Raheem

 

 

.روزن دیوار سے…عطاالحق قاسمی

ظفراقبال کے ”آب رواں“ کا تازہ ایڈیشن مجھے موصول ہوا تو میں نے سوچا کہ اس پر ایک مزاحیہ سا کالم لکھوں گایعنی اس کتاب کے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو خود ظفراقبال بہت سی کتابوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ میں نے یہ شعری مجموعہ آج سے پچاس سال پہلے پڑھا تھا جب اس کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا تھا۔ مجموعہ کی اشاعت سے پہلے ہی ”چار دانگ عالم“ میں اس کی شہرت پھیل چکی تھی کہ اس میں شامل غزلیں اس دور کے ادبی جرائد میں شائع ہوچکی تھیں۔ ہر شخص کے دماغ میں کوئی نہ کوئی خلل ضرور ہوتاہے اور میرا دماغی خلل یہ ہے کہ جب میں کسی چیز کے بارے میں مبالغہ آمیز تعریفی کلمات سنتا ہوں تو اس کے ذاتی مشاہدہ کے دوران میں اسے اسی پیمانے پر ماپنے کی کوشش کرتا ہوں جو پیمانہ اس کے لئے استعمال کیا گیا تھا اور میں اس وقت شدید ندامت اور شرمندگی میں مبتلا ہو جاتا ہوں جب زمانے کی رائے سے میری رائے مطابقت نہیں رکھتی اور یوں میں خود کو جاہل تصور کرنے لگتا ہوں۔ مجھے اس شرمندگی کاسامنا تاج محل، مونا لیزا اور دیوانِ غالب کے حوالے سے بھی ہوا۔ میری بدقسمتی کہ میں نے ان دنوں ظفراقبال کے ”آب ِ رواں“ کا مطالعہ کیا جب اس کی اشاعت پر چاروں طرف سے مبالغہ آمیز بیانات کی یلغار جاری تھی۔ ایک وقت تو وہ بھی آیا جب شمس الرحمن فاروقی ایسی شخصیت نے ظفراقبال کو غالب# سے بھی بڑا شاعر قرار دیا۔ ”آب ِ رواں“ کا پہلا ایڈیشن 1962 میں شائع ہوا تھایعنی ایک تو خللِ دماغ اور اوپر سے میں ایف اے کا طالب علم، سو میں نے شاعری کی یہ کتاب پڑھی، اچھی لگی لیکن میں نے دل میں ان نقادوں کو بھی کوسا جو اس کے قصیدے پڑھنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر یہ پرانی بات ہے!
اور اب میں نے ”آب ِرواں“ کا مطالعہ نصف صدی بعد کیا ہے اور عجیب کشمکش میں مبتلا ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ اس کتاب نے مجھے بدحواس کر دیا ہے۔ اسکا ایک ایک شعر اجنبیت کا احساس دلائے بغیر نئی غزل کے تانے بانے بنتا نظرآتا ہے اور ظفراقبال پر حیرت ہوتی ہے کہ یہ خاک کا پتلا کیسے کیسے جہانِ معنی تخلیق کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ ایک لطف ِ سخن ہے جو ”آب ِرواں“ کے مطالعہ کے دوران مسلسل قاری کے ہمراہ رہتاہے۔ ایک چھوٹا شاعراپنی غزل کے دوسرے مصرعے میں صرف پہلے مصرعے کی تشریح کرتا ہے چنانچہ مصرعہ سننے کے بعد سامعین دوسرا مصرعہ خود پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ اس Continue reading »

 

آفتابیاں – آفتاب اقبال

ٹریفک، لوڈ شیڈنگ اور لاقانونیت کے سبب ہماری زندگی پہلے ہی ذلتوں سے عبارت تھی کہ وقت بے وقت آنے والے بیکار ایس ایم ایس کی بھرمار نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ ہمارا بس چلے تو ہم ان تمام اداروں اور تنظیموں کو بین کرڈالیں جو ایس ایم ایس کو اپنی مارکیٹنگ کا وسیلہ بناتی ہیں۔
ایک احمق جو واٹر ٹینک سروس چلاتا ہے، نجانے کیوں یہ گمان کر بیٹھا ہے کہ ہمیں اس کی خدمات بڑی شدت کے ساتھ درکار ہیں۔ یہ شخص اپنے انتہائی مکارانہ ایس ایم ایس کے ذریعے ہر دوسرے تیسرے دن ہمیں Continue reading »

 

ڈاکٹر عطاء الرحمن

تحقیقی اشاعت میں یہ اضافہ آبادی کی شرح تناسب کی تحقیقی صلاحیت کے اعتبار سے نہیں، ہندوستان کے برابر لے آیا۔ جس پر ہمیں انٹرنیشنل فورم پر اور مختلف غیر ملکی اخبارات اور ماہرینِ تعلیم کی طرف سے سراہا گیا دیکھئے
http://en.wikipeida.org / wiki/Higher Education Commission of Pakistan
اس بے مثال کامیابی پر جہاں ہمیں غیر ملکی ماہرینِ تعلیم کی طرف سے پذیرائی اور دادِ تحسین ملی وہیں ہندوستان میں خطرے کی گھنٹیاں بجنی شروع ہو گئیں اور ہندوستانی ماہرین اور اخبارات نے اسے اپنے ملک کے لئے خطرہ قرار دیا اور اپنے وزیر اعظم کی توجہ اس طرف دلائی گئی…دیکھئے

http://www.hindustantimes.com/

News – feed / NM13 / Pakthreat -to Indian – science /
Article1-124925.aspx
مگر افسوس کہ اعلیٰ تعلیم کا یہ عہدِ زریں بے حد مختصر اور بہت غیر مستقل ثابت ہوا۔نئی جمہوری حکومت نے اپنے قیام کے ساتھ ہی سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق اعلیٰ تعلیمی اداروں کو نہایت منظم طریقے سے برباد کرنا شروع کر دیا۔ وہ ادارے جو ملک کی معیشت اور دفاع کو ترقی میں معاونت اور انفرادی قوت کی فراہمی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا کام دے سکتے تھے، انہیں ملک کے مستقبل کے لئے انتہائی غیر Continue reading »

 

ڈاکٹر عطاء الرحمن

اعلی تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت پسندی اپنی عملی حیثیت میں ملکی معیشت کی بقاء اور تعمیر و ترقی میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس کی زندہ مثال آج کا ہندوستان ہے۔ ہندوستان نے معاشی اور معاشرتی تبدیلی کے لئے علم و ہنر، انجینئرنگ اور بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی(IT) کو کلیدی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے کئی اعلی تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ آج وہاں 1,522 انجینئرنگ کالج ہیں جن سے سالانہ اوسطا582,000 طلبہ مستفیض ہو سکتے ہیں۔ ان کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے والے انجینئرز کا سالانہ تناسب تقریباً500,000 بنتا ہے جو کہ صنعت و دفاع کے شعبوں کو بھرپور افرادی قوت مہیا کرتے ہیں۔ ہندوستان کی ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کا شمار دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔آج ہندوستان کی 60بلین ڈالر کیIT برآمدات اسی اچھی شہرت، بہترین افرادی قوت اور اعلی کارکردگی کی مرہون منت ہیں۔
پاکستان میں انجینئرنگ کا تعلیمی شعبہ شروع سے ہی نظر انداز ہوتا چلا آ رہا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت کی حیثیت سے اور پھر چیئرمینHECکی حیثیت سے میرے دورِ اختیار2001ء Continue reading »

 

آفتابیاں … آفتاب اقبال

بے پناہ مصروفیت نے کئی دن سے ہمیں روک رکھا تھا ورنہ ہم نئی فوڈ سٹریٹ کا ایک آدھ طواف آج سے دس دن پہلے ہی کرچکے ہوتے۔ بہرحال ہم کسی نہ کسی طرح گزشتہ شب نئی فوڈ سٹریٹ پہنچ ہی گئے۔ یاد رہے کہ لاہور میں فوڈ سٹریٹس دو طرح کی ہیں۔ ایک پرویز مشرف برانڈ اور دوسری حمزہ شہباز والی، مشرف برانڈ کی دیگر تمام اشیاء کی طرح اب فوڈ سٹریٹ بھی روبہ زوال ہے۔ ایک تو سرے سے بند ہی کردی گئی ہے جبکہ دوسری یعنی پرانی انارکلی والی بھی آخری سانسیں ہی لیتی نظر آتی ہے۔
حمزہ شہباز والی فوڈ سٹریٹ ہماری توقعات سے کہیں زیادہ شاندار نکلی۔ وہاں پہنچ کر ہم نے کیا کچھ دیکھا اور محسوس کیا، اس کا احوال ہم بعد میں بیان کریں گے پہلے ایک عمدہ اور اصل نسل کا شعر ملاحظہ کیجئے۔
ہم بھی گئے تھے گرمئی بازار دیکھنے Continue reading »

 

چوراہا – حسن نثار

دنیا آگ کی مانند ہے اور آگ اپنے پجاری کو بھی جلا کر راکھ کردیتی ہے۔ اس شکارگاہ میں ہر کوئی شکار ہے کہ ملک الموت جیسا میر شکار کوئی دوسرا نہیں کہ اس کے نشانے سے نہ کوئی بچا نہ آئندہ بچ پائے گا۔ وہ کون ہے جو سرائے کو گھر سمجھ لیتا ہے اور گزرگاہ کو منزل؟ انسان دنیا جمع کرتے وقت یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آخرکار یہ دنیا انہیں منتشر کرکے رکھ دے گی۔
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا
دنیا… دنائیت سے ہے جس کا مطلب ہی ذلت اور کمینگی ہے۔ خواب کا علم آنکھ کھلنے پر ہوتا ہے اور زندگی کے خواب کا آنکھیں بند ہونے پر کہ یہ تو پانی پر عکس سے بھی زیادہ بے معنی ہے۔ سو یوں رہو جیسے Continue reading »

 

واشنگٹن(آن لائن)امریکی میڈیا نے دعویٰ کیاہے کہ پاکستان نے آئندہ فضائی حدودمیں داخل ہونے والے ڈرون طیاروں کو مارگرانے کا فیصلہ کر لیا، امریکی میڈیا نے پاکستانی فوجی حکام کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ نیٹو سپلائی کی بندش کے بعد پاکستان اپنی فوجی حکمت عملی میں بھی تبدیلی لاچکاہے اور اسی تبدیلی کے حوالے سے آئندہ پاکستانی فضائی حدودمیں داخل ہونے والے ڈرون طیاروں کو Continue reading »

 

ذراہٹ کے…یاسر پیر زادہ

البرٹ پنٹو کو میں لڑکپن سے جانتا ہوں ،سراپا خلوص اور مجسم نحوست ۔اسکا اصل نام توعبد المجید عرف جیدا تھا لیکن پھر اوئل عمری میں ہی اس نے ایک فلم دیکھ لی جس کا نام تھا ”البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے ؟“ بس، تب سے اپنے آپکو البرٹ پنٹو کہلوانا شروع کر دیا حالانکہ اس فلم کا جیدے سے اتنا ہی تعلق تھا جتنا جیدے کا کسی البرٹ سے ہو سکتا ہے۔ فلم دیکھ کرجیدے نے صرف نام ہی تبدیل نہیں کیا بلکہ بلاوجہ غصے میں بھی رہنا شروع کر دیا اور پھر رفتہ رفتہ یہ عادت اتنی پختہ ہوگئی کہ جس دن جیدے عرف البرٹ پنٹو کے غصیلے پن کی کوئی خبر نہ آتی ،اس روز لوگوں کو شک گذرتا کہ یا تو البرٹ فوت ہو گیا ہے یا پھر Continue reading »

 

قاسم علی رضا

کتا ایک وفادار جانور ہے اور کتوں کی وفاداری اور جانثاری پر دو رائے نہیں ہوسکتیں۔ وفاداری کی خوبی کے ساتھ ساتھ جانوروں کی یہ نسل نہ صرف بہت حسّاس طبیعت کی مالک ہے بلکہ اپنی عزّت اور آبرو پر کوئی حرف بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ آج کل جگہ جگہ دیواروں پر تحریر کئے گئے ایک نعرے نے اس وفادار جانور بالخصوص کتوں کی نوجوان نسل کو شدید اضطراب میں مبتلا کردیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ نوشتہ دیوار پڑھو۔ آج کل دیواروں پر ایک نعرہ لکھا ہوا ہے اور اس نعرے نے کتوں کی وفاداری پر کئی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ ہر نسل کے کتے اس نعرے پر گہری تشویش اور شدید احتجاج پر آمادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ عوام النّاس کو کتوں کے اس انوکھے احتجاج کے اسباب اور وجوہات سے آگاہ کرنا اشد ضروری ہے کیونکہ راقم کتوں کی وفاداری کی اہمیت و افادیت سے اچھی طرح واقف ہے، لہٰذا ہماری دانست میں کتوں Continue reading »

 

Article by Ali Sukhanver Continue reading »

© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha