جماعت اشاعت التوحیدوالسنۃ کے بانی ‘ شیخ القرآن مولانا محمد طاہر کئی حوالوں سے صاحب عزیمت انسان تھے۔ مولوی کا نہیں بلکہ صوابی کے ایک خان کا بیٹا ہوکر بھی انہوں نے دین کا طالب علم بننا پسند کیا۔ نہ صرف عظیم مفسر قرآن بنے بلکہ اس خطے میں درس قرآن کے حلقوں کو بھی رواج دیا۔اپنی تحریک میں تشدد اور سیاست کو داخل کئے بغیر پختون معاشرہ میں بدعات و رسومات کے خاتمہ کے لئے انہوں نے جو مظلومانہ جدوجہد کی ‘ وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ قیدوبند سے لے کر پتھر کھانے تک ‘ ہر مرحلے سے وہ گزرے لیکن کبھی جھکنا گوارا نہیں کیا۔ یہ ان ہی کی جدوجہد اور قربانیوں کا ثمر ہے کہ آج برصغیر کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں پاکستان کے پختون بیلٹ اور افغانستان میں مشرکانہ عقائد اور رسومات نہایت کم ہیں جبکہ قرآن کی درس و تدریس کی عظیم خدمت سرانجام دینے والے ان کے پیروکاروں اور شاگردوں کا حلقہ لاہور اور پشاور سے لے کر افغانستان کے کونڑ‘ نورستان اور پنج پیر تک پھیلاہوا ہے ۔ آج بھی رمضان کے دنوں میں ان کے بیٹے اور جانشین مولانا محمد طیب طاہری کے درس قرآن میں قرآن فہمی کے طالب علموں کی حاضری کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اس موقع پر پورے پنج پیر میں چارسو انسانوں کے سر ہی سر نظر آتے ہیں ۔ مولانا محمدطاہر رحمۃ اللہ علیہ چونکہ خود عملی سیاست سے گریز کرتے تھے اس لئے ان کے شاگروں میں سے جن کو لیڈری یا سیاست کا شوق ہوجاتا تھا تو وہ دوسری جماعتوں کا رخ کرلیاکرتے تھے ۔ جماعت اسلامی کے نامور علمائے کرام مولانا گوہر رحمان اور مولانا عنایت الرحمان وغیرہ نے قرآن انہی سے سیکھا جبکہ سوات کے مولانا فضل اللہ ‘ باجوڑ کے مولانا فقیر محمد اور خیبر ایجنسی کے مفتی منیر شاکر (منگل باغ کی تحریک کے بانی) بنیادی طور پر ان کے مذہبی عقائد سے متاثر ہیں تاہم یہ باقی معاملات ان کے اپنے اجتہادات ہیں ۔
مولانا محمد طاہر کے بیٹے میجر (ر) محمد عامر کے ساتھ میرا تعلق بہت قریبی اور پرانا ہے ۔ میرے اوران کے سیاسی نظریات کبھی ایک نہیں رہے لیکن اس کے باوجود ذاتی حوالوں سے ہماری قربت کا یہ عالم ہے کہ میرے لئے ان کی حیثیت سگے بھائیوں سے کم نہیں جبکہ ان کی طرف سے بھی میں نے ہمیشہ یہی جذبہ محسوس کیا ہے ۔ عقائد ایک جیسے ‘ سیاسی نظریات مختلف اور تعلق حقیقی بھائیوں جیسا ‘ یوں یہ ایک منفرد رشتہ بن گیا ہے ۔ میں پشاور میں تھا تو میری خوش قسمتی تھی کہ وہ بھی پشاور میں مقیم رہے اور مجھے پیشہ ورانہ مجبوریوں کی وجہ سے منتقل ہونا پڑا تو اللہ نے ان کے اسلام آباد منتقلی کی بھی راہ ہموار کی ۔ یوں ہم ہمہ وقت رابطے میں رہ کر نہ صرف نجی معاملات پر صلاح مشورہ کرتے رہتے ہیں بلکہ اختلاف کے باوجود ملکی اور قومی مسائل کے حوالے سے بھی غور وفکر اور تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے ۔
میجر (ر) محمد عامراگرچہ اپنے تعارف کا قابل فخر واسطہ اپنے والد گرامی کو سمجھتے ہیں لیکن انہوں نے آپریشن میڈنائٹ جیکالز‘ بغاوت کے مقدمات ‘ جنرل پرویز مشرف کے شدید مخالف اور میاں نواز شریف کے دست راست کے حوالوں سے شہرت پائی ہے ۔ جنرل اسلم بیگ اور جنرل کلو نے سازش کرکے انہیں فوج سے نکالا ‘ بے نظیر بھٹو نے ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بنایا اور جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالتے ہی انہیں بچوں سمیت بغیر کسی مقدمے اور الزام کے سات ماہ تک گھر میں نظربند کئے رکھا۔ یوں جنرل پرویز مشرف کی حکومت یا پھر ان کی تشکیل کردہ ایم ایم اے کی حکومت سے انہیں کوئی ہمدردی نہیں تھی بلکہ وہ ان کی مشکلات میں اضافے کے نہ صرف آرزومند تھے بلکہ حسب توفیق انہیں بڑھا بھی رہے تھے ۔ وہ مسلم لیگ (ن) کے کبھی ممبر نہیں رہے لیکن میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ اپنا سکور برابرکرنے کے لئے انہوں نے پرویز مشرف کی رخصتی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔
یہ اس وقت کا ذکر ہے کہ جب جنرل پرویز مشرف کے زیرسایہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت سرحد میں حکمران تھی ‘ تو سوات میں مولانا فضل اللہ کی تحریک سراٹھانے لگی ۔ رفتہ رفتہ معاملات بگڑنے لگے ۔ ایک وقت ایسا آیا کہ میں نے محسوس کیا کہ سوات دوسرا وزیرستان بننے جارہا ہے چنانچہ میں مختلف فورم پر اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرنے لگا۔ مذہبی انتہاپسندی کے حوالے سے میرے اور میجر صاحب کی اپروچ میں فرق ضرور ہے لیکن وہ بھی اپنی بصیرت کے مطابق حالات کو تباہی کی طرف گامزن ہوتے دیکھ رہے تھے ۔ سوات کے حالات کی وجہ سے جنرل پرویز مشرف کی حکومت کی مشکلات بڑھ رہی تھیں‘ یوں انہیں خوش ہوجانا چاہیے تھا لیکن وہ نہ صرف یہ کہ اس معاملے پر خوش نہیں تھے بلکہ شدید تشویش میں بھی مبتلا تھے ۔ میں مولانا فضل اللہ کے عقیدے کے پس منظر کی وجہ سے میجر صاحب سے گذارش کرتا رہا کہ وہ اس حوالے سے کوئی کردار اداکریں ۔ وہ خود بھی ایسا کرنے کا سوچ رہے تھے ۔ چنانچہ ایک روز وہ خاموشی کے ساتھ اپنے بھائی مولانا محمد طیب طاہری جو اس وقت جماعت اشاعت التوحید والسنۃکے
امیر ہیں کو لے کر مولانا فضل اللہ کے پاس سوات جاپہنچے ۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ ہر شخص بھاری ہتھیاروں سے لیس ہے ۔ میجر صاحب نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد نے تو آپ لوگوں کے ہاتھوں میں قرآن تھمادیا تھا ‘ یہ بندوق آپ کو کس نے تھمادی اور ان کی گفتگو کا یہ اثر ہوا کہ جب دوسری نشست کے لئے وہ لوگ آرہے تھے تو وہ سب غیرمسلح تھے۔ وہ دو روز تک مولانا فضل اللہ کے ساتھ درپردہ مذاکرات کرکے ان کو سمجھاتے رہے کہ وہ تشدد کے راستے سے باز آجائیں ۔ مولانا فضل اللہ کا موقف تھا کہ خود سرحد حکومت انہیں ایسا کرنے پر مجبور کررہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات میں جہاں بھی کوئی جرم ہوتا ہے تو سرحد پولیس کی طرف سے اس کا مقدمہ ان کے یا ان کے ساتھیوں کے خلاف درج ہوتاہے ۔ (تماشہ یہ تھا کہ ایم ایم اے حکومت ان کے خلاف مقدمات تو درج کررہی تھی لیکن ان کے خلاف عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہا تھا) ۔ اس موقع پر میجر عامر اور ان کے بھائی مولانا محمد طیب نے سوات کے اس وقت کے ڈی سی او سید محمد جاوید(موجودہ کمشنر ہزارہ ڈویژن) کو بلا کر مولانا فضل اللہ کے ساتھ بٹھا لیا اور بڑی حد تک معاملات طے پاگئے ۔ میجر عامر اور ان کے بھائی واپس چلے آئے ۔ ڈی سی او صاحب نے اسی وقت وزیراعلیٰ سرحد محمد اکرم خان درانی کو فون کرکے اس پیش رفت سے آگاہ کیااور ان سے معاملے کو آگے بڑھانے کی درخواست کی ۔ اسی شام اکرم خان درانی نے میجر عامر کو فون کرکے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اس وقت وزیراعلیٰ ہاؤس آکر ان کے ساتھ کھانا کھائیں تاکہ بات آگے بڑھائی جاسکے ۔ اس وقت میجر عامر گاؤں میں تھے اور تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان ان سے ملنے آئے تھے ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ وہ اس وقت نہیں آسکتے اور کل پرسوں جب بھی وہ چاہیں گے تو وہ ملاقات کے لئے آجائیں گے لیکن اس کے بعد وزیراعلیٰ پراسرار طور پر غائب ہوگئے اور میجر عامر سے کوئی رابطہ نہیں کیا ۔ اسی طرح انہوں نے ازخود بھی اس سلسلے کو آگے نہیں بڑھایا۔ گذشتہ روز سردار مہتاب احمد خان کی صاحبزادی کی رخصتی کی تقریب میں میری سید محمد جاوید جو اس وقت ڈی سی او سوات تھے، سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے سوات کے حوالے سے میجر عامر کی مذکورہ کوششوں کا ذکر کیا اور بڑے افسوس کہ ساتھ کہا کہ وہ سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا ورنہ آج سوات کی یہ حالت نہ ہوتی ۔
آج متحدہ مجلس عمل کے لیڈران بڑے معصوم بننے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس ایک واقعے سے اندازہ لگالیجئے کہ حالیہ آگ کو بھڑکتا دیکھ کر انہوں نے کس مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کیا لیکن افسوس کہ ان کی روش اب بھی نہیں بدلی ۔ گذشتہ روز سرحد کے سابق ’’امیرالمومنین‘‘ اور موجودہ قائد حزب اختلاف اکرم خان درانی متحدہ عرب امارت کے دورے پر روانہ ہوئے (واضح رہے کہ قاضی حسین احمد چین کے دورے پر ہیں) ۔ روانگی سے قبل ہوائی اڈے پر اخبارنویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں مقیم پختونوں کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لئے وہاں جارہے ہیں اور اس حوالے سے وہاں پر متعین پاکستانی سفیر سے بھی بات کریں گے ۔ان کی زبانی یو اے ای کے دورے کی یہ توجیح سن کر مجھے ہنسی بھی آئی اور رونے کو بھی جی چاہا۔ واضح رہے کہ یواے ای کے پختونوں کے غیرمتنازعہ قائد اور عوامی نیشنل پارٹی یو اے ای کے صدر عبدالنبی بنگش ان دنوں وہاںپر اپنے کاروبار وغیرہ کو چھوڑ کر سوات اور قبائلی علاقوں کے پختونوں کی خاطر پشاور آئے ہوئے ہیں جبکہ درانی صاحب ادھر جاپہنچے ہیں لیکن یہ سب اکرم درانی صاحب کا معاملہ نہیں ‘ المیہ یہ ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔ جب باڑہ میں منگل باغ کی تحریک زورپکڑنے لگی تو میں نے اس وقت کے گورنر کماندر خلیل الرحمان سے بات کی کہ وہ اس حوالے سے میجر (ر) محمد عامر کو استعمال کریں ۔ انہوں نے میجر عامر کو بلایا اور اس معاملے میں بات کرنے کی درخواست کی ۔ انہوں نے منگل باغ سے ابتدائی بات چیت کی اور پھر حکومت کے ساتھ آگے بڑھانے کے لئے کمانڈر خلیل الرحمان کو فون کیا لیکن پراسرار طور پر کمانڈر خلیل ان سے بات ہی نہیں کررہے تھے ۔ کافی کوششوں کے بعد میجر صاحب مجبوراً خاموش اور منگل باغ کے سامنے شرمندہ ہوگئے ۔ کافی عرصہ بعد جنرل احسان الحق کی بیٹی کی شادی کے موقع پر کمانڈر خلیل ان کی ملاقات ہوگئی ۔ اس موقع پر میں بھی موجود تھا ۔ میجر صاحب نے ان سے گلہ کیا کہ کمانڈر صاحب نے تم نے میرے ساتھ کیا ڈرامہ کھیلا ۔ خود ہی مجھے ان سے رابطہ کرنے کاکہا اور پھر غائب ہوگئے ۔ کمانڈر خلیل نے کہا کہ دراصل میجر صاحب مجھے اوپر سے حکم ملا کہ میجر (ر) عامر کو اس معاملے میں نہ گھسنے دیں ۔ یہ سن کرمیجر صاحب کا چہرہ سرخ ہوگیا اور کمانڈر خلیل کو برابھلا کہنا شروع کیا جبکہ ان کے باس پرویز مشرف کی بھی خوب خبر لی لیکن کمانڈر خلیل مجرمانہ تفاخر کے ساتھ سگار کا کش لیتے ہوئے ہنستا رہا

Daily Jinnah 17-Feb-09

سوات کا المیہ ۔ اندر کی ایک کہانی ۔۔۔۔ سلیم صافی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.

%d bloggers like this: