صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
میں آج کل یہ سوچ سوچ کر پریشان بلکہ لہولہان ہو رہا ہوں کہ کہیں یہ سارا میلہ میرے دوست کا کمبل چوری کرنے کے لئے تو نہیں لگایا گیا۔ جوں جوں معاملات آگے بڑھ رہے ہیں اور لوگ مٹھیاں بھینچ بھینچ کر میڈیا کے سامنے تقریریں کرتے ہیں تو میرا شک یقین میں بدلتا جا رہا ہے کہ ہو نہ ہو یہ سارا ڈرامہ میرے دوست کو ڈس کوالیفائی کروانے کے لئے رچایا گیا ہے۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ میرا دوست سخت جان ہے اور وہ آسانی سے ہار ماننے والا نہیں لیکن مجھے یوں لگتا ہے جیسے شیر اور چیتے مل کر اسے گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ اس کے سلطان راہی کے انداز میں ”تڑیاں“ دیتے ہوئے بیانات برداشت نہیں کرسکتے۔ Continue reading »
چوراہا …حسن نثار
آج سب سے پہلے جاوید ہاشمی عرف عادی جنگجو جسے ”باغی“ کہلانے کا شوق بھی ہے یعنی ”کچھ شہر دے لوگ وی ظالم سن کجھ مینوں مرن دا شوق وی سی“ ۔ جاوید ہاشمی ایک ایسا جنگجو ہے جسے دشمن یا حریف نہ ملے تو خود اپنے ساتھ ہی جنگ چھیڑ لیتا ہے اور یہ ان لوگوں میں سے ہے جسے پوچھا جائے کہ ”آخر تم چاہتے کیا ہو؟“ تو نوری نت کی طرح لفظ چبا چبا کر کہتا ہے ”جڑیا ہویا پنڈا وکھو وکھ دیکھنا چاہناں“ یعنی اپنا جڑا ہوا جسم علیحدہ علیحدہ اعضا کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جاوید اس بچے کی مانند ہے جسے غلیل بنانے اور پرندے مارنے کا شوق بلکہ خبط تھا۔ تنگ آ کر والدین اسے کسی بے حد مہنگے ماہرین نفسیات کے پاس لے گئے جس نے اس بچے کو اپنے کلینک میں رکھ کر اس کا علاج شروع کر دیا۔ چند ماہ کے بعد ڈاکٹر نے مریض بچے کے ماں باپ سے رابطہ کر کے انہیں یہ خوشخبری سنائی Continue reading »
صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
یہی آموں کا موسم تھا پھر یوں ہوا کہ آموں کی پیٹیاں پھٹ گئیں، جنرل ضیاء الحق کا طیارہ ہوا میں پھڑپھڑانے لگا اور پھر آگ کے گولے کی مانند زمین پر آن گرا۔نتیجے کے طور پر پاکستان کے تیسرے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور فوجی صدر جناب ضیاء الحق صاحب اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے ۔ جنرل اسلم بیگ اس وقت آمی چیف تھے انہوں نے عقلمندی کی کہ صدر صاحب کے کہنے کے باوجود ان کے طیارے میں قدم نہ رکھا اور اپنے طیارے پر پرواز کرتے ہوئے خیروعافیت سے راولپنڈی پہنچ گئے ۔ انہوں نے دوسری عقلمندی یہ کی کہ ملک میں مارشل لاء نہ لگایا ۔ حالات ایسے تھے کہ وہ چاہتے تو مارشل لاء لگا کر چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن جاتے ۔ الیکشن ہوئے اور میاں نواز شریف اکثریت کے ساتھ ملک کے وزیر اعظم بن گئے نہ جانے آمی چیف مرزا اسلم بیگ صاحب کو میاں صاحب کی کونسی ادا اچھی نہ Continue reading »
صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
براہ کرم یہ بات شروع ہی سے نوٹ فرما لیں کہ یہ کہانی تو میری ہے لیکن یہ بپتا ہر اس شخص کی ہے جس کا تعلق پاکستان کی مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس سے ہے چونکہ ان کے روزمرہ کے مسائل ایک ہی جیسے ہیں جبکہ حکمرانوں اور روساء کو ان مسائل کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ وہ جس دنیا میں رہتے ہیں اس دنیا کے مسائل اور پر یشانیاں کچھ اور طرح کی ہیں۔ اسی طرح غریب اور محروم طبقوں کے مسائل کچھ اور ہیں اور ان کی اپنی ایک دنیا ہے جس کا مڈل کلاس اور روساء کی دنیاؤں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ Continue reading »
صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
دوستو! دراصل سیاستدان بڑی گھاگ شے ہوتی ہے۔ سیاستدان کہتا کچھ اور ہے اور مطلب کچھ اور ہوتا ہے۔ اگر سیاستدان قدرے پڑھا لکھا اور صاحب ذوق بھی ہو تو سمجھو کہ ایک کریلا پھر نیم چڑھا۔ پنجاب کے لوگ اسے اپنی زبان میں یوں کہتے ہیں کہ اوّل تو سانپ پھراُڑتا بھی ہے۔ میرے مہربان ڈاکٹر بابر اعوان اوّل تو پڑھے لکھے اور اعلیٰ ذوق کے مالک ہیں پھر میدان سیاست کے شہسوار بھی ہیں۔ چنانچہ وہ بڑے طریقے اور سلیقے سے حس مزاح اور ذوق کا مظاہرہ سیاسی میدان میں بھی کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ایک نقاد دوست اسے کاریگری کہتے ہیں اور جو شخص اس صلاحیت کا مظاہرہ کرے اسے کاریگر کہتے ہیں۔ Continue reading »
صبح بخیر- ڈاکٹر صفدر محمود
میری زندگی میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ علم نجوم کے دو ماہرین ایک ہی جیسے راز ظاہر کریں، ایک ہی جیسی پشین گوئیاں کریں اور مستقبل کا ایک ہی جیسا نقشہ بنائیں لیکن سب سے انوکھی اور منفرد بات یہ ہےکہ میری زندگی میں ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ جو باتیں ماہرین علم نجوم کہہ رہے ہوں وہی باتیں صاحبان باطن بھی کہہ دیں۔ علم نجوم تو اندازوں کا علم ہے لیکن صاحب ِ باطن تو صرف وہ بات کہتا ہے جو وہ اپنے کشف کے ذریعے، روحانی طاقت کے وسیلے اور منور باطن کے حوالے سے دیکھتا ہو بلکہ یوں سمجھئے کہ جو کچھ اسے دکھایا جاتا ہے وہ صرف وہی بیان کرتا ہے۔ نور ِ الٰہی سے فیض یافتہ صاحبان باطن کا تعلق روحانی و آسمانی طاقتوں سے ہوتا ہے اور ان کا ہر قدم حکم کے تابع ہوتا ہے۔ مجھے کئی اولیاء اکرام کی جوتیوں میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا ہے اور ہمیشہ یہی احساس ہوا کہ وہ پوری طرح آزاد نہیں ہیں، وہ اپنی اپنی روحانی نسبت کے تابع ہیں اور ہر کام حکم پر کرتے ہیں۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں آسمانی باتیں کرنے والوں میں اس قدر مماثلت اور اشتراک کبھی نہیں دیکھا جس کا تجربہ مجھے ان دنوں ہواکیونکہ ماہرین علم نجوم الگ شعبہ ہے اور صاحبان باطن یا اللہ والے یا روحانی شخصیات بالکل دوسری دنیا ہے۔ گزشتہ دنوں پیر قیوم نظامی صاحب کے ذریعے مجھے ایک روحانی شخصیت اور صاحب ِ باطن جناب سرفراز شاہ صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا جن سے میں متاثر ہوا لیکن معاف کیجئے میں اس سے زیاہ کچھ نہیں لکھ سکتا سوائے اس کے کہ روحانی حوالے سے محترم سرفراز شاہ صاحب پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل و کرم ہے وہ برسوں کا سفر سکینڈوں میں طے کر جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ پاکستان کے حالات جلد سدھریں گے، موجودہ سیاسی سیٹ اپ ختم ہو جائے گا، 40/45 سالہ نوجوانوں کا گروہ ملک کی عنان اقتدار سنبھالے گا اور پاکستان کو بھنورسے نکالے گا۔ Continue reading »
صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
ہم ہر روز زمینی باتیں کرتے اور لکھتے ہیں لیکن آج میرا جی چاہتا ہے کہ میں آپ کو آسمانی باتوں کی جھلک دکھاؤں کیونکہ یہ باتیں میرے دل کو اچھی لگتی ہیں اور میرے خوابوں کورنگ و خوشبو سے سجاتی ہیں۔ بس شرط ایک ہے کہ آپ مجھ سے نام نہیں پوچھیں گے اور میری طرح نام کی بجائے کام سے غرض رکھیں گے کیونکہ میرے نزدیک کام نام سے بڑا ہوتا ہے اور کام ہی نام بناتا ہے۔
آپ کو حق پہنچتاہے کہ آسمانی باتوں کو ہوائی باتیں کہہ لیں لیکن میرا تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر اوقات یہ ہوائی یا آسمانی باتیں زمینی حقائق بن جاتی ہیں، جو باتیں ہم سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں وہ ہمارے سامنے حقیقت کاروپ دھار کر ایک فلم کی مانند چل جاتی ہیں اور پھر زمین کی کہانی بن کر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ Continue reading »
صبح بخیر-ڈاکٹر صفدر محمود
جس طرح پھولوں کی خوشبو ہوتی ہے اسی طرح انسانوں کی بھی خوشبو ہوتی ہے جس طرح ہر پھول کی اپنی اپنی خوشبو ہوتی ہے اور ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے اسی طرح انسانوں کی بھی اپنی اپنی خوشبو ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے مختلف اور الگ الگ ہوتی ہے جس طرح بعض پھولوں کی خوشبو تیز اور بعض کی بھینی بھینی ہوتی ہے اسی طرح بعض انسانوں کی خوشبو تیز اور بعض کی مدھم مدھم ہوتی ہے جس طرح بعض پھول ’’بے خوشبو‘‘ محض دکھاوے کے پھول ہوتے ہیں اسی طرح انسانوں کی اکثریت بے خوشبو ہوتی ہے۔ جس طرح بعض جنگلی پھولوں کی بدبو پاس سے گزرنے والوں کی طبیعت مکدر کر دیتی ہے اور وہ جلد از جلد اس بدبو سے دور ہو جانا چاہتے ہیں اسی طرح بعض انسانوں کی بدبو بھی دوسروں کی طبیعت کو مکدر کر دیتی ہے اور وہ ایسے شخص سے دوری مانگتے اور چاہتے Continue reading »
صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
بھولنا میرا بنیادی حق ہے لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے پیپلز پارٹی کے بانی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کبھی سندھ کارڈ استعمال نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ کسی قسم کے صوبائی تعصب کا اظہار کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں1970ء کے انتخابات میں سندھ سے بھی زیادہ حمایت اور ووٹ پنجاب سے ملے۔ بھٹو صاحب کے دور حکومت سے لے کر آج تک پنجاب ہی پی پی پی کا مضبوط قلعہ رہا ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ جیالے پائے جاتے ہیں۔ پنجاب ہی پی پی پی کی حمایت میں ہر قسم کی مزاحمتی تحریک میں آگے ہوتا ہے۔ پنجاب ہی نے جنرل ضیاء الحق کے سب سے زیادہ کوڑے کھائے اور محترمہ بینظیر بھٹو پر قاتلانہ حملوں میں سب سے زیادہ خون بھی پنجاب ہی کا بہا۔ مختصر یہ کہ پنجاب کے جانثار ہی دوسرے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ قربانیاں دیتے اور جانوں کا نذرانہ Continue reading »
صبح بخیر-ڈاکٹر صفدر محمود
اگر حضرت عمر یوم حساب جوابدہی کے خوف سے یہ کہتے ہوئے کانپتے تھے کہ انہیں دریائے فرات کے کنارے بھوک سے مرنے والے کتے کا بھی جواب دینا پڑے گا تو کیا عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں جانے والے اس حساب اور جوابدہی سے مبرا اور بالاتر ہوں گے؟ نہیں بالکل نہیں۔ حضرت عمر نے تو صرف جانور کی مثال دی تھی جبکہ ہمارے ملک میں تو اشرف المخلوقات بھوک و افلاس سے خودکشیاں کر رہی ہے۔ Continue reading »
Recent Comments