میں جب کبھی کوئی ایسی خبر پڑھتا ہوں جس میں ہمارے ملک کا کوئی اہم فنکار، تخلیق کار، گلوکار کسی ناگہانی بیماری کا شکار ہو کر عوام سے یاحکومت وقت سے مدد کا طالب ہوتا ہے، تو ایک گہرے رنج سے میرا دل کٹ ساجاتا ہے ،میں ایک دکھ بھری سوگواری کا شکار ہو جاتا [...]

 

ایک مرتبہ کسی انٹرویو کے دوران ایدھی بابا سے پوچھاگیا کہ جناب یہ جوصاحب حیثیت لوگ غریب لوگوں کیلئے دیگیںچڑھاتے ہیںاورانہیں اپنے ہاتھوںسے تقسیم کرتے ہیں یاکسی خاص دن خیرات تقسیم کرتے ہیں تواس کے بارے میں آپ کاکیاخیال ہے تو ایدھی صاحب نے اپنے مخصوص لہجے میںکہا’’یہ کھراب سسٹم کی کھراب نیکیاںہیں‘‘ یعنی اگر [...]

 

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ ان دنوں بینکوں کے باہر ’’یہاں حج کی درخواستیں وصول کی جاتی ہیں ‘‘ کہ جو بینر آویزاں ہیں انہیں دیکھ کر میں ایک عجیب اضطراب میں مبتلا ہوجاتا ہوں کہ وہ کیسے نصیب والے ہیں جو یہاں درخواستیں دیں گے اور حج پر جانے [...]

 

ایک زمانے میں میں بہت بدنام تھا کہ یہ شخص انسانوں کے بارے میں کم کالم لکھتا ہے اور جانوروں کے بارے میں زیادہ لکھتا ہے۔ اسے انسانوں کی نسبت الو،گدھے، دریائی گھوڑے، مگر مچھ اور اودبلاؤ وغیرہ زیادہ پیارے ہیں۔ اس الزام سے بچنے کے لیے میں نے مسلسل انسانوںکے بارے میں کالم لکھے [...]

 

مجھے اپنے میڈیاسے شدیدشکایت ہے کہ یہ ان خبروںسے غفلت برتتاہے جوقومی اوربین الاقوامی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔اگرمشرف کے ٹرائل کی بات ہوتی ہے تو اس پرخصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں ، کالم نگار بے پر کی تونہیںپروںوالی اڑانے لگتے ہیں، چوہدری شجاعت کچھ بھی ارشادفرمائیںچاہے ایک ٹرک اوردوجیپوں کی دردن پردہ خواہش [...]

 

گوجرہ کے سانحے کے حوالے سے میں نے جو کالم تحریر کیا تھا اس کا عنوان تھا ’’جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا ‘‘ تب تک وہاں صرف گھر جلے تھے، کلیساء جلے تھے اور ان کے اندربائبل کے نسخے تھے وہ جلے تھے پھر خبر آئی کہ اب وہاں جسم بھی [...]

 

اتوار اگست 2, 2009 دل کو دکھ دینے والی روح کو مجروح کردینے والی بدن کو جھلسا دینے والی بری بری خبروں نے مجھے پژمردہ کر رکھا تھا مجھے بیمار کر ڈالا تھا اور پھر ایک مسیحا آیا اس نے میرے درد کی دوا تجویز کی میرے سامنے سیب کی مانند سرخی سے دہکتا ایک [...]

 

کہتے ہیں کہ ہر انسان پرزندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت آتا ہے جب کسی ایک لمحے وہ کسی جرم کا ارتکاب کرسکتا تھا، قتل کرسکتا تھا، چوری کرسکتا تھا یا کسی سے زبردستی کرسکتا تھا لیکن یہ اس انسان کی خوش بختی ہوتی ہے کہ وہ لمحہ گزر جاتا ہے اور وہ شرمندگی [...]

 

میں ٹیلی ویژن بہت کم دیکھتاہوں اورجب دیکھتا ہوںتو چلتے پھرتے،پڑھنے لکھنے سے اکتا گئے تو ذرا آنکھیں سینکنے کے کچھ ہوش ربانوعیت کے گانے وغیرہ دیکھ لیے جن میںاکثر خواتین کو لگتاہے کہ مرگی پڑگئی ہے، آخری دموں پرتھرکتی نظر آتی ہیں،نہ لباس کاہوش اورنہ تن کا۔ بلکہ لباس سے تو اکثر اجتناب کیاجاتاہے [...]

 

چند روز بیشتر ایک نہایت عزیز دوست بے حد پریشانی کی حالت میں میرے ہاں تشریف لائے رنگت اڑی ہوئی اور اس رنگت میں بھی ہوائیاں اڑتی ہوئیں تشریف لائے اور صوفے پر ڈھیر ہو گئے اس روز لاہور کا درجہ حرارت چھیالیس سے تجاوز کر چکا تھا اور لاہور کی سب چیلیں اپنے اپنے [...]

© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha