بہت دنوں سے یہ سوات ہے جس کا اجاڑ پن دل میں اداسی بھرتا ہے اس وادی کے پیارے سو ہنے لوگ ہیں جن کی بے گھری کا خیال آتا ہے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے اخبار میں جب کسی بھی لیڈر کا ایسا بیان پڑھتا ہوں جو سوات سے متعلق نہیں ہوتا تو اس کی شکل اچھی نہیں لگتی کہ بھائی میاں آپ اندھے ہو آپ کو سوات دکھائی نہیں دیتا حالانکہ میں اقرار کرتا ہوں کہ یہ رویہ بہت زیادہ مثبت نہیں ہے کہ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں سوات کے سوا ملک کو اس کے علاوہ بھی مسائل درپیش ہیں لیکن کیا کروں کہ فی الحال طبعیت ادھر نہیں آتی یوں میری تحریریں بھی سوات تک محدود ہو گئی ہیں چنانچہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج دکھ کے سلسلے بھول کر آپ کے چہروں پر مسکراہٹ لاؤں گا اور آپ کو ایک عمدہ سا لطیفہ سناؤں گا کہتے ہیں کہ کسی بستی میں کہیں سے ایک بہت بڑا مینڈک آگیا اور بستی والوں نے آج تک کبھی کوئی مینڈک دیکھا نہیں تھا تو شدید پریشان ہوئے کہ یہ کیا جانور ہے اب پلیز آپ یہ اعتراض نہ کیجئے گا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی بھی بستی والوں نے مینڈک نہ دیکھا ہو، کیا وہاں کوئی جوہڑ نہ تھا اور کیا وہاں ساون بھادوں کے موسموں میں ننھے منے مینڈک ہر سو اچھلتے نہ تھے جناب من لطیفہ لطیفہ ہوتا ہے اسے حقائق پر نہیں پرکھا جاتا آپ نے کبھی اپنے سیاستدانوں کے بیانات کو حقائق پر پرکھا ہے وہ دن رات آپ کو لطیفے سناتے رہتے ہیں تو آپ نے کبھی اعتراض کیا ہے تو پلیز میرے لطیفے پر بھی اعتراض مت کیجئے بہرحال وہ بستی والے جنہوں نے آج تک کوئی مینڈک نہ دیکھا تھا مینڈک کو ایک سیانے بابے کے پا س لے گئے،اور اس سے اس حوا لے سے پوچھا، یوں بھی اپنے ان سیانے بابوں کی قدر کرنی چاہیے جو ابھی زندہ ہیں اگرچہ بابا جی فربہ اور خوب ٹروتے ہوئے مینڈک کو اپنے درمیان پاکر بے حد پریشان ہوئے کہ آخر یہ کوانسا جانور ہے چنانچہ انہوں نے چند کوس پر واقع ایک اوربستی میں مقیم ایک’’ سیانے سے رجوع کیا جو اتنا سیانا تھا کہ اس کا نام ہی سیانا بابا پڑگیاتھا سیانا بابا نے گھر سے چلتے ہوئے اپنے مریدوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے ساتھ باجرے کی ایک پوٹلی اور چند گنے لیتے چلیں حکم کی تعمیل ہو گئی سیانا بابا نے جب مینڈک دیکھا تو ان کی بھی سٹی گم ہو گئی کہ انہوں نے بھی ایسا جانور کبھی نہیں دیکھاتھا انہوں نے سب سے پہلے مینڈک کے آگے باجرے کے دانے ڈالے اور جب مینڈک نے انہیں قابل توجہ نہ سمجھا تو سیانا بابا نے وثوق سے کہا، یہ طے ہے کہ یہ بٹیرا نہیں ہے پھر اس کے آگے گنے رکھے گئے تو وہ پھر بھی متوجہ نہ ہوا تو سیانا بابا نے کہا کہ اگر یہ گنے کھالیتا تو یقیناً ہاتھی تھا تو گویا ہاتھی بھی نہیں ہے اس دوران مینڈک نے اچھلنا شروع کردیا تو سیانا بابا نے نعرہ لگایا کہ اوہو یہ تو ہرن ہے اس پر بستی والے بے حد شکر گزار ہوئے اور بابا سیانا زندہ باد کے نعرے لگانے لگے لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ باباسیانا تو نہایت دھواں دھار طریقے سے روئے چلا جارہا ہے اور جب اسے چپ کرانے کی کوشش میں پوچھا گیا کہ بابا روتے کیوں ہو تو بابا نے ہچکیاں بھرتے ہوئے کہا کہ میں اس لئے روتا ہوں کہ آج تو میں زندہ ہوں اور میں نے بتا دیا ہے کہ یہ ایک ہرن ہے لیکن جب میں مرگیا تو تمہارے گاؤں میں کوئی اور جانور آگیا تو پھر کس سے پوچھو گے کہ یہ کیا ہے ۔
قارئین:۔ ہمیں بھی اپنے ان سیانے بابوں کی قدر کرنی چاہیے جو ابھی زندہ ہیں اگر یہ ادھر ادھر ہو گئے تو ہم ملکی مسائل کے بارے میں کن سے پوچھیں گے حال ہی میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیاگیا اس میں ملک کی اکثریتی پارٹی اور ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی نے سوات میں فوج کشی کی بھرپور حمایت کی اگرچہ کچھ حلقے تو قع کررہے تھے کہ شائد نواز شریف اس معاملے میں حکومت کے لئے کچھ مشکلات کھڑی کردیں گے اور مکمل حمایت نہیں کریں گے لیکن یہ حلقے شائد ابھی تک آگاہ نہیں ہوئے کہ آج کے نواز شریف کل کے نوازشریف نہیں ہیں اور انہوں نے ملک وقوم کے استحکام کے معاملے میں کبھی بھی مفاہمت نہیں کی اور وہ ہمیشہ ذاتی سیاست کی بجائے قومی سیاست کی جانب بڑھے ہیں اگر آج وہ پاکستان کی پسندیدہ ترین سیاسی شخصیت ہیں تو اس کی بنیاد معاملہ فہمی اور پاکستانیت پر بھرپور اعتماد ہے لیکن اس کا کیا کیجئے کہ بعض سیاسی پارٹیاں جن میں بیشتر مذہبی پارٹیاں کہلاتی ہیں پہلے دن سے اس آپریشن کی مخالفت کررہی ہیں اور میں نے متعدد ایسے بیان دیکھے ہیں کہ سوات میں فوجی آپریشن فوراً بند کردیا جائے تو اس کے بعد کیا ہوگا ایسا کونسا بدبخت پاکستانی ہے جو چاہتا ہے کہ بہر صورت اپنے ہی ملک میں فوج کشی کی جائے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اور کیا کیا جائے اگر آپریشن بند کردیا جائے تو آپ ہی فرمائیے کہ اس کے بعد کیا ہوگا سوات پر پھر سے طالبان قابض ہو جائیں گے اور وہ جیسا کہ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان سے الگ ایک ریاست بنالیں گے بونیر پر قابض ہو کر تربیلا ڈیم تک آجائیں گے یہ لوگ ہمارے سیانے ہیں آخر ہمیں بتائیں تو سہی کہ فوج واپس بلائی جائے تو پھران کے خیال کے مطابق کیا صورت حال ہوگی ابھی پشاور میں ایک خود کش حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں دو اپاہج بچیاں بھی ہلاک ہو گئیں کیا ہمارے کسی سیانے کی آنکھ سے ان کی موت پر ایک آنسو بھی بہا کسی نے مذمت کی پچھلے دنوں اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا تو آپ پارہ چوک میں دو بینر نظر آئے جو قوم کی اجتماعی سوچ کی پھرپور نمائندگی کرتے تھے پہلا بینر تھا گو امریکہ گو‘‘ اور دوسرا بینر تھا’ ’ گو طالبان گو‘‘ یہ دونوں نعرے پاکستانیوں کے دل کی آواز ہیں۔
اب چونکہ میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ آج میں سوات کے دکھ درد کو بھول کر آپ کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کروں گا تو آخر میں ایک اور لطیفہ سن لیجئے ایک صاحب کھجوریں کھانے کے شوق میں کھجور کے درخت پر چڑھ تو گئے لیکن جب اترنے کی کوشش کی تو گرتے گرتے بچے اور وہیں چوٹی پر بیٹھ گئے کہ لوگو مجھے اتارو تب پھر ایک سیانے بابا کو بلایاگیا انہوں نے آتے ہی کہا کہ اس شخص کی جانب ایک رسہ پھینکو اور اسے کہو کہ اس کا ایک سرا خوب کس کر کمر کے ساتھ باندھے ٹھیک ہے اب رسے کے دوسرے سرے کو زور سے کھینچو کھجور پر معلق شخص رسہ کھینچنے سے دھڑام سے زمین پر آگرا اور مرگیا سیانے بابا نے کہا کہ پتہ نہیں کیا ہوا ہے ابھی اگلے روز اسی ترکیب سے ایک شخص کو کنویں میں سے نکالا تھا۔
پاکستانی قوم جو ان دنوں مشکلات کی چوٹیوں پر معلق ہے اسے ایسے سیانے باباؤں کی بات پر کان نہیں دھرنا چاہیے ورنہ جان سے جائے گی۔
Courtesy: Daily Jinnah
Related posts:








Recent Comments