خبريں اردو سے محبت کرنے والوں کے لۓ

21May/090

مستقبل قریب کا ہندوستان….گریبان … منوبھائی

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت“(اور اتنی ہی بڑی غربت)ہندوستان کی بالغ رائے عامہ نے تازہ ترین عام انتخابات کے ذریعے دنیا کے سامنے جو تناظر پیش کیا ہے وہ نام نہاد ”دائیں“ اور”بائیں“ دونوں نظریاتی بازوؤں اور ”لیفٹ“ اور ”رائٹ“ کی سیاست کو مسترد کرنے والا ہے جس کی وجہ سے ماہرین سیاست کی توقعات اور اندیشوں کے برعکس متوازن سوچ کی شہرت رکھنے والی سیاست کو ابھرنے کا موقع ملا ہے۔ جہاں تک ہندوستان کی بائیں اور دائیں بازو کی سیاست کا تعلق ہے اگر تھوڑا سا غورکیا جائے تو ان دونوں میں اب اتنا فرق بھی نہیں رہ گیا جتنا دنیا کی اکلوتی سپرپاور کی ”ری پبلکن“ اور ”ڈیمو کریٹ“کہلانے والی پارٹیوں میں پایا جاتا ہے جن کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ہی سانپ کے دو منہ ہیں۔ ہندوستان کے تناظر میں لیفٹ او رائٹ کا تفاوت تو
نتھا سنگھ اینڈ پریم سنگھ
ون اینڈ دی سیم تھنگ
والا ہے۔
ہندوستان کی لوک سبھا کے اپریل 2009ء کے عام انتخابات کے نتائج بتاتے ہیں کہ 543کے ا یوان میں کانگریس کی سربراہی میں سابق حکمران کولیشن ”پروگریسوالائنس“ نے 258نشستیں حاصل کی ہیں جوکہ ایوان کی ساد ہ اکثریت 272سے 15کم ہیں جبکہ اس کے مقابلے کی بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے صرف 120نشستیں حاصل کی ہیں جو کہ سال 2004ء میں اس کی نشستوں سے 18نشستیں کم ہے۔ مستقبل قریب کی وزیراعظم بننے کاخواب دیکھنے والی وہ اتر پردیش (UP) کی کماری مایاوتی کی بھاؤجن سماج پارٹی سب سے زیادہ غیر متوقع نتائج کی زدمیں آئی ہے اور گزشتہ عام انتخابات سے صرف دو نشستوں کے اضافہ کے ساتھ 21نشستیں جیت سکی ہے جبکہ اس کی توقع کم از کم پچاس نشستوں کی تھی مگر کماری مایا وتی نے ہندوستان کی آئندہ سیاست میں کانگریس کاساتھ دینے کے فیصلے کااعلان کر دیا ہے جس سے کانگرس کی سربراہی میں پروگریسو الائنس کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہوجاتی ہے۔ قومی سطح پر سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہندوستانی کیمونسٹ ہیں جن کی مغربی بنگال اور کیرالا کی پرانی کیمونسٹ حکومتیں ختم ہوگئی ہیں جو سرمایہ داری نظام میں رہتے ہوئے اس نظام کے خلاف ہونے کا بھرم قائم نہیں رکھ سکتیں اور جنہوں نے من موہن سنگھ کی حکومت کو امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کرنے کے خلاف بطور احتجاج چھوڑ دیا تھا۔ خوشگوار حیرت فراہم کرنے والی حقیقت یہ بھی ہے کہ نومبر2008ء کے ممبئی کے ہوٹلوں پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ہندوستانی میڈیا کے انتہا پسندوں نے پاکستان کے خلاف نفرت اور غصے کی جو آگ بھڑکانے کی کوشش کی تھی وہ بے اثر ثابت ہوئی ہے بلکہ انتہا پسندوں کے خلاف گئی ہے۔ ان کاایک مقصد من موہن سنگھ کو سیاسی نقصان پہنچانے کا بھی تھا مگر ممبئی میں انتہا پسندوں کے مقابلے میں کانگریس کوفتح نصیب ہوئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ممبئی کے بالغ رائے دہندگان وہ کچھ نہیں چاہتے جوبال ٹھاکرے اور شوسینا چاہتی ہے۔
ہندوستان کے عام انتخابات کی مہم میں فرقہ پرست ہندو انتہا پسندوں نے وزیراعظم من موہن سنگھ پر یہ الزام عائد کرنے پر سب سے زیادہ توجہ دی کہ وہ ممبئی حملے کے سلسلے میں پاکستان کے ساتھ بہت نرم رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں مگر بالغ رائے عامہ نے اسے تسلیم نہیں کیا اور وہ پاکستان کے خلاف انتہاپسندوں جیسے خیالات و جذبات نہیں رکھتے۔ اس حقیقت کومدنظر رکھا جائے کہ واجپائی کی وزارت عظمیٰ کے دوران لوک سبھا پر دہشت گردی کی واردات کے نتیجے میں ہندوستان کے اوپر سے پاکستانی فضائی پروازیں بند کر دی گئی تھیں اورہندوستانی فوج پاکستان کی فوج کے سامنے صف آراہوگئی تھی مگرممبئی واردات کے بعداس نوعیت کا کوئی انتہاپسندانہ قدم نہیں اٹھایا گیا تھا تو وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے سیاسی رویوں میں بہت حد تک مطابقت دکھائی دیتی ہے چنانچہ صدر زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی مستقبل قریب کی ہندوستانی حکومت کی مسز سونیا گاندھی اور وزیراعظم من موہن سنگھ کے ساتھ بہتراور خوشگوار تعلقات قائم کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں اور ان بہتر اور خوشگوار تعلقات کے ذریعے جنوبی ایشیا کے ان دو اہم ملکوں میں دہشت گردی کی وارداتوں کے تواتر اور تسلسل میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔ آنے والے چند سالوں میں ہندوستان کی آبادی چین کی آبادی سے بڑھ جائے گی اور دنیا کی یہ سب سے بڑی جمہوریت صحیح معنوں میں دنیا کی سب سے بڑی غربت بھی بن جائے گی اور غربت اپنے ساتھ جو نہایت تکلیف دہ اور بہت ہی خوفناک قسم کی آلائشیں لے کرآتی ہے ہندوستان ان سے بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا اوراس کے وزیراعظم کے لئے یہ بھی ممکن نہیں ہوگا کہ وہ عالمی مالیاتی بحران کی شدت میں اپنے ملک کے غریبوں کو ماضی کے چھ سات سالوں کی طرح 700ارب روپے کا درپردہ سہارا فراہم کر سکے چنانچہ اسے اپنے پڑوسیوں سے بہتر تعلقات کی ضرورت ہوگی۔

بشکريہ روزنامہ جنگ

  • Share/Bookmark

Related posts:

  1. کیا بددیانتی میں جرأت ہوتی ہے؟,,,,گریبان …منوبھائی
  2. دستی فون اور اخبارات کی ترقی کی رفتار ….گریبان …منوبھائی
  3. ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں …گریبان … منوبھائی

Comments (0) Trackbacks (0)

No comments yet.


Leave a comment


No trackbacks yet.

Canonical URL by SEO No Duplicate WordPress Plugin