بیچارے پاکستانی کیا کریں؟ (قسط 3) حسن نثار
عبادات کا ”اصل“ اور ”مغز“ فراموش کر بیٹھنے کے حوالہ سے یا یوں کہہ لیجئے کہ ہم لوگوں میں روح عمل کے فقدان کو سمجھنے کیلئے مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ تبصرہ ہمیں جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہونا چاہئے۔ مولانا عبدالمجید سالک راوی ہیں کہ ایک دن تصوف پر گفتگو کرتے ہوئے ابوالکلام آزاد کہنے لگے کہ تصوف کی کتابوں اور اولیاء کے تذکروں میں اس قسم کے واقعات اکثر نظر سے گزرتے ہیں کہ خواجہ قطب الدین کاکی محفل سماع میں بیٹھے تھے۔ مطرب نے شیخ احمد جام کا یہ شعر پڑھا
بیچارے پاکستانی کیا کریں؟ حسن نثار…(قسط2)
کبھی نہ بھولنے اور ہمیشہ یاد رکھنے والی اک حسین حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی عبادات باقی مذاہب کی عبادات سے مختلف و منفر د ہیں۔ ہماری ہر عبادت کثیرالمقاصد، بامقصد اور بامعنی ہے اور ہماری کوئی بھی عبادت خود ENDنہیں بلکہA mean to achieve verious ends یعنی عبادت خود منزل نہیں بلکہ بے شمار منزلوں تک پہنچنے کا رستہ ہے بشرطیکہ ہم ہر عبادت کے”اصل“…”جوہر“…”روح“ کو سمجھ کر ادا کی گئی نماز مندرجہ ذیل تحائف عطا کرے گی۔
بیچارے پاکستانی کیا کریں ؟- حسن نثار…(قسط 1)
اس وقت سب سے اہم اور بنیادی سوال یہ ہے کہ ہر طرف سے ہر قسم کی اذیتوں میں گھرے ہوئے پاکستانی کیا کریں ؟تو اس سوال کا فوری جواب تو یہ ہے کہ فوراً یہاں سے ہجرت کر جائیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انہیں قبول کون کرے گا؟ کیونکہ متمول برادر اسلامی ممالک تو منہ نہیں لگاتے اور اہل مغرب بھی جو کبھی خوشدلی سے اکاموڈیٹ کر لیا کرتے تھے ، ہم میں سے کچھ کی حرکتوں کے سبب چوکنے ہو کر ننگی تلاشیوں پر اتر آئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہمیں یہیں رہ کر کچھ کرنا مرنا ہو گا … کیا کریں؟ تو آیئے میں کچھ کاموں کی اک ادھوری سی لسٹ مرتب کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ بیچارے بخت ہارے پاکستانی کیا کریں ؟ آپ بھی اس ذہنی کارخیر میں حصہ ڈالئے تاکہ فائنل فہرست مرتب کی جا سکے جسے گاہے گاہے ”اپ گریڈ “ کرتے رہیں گے ۔
NA-55 سے وزیراعلیٰ پنجاب تک
حسن نثار
پورا ملک متوجہ تھا اور اصل نتیجہ بھی توقعات کے عین مطابق ہی نکلا۔ این اے 55 کے نتائج سے میری دلچسپی کی وجوہات ذرا مختلف تھیں۔ اندازہ تھا کہ شیخ رشید ہاریں گے لیکن میرا تجسس تھا کہ وہ گزشتہ کے مقابلہ میں اس بار سیاسی طور پر کتنا Recover کرتے ہیں تو اس حوالہ سے شیخ صاحب کی پرفارمنس بری نہیں جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
کردار سے کردار تک- حسن نثار
ہم کیسے عجیب لوگ ہیں جن لوگوں کے وارث اور رشتہ دار بنتے ہیں جبکہ ہمارے اپنے کردار؟؟؟اپنے بڑوں کا تو ذکر ہی کیا کہ ہمارے تو نسبتاً گمنام بزرگ ہی مان نہیں۔غلیظ سیاست اور مردارمعیشت کے رونے تو روز روئے جاتے ہیں آج کچھ ایسے بزرگوں کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے ہیں جن سے تعلق جتاتے ہوئے کم از کم مجھے تو شرم آتی ہے۔
بحران سے بین تک- حسن نثار
یہ نہ کوئی پیشہ ور سٹریٹ فائٹرز تھے نہ اندرون شہر کے رنگ باز نہ جھنگ بازار لائلپور کے ٹکر مار، نہ مارشل آرٹس کے تند خو ماہرین اور نہ ہی یہ مونچھوں کی اونچائی نیچائی کا کوئی مقابلہ تھا کہ ہار جیت یا تھوک کر چاٹنے جیسے طعنے دیئے جائیں۔ دو محترم اداروں کے سربراہ تھے جنہوں نے تدبر، تحمل، تجمل اور توازن کا مظاہرہ کرکے ”یوم ہڑتال“ کو ”یوم تشکر“ میں تبدیل کر دیا۔
نوحے سے نظم تک
حسن نثار
یہ وہ لوگ ہیں جن کا ذکرکرنے کے بعد قلم کو تیزاب سے غسل دینا چاہئے ۔ ملک بدترین مہنگائی اور خوفناک ترین بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے اور یہ ایک دوسرے کے پتلے جلا کر جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے بھول رہے ہیں کہ آگ در آگ کا یہ کھیل کیا کچھ جلا کر راکھ کرسکتا ہے۔کیا منیر نیازی مرحوم کی خواہش تکمیل پانے کو ہے۔
لیسکو “ سے عاملوں کے آستانے تک…چوراہا … حسن نثار
اصل موضوع خاصا عجیب ہے اور اس پر مضبوط گرفت کیلئے ضروری ہے کہ پوری طرح وارم اپ ہونے کیلئے پہلے کسی انتہائی عوامی موضوع پر قلم اٹھایا جائے تو بھلا بجلی کی اووربلنگ سے زیادہ عوامی موضوع کون سا ہو گا؟چند روز قبل میں ”جیو “ کے کسی پروگرام میں اووربلنگ پر تبصرہ سن رہا تھا کہ اپنے زخم ہرے ہو گئے۔
متنجن -حسن نثار
بہت کم موضوعات ایسے ہوتے ہیں جن پر پورے کا پورا کالم قربان کیا جا سکتا ہے ورنہ لسی، لڑائی اور کالم کا کیا ہے، جتنا چاہو لمبا کر لو لیکن مجھ سے ایسا نہیں ہوتا اس لئے اکثر ایک سے زیادہ موضوعات کو لپیٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔
روشن آدمی…کالے قول-حسن نثار
حقانی صاحب ان لوگوں میں سے تھے جوصحیح معنوں میں تمام تر سنجیدگی کے ساتھ ملکی مستقبل بارے فکرمند رہتے اور معاشرے کے انحطاط پرکڑھتے سو اس حوالہ سے دیکھیں توان کا رخصت ہونا ہمارے لئے نقصان دہ لیکن خود ان کے لئے باعث آسودگی ہوگا کہ اس اذیت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات پا گئے جس میں آدمی روز جیتا اور روزمرتا ہے۔ حقانی صاحب سے پہلی ملاقات اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ مجھے آج بھی یادہے۔
ہمارے سیاستدان اور کڑچ پہلوان- حسن نثار
کبھی پہلوانی بھی ہمارے کلچر کا حصہ تھی۔ شہروں سے لے کر دیہاتوں تک دنگل ہوا کرتے تھے۔ نیلی، پیلی، سبز، گلابی اوری پگڑیاں…چم چم کرتے رنگین ریشمی لاچے، موٹی موٹی گردنوں میں جھولتے نوٹوں کے ہار، صحت مند بازؤں میں کسے چرمی تعویذ، ٹانگوں کی قطاریں، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے، رقص اور دیواروں، درختوں پر چسپاں پوسٹرز جن پر مختلف پہلوان لنگوٹ پہن کر گرز لئے کھڑے ہوتے اور اس قسم کی تحریریں پڑھنے کو ملتیں۔
لائلپور المعروف فیصل آباد تک- حسن نثار
یہ سلسلہ بڑی دیر سے جاری تھا کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لائلپور (فیصل آباد) کے بڑے مجھے دعوت دیتے اور میں بوجوہ اپنی ہی مادر علمی پر حاضری سے محروم رہ جاتا۔ اس بار دعوت ملی تو بچپن کا دوست محمود مرزا اور چھوٹا بھائی نوید نثار ساتھ بیٹھے تھے۔
اب کے ہم بچھڑے تو- حسن نثار
تفصیلی ملاقات کے بعد جب اس نے رخصت کی اجازت چاہی تو پادری نے اسے باہر جانے کے لئے پچھلی طرف کادروازہ دکھایا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا…”ذرا جھک کر جانا“فرنیکلن جلدی میں بات نہ سمجھ سکا اور تیزی سے نکلتا چلا گیا۔راستے کے اوپر ایک شہتیر بڑھا ہوا تھا۔اس کا سر بری طرح اس سے ٹکرایا تو پادری نے کہا…
کاک ٹیل یا متنجن-…حسن نثار
مختلف موضوعات پر بات کرتے ہیں۔ پروٹوکول کے اعتبار سے صدر مملکت کو سرفہرست ہونا چاہئے بلکہ یوں کہئے کہ ان کی حالیہ تقریر کو سرفہرست ہونا چاہئے جو کافی توبہ شکن اور زلزلہ انگیز تھی۔ اس تقریر پر لمبی لمبی تحریریں کھینچی گئیں، بڑے بڑے تجزیئے پیش ہوئے جو سب کے سب اپنی اپنی جگہ خوب تھے لیکن میری
روحانی سفر کی روداد -…حسن نثار
میں پچاس برس بعد ان گلیوں اور بازاروں میں گم اس آٹھ سالہ لڑکے کو ڈھونڈ رہا تھا جو سونف کے کھیتوں میں بھاگا پھرتا، برف خانے سے نکلی برف کی سلوں پر ”سکیٹنگ“ کرتا اور اپنے سکول کے درمیان سے گزرتی ندی میں تختیاں دھوتے ہوئے تختیاں لڑانے کے مقابلے میں کبھی جیت جاتا کبھی ہار جاتا۔ وہ لڑکا اور اس کے ساتھی بندروں جیسی برق رفتاری کے ساتھ درختوں پر چڑھنے اترنے میں ماہر تھے۔