روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی جنگ کا دائرہ بہت محدود تھا یہ زیادہ تر سرحدوں پر یا فضا میں لڑی جا رہی تھی۔ چنانچہ سول ڈیفنس سے وابستہ رضا کاروں کو قومی دفاع میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ تاہم ہم تمام دوست ان دنوں اڑائی جانے والی افواہوں [...]
روزن دیوار سے … عطاء الحق قاسمی یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب میری عمر 22سال تھی اور میں پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں سال پنجم کا طالب علم تھا۔ لاہورمیں انار کلی کے قرب میں واقع یہ تاریخی کالج عوام الناس میں لڑکیوں کے کالج کے نام سے جانا جاتا تھا کہ یہاں [...]
روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی جون ایلیا کا شعر ہے: کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے مسلسل دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور پھر کبھی زلزلہ، کبھی سیلاب اور کبھی سیالکوٹ جیسا سانحہ عظیم! ایک دکھ ہو تو کوئی اس کا مداوا بھی کرے
روزن دیوار سے … عطاء الحق قاسمی میرے بہت گہرے تعلقات دائیں اوربائیں بازو کے دانشوروں کے ساتھ رہے ہیں اور آج بھی ہیں بلکہ بائیں بازو کے دانشوروں سے میرے تعلقات اتنے زیادہ تھے کہ بعض ستم ظریفوں نے مجھے ”سرخا“ کہنا شروع کردیا تھا حالانکہ میں معروف معنوں میں کبھی ”سرخا“ نہیں رہا [...]
روزن دیوار سے…عطاء الحق قاسمی پرانے دوستوں کے ذکر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ایک دم اپنے دور ِ شباب میں چلا جاتا ہے چنانچہ میں عمر رفتہ کو آواز دینے کے لئے پرانے دوستوں اور پرانی یادوں کے حوالے دیتا رہتا ہوں جس سے میرے خوش فہم قاری مجھے [...]
روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی غمگین سلیمانی اپنے بچپن ہی سے غمگین رہنا شروع ہو گیا تھا چنانچہ شنید ہے کہ اپنی پیدائش کے وقت وہ دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ رویا تھا۔ ایک روایت یہ ہے کہ جب بہت دیر تک اس کا رونا بند نہ ہوا تو دائی نے اس کی ماں [...]
روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی مجھے کبھی کبھی سچ بولنے کا دورہ پڑتا ہے اور آج میں اسی موڈ میں ہوں۔ میں یونس جاوید کو 1970ء کی دہائی سے جانتا ہوں۔ اس کے بارے میں میرا خیال تھا کہ یہ مجھ ایسے دانا شخص کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے چنانچہ یہ خود بھی دانا [...]
روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی گزشتہ دنوں بھولے ڈنگر سے ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات ایک طویل وقفے کے بعد ہوئی تھی، میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر بڑی بڑی مونچھیں ہیں، حالانکہ میں اسے پہلے دن سے کلین شیوڈ دیکھتا چلا آیا تھا۔ میں نے پوچھا ”بھولے، یہ مونچھیں کس خوشی [...]
روزن دیوارسے……..عطا ء الحق قاسمی حضرت داتاگنج بخشؒ کے مزار پر انوار پر حملے کو کئی دن گزر چکے ہیں مگر اس کا زخم دنوں میں مندمل ہونے والا نہیں اور یہ وہ صدمہ نہیں جو آسانی سے بھلایا جاسکے بلکہ اس کی کسک برسوں محسوس کی جائے گی۔ یہاں برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کے [...]
انٹرنیٹ کی ایجاد سے پہلے عالم بننے کیلئے یار لوگوں کو کتنے پاپڑ بیلنا پڑتے تھے، ہزاروں میل کا سفر پیدل یا گھوڑوں گدھوں کے ذریعے طے کر کے کسی اسکالر تک رسائی حاصل کرنا پڑتی تھی، اس کے پاؤں دابنا ہوتے تھے، اس کی چلمیں بھرنا ہوتی تھیں ، اس کی جلی کٹی سننا [...]
Recent Comments