رنجیت سنگ سکھوں کی تاریخ کا پہلا حکمران تھا،وہ13نومبر 1780ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوا ، اس کا والد مہمان سنگھ چھوٹی سی’’مثل‘‘ کا سردار تھا ، ان دنوں پنجاب میں جاگیریں اور چھوٹی سرداریاں مثل کہلاتی تھیں، رنجیت سنگھ پر بچپن میں چیچک کا حملہ ہوا اوروہ اس کی ایک آنکھ لے گئی ، بارہ سال کی عمر میں وہ اپنی مثل کا سردار بن گیا ، وہ ایک مہم جو و انسان تھا ، وہ آگے بڑھنا چاہتا تھا ، اس وقت لاہور پر تین سکھ سردار قابض تھے ، رنجیت سنگھ نے لاہور کے مسلمانوں سے خفیہ رابطے قائم کئے مسلمانوں نے اسے لاہور بلایا اور شہر اس کے حوالے کردیا ، اس نے سکھ سرداروں کو مار بھگایا اور لاہور پر قابض ہو گیا ، اس وقت اس کی عمر صرف 19برس تھی ،1802ء میں اس نے امرتسر پربھی قبضہ کر لیا 1806ء میں اس کا انگریزوں کے ساتھ پہلا معاہدہ ہوا جس کے بعد وہ وسطی ، جنوبی اور شمالی پنجاب کی طرف متوجہ ہو گیا

 اور اس نے چند ہی برسوں میں گجرات ، ڈسکہ ، سیالکوٹ ، شیخوپورہ ،جھنگ ، چنیوٹ ، خوشاب ، ملتان،راولپنڈی،ڈیرہ اسماعیل خان، ہزارہ ، پشاور اور کشمیر کو اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیا،1809ء میں انگریزوں نے اسے دریائے ستلج کے پار پنجاب کا حکمران مان لیا اور وہ پنجاب کا پہلا سکھ حکمران بن گیا۔
1831ء کا سال راجہ نجیت سنگھ اور سکھ سرکار زندگی میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے ، اس سال اکتوبر میں رنجیت سنگھ کی ہندوستان کے انگریز گورنر جنرل ولیم بیننگ سے ملاقات ہوئی،رنجیت سنگھ انگریزوں کی شان و شوکت دیکھ کر حیران رہ گیا،وہ بنیادی طور دہقان زادہ تھا اور اس نے کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا ،اس کی زندگی کا زیادہ تر حصہ گھوڑے کی پیٹھ پر گزرا تھا لہٰذا جب وہ گورنر جنرل ہاؤس میں داخل ہوا تو وہ انگریز کے کرو فر سے مرعوب ہو گیا،رنجیت سنگھ کو محسوس ہوا ایک منظم اور طوقتور فوج کے بغیر مضبوط اور دیرپا حکمرانی ممکن نہیں چنانچہ اس نے تاریخ کی پہلی سکھ فوج بنانے کا فیصہ کیا ، اس نے چند ریٹائر انگریز افسر ملازم رکھے اور انہیں ایک منظم فوج بنانے کی ذمہ داری سونپ دی ،1831ء تک ہندوستان میں پارٹ ٹائم فوجی ہوتے تھے ،یہ لوگ پانچ ہزاری یا دس ہزاری کہلاتے تھے ، یہ سرداروں اور جاگیرداروں کے قبضے میں ہوتے تھے ،یہ لوگ زمانہ امن میں کھیتی باڑی اور تجارت کرتے تھے لیکن جب بادشاہ کو ضرورت پڑتی تھی تو یہ فوج کی شکل اختیار کر لیتے تھے ،ہندوستان کی پہلی منظم فوج انگریز نے تشکیل دی تھی ، رنجیت سنگھ نے انگریز کی پیروی میں سکھ فوج بنانے کا فیصلہ کیا ، لاہور میں آج جس جگہ انجینئرنگ یونیورسٹی ہے وہاں اس زمانے میں ایک چھوٹا سا گاؤں ’’بدھوکا آوا’’ ہوتا تھا ، رنجیت سنگھ نے یہ گاؤں فوج کے حوالے کردیا ،فوج نے اس جگہ پہلی چھاؤنی بنائی ، رنجیت سنگھ نے شروع میں چار ہزار سکھ سپاہی بھرتی کئے ، انگریز انسٹرکٹروں نے انہیں ٹریننگ دی اور ا سکے بعد فو ج میں اضافہ ہونے لگا ،1839ء میں جب رنجیت سنگھ کا انتقال ہوا تو سکھ فوج کی تعداد چالیس ہزار تک پہنچ چکی تھی اور اس کا ماہانہ خرچ چار لاکھ روپے تھا جبکہ اس کے پاس ایک لاکھ گھوڑے اور ایک ہلکا توپ خانہ بھی تھا رنجیت سنگھ جب فوج تشکیل دے رہاتھا تو اس وقت تک اس کی سلطنت مستحکم ہو چکی تھی اس نے کار سرکار چلانے کیلئے سول سروس یا بیورو کریسی کا کام بھی فوج سے لینے کا فیصلہ کیا ، اس نے مالیے کی وصولی ، پولیس ، لاء اینڈ آرڈر ، پہرے داری ، سفارت کاری حتیٰ کہ گردو اروں کی حفاظت تک فوج کے حوالے کردی ، یہ نجیت سنگھ کا وہ فیصلہ تھا جو آنے والے دنوں میں سکھ حکومت کے زوال کی وجہ بنا، رنجیت سنگھ کے دور ہی میں فوج کے اثرو رسوخ میں اضافہ ہونے لگا تھا لیکن وہ ایک مضبوط اعصاب کا سمجھدار انسان تھا چنانچہ اس کی زندگی میں سکھ فوج اس کی تابعدار اور فرمانبردار رہی لیکن جوں ہی اس کا انتقال ہوا سکھ فوج شاہی تخت پر حاوی ہو گئی اور اس نے پنجاب کی سیاست اپنے ہاتھ میں لے لی ،
رنجیت سنگھ کے بعد اس کا بیٹا کھڑک سنگھ تخت نشین ہوا تو سکھ دو بڑے سیاسی گروپوں میں تقسیم ہو گئے ، ایک گروپ ڈوگراسکھوں پر مشتمل تھا جبکہ دوسرا سندھنا نوالہ گروپ تھا ، آپ اپنی سہولت کے لئے انہیں ڈگروپ اورس گروپ کہہ سکتے ہیں ۔کھڑک سنگھ کا تعلق ڈگروپ سے تھا جبکہ س گروپ کا صدر دھیان سنگھ تھا ،دھیان سنگھ کھڑک سنگھ کا مخالف تھا ،وہ فوج کے ساتھ مل گیااور اس نے فوج کو اپنا آئینی کردار ادا کرنے پر ابھارنا شروع کر دیا، دھیان سنگھ کا کہنا تھا کھڑک سنگھ پنجاب کو انگریزوں کے ہاتھ فروخت کردے گا اور انگریز آکر سکھ فوج کو ختم کر دیں گے ،فوج نے اپنا آئینی کردار ادا کیا ، کھڑک سنگھ کو غدار ڈکلیئر کیا ،اسے تخت سے اتارا اور اس کے بیٹے کیپٹن نو نہال سنگھ کو بادشاہ بنا دیا ، نونہال سنگھ لڑکپن میں فوج میں رہا تھا اور فوج سے اپنا نمائندہ سمجھتی تھی ،فوج نے نہونہال سنگھ کی کابینہ تشکیل دی تھی اور یوں فوج میں رہا تھا اور فوج کو کابینہ بنانے اور اپنے ناپسندیدہ لوگوں کو غدارڈکلیئر کرنے کا اختیار مل گیا ،بدقسمتی سے ایک سال بعد نہونہال سنگھ حادثے میں مر گیا ، جس کے بعد اس کی بیوہ چاند کو تخت پر بیٹھ گئی چاند کو رسکھ سلطنت کی پہلی خاتون حکمران تھی ، وہ ایک بااعتماد عورت تھی لہذا فوج جلد ہی اس سے ’’مایوس ‘‘ہوگئی، س گروپ کے سربراہ دھیان سنگھ نے ایک سازش تیار کی ، اس نے رنجیت سنگھ کے دوسرے بیٹے شیر سنگھ کو ساتھ ملایا ، ان دونوں نے چند جرنیلوں کو ہاتھ میں لیا ، جرنیلوں نے فوج کو قائل کیا اور ستر ہزار فوجیوں نے لاہور کے قلعے پر حملہ کر دیا، چاند کور نے ہتھیار ڈال دیئے ، فوج نے شیر سنگھ کو تخت پر بٹھا دیا ، شیر سنگھ کو فوج نے حکمران بنایا تھا لہذا اس کے دور میں اقتدار عملا فوج کے پاس تھا ، بادشاہ کے تمام فیصلے اس کا ملٹری سیکرٹری کرتا تھا، لوگ انصاف ، ٹھیکوں اور مک مکا کیلئے سیدھے ’’بدھوکا آوا‘‘ جاتے تھے ، فوج کے پاس کسی بھی شخص کو غدار قرار دے کر پھانسی دینے کا اختیار تھا اور فوج ایک مہرلگا کر کسی بھی تاجر یا ٹھیکدار کو لاکھ پتی بنا سکتی تھی ، شیر سنگھ کے دور میں فوج نے قلعے کے باہرتمام زمینوں پر قبضہ کر لیااوروہ زمینیں پٹے پر دینے لگی، فوج حکومت کی آمدنی سے نصف رقم بھی لیتی تھی جبکہ تمام سول محکموں کے سربراہ حاضر سروس فوجی بنا دیئے گئے ،یہ افسر حکومت سے دوہری تنخواہ لیتے تھے ، اس لوٹ کھسوٹ کے نتیجے میں عوام کی حالت پتلی ہو گئی ،لاہور میں جلوس نکلنے لگے اور لوگ سر عام خودکشیاں کرنے لگے دوسری طرف ڈگروپ اور س گروپ اقتدار کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل لڑ رہے تھے ڈگروپ نے اس سیاسی ابتری کا فائدہ اٹھایا اور اس نے مہاراجہ شیر سنگھ اور دھیان سنگھ دونوں کو قتل کردیا جس کے بدلے میں ہیرا سنگھ نے ڈگروپ کا قتل عام شروع کردیا ، ڈگروپ نے مزاحمت کی اور یوں ہیرا سنگھ کو فوج کی مدد لینا پڑ گئی ، ہیرا سنگھ نے فوج کو یقین دلایا اگر وہ کامیاب ہوگیا تو وہ سپاہی کی تنخواہ نو سے بارہ روپے اور گھڑ سوار کی 25سے30روپے کر دے گا ، فوج نے ہیرا سنگھ کی حمایت میں ایک بار پھر لاہور پر حملہ کردیا ،لاہور کے شہریوں پر دوراتوں تک گولہ باری ہوتی رہی جس سے ہزاروں بے گناہ شہری مارے گئے ، فوج نے لاہور پر قبضہ کیا ،رنجیت سنگھ کے چھ سالہ بیٹے د لیپ سنگھ کو تخت پر بٹھایا اور ہیرا سنگھ کو اس کا وزیر بنا دیا ،ہیرا سنگھ نے نہ صرف فوج کی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کردیا بلکہ اس نے فوج کو ہر قسم کے مالیے اور ٹیکسوں سے بھی آزاد کردیا لیکن فوج جلد ہی ہیرا سنگھ سے بھی مایوس ہو گئی اور اس نے اسے قتل کردیا ،ہیرا سنگھ کی جگہ جو اہر سنگھ کو وزیر بنایا گیا جو اہر سنگھ نے سارا خزانہ فوج کے حوالے کردیا لیکن فوج کے مطالبات بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ یہ مطالبات پورے کرنا مشکل ہو گیا ، جواہرسنگھ نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ،فوج نے اسے ’’بدھوکا آوا’’ طلب کیا اور اسے اس کی بہن جنداں کے سامنے قتل کر دیا ، فوج نے جنداں کو نوسالہ بادشاہ دلیپ سنگھ کا سرپرست نامزد کردیا ۔
اس وقت تک سکھ سلطنت بری طرح دیوالیہ ہو چکی تھی ،پنجاب میں بے روزگاری ، مہنگائی ، کرپشن ، جرائم اور بدامنی آسمان کو چھو رہی تھی ، لوگ بھوکے مررہے تھے جبکہ فوج بدھو کے آوا میں عیش کر رہی تھی ، لاہور شہر سے باہر فوجی افسروںں کے بڑے بڑے محل اور فارم ہاؤس تھے ، حالت یہ تھی فوج کا ا یک درمیانے درجے کا افسر اٹھتا تھا ، شہر میں داخل ہو تا تھا اور جس دکان ، جس گھرسے جو چیز چاہتا تھا گھوڑے پر لاد کر واپس چلا جاتا تھا اور کسی کو اسے روکنے کی جرات نہ ہوتی تھی ، جنداں بی بی ایک سمجھ دار اور معاملہ فہم عورت تھی ،اس نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ، اس نے سکھ فوج کو انگریز فوج سے لڑانے کا منصوبہ بنایا ۔اس نے فوری طور دو کام کیئے، ایک اس نے انگریز کو پنجاب پر حملے پر اکسایا اور دوسرا اس نے سکھ فوج کے جوانوں میں جذبہ حب الوطنی پیدا کرنا شروع کر دیا ،اس نے انہیں باور کرا دیا دنیا میں سکھ جوان سے زیادہ جرات منداور بہادر کو ئی نہیں ،جنداں بی بی کی کوشش کامیاب ہوئی اورسکھ جوان سینہ ٹھونک کر انگریز فوج کے سامنے کھڑے ہو گئے ، سکھ جرنیل انگریز فوج کی طاقت اوراپنی کمزوریوں سے واقف تھے لہذا انہوں نے لڑائی سے بچنے کی بڑی کوشش کی لیکن جنداں بی بی نے فوج میں خبر پھیلا دی کہ ہمارے جرنیل لڑنا نہیں چاہتے ، جوانوں نے جرنیلوں پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا لہذا جرنیل بری طرح اندرونی اور بیرونی دباؤ کا شکار ہو گئے یوں1849ء میں سکھ فوج کے 8ہزار جوان مارے گئے ، اس مشکل وقت میں فوج نے عوام سے مدد مانگی لیکن لوگوں نے فوج کے ساتھ لڑنے سے انکار کردیا ، اگلے دن سکھ جرنیلوں نے ہتھیار پھینکے اور میدان سے بھاگ کھڑے ہو ئے ، جنداں بی بی نے لاہور انگریزوں کے لئے کھول دیا ،انگریز آئے اور سکھوں کی پہلی اور شاید آخری سلطنت تاریخ کا حصہ بن گئی ، اس شکست کے بعد فوج کا لفظ سکھوں میں تحقیر کا نشانہ بن گیا ،یہ سلسلہ آج تک جاری رہے ، آج بھی جب دو تین سکھ اکٹھے ہو کر کسی جگہ جاتے ہیں تو دیکھنے والے ان سے پوچھتے ہیں ’’اے فوجاں کھتوں آیا ں نے ’’(یہ فوجیں کہاں سے آئی ہیں )یا’’اے فوجاں کتھے جارئیں نے ’’(یہ فوجیں کہاں جارہی ہیں )’’اور وہ ہنس کوجواب دیتے ہیں ’’فوجاں لہوروں آئیاں نے ‘‘ جبکہ ڈیڑھ سو سال گزرنے کے باوجود آج بھی جب کو سکھ سینہ تان کر کھڑا ہوتا ہے تو دوسرا سکھ اسے کہتا ہے ’’ میں بلاواں جنداںنوں ‘‘(میں جنداں کو بلاؤں ) اور وہ سکھ کر شرما کر سینہ اندر کر لیتا ہے ۔
نوٹ :’’یہ محض ایک تاریخی واقعہ ، اس کا موجود سیاسی اور فوجی حالات سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

Source: Daily Jinnah, 15-May-09

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. بیورو کریسی یہ رقم بھی کھا جائے گی ۔۔۔۔ ملک ریاض حسین کا کالم حقیقت
  2. مصلحت۔۔۔۔۔ ملک ریاض حسین کا لم حقیقتMaslihat-By Malik Riaz
  3. اک اور طرح کا کالم.- حسن نثار

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha