چوراہا… حسن نثار

آج کل کچھ لوگوں کو جمہوریت کا دورہ پڑا ہوا ہے حالانکہ ہماری یہ کم بخت جمہوریت بھی ملوکیت

(MONARCY) ، شخصی اقتدار (AUTOCRACY) اور آمریت یعنی (DICTATORSHIP)ہی کی زیادہ چالاک اور مکار بہن ہے۔
قرآن پاک کا واضح فرمان ہے وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (الانعام : 116) کہ اگر تم محض اکثریت کو معیار اطاعت قرار دے لو گے تو صحیح راستے سے بھٹک جاؤ گے۔ قرآنِ پاک کی ابدی عظمت کا ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ اس نے انسانی آزادی اور محکومی کے تصورات ہی تبدیل کر دیئے اور انسانوں پر انسانوں کی حکومت کو ہی باطل قرار دے دیا۔ کسی فرد یا افراد کی پارٹی کو یہ حق ہی حاصل نہیں اسی لئے علامہ اقبال نے قدم قدم پر اسے بے نقاب کیا لیکن بدقسمتی یہ کہ جمہوریت کی شان میں یورپی قصیدوں کے سامنے کانپتے اور فکری افلاس کے مارے ذہنوں نے اسے ہی امرت دھارا، آب حیات اور تریاق سمجھ لیا حالانکہ اس کے نتیجہ میں وہی کچھ ہوتا ہے جو اس ملک میں ہو رہا ہے۔ اس موضوع پر کسی سیاستدان کی رائے تو ویسے ہی بیکار ہے کیونکہ یہ تو اس نام نہاد جمہوریت کے اصل بینی فشریز ہوتے ہیں اور اسی کے سبب ان کی لاٹریاں نکلتی ہیں، حکومتیں بنتی ہیں اور بیرون ملک خزانے جمع ہوتے ہیں۔ اقبال کی سنئے جو کہتا ہے # Continue reading »

چوراہا …حسن نثار

ہم تو بڑے بڑے حادثات پر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے، تماشہ دیکھتے رہتے اور خون نے بہت جوش مارا تو ماتم کرلیا، سینہ پیٹ لیا، خون کے آنسو رولئے۔ زیادہ دورنہیں جاتے کہ ابھی کل کی بات ہے جب داراشکوہ اور اس کے بیٹے سلمان شکوہ کو اک مریل سی غلیظ ہتھنی پر بٹھاکر پوری دلی میں گھمایا گیا، ذلیل و رسوا کیا گیا، بے تحاشہ توہین و تذلیل کا نشانہ بنایا گیا۔ پوری دلی رورہی تھی، لوگ سوگوار تھے، گھروں میں چولہے نہیں جلے، عوام سرعام سسکیاں لیتے رہے، دو ہتڑ مارتے رہے، چیختے چلاتے اور احتجاج کرتے رہے لیکن اجتماعی طور پر عملاً کچھ نہ کرسکے اور داراشکوہ کو تقریباً پورے خاندان سمیت تہہ تیغ کردیا گیا۔ Continue reading »

چوراہا … حسن نثار

پوچھا … ”اگر قدرت تم پر تیروں کی بوچھاڑ کر دے تو تم کیا کرو گے؟“ ”میں تیر انداز کے پہلو میں پناہ لے لوں گا“ مرید نے جواب دیا تو مرشد نے خوش ہو کر کہا کہ ”بے شک بچاؤ کا اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں۔
توبہ یقینا بہت مضبوط اور بڑی ڈھال ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ زبانی کلامی کارروائی ڈال دی جائے، گڑگڑا لیا جائے، دو نمبر قسم کی رقت طاری کر لی جائے یا مگرمچھ جیسے آنسوؤں سے بالٹیاں بھر دی جائیں۔ یہ سب کچھ تو ہر روز ہوتا ہے لیکن ہمارے ”اجتماعی امتحانات“ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ یہ سب کچھ غارت اور اکارت کیوں جا رہا ہے؟ کیا ہم پر توبہ کے دروازے بند ہو چکے؟ Continue reading »

چوراہا …حسن نثار

قارئین کے ساتھ ایک بہت ہی سادہ اور کامن سینس والی بات شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی گزشتہ حکومت ہو یا حالیہ … وفاقی حکومت ہو یا صوبائی تو میرے بھائی! یہ لوگ تو نارمل حالات میں کبھی ”گڈ گورننس“ کی کوئی جھلکی یا جلوہ نہ دکھا سکے تو اتنے ابنارمل حالات اور ایسی تہہ در تہہ پیچیدہ ایمرجنسی میں یہ کون سی توپ چلا لیں گے؟ سیلاب تو سیلاب اس کے بعد اس آفت نے جو انڈے بچے دینے ہیں، ان کا تصور کرتے ہی رونگٹے کھڑے ہونے اور دماغ پھٹنے لگتا ہے مثلاً صرف اور صرف اس ایک پہلو پر غور فرمائیں کہ یہ سیلاب بہت سی زمینیں اگل دے گا اور بہت سی زمینیں نگل جائے گا جو اس کے سرکش پانیوں میں بہہ چکی ہوں گی تو دوسری طرف ان زمینوں کا ریکارڈ بھی بہہ چکا یعنی نہ مالکان کے پاس کوئی ریکارڈ اور نہ سرکار کے پاس اور اوپر سے بددیانت، لالچی، بے رحم اور با اثر لوگ تو ایسے میں ہو گا کیا؟ بھلے دنوں میں بھی گڈ گورننس تو کیا عام گورننس سے بھی تہی دامن یہ ”جعلی ڈگری و جعلی عکس“ کیا کر لے گا؟ Continue reading »

چوراہا … حسن نثار

کرنے والوں کے چہروں پرجلی حروف میں لکھا تھا کہ وہ احساس سے ہی عاری ہیں کہ کرکیا رہے ہیں اور جن کے ساتھ ہورہا تھا وہ بھی اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ ان کے ساتھ ہوکیا رہا ہے۔ سوائے جسمانی درد کے جو ان کے چہروں سے عیاں تھا کہ جسم پر چوٹ لگنے سے تو حیوان بھی بلبلا اٹھتا ہے… یہ تو پھر انسان تھے اور میں حیران پریشان سوچ رہا تھا کہ ان دونوں گروہوں میں سے صحیح کون ہے؟ غلط کون ہے؟ شاید دونوں ہی اپنی اپنی جگہ صحیح تھے یا شاید دونوں ہی غلط تھے اور اپنی اپنی جگہ مجبور
یہ سکھر کا واقعہ ہے جو میڈیا کی آزادی کے باعث میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔میاں نواز شریف نے متاثرین سیلاب سے خطاب فرمایا ، ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور بتایا کہ وہ ان کے لئے امدادی سامان Continue reading »

چوراہا … حسن نثار

یہ وسیع و عریض ناقابل تسخیر قلعہ سطح سمندر سے تقریباً 1230فٹ مستقیماً بلند اور اس کا محیط لگ بھگ 5میل تھا ۔ اس کے اور نزدیک ترین پہاڑی کے درمیان 1200گز چوڑی خندق تھی۔ قلعہ کی دیواریں زمین سے عمودی اٹھی ہوئی تھیں جن کی اونچائی 150فٹ سے 180فٹ تک تھی یعنی تقریباً ناقابل رسائی۔ قلعہ کے چاروں جانب فصیل تھی جو پہاڑیوں کی تلہٹی سے شروع ہو کر اوپر تک جاتی۔ اول تو اس فصیل پر چڑھنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی لیکن اگر کہیں تھی تو وہاں ایک اور دیوار کھڑی کر دی گئی تھی۔ اس مورچہ بند پہاڑی تک پہنچنے کا صرف ایک ہی راستہ تھا اور وہ بھی پہاڑ کی ڈھال پر سے ترچھا ہو کر جنوب مشرق پہنچتا۔ یہ راستہ تنگ و ناہموار ہی نہیں کانٹے دار جھاڑیوں سے پر تھا اور کہیں کہیں تو بالکل عمودی ہو کر پہلے یا نچلے دروازے تک پہنچتا۔ Continue reading »

چوراہا…حسن نثار

سوائے غموں، دکھوں، بھوک، بے روزگاری، بدامنی، سیلابوں اور عذابوں کے یہاں کچھ بھی اصلی نہیں۔ سب کچھ جعلی ہے جعلی جمہوریت، جعلی آمریت، جعلی دوائیاں، جعلی نمبر پلیٹیں، جعلی پولیس مقابلے، جعلی عامل بابے اور پیر، فقیر، جعلی ڈگریاں، جعلی وصیتیں، جعلی نکاح نامے، جعلی برتھ سرٹیفکیٹ، جعلی کرنسی… صرف مہنگائی اصلی ہے اور خودکشیاں خالص ہیں۔ یہاں تو لاٹریاں بھی صرف لٹیروں کی نکلتی ہیں، جنہیں پکڑنے کا حکم ہوتا ہے وہ پروٹوکول کی پروٹیکشن میں ہوتے ہیں۔ عوام کے لئے استری ٹھنڈی ہو تو استرا گرم اور تیز ہو جاتا ہے۔ زخموں پر نمک ہی نہیں چھڑکا جاتا بلکہ لیموں بھی نچوڑا جاتا ہے۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں کیرم بورڈ پر بورک کی جگہ گرم ریت ڈال کر کھیل رہی ہیں اور ان سب نے مل جل کر جمہوریت کو رکھیل بنایا ہوا ہے۔ اس کی حیثیت اک ایسے کھیل سے زیادہ نہیں جس کے کوئی قواعد و ضوابط نہیں ہوتے۔ Continue reading »

چوراہا …حسن نثار

یہاں پیشہ ور ”امیدیئے “ بہت ہیں جو بغیر کسی وجہ کے امید کی اندھی اور اندھیری کرنیں بکھیرتے رہتے ہیں تاکہ ”مثبت “ دکھائی دیں جبکہ ہم جیسے حالات میں ”حقیقت “ اور ”حقائق “ پر نظر رکھنا زیادہ ضروری ہے چاہے کسی کو آگ لگے یا مرچیں، کوئی بھی انسانی معاشرہ سو فیصد شیطانی یا سو فیصد رحمانی نہیں ہوتا نہ ہو سکتا ہے کیونکہ جہاں انسان ہو گا وہاں گناہ اور جرم بھی ہو گا، خیر کے ساتھ ساتھ شر بھی ہو گا۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی معاشرہ میں خیروشر …خوبصورتی و بدصورتی … اچھا ئی اور برائی … نیکی اور بدی کا تناسب کیا ہے ؟ اگر کسی معاشرہ میں خیر، خوبصورتی، اچھائی اور نیکی کا تناسب بڑھ جائے ، خیر کا غلبہ ہو، نیکی کے ”شیئرز “ اکیاون فیصد ہو جائیں اور بدی کے ”شیئرز “ 49فیصد رہ جائیں تو وہ بہتر معاشرہ کہلائے گا ۔بدی ڈومینیٹ کر جائے تو یہ ”بد“ کہلائے گا ۔ ہمارے Continue reading »

چوراہا …حسن نثار

انسانی جسم کی کہانی دراصل پانی کے گرد ہی گھومتی ہے کہ اس میں باقی سب کچھ بہت ہی کم اور باقی سب پانی ہی پانی ہوتا ہے۔ یہی حال اس کرہ ارض کا ہے جس کا زیادہ تر حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پانی زندگی ہے لیکن ہمارے لئے یہی زندگی موت کا پیغام بن گئی اوپر ڈرون کا عذاب نیچے سیلاب۔
میں کہ خوش ہوتا تھا دریا کی روانی دیکھ کر
کانپ اٹھا ہوں گلی کوچوں میں پانی دیکھ کر
سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا، اک تازہ ترین خبر کے مطابق دیربالا میں آسمانی بجلی گرنے سے پورے کا پورا گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گیا اور ایک ہی خاندان کے بارہ افراد سمیت 30افراد ہلاک ہوگئے جن میں سے 23کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ ادھر سٹیٹ بینک سے ملنے والی ”نوید مسرت“ اپنی جگہ کہ مہنگائی اس سال بھی بڑھے گی۔ بجٹ خسارہ پورا کرنا مشکل ہوگا۔ قرضے اقتصادی استحکام پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ Continue reading »

…چوراہا حسن نثار

صدقہ رد بلا ہے
قوم کو صدقہ دینا ہوگا، مختلف مصائب، اذیتوں، عذابوں اور بلاؤں میں گھری ہوئی قوم کو اجتماعی صدقہ دینا ہوگا اور صدقہ کے لئے بیش قیمت، صحت مند، خوب پلے ہوئے وی وی آئی پی قسم کے بکروں، چھتروں، دبنوں، مینڈھوں، بیلوں اور مقدس قسم کے بچھڑوں کی قربانی دینا ہوگی ورنہ بلاؤں کی یلغار نہ صرف جاری رہے گی بلکہ اس کی وحشت اور شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ Continue reading »

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha