میں جب کبھی کوئی ایسی خبر پڑھتا ہوں جس میں ہمارے ملک کا کوئی اہم فنکار، تخلیق کار، گلوکار کسی ناگہانی بیماری کا شکار ہو کر عوام سے یاحکومت وقت سے مدد کا طالب ہوتا ہے، تو ایک گہرے رنج سے میرا دل کٹ ساجاتا ہے ،میں ایک دکھ بھری سوگواری کا شکار ہو جاتا ہوں لیکن جو بھی مدد کے طالب ہوتے ہیں ۔ان سب کے لئے میں یہ رنج محسوس نہیں کرتا۔ کیونکہ ان میں سے بیشتر نے ایک معاشی طور پر خوشحال زندگی گزاری ہوتی ہے۔ ان کے فن کی قدر نے انہیں مالی طور پر آسودہ کر رکھا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر وہ ملک کے لئے اپنی فنکارانہ خدمات کے عوض میں مدد کے طالب ہوتے ہیں۔ تو اس میں اکثر ملک اور قوم کا نہیں ان کا اپناقصور ہوتا ہے ۔کہ انہوں نے ایک عام پاکستانی کی مانند برے وقتوں کے لئے کچھ پس انداز کیوں نہیں کیا۔ اور عین ممکن ہے کہ وہ اب بھی Continue reading »

ایک مرتبہ کسی انٹرویو کے دوران ایدھی بابا سے پوچھاگیا کہ جناب یہ جوصاحب حیثیت لوگ غریب لوگوں کیلئے دیگیںچڑھاتے ہیںاورانہیں اپنے ہاتھوںسے تقسیم کرتے ہیں یاکسی خاص دن خیرات تقسیم کرتے ہیں تواس کے بارے میں آپ کاکیاخیال ہے تو ایدھی صاحب نے اپنے مخصوص لہجے میںکہا’’یہ کھراب سسٹم کی کھراب نیکیاںہیں‘‘ یعنی اگر معاشرہ بے ایمان اوربے انصاف ہے ،مساوات پرقائم نہیںہے تو اس میں کی جانے والی نیکیاں بھی اسی کاایک پرتوہوںگی میںاس نوعیت کی کھراب نیکیاں اپنے آس پاس دیکھتارہتاہوں۔ Continue reading »

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ ان دنوں بینکوں کے باہر ’’یہاں حج کی درخواستیں وصول کی جاتی ہیں ‘‘ کہ جو بینر آویزاں ہیں انہیں دیکھ کر میں ایک عجیب اضطراب میں مبتلا ہوجاتا ہوں کہ وہ کیسے نصیب والے ہیں جو یہاں درخواستیں دیں گے اور حج پر جانے کے حقدار ٹھہریںگے۔ میں نے یہ بھی تذکرہ کیا تھا کہ کیفیت تب سے ہے جب سے میں نے حج کیا ہے ورنہ اس سے پیشتر یہ بینر مجھ پر کچھ اثر نہ کرتے تھے یعنی ایک بار اگر حج کی سعادت حاصل ہوجائے تو دوبارہ پھر سے جانے کی خواہش ہر برس اضطراب میں مبتلا کردیتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟ بے شک خانہ کعبہ کے گرد طواف، منیٰ کے دن اور منیٰ کی راتیں، مزدلفہ کے کھلے آسمان تلے ایک رات اور عرفات کی جانب لبیک لبیک پکارتا لاکھوں کا ہجوم اثر انگیز تجربے ہیں لیکن میرے نزدیک حج پر دوبارہ جانے میں سب سے بڑی اور آبدیدہ کردینے والی کشش اس سبز گنبد کی ہے جس کے سامنے دنیا بھر کی عمارتیں حکومتیں اور خزانے ہیچ ہیں۔ حج سے واپسی پر مجھ سے کسی دوست نے پوچھا کہ کیا حج کرنے سے تم میں کچھ تبدیلی واقع ہوئی ہے یا Continue reading »

ایک زمانے میں میں بہت بدنام تھا کہ یہ شخص انسانوں کے بارے میں کم کالم لکھتا ہے اور جانوروں کے بارے میں زیادہ لکھتا ہے۔ اسے انسانوں کی نسبت الو،گدھے، دریائی گھوڑے، مگر مچھ اور اودبلاؤ وغیرہ زیادہ پیارے ہیں۔ اس الزام سے بچنے کے لیے میں نے مسلسل انسانوںکے بارے میں کالم لکھے لیکن یہ بے نوازی نہ میرے کام آئی اور نہ ہی انسانوں کے کام آئی۔ انسان جیسے تھے ویسے ہی رہے بلکہ پہلے سے بھی بدتر ہوگئے لوگوں کی لاشیں کھمبوں پر لٹکانے لگے۔ انہیں ذبح کرنے لگے یا پھر اقلیتوں کی بستیوں پرحملے کرکے انہیں زندہ جلانے لگے تو اس صورت میں کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ میں پھر سے انسانوں کو ترک کرکے جانوروں کے قریب آجاؤں کہ وہ اس نوعیت کی ’’تہذیب یافتہ ‘‘ حرکات نہیں کرتے۔
Continue reading »

مجھے اپنے میڈیاسے شدیدشکایت ہے کہ یہ ان خبروںسے غفلت برتتاہے جوقومی اوربین الاقوامی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔اگرمشرف کے ٹرائل کی بات ہوتی ہے تو اس پرخصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں ، کالم نگار بے پر کی تونہیںپروںوالی اڑانے لگتے ہیں، چوہدری شجاعت کچھ بھی ارشادفرمائیںچاہے ایک ٹرک اوردوجیپوں کی دردن پردہ خواہش کااظہار کریں،میرا جوکہتے ہیں کہ اداکاری بھی کرتی ہے جوبھی ہانک دے، ویناملک کچھ بھی اوٹ پٹانگ کہہ دے توہمارامیڈیا فوراً اس کانوٹس لیتاہے۔ شہ سرخیاں لگ جاتی ہیں لیکن اگر لاہورمیں چھٹی ایشیائی بھینس کانفرنس کاانعقادہورہا ہوتو اس خبرسے غفلت برتی جاتی ہے Continue reading »

گوجرہ کے سانحے کے حوالے سے میں نے جو کالم تحریر کیا تھا اس کا عنوان تھا ’’جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا ‘‘ تب تک وہاں صرف گھر جلے تھے، کلیساء جلے تھے اور ان کے اندربائبل کے نسخے تھے وہ جلے تھے پھر خبر آئی کہ اب وہاں جسم بھی جلے ہیں اور پورے سات جلے ہیں اور ان کے اندر جو سات دل تھے وہ بھی راکھ ہوئے ہیں ان میں چھ کا تعلق ایک ہی مسیحی خاندان سے تھا اور ساتواں ایک بچہ تھا جس کی لاش ایک ریڑھی میں رکھی گئی تاکہ اسے قبرستان لے جایا جاسکے یوں ہم آسانی سے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ دراصل ہم نے پورے سات لوگ زندہ نہیں جلائے بلکہ ساڑھے چھ جلائے ہیں کیونکہ ہم اتنے شقی القلب بھی نہیں ہیں اس امر کی اطلاع جناب پوپ کو بھی دینی چاہیے کیونکہ انہوں نے روم میں بیٹھ کر سات لوگوں کے زندہ جلانے کی مذمت کی ہے جب کہ یہ صرف ساڑھے چھ تھے Continue reading »

اتوار اگست 2, 2009

دل کو دکھ دینے والی روح کو مجروح کردینے والی بدن کو جھلسا دینے والی بری بری خبروں نے مجھے پژمردہ کر رکھا تھا مجھے بیمار کر ڈالا تھا اور پھر ایک مسیحا آیا اس نے میرے درد کی دوا تجویز کی میرے سامنے سیب کی مانند سرخی سے دہکتا ایک آڑو رکھ دیا اسے کھائیے اس کے کھانے سے آپ کی طبیعت بحال ہو جائے گی آپ صحت مند ہو جائیں گے آپ کی بیماری جاتی رہے گی۔ڈاکٹر صاحب آپ مجھے کوئی کام کی دوا دیجئے مجھے آڑو کھانے کا کچھ شوق نہیں میں نے حیرت زدہ ہو کر انہیں کہا کہ یہ کیسے معالج ہیں جو ایک مریض کا علاج ایک آڑو سے کرنا چاہتے ہیں مجھے ان کی ذہنی حالت پر شک ہوا ’’تارڑ صاحب یہ کوئی معمولی آڑو نہیں ہے ’’ ڈاکٹر صاحب نے سرہلا کر اپنی داڑھی تھپکی’’ اسے کھا کر دیکھئے تو سہی سب دکھ درد دور ہو جائیں گے Continue reading »

کہتے ہیں کہ ہر انسان پرزندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت آتا ہے جب کسی ایک لمحے وہ کسی جرم کا ارتکاب کرسکتا تھا، قتل کرسکتا تھا، چوری کرسکتا تھا یا کسی سے زبردستی کرسکتا تھا لیکن یہ اس انسان کی خوش بختی ہوتی ہے کہ وہ لمحہ گزر جاتا ہے اور وہ شرمندگی محسوس کرنے لگتا ہے کہ ہائیں یہ میں کیا حماقت کرجانے والا تھا اور سنبھل جاتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جن میں شاید میں Continue reading »

میں ٹیلی ویژن بہت کم دیکھتاہوں اورجب دیکھتا ہوںتو چلتے پھرتے،پڑھنے لکھنے سے اکتا گئے تو ذرا آنکھیں سینکنے کے کچھ ہوش ربانوعیت کے گانے وغیرہ دیکھ لیے جن میںاکثر خواتین کو لگتاہے کہ مرگی پڑگئی ہے، آخری دموں پرتھرکتی نظر آتی ہیں،نہ لباس کاہوش اورنہ تن کا۔ بلکہ لباس سے تو اکثر اجتناب کیاجاتاہے اوربدن کابھی کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کون ساحصہ کہاں ہے کہ وہ بے چاری مرغ بسمل کی مانند تڑپ رہی ہوتی ہیں،ایک لمحے کیلئے ساکت ہوںتو کچھ اندازہ ہو کہ کیاکیا کہاں ہے اورکتناہے۔ آپ یقیناً مجھے ایک غریب الاخلاق بابا سمجھ رہے ہوںگے لیکن یقین جانئے آج کل کے اکثر بابے ان مرگی شدہ خواتین کودیکھ کرجیتے ہیں ورنہ کب کے مرگئے ہوتے البتہ میری یہ مجبوری ہے کہ اکثر مسلسل لکھتے ہوئے میری آنکھیں تھک جاتی ہیں ا س لیے میں انہیں سینکتاہوںتو وہ تازہ دم ہوجاتی ہیں میں قطعی طورپر ٹیلی ویژن پرہونے والے سیاسی مذاکرے نہیں دیکھتا جن میں کوئی ایک میزبان چند سیاستدانوں یاتجزیہ نگاروں کواپنے سامنے بٹھا کران کی خوب خوب بے عزتی کررہاہوتاہے اوروہ ڈھیٹ بنے مسکرا رہے ہوتے ہیں اورجب آپس میں بحث کرتے ہیںتو سب سے زیادہ بدتمیز اوربلند آواز میں چیخنے والاسیاتدان اپنی پارٹی کی حماقتوں کادفاع کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے مجھے اکثر محسوس ہوتاہے کہ یہ لوگ بنیادی اخلاقیات سے یکسرعاری ہیںاوربولنے سے زیادہ ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں مجھے ایک ٹیلی ویژن پروڈیوسر نے بتایاتھا کہ تارڑ صاحب یہ لوگ ہمیں مسلسل فون کرتے ہیں کہ کیابات ہے بہت عرصے سے آپ نے یاد ہی نہیں کیامیرے لائق کوئی خدمت ہوتو یاد فرمائیے گا بہرحال یوں ریموٹ کابٹن دباتے مختلف چینلز پر نشرکیے جانے والے پروگراموں کی جھلکیاں بھی نظر آجاتی ہیںاورمیں اپنی آنکھیں سینکنے کے لوازمات کوتلاش کرتا رہتاہوں تو اس تلاش کے دوران ابھی دو دن پہلے کی بات ہے کہ ایک ٹیلی ویژن چینل کی سکرین کے نیچے’’ابھی ابھی‘‘ اور’’تازہ ترین‘‘ کے عنوان تلے ایک خبر کی پٹی چل رہی تھی جسے میں نے پڑھاتو یقین نہ کرسکا کہ آنکھیں تھکی ہوئی ہیں انہیں دھوکا ہواہے لیکن وہ خبر مسلسل چلتی جارہی تھی اوروہ یہ تھی کہ ’’نیویارک سے آنے والی پی آئی اے کی پروازمیںسے تقریباً نوسوچوہے برآمدہوگئے‘‘ یہ چوہے اسلام آباد ایئرپورٹ پر بھاگتے پھرتے ہیںاور ان میںسے کچھ پی آئی اے کے دفاتر میں گھس گئے ہیں انہوں نے حساس نوعیت کی تاریں بھی کتر دی ہیں ایئرپورٹ کاعملہ انہیں پکڑنے کی تگ ودو میں مصروف ہے پی آئی اے انتظامیہ کاموقف ہے کہ جب ہمارا جہاز نیویارک گیاتھا تو بالکل خالی تھا یعنی مسافر تو تھے چوہے نہیںتھے تویہ چوہے امریکہ سے آئے ہیں پاکستانی نہیںہیں ان چوہوںکوتلف کرنے کیلئے کراچی سے چوہامارٹیمیں طلب کرلی گئی ہیں۔ Continue reading »

sheeshaچند روز بیشتر ایک نہایت عزیز دوست بے حد پریشانی کی حالت میں میرے ہاں تشریف لائے رنگت اڑی ہوئی اور اس رنگت میں بھی ہوائیاں اڑتی ہوئیں تشریف لائے اور صوفے پر ڈھیر ہو گئے اس روز لاہور کا درجہ حرارت چھیالیس سے تجاوز کر چکا تھا اور لاہور کی سب چیلیں اپنے اپنے انڈے چھوڑ چکی تھیں بلکہ ان میں سے جو طاقت پرواز رہتی تھیں مری یا نتھیا گلی کوچ کر گئی تھیں میں نے سوچا کہ ہو نہ ہو میرے دوست پر بھی گرمی کا اثر ہوگیا ہے چنانچہ میں نے فوری طور پر پہلے تو انہیں نمکین لسی کے دوچار گلاس پلائے اور پھر ان کامنہ میٹھا کرنے کی خاطر باداموں کے شربت کا ایک گلاس پیش کیا ان مشروبات کو غٹا غٹ چڑھا جانے کے باوجود ان کی ظاہری حالت میں کچھ فرق نہ پڑا تو میں نے پوچھا’’ اجی حضرت خیریت تو ہے ناں‘‘
وہ ہکلاتے ہوئے بولے‘‘ تارڑ صاحب ، خیریت کہاں ہونی ہے میں تو لٹ گیا، آپ جانتے ہیں کیا ہوا؟ Continue reading »

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha