے راستے میںہرات، قندھار اورکابل جیسے شہر آتے تھے اورغیرملکی سیاحوں کے ہجوم ان قدیم شہروں کے کوچہ وبازار میں آزادی سے گھومتے تھے افغان ان غیرملکیوں کی بے حد قدرکرتے تھے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے تھے کہ یہ ہمارے مہمان ہیںکابل کابازارمرغ جسے عرف عام میںچکن مارکیٹ کہاجاتاتھا کھٹمنڈو کے بازار تھمل کی مانند سیاحوں کاپسندیدہ بسیراتھا وہاں ہپی لڑکیاں مختصر لباسوں میںبے دریغ گھومتی تھیں چائے خانوںاورافغانی نوادارت کی دکانوںسے یہ بازار مرغ بھرا پڑاتھا۔
اگرآپ کبھی بچے رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ بچے رہیں ہوں گے کہ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ کوئی بچہ نہ رہا ہو اور وہ یکدم بڑا ہو جائے تو آپ جانتے ہوں گے کہ جب سکول میں آدھی چھٹی ہوتی ہے تو کیسے بچوں کا ایک سیلاب امڈتا ہوا باہر آتا ہے اور کھانے پینے کے ٹھیلوں کا گھیراو کرلیتا ہے ٹھیلے والوں کی جان پہ بن آتی ہے کہ کیسے سب بچوں کو بھگتا ئیں اور ساتھ میں پیسے بھی وصول کرتے جائیں تو ایسے ہی ایک سکول کے باہر ایک گول گپے بیچنے والا تھا آدھی چھٹی ہوئی تو سکول کے اندر سے بچوں کا ایک ہجوم برآمد ہوا اور کھانے پینے کی اشیاء پر پل پڑا گول گپوں کے ٹھیلے کا بھی گھیراؤ کرلیا کچھ دیر تو خیریت گزری بچے گول گپے حاصل کر کے ان کی قیمت ادا کرتے رہے لیکن پھر رش زیادہ ہوگیا کہ آدھی چھٹی ختم ہونے کو تھی اور بچوں نے گول گپوں پر ہلا بول دیا اور اتنا وقت کہاں کہ جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے برآمد کر کے گول گپوں والے کی ہتھیلی پر رکھے جائیں جس کو جتنے گول گپے ملے اس نے اڑا دئیے لوٹ مار شروع ہو گئی گول گپوں والا کچھ دیر تو احتجاج کرتا رہا شور مچاتا رہا کہ کم بختو پیسے تو ادا کرو اور جب کسی نے اس کی چیخ وپکار پر دھیان نہ دیا تو وہ بہ نفس نفیس ذاتی طور پر اپنے ہی گول گپوں پر پل پڑا اور دونوں ہاتھوں سے انہیں اپنے شکم میں اتارنے لگا اس پر کسی راہگیر نے پوچھا کہ بھئی تم خود ہی اپنے گول گپے کیوں کھائے جارہے ہو تو اس نے اس افراتفری میں جواب دیا کہ میں جتنے بھی پیسے پورے ہو سکتے ہیں پورے کر رہا ہوں منافع تو ہونے سے رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ Continue reading »
Recent Comments