خبريں اردو سے محبت کرنے والوں کے لۓ

18Sep/090

کھراب سسٹم کی کھراب نیکیاں۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

ایک مرتبہ کسی انٹرویو کے دوران ایدھی بابا سے پوچھاگیا کہ جناب یہ جوصاحب حیثیت لوگ غریب لوگوں کیلئے دیگیںچڑھاتے ہیںاورانہیں اپنے ہاتھوںسے تقسیم کرتے ہیں یاکسی خاص دن خیرات تقسیم کرتے ہیں تواس کے بارے میں آپ کاکیاخیال ہے تو ایدھی صاحب نے اپنے مخصوص لہجے میںکہا’’یہ کھراب سسٹم کی کھراب نیکیاںہیں‘‘ یعنی اگر معاشرہ بے ایمان اوربے انصاف ہے ،مساوات پرقائم نہیںہے تو اس میں کی جانے والی نیکیاں بھی اسی کاایک پرتوہوںگی میںاس نوعیت کی کھراب نیکیاں اپنے آس پاس دیکھتارہتاہوں۔

  • Share/Bookmark
26Aug/090

آؤ مدینے چلیں ۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ ان دنوں بینکوں کے باہر ’’یہاں حج کی درخواستیں وصول کی جاتی ہیں ‘‘ کہ جو بینر آویزاں ہیں انہیں دیکھ کر میں ایک عجیب اضطراب میں مبتلا ہوجاتا ہوں کہ وہ کیسے نصیب والے ہیں جو یہاں درخواستیں دیں گے اور حج پر جانے کے حقدار ٹھہریںگے۔ میں نے یہ بھی تذکرہ کیا تھا کہ کیفیت تب سے ہے جب سے میں نے حج کیا ہے ورنہ اس سے پیشتر یہ بینر مجھ پر کچھ اثر نہ کرتے تھے یعنی ایک بار اگر حج کی سعادت حاصل ہوجائے تو دوبارہ پھر سے جانے کی خواہش ہر برس اضطراب میں مبتلا کردیتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟ بے شک خانہ کعبہ کے گرد طواف، منیٰ کے دن اور منیٰ کی راتیں، مزدلفہ کے کھلے آسمان تلے ایک رات اور عرفات کی جانب لبیک لبیک پکارتا لاکھوں کا ہجوم اثر انگیز تجربے ہیں لیکن میرے نزدیک حج پر دوبارہ جانے میں سب سے بڑی اور آبدیدہ کردینے والی کشش اس سبز گنبد کی ہے جس کے سامنے دنیا بھر کی عمارتیں حکومتیں اور خزانے ہیچ ہیں۔ حج سے واپسی پر مجھ سے کسی دوست نے پوچھا کہ کیا حج کرنے سے تم میں کچھ تبدیلی واقع ہوئی ہے یا

  • Share/Bookmark
21Aug/090

آل پاکستان گدھا کانفرنس – مستنصر حسین تارڑ

ایک زمانے میں میں بہت بدنام تھا کہ یہ شخص انسانوں کے بارے میں کم کالم لکھتا ہے اور جانوروں کے بارے میں زیادہ لکھتا ہے۔ اسے انسانوں کی نسبت الو،گدھے، دریائی گھوڑے، مگر مچھ اور اودبلاؤ وغیرہ زیادہ پیارے ہیں۔ اس الزام سے بچنے کے لیے میں نے مسلسل انسانوںکے بارے میں کالم لکھے لیکن یہ بے نوازی نہ میرے کام آئی اور نہ ہی انسانوں کے کام آئی۔ انسان جیسے تھے ویسے ہی رہے بلکہ پہلے سے بھی بدتر ہوگئے لوگوں کی لاشیں کھمبوں پر لٹکانے لگے۔ انہیں ذبح کرنے لگے یا پھر اقلیتوں کی بستیوں پرحملے کرکے انہیں زندہ جلانے لگے تو اس صورت میں کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ میں پھر سے انسانوں کو ترک کرکے جانوروں کے قریب آجاؤں کہ وہ اس نوعیت کی ’’تہذیب یافتہ ‘‘ حرکات نہیں کرتے۔

  • Share/Bookmark
18Aug/090

ایشیائی بھینس کانفرنس – مستنصر حسین تارڑ

مجھے اپنے میڈیاسے شدیدشکایت ہے کہ یہ ان خبروںسے غفلت برتتاہے جوقومی اوربین الاقوامی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔اگرمشرف کے ٹرائل کی بات ہوتی ہے تو اس پرخصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں ، کالم نگار بے پر کی تونہیںپروںوالی اڑانے لگتے ہیں، چوہدری شجاعت کچھ بھی ارشادفرمائیںچاہے ایک ٹرک اوردوجیپوں کی دردن پردہ خواہش کااظہار کریں،میرا جوکہتے ہیں کہ اداکاری بھی کرتی ہے جوبھی ہانک دے، ویناملک کچھ بھی اوٹ پٹانگ کہہ دے توہمارامیڈیا فوراً اس کانوٹس لیتاہے۔ شہ سرخیاں لگ جاتی ہیں لیکن اگر لاہورمیں چھٹی ایشیائی بھینس کانفرنس کاانعقادہورہا ہوتو اس خبرسے غفلت برتی جاتی ہے

  • Share/Bookmark
11Aug/090

گوجرہ اور قربانی کے بکرے ۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

گوجرہ کے سانحے کے حوالے سے میں نے جو کالم تحریر کیا تھا اس کا عنوان تھا ’’جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا ‘‘ تب تک وہاں صرف گھر جلے تھے، کلیساء جلے تھے اور ان کے اندربائبل کے نسخے تھے وہ جلے تھے پھر خبر آئی کہ اب وہاں جسم بھی جلے ہیں اور پورے سات جلے ہیں اور ان کے اندر جو سات دل تھے وہ بھی راکھ ہوئے ہیں ان میں چھ کا تعلق ایک ہی مسیحی خاندان سے تھا اور ساتواں ایک بچہ تھا جس کی لاش ایک ریڑھی میں رکھی گئی تاکہ اسے قبرستان لے جایا جاسکے یوں ہم آسانی سے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ دراصل ہم نے پورے سات لوگ زندہ نہیں جلائے بلکہ ساڑھے چھ جلائے ہیں کیونکہ ہم اتنے شقی القلب بھی نہیں ہیں اس امر کی اطلاع جناب پوپ کو بھی دینی چاہیے کیونکہ انہوں نے روم میں بیٹھ کر سات لوگوں کے زندہ جلانے کی مذمت کی ہے جب کہ یہ صرف ساڑھے چھ تھے

  • Share/Bookmark
4Aug/090

پیام آئے ہیں اس وادی سوات کے مجھے۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

اتوار اگست 2, 2009

دل کو دکھ دینے والی روح کو مجروح کردینے والی بدن کو جھلسا دینے والی بری بری خبروں نے مجھے پژمردہ کر رکھا تھا مجھے بیمار کر ڈالا تھا اور پھر ایک مسیحا آیا اس نے میرے درد کی دوا تجویز کی میرے سامنے سیب کی مانند سرخی سے دہکتا ایک آڑو رکھ دیا اسے کھائیے اس کے کھانے سے آپ کی طبیعت بحال ہو جائے گی آپ صحت مند ہو جائیں گے آپ کی بیماری جاتی رہے گی۔ڈاکٹر صاحب آپ مجھے کوئی کام کی دوا دیجئے مجھے آڑو کھانے کا کچھ شوق نہیں میں نے حیرت زدہ ہو کر انہیں کہا کہ یہ کیسے معالج ہیں جو ایک مریض کا علاج ایک آڑو سے کرنا چاہتے ہیں مجھے ان کی ذہنی حالت پر شک ہوا ’’تارڑ صاحب یہ کوئی معمولی آڑو نہیں ہے ’’ ڈاکٹر صاحب نے سرہلا کر اپنی داڑھی تھپکی’’ اسے کھا کر دیکھئے تو سہی سب دکھ درد دور ہو جائیں گے

  • Share/Bookmark
29Jul/090

شمائلہ۔ ۔ ۔ کلین بولڈ ۔۔۔۔ مستنصرحسین تارڑ

کہتے ہیں کہ ہر انسان پرزندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت آتا ہے جب کسی ایک لمحے وہ کسی جرم کا ارتکاب کرسکتا تھا، قتل کرسکتا تھا، چوری کرسکتا تھا یا کسی سے زبردستی کرسکتا تھا لیکن یہ اس انسان کی خوش بختی ہوتی ہے کہ وہ لمحہ گزر جاتا ہے اور وہ شرمندگی محسوس کرنے لگتا ہے کہ ہائیں یہ میں کیا حماقت کرجانے والا تھا اور سنبھل جاتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جن میں شاید میں

  • Share/Bookmark
14Jul/090

نوسوامریکی چوہے اورحکمرانی۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

میں ٹیلی ویژن بہت کم دیکھتاہوں اورجب دیکھتا ہوںتو چلتے پھرتے،پڑھنے لکھنے سے اکتا گئے تو ذرا آنکھیں سینکنے کے کچھ ہوش ربانوعیت کے گانے وغیرہ دیکھ لیے جن میںاکثر خواتین کو لگتاہے کہ مرگی پڑگئی ہے، آخری دموں پرتھرکتی نظر آتی ہیں،نہ لباس کاہوش اورنہ تن کا۔ بلکہ لباس سے تو اکثر اجتناب کیاجاتاہے اوربدن کابھی کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کون ساحصہ کہاں ہے کہ وہ بے چاری مرغ بسمل کی مانند تڑپ رہی ہوتی ہیں،ایک لمحے کیلئے ساکت ہوںتو کچھ اندازہ ہو کہ کیاکیا کہاں ہے اورکتناہے۔ آپ یقیناً مجھے ایک غریب الاخلاق بابا سمجھ رہے ہوںگے لیکن یقین جانئے آج کل کے اکثر بابے ان مرگی شدہ خواتین کودیکھ کرجیتے ہیں ورنہ کب کے مرگئے ہوتے البتہ میری یہ مجبوری ہے کہ اکثر مسلسل لکھتے ہوئے میری آنکھیں تھک جاتی ہیں ا س لیے میں انہیں سینکتاہوںتو وہ تازہ دم ہوجاتی ہیں میں قطعی طورپر ٹیلی ویژن پرہونے والے سیاسی مذاکرے نہیں دیکھتا جن میں کوئی ایک میزبان چند سیاستدانوں یاتجزیہ نگاروں کواپنے سامنے بٹھا کران کی خوب خوب بے عزتی کررہاہوتاہے اوروہ ڈھیٹ بنے مسکرا رہے ہوتے ہیں اورجب آپس میں بحث کرتے ہیںتو سب سے زیادہ بدتمیز اوربلند آواز میں چیخنے والاسیاتدان اپنی پارٹی کی حماقتوں کادفاع کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے مجھے اکثر محسوس ہوتاہے کہ یہ لوگ بنیادی اخلاقیات سے یکسرعاری ہیںاوربولنے سے زیادہ ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں مجھے ایک ٹیلی ویژن پروڈیوسر نے بتایاتھا کہ تارڑ صاحب یہ لوگ ہمیں مسلسل فون کرتے ہیں کہ کیابات ہے بہت عرصے سے آپ نے یاد ہی نہیں کیامیرے لائق کوئی خدمت ہوتو یاد فرمائیے گا بہرحال یوں ریموٹ کابٹن دباتے مختلف چینلز پر نشرکیے جانے والے پروگراموں کی جھلکیاں بھی نظر آجاتی ہیںاورمیں اپنی آنکھیں سینکنے کے لوازمات کوتلاش کرتا رہتاہوں تو اس تلاش کے دوران ابھی دو دن پہلے کی بات ہے کہ ایک ٹیلی ویژن چینل کی سکرین کے نیچے’’ابھی ابھی‘‘ اور’’تازہ ترین‘‘ کے عنوان تلے ایک خبر کی پٹی چل رہی تھی جسے میں نے پڑھاتو یقین نہ کرسکا کہ آنکھیں تھکی ہوئی ہیں انہیں دھوکا ہواہے لیکن وہ خبر مسلسل چلتی جارہی تھی اوروہ یہ تھی کہ ’’نیویارک سے آنے والی پی آئی اے کی پروازمیںسے تقریباً نوسوچوہے برآمدہوگئے‘‘ یہ چوہے اسلام آباد ایئرپورٹ پر بھاگتے پھرتے ہیںاور ان میںسے کچھ پی آئی اے کے دفاتر میں گھس گئے ہیں انہوں نے حساس نوعیت کی تاریں بھی کتر دی ہیں ایئرپورٹ کاعملہ انہیں پکڑنے کی تگ ودو میں مصروف ہے پی آئی اے انتظامیہ کاموقف ہے کہ جب ہمارا جہاز نیویارک گیاتھا تو بالکل خالی تھا یعنی مسافر تو تھے چوہے نہیںتھے تویہ چوہے امریکہ سے آئے ہیں پاکستانی نہیںہیں ان چوہوںکوتلف کرنے کیلئے کراچی سے چوہامارٹیمیں طلب کرلی گئی ہیں۔

  • Share/Bookmark
4Jul/091

بیٹی حقہ پیتی ہے ۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

sheeshaچند روز بیشتر ایک نہایت عزیز دوست بے حد پریشانی کی حالت میں میرے ہاں تشریف لائے رنگت اڑی ہوئی اور اس رنگت میں بھی ہوائیاں اڑتی ہوئیں تشریف لائے اور صوفے پر ڈھیر ہو گئے اس روز لاہور کا درجہ حرارت چھیالیس سے تجاوز کر چکا تھا اور لاہور کی سب چیلیں اپنے اپنے انڈے چھوڑ چکی تھیں بلکہ ان میں سے جو طاقت پرواز رہتی تھیں مری یا نتھیا گلی کوچ کر گئی تھیں میں نے سوچا کہ ہو نہ ہو میرے دوست پر بھی گرمی کا اثر ہوگیا ہے چنانچہ میں نے فوری طور پر پہلے تو انہیں نمکین لسی کے دوچار گلاس پلائے اور پھر ان کامنہ میٹھا کرنے کی خاطر باداموں کے شربت کا ایک گلاس پیش کیا ان مشروبات کو غٹا غٹ چڑھا جانے کے باوجود ان کی ظاہری حالت میں کچھ فرق نہ پڑا تو میں نے پوچھا’’ اجی حضرت خیریت تو ہے ناں‘‘
وہ ہکلاتے ہوئے بولے‘‘ تارڑ صاحب ، خیریت کہاں ہونی ہے میں تو لٹ گیا، آپ جانتے ہیں کیا ہوا؟

  • Share/Bookmark
26Jun/090

یہ ایک کرن ایک مسکراہٹ ہی کافی ہے – مستنصر حسین تارڑ

میں کرکٹ سے جان چھڑاتا ہوں اور یہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ۔ ۔ میں اس کے آگے ہاتھ باندھتا ہوں ،منت سماجت کرتا ہوں کہ بی بی اور بھی دکھ ہیں زمانے میں کرکٹ کے سوا لیکن اس نازنین پر کچھ اثر نہیں ہوتا جہاں میں جاتا ہوں پیچھے پیچھے چلی آتی ہے میں نے بھی بچپن اور اوائل عمری میں مقدور بھر کرکٹ کھیلنے کی کوشش کی لیکن جیسے میرے پلے الجبرا نہیں پڑتا، کمپیوٹر اور سیل فون نہیں پڑتا اسی طور کرکٹ کے حوالے سے بھی میں ہمیشہ پسڈی رہا ہوں۔ ۔ ۔ بیٹنگ کرنے جاتا تھا تو گیند دونوں ٹانگوں کے درمیان میں سے جانے کیسے گزر جاتی تھی اور سیدھی وکٹوں میں جاتی تھی یا لگتی تھی تو بیٹ کو نہیں گھٹنے کو جالگتی تھی اور میں لنگڑاتا پھرتا البتہ میری باؤلنگ کی بڑی دہشت تھی کیونکہ میں دوسرے بچوں کی نسبت ذرا مضبوط ہاتھ پاؤں والا تھا بال کرتا تو وہ بیٹس مین کے دائیں یا بائیں سے خاصے فاصلے پر سے گزر جاتی میری پھینکی ہوئی گیند کا یہ عالمی ریکارڈ ہے کہ وہ آج تک کبھی وکٹوں میں نہیں لگی اور پھر میری شاندار کرکٹ کو زوال سعادت حسن منٹو اور ان کی بیگم صفیہ کے ہاتھوں آیا۔ ۔ ۔ لکشمی فیشن کے گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلتے ہوئے میری گیند اکثر نہایت تیز رفتاری سے منٹو صاحب کے گھر کا رخ کرلیتی پھر ایک تڑاخ کی آواز کے ساتھ شیشہ ٹوٹنے کی آواز آتی اور اسکے ساتھ ہی کرکٹ ٹیم میں شامل بچہ لوگ ادھر ادھر روپوش ہو جاتے اور سارا نزلہ مجھ پر گرجاتا اگر تو منٹو صاحب گھر میں موجود ہوتے تو وہ مجھے تھوڑی بہت ڈانٹ ڈپٹ کر کے گیند واپس کردیتے اور اگر صفیہ آپا ہوتیں تو وہ ڈانٹ ڈپٹ کے علاوہ کان بھی مروڑتیں اور گیند بھی ضبط کرلیتیں منٹوصاحب کے برآمدے میں لگے بیشتر شیشے میرے کمال کرکٹ کی نذر ہوئے بیٹنگ کرتے ہوئے جب کبھی میں ذرا امتیاز احمد کے سٹائل میں

  • Share/Bookmark
22May/090

سیانے بابے اور سوات – مستنصر حسین تارڑ

بہت دنوں سے یہ سوات ہے جس کا اجاڑ پن دل میں اداسی بھرتا ہے اس وادی کے پیارے سو ہنے لوگ ہیں جن کی بے گھری کا خیال آتا ہے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے اخبار میں جب کسی بھی لیڈر کا ایسا بیان پڑھتا ہوں جو سوات سے متعلق نہیں ہوتا تو اس کی شکل اچھی نہیں لگتی کہ بھائی میاں آپ اندھے ہو آپ کو سوات دکھائی نہیں دیتا حالانکہ میں اقرار کرتا ہوں کہ یہ رویہ بہت زیادہ مثبت نہیں ہے کہ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں سوات کے سوا ملک کو اس کے علاوہ بھی مسائل درپیش ہیں لیکن کیا کروں کہ فی الحال طبعیت ادھر نہیں آتی یوں میری تحریریں بھی سوات تک محدود ہو گئی ہیں چنانچہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج دکھ کے سلسلے بھول کر آپ کے چہروں پر مسکراہٹ لاؤں گا اور آپ کو ایک عمدہ سا لطیفہ سناؤں گا کہتے ہیں کہ کسی بستی میں کہیں سے ایک بہت بڑا مینڈک آگیا اور بستی والوں نے آج تک کبھی کوئی مینڈک دیکھا نہیں تھا تو شدید پریشان ہوئے کہ یہ کیا جانور ہے اب پلیز آپ یہ اعتراض نہ کیجئے گا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی بھی بستی والوں نے مینڈک نہ دیکھا ہو، کیا وہاں کوئی جوہڑ نہ تھا اور کیا وہاں ساون بھادوں کے موسموں میں ننھے منے مینڈک ہر سو اچھلتے نہ تھے جناب من لطیفہ لطیفہ ہوتا ہے اسے حقائق پر نہیں پرکھا جاتا آپ نے کبھی اپنے سیاستدانوں کے بیانات کو حقائق پر پرکھا ہے وہ دن رات آپ کو لطیفے سناتے رہتے ہیں تو آپ نے کبھی اعتراض کیا ہے تو پلیز میرے لطیفے پر بھی اعتراض مت کیجئے بہرحال وہ بستی والے جنہوں نے آج تک کوئی مینڈک نہ دیکھا تھا مینڈک کو ایک سیانے بابے کے پا س لے گئے،اور اس سے اس حوا لے سے پوچھا، یوں بھی اپنے ان سیانے بابوں کی قدر کرنی چاہیے جو ابھی زندہ ہیں اگرچہ بابا جی فربہ اور خوب ٹروتے ہوئے مینڈک کو اپنے درمیان پاکر بے حد پریشان ہوئے کہ آخر یہ کوانسا جانور ہے چنانچہ انہوں نے چند کوس پر واقع ایک اوربستی میں مقیم ایک’’ سیانے سے رجوع کیا جو اتنا سیانا تھا کہ اس کا نام ہی سیانا بابا پڑگیاتھا سیانا بابا نے گھر سے چلتے ہوئے اپنے مریدوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے ساتھ باجرے کی ایک پوٹلی اور چند گنے لیتے چلیں حکم کی تعمیل ہو گئی سیانا بابا نے جب مینڈک دیکھا تو ان کی بھی سٹی گم ہو گئی کہ انہوں نے بھی ایسا جانور کبھی نہیں دیکھاتھا انہوں نے سب سے پہلے مینڈک کے آگے باجرے کے دانے ڈالے اور جب مینڈک نے انہیں قابل توجہ نہ سمجھا تو سیانا بابا نے وثوق سے کہا، یہ طے ہے کہ یہ بٹیرا نہیں ہے پھر اس کے آگے گنے رکھے گئے تو وہ پھر بھی متوجہ نہ ہوا تو سیانا بابا نے کہا کہ اگر یہ گنے کھالیتا تو یقیناً ہاتھی تھا تو گویا ہاتھی بھی نہیں ہے اس دوران مینڈک نے اچھلنا شروع کردیا تو سیانا بابا نے نعرہ لگایا کہ اوہو یہ تو ہرن ہے اس پر بستی والے بے حد شکر گزار ہوئے اور بابا سیانا زندہ باد کے نعرے لگانے لگے لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ باباسیانا تو نہایت دھواں دھار طریقے سے روئے چلا جارہا ہے اور جب اسے چپ کرانے

  • Share/Bookmark
15May/090

امریکی ویزا اور موٹروے – مستنصر حسین تارڑ

جب موٹروے کی تعمیر اور تکمیل ہوئی تو اس کے بارے میں طرح طرح کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ قومی خزانہ خالی ہوگیا ہے ہمارا ملک موٹروے کی عیاشی افورڈ نہیں کرسکتا اس سے کہیں بہتر تھا کہ جی ٹی روڈ کی حالت زار پر توجہ دی جاتی اور دراصل یہ صرف اس لئے تعمیر کی گئی ہے وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ اس پر اپنی سپورٹس کاریں دوڑاتے پھریں لیکن اب جاکر احساس ہوتا ہے کہ قومی خزانہ تو یوں بھی خالی ہونا تھا اور غیر ملکی قرضوں میں بھی بہرطور اضافہ ہونا تھا اور یہ رقمیں ہمیشہ کی طرح جانے کن منصوبوں پر خرچ ہونی تھی یا خوردبرد ہو جانی تھیں تو کیا ہی اچھا ہوا کہ موٹروے تعمیر ہو گئی جو کم از کم دکھائی تو دیتی ہے اور مجھ ایسے بزرگ ڈرائیور حضرات کو آرام سے اسلام آباد پہنچا دیتی ہے ورنہ پچھلی دنوں صرف گوجرانولا تک کا سفر جی ٹی روڈ پر کیا جس کے نتیجے میں میری بدنی ساخت میں خاصا ردوبدل ہوگیا ریڑھ کی ہڈی کے مہر ے شطرنج کے مہروں کی مانند آگے پیچھے ہو گئے ایک دو پسلیوں کو بھی ضعف پہنچا اور کم از کم تین روز تک ’’ ہائے ہائے کرتا پھرا۔ ۔ ۔

  • Share/Bookmark
25Apr/090

اقبال بانو ،دشت تنہائی میں۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

موت اور آپ کے درمیان ایک فاصلہ ہو تو وہ رومانوی لگتی ہے اس کادکھ محسوس تو ہوتا ہے پر سینے میں ایک گھاؤ نہیں لگاتا اور یہ فاصلے عمرے کے ہوتے ہیں برسوں کے ہوتے ہیں جب آپ جوان ہوتے ہیں اور مرنے والا آپ سے بہت دور بڑھاپے کی منزلوں پر ہوتا ہے تو آپ اس کی موت کو اپنے ساتھ متعلق نہیں کرتے کہ یہ اصولی طور پر آپ کے مرنے کے دن نہیں ہوتے لیکن پھر آپ برسوں کے فاصلے طے کرتے اس مقام پر جاپہنچتے ہیں جس کے آگے جینے کے بہت سے دن نہیں ہوتے جیسے بابا فرید نے کہا تھا کہ اے فرید اب نیند سے بیدار ہوجاؤ کہ تمہاری داڑھی سفید ہوچکی ہے اور تمہارا پیچھا یعنی گزشتہ حیات بہت دور ہوگئی ہے اور تمہارا آگا یعنی جو کچھ آگے ہے وہ نزدیک آگیا ہے تو ان زمانوں میں موت بہت اثر کرتی ہے کہ آپ بھی اس کے اتنے نزدیک آچکے ہوتے ہیں کہ اگلی باری آپ کی بھی ہوسکتی ہے یوں جب کبھی کسی عزیز یا جان پہچان والے کی موت کی خبر آتی ہے تو وہ ایک یادہانی کے طور پر آتی ہے اور آپ نہ صرف اس شخص کے بچھڑنے پر ملال میں چلے جاتے ہیں بلکہ اپنے خاک ہوجانے کے ڈر سے بھی خوفزدہ ہوجاتے ہیں تب یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ بابا لوگ کسی کے مرنے پراتنا واویلا کیوں کرتے ہیں اور جو بھی مرتا ہے اس کے چلے جانے کا اتنا چرچا کیوں کرتے ہیں اس کے ساتھ اپنی رفاقت کی کہانیاں کیوں سنانے بیٹھ جاتے ہیں۔

  • Share/Bookmark
23Apr/090

یہ خواب کیوں آیا۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

مجھے خواب کم ہی آتے ہیں اور میں اکثر ان لوگوں کو نہایت رشک سے دیکھتا ہوں جن کے پاس ہر صبح درجن بھر خوابوں کی ایک فہرست ہوتی ہے اور وہ انہیں پوری تفصیل کے ساتھ آپ کو سنانا اپنا فرض سمجھتے ہیں چاہے آپ کو ان سے دلچسپی ہو یا نہ ہو۔ ہر شخص کو اس کے عقیدے ، خاندان ، رسم ورواج اور موسموں کے مطابق خواب آتے ہیں یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک مسلمان کو مہاتما بدھ خواب میں دکھائی دینے لگیں یا تبت کا کوئی بدھ لامہ حضرت یحییٰ کو خواب میں دیکھنے لگے۔ اس طور ایک افریقن اپنے خواب میں وہی جانور دیکھے گا جو اس کے آس پاس گھومتے ہیں اور انہی موسموں کے خواب دیکھے گا جو اس کے اپنے ملک کے ہوںگے یعنی ایک افریقی خواب میں یہ نہیں دیکھے گا کہ وہ اپنے برف سے بنے گھر ’’اگلو‘‘ میں قیام پذیر ہے اور وہ برفانی کتے جو اس کی گاڑی برفزاروں پر کھینچتے ہیں وہ کہیں گم ہوگئے ہیں اور وہ فکر مند ہے کہ اب مزید برفانی کتے کہاں سے حاصل کروں گا اس طور ایک اسکیمو کو یہ خواب نہیں آئے گا کہ وہ کسی صحرا میں پیاس کی شدت سے نڈھال ہے اس کا اونٹ فوت ہوچکا ہے اور دور دور تک کھجور کے کسی درخت کا نام ونشان نہیں۔ویسے میرے پورے خاندان والوں کو خواب کم ہی آتے ہیں یاد رکھئے کہ خواب آنے اور خواب دیکھنے میں واضح فرق ہوتا ہے میں ذاتی طور پر خواب تو بہت دیکھتا ہوں لیکن عالم بیداری میں اپنے خاندان اور اپنے ملک کی بہتری کے خواب کچھ خواہشوں کے خواب لیکن نیند کے دوران مجھے

  • Share/Bookmark
14Apr/090

ناشتے پہ ناشتہ – مستنصر حسین تارڑ

کہا تو یہی جاتا ہے کہ ایک دوسرے کو کھلانے پلانے اور دعوتیں دینے سے آپس میں پیار محبت بڑھتا ہے لیکن میرا تجربہ ہے کہ پیار محبت کم اور وزن زیادہ بڑھتا ہے اور ان دنوں میرے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے ۔
لاہور کے پارکوں اور باغوں میں کھانے پینے کی رسم بے حد پرانی ہے مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب کبھی شدید گرمی کے بعد بادل امڈ امڈ کر آنے لگتے اور رم جھم پھوار پڑھنے لگتی تو میرے ماموں جان فوری طور پر اپنے دوست ابراہیم کو طلب کرتے کہ یار موسم بڑا ظالم ہورہا ہے کچھ کرو۔ ۔ ۔ ابراہیم صاحب فوری طور پر آموں کے دو ٹوکرے حاصل کرتے انہیں کپڑے دھونے والے ٹپ میں کم از کم ایک من برف میں دفن کرتے اور پھر اس ٹب کو کانوں سے پکڑ کر ایک ریڑھے پر رکھا جاتا اور ہم سب بھی ریڑھے پر سوار اور چل بھئی لارنس گارڈن۔ ۔ ۔
جن دنوں میں ان زمانوں کے لارنس گارڈن اور آج کے جناح باغ میں سیر کیا کرتا تھا تو وہاں ایک بہت گورا چٹے پہلوان آیا کرتے تھے وہ سیر تو کم ہی کرتے تھے البتہ اپنے پسندیدہ بنچ پر بیٹھ کر توندزیادہ کھجایا کرتے تھے ہر اتوار ان کی جانب سے دوستوں کے لئے ناشتے کا بندوبست ہوتا جس کا آغاز باداموں والے دودھ اور انجام بدہضمی پر ہوتا کہ یہ ایک خصوصی اور لاہوری ناشتہ ہوتا جس میں کلسٹرول کی مقدار خوراک سے زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کا ہماری صحت پر مضر اثر ہرگز نہ ہوتا کہ ان دنوں کلسٹرول دریافت نہیں ہوا تھا اور اگر دریافت ہی نہیں ہوا تھا تو بھلا وہ صحت کے لئے نقصان دہ کیسے ثابت ہوسکتا تھا یہ ایک سادہ فلسفہ ہے۔

  • Share/Bookmark

Canonical URL by SEO No Duplicate WordPress Plugin