جب موٹروے کی تعمیر اور تکمیل ہوئی تو اس کے بارے میں طرح طرح کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ قومی خزانہ خالی ہوگیا ہے ہمارا ملک موٹروے کی عیاشی افورڈ نہیں کرسکتا اس سے کہیں بہتر تھا کہ جی ٹی روڈ کی حالت زار پر توجہ دی جاتی اور دراصل یہ صرف اس لئے تعمیر کی گئی ہے وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ اس پر اپنی سپورٹس کاریں دوڑاتے پھریں لیکن اب جاکر احساس ہوتا ہے کہ قومی خزانہ تو یوں بھی خالی ہونا تھا اور غیر ملکی قرضوں میں بھی بہرطور اضافہ ہونا تھا اور یہ رقمیں ہمیشہ کی طرح جانے کن منصوبوں پر خرچ ہونی تھی یا خوردبرد ہو جانی تھیں تو کیا ہی اچھا ہوا کہ موٹروے تعمیر ہو گئی جو کم از کم دکھائی تو دیتی ہے اور مجھ ایسے بزرگ ڈرائیور حضرات کو آرام سے اسلام آباد پہنچا دیتی ہے ورنہ پچھلی دنوں صرف گوجرانولا تک کا سفر جی ٹی روڈ پر کیا جس کے نتیجے میں میری بدنی ساخت میں خاصا ردوبدل ہوگیا ریڑھ کی ہڈی کے مہر ے شطرنج کے مہروں کی مانند آگے پیچھے ہو گئے ایک دو پسلیوں کو بھی ضعف پہنچا اور کم از کم تین روز تک ’’ ہائے ہائے کرتا پھرا۔ ۔ ۔
مجھے یاد ہے کہ جس روز موٹروے کا افتتاح ہواتھا اسی روز پاکستان ٹیلی ویژن کی سالگرہ کی تقریبات بھی منعقد ہورہی تھیں اور میں ان کی میزبانی کررہا تھا، چنانچہ اس پروگرام کے دوران موٹروے کی بھی توصیف اور تعریف دھڑا دھڑ چلتی رہی طارق عزیز افتتاح کے جلسے میں نواز شریف صاحب زندہ باد کے نعرے لگاتے لگاتے اپنے گلے کا ستیاناس کر بیٹھے، سٹوڈیو میں سدابہار اظہر لودھی بھی موجود تھے اور اپنی قادر الکلامی کا ہمیشہ کی طرح بھرپور مظاہرہ کر رہے تھے ان دنوں شاید گوشہ نشین ہو گئے ہیں ورنہ اکثر نئی حکومت بننے پر نمودار ہو جاتے ہیں اور اس پروگرام میں موٹروے پر سفر کرنے والوں کو بتارہے تھے کہ اگر دائیں ہاتھ ہونا ہو تو دایاں انڈی کیٹر آن کیجئے اور اگر بائیں جانب جانا ہے تو بایاں انڈی کیٹر روشن کیجئے اس پر میں نے کہا کہ لودھی صاحب ویسے آپ بایاں انڈی کیٹر آن کر کے اکثر دائیں جانب مڑ جاتے ہیں انہوں نے ایک زور دار قہقہ لگا کر کہا ’’ تارڑ صاحب‘‘ کبھی کبھی ایسا بھی کرنا چاہیے جب میں نے پہلی بار موٹروے پر سفر کیا تو یہ ایک شاندار سفری تجربہ تھا نئی لینڈ سکیپ اور خوبصورت ناموں والے تقریباً گمنام شہر، کوٹ مومن، للِہ ،کلر کہار، سیال چوک یہاں تک کہ میری بیگم کا ہم نام مونا بھی۔ ۔ ۔ ایک مقام پر مالٹوں سے لدے ہوئے درخت موٹروے پر جھانکتے تھے اور متعدد ڈرائیور حضرات وہاں رک کر تازہ مالٹے نوش کر رہے تھے ہم نے بھی استفادہ کیا موٹروے پولیس بھی تازہ ہوا کا ایک جھونکا تھی بلکہ اب بھی ہے بلکہ ابھی چند روز بیشتر گوجرانوالہ جانے کے لئے ہم نے موٹروے سے کالا شاہ کاکو کے لئے مڑنا تھا اور وہ موڑ گزر گیا اب کچھ اندازہ نہیں کہ آگے کہاں تک جانا ہوگا اور پھر کہاں سے مڑنا ہوگا موٹروے پولیس کے اہلکار نازل ہو گئے کہ سر کیا پرابلم ہے میں نے پرابلم بتائی تو انہوں نے کمال مہربانی کی اور موٹر وے کا ایک بیرئیر اٹھا کر ہمیں دوسری جانب موڑ دیا۔ ۔ ۔ تھینک یو موٹروے پولیس اس بار میں نے ایک اور تبدیلی دیکھی کہ راستے میں پڑتے علاقوں کے بارے میں معلوماتی بورڈ آویزاں تھے کہ یہ علاقہ باسمتی چاول کے لئے مشہور ہے اور یہ خطہ مالٹوں کے لئے جانا جاتا ہے اب یہ جو میں یکدم اسلام آباد کا مسافر ہو رہا تھا تو نہ کہیں سے کوئی دعوت نامہ آیا تھا اور نہ ہی کوئی ریکارڈنگ وغیرہ کا مسئلہ تھا بلکہ امریکہ کے ویزے کا مسئلہ تھا جس کے لئے مجھے سویرے ایک پیچیدہ طریقے سے امریکی سفارت خانے میں حاضر ہونا پڑتا تھا میرے تینوں بچے فی الحال امریکہ میں ہیں اور اگر آپ کے پاس ویزا ہو تو آپ وہاں جائیں یا نہ جائیں ایک تسلی سی ہوتی ہے ایک اطمینان ہوتا ہے کہ اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو جائے یا اداسی ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو جایا جاسکتا ہے اور اگر ویزا نہ ہو تو آپ بے آس سے ہو جاتے ہیں محسوس ہوتا ہے جیسے بچے بہت دور چلے گئے ہیں اور ہم ان سے مل نہیں سکتے، اگرچہ میں اور میری بیگم پچھلے پانچ برسوں میں متعدد بار امریکہ آجاچکے تھے پاسپورٹ بھی سرکاری تھے اور وزارت خارجہ نے بھی سفارش کی تھی لیکن پھر بھی دل دھڑکتا تھا کہ امریکیوں کا کیا پتہ انکار ہوگیا تو کیا کریں گے ہم خاصے فکر مند تھے اگلی صبح ہمیں وزارت خارجہ کی جانب سے یہ سہولت حاصل ہو گئی کہ ہماری کار متعدد حفاظتی ریکاوٹوں کے پار امریکی سفارت خانے تک جاسکتی تھی اور وہاں حسب معمول آپ ایک قطار میں کھڑے ہوتے ہیں اور پچھلی بار میں نے اس قطار میں عوام الناس کے ساتھ کھڑے بے آرام ہوتے پنجاب کے ایک سابق وزیراعلیٰ اور ان کے خاندان کو بھی دیکھا تھا ایک سابق کمانڈر ان چیف کی اہلیہ کو بھی مجبوراً عوام میں گھلتے ملتے دیکھا تھا اور مجھے امریکیوں کی یہ ادا پسند آئی تھی کہ ایک ہی صف میں انہوں نے کم از کم محمود اور ایاز کو کھڑا کر دیاتھا اور جب انٹرویو کے لئے ان سابق وزیر اعلیٰ اور ان دنوں ایک فیڈرل منسٹر کو نام سے پکارا گیا کہ فلاں حاضر ہو تو مجھے لطف آگیا تھا۔ ۔ ۔ انٹرویو کے ہال میں تقریباً تین چار درجن لوگ اپنی نشستوں پر پہلو بدلتے تھے اور ان کے دل کے دھڑکنے کی آواز باآسانی سنی جاسکتی تھی بالآخر ہمارا ٹوکن نمبر پکارا گیا اور ہم کھڑکی پر چلے گئے کھڑی کے پیچھے جو ہال تھا اس میں سفارت خانے کے جوپاکستانی خواتین وحضرات اپنے کام میں مگن تھے انہوں نے مجھے دیکھ کر مسکراہٹوں سے نوازا۔ ۔ ۔ ویزا افسر نے یونہی دوچار سوال کرنے کے بعد درخواست پر ویزے کے لئے ٹھپہ لگا دیا اور میں نے جو ایک مختصر تقریر تیار کررکھی تھی وہ دھری کی دھری رہ گئی اگرچہ ان دنوں امریکہ کی تعریف کرنا خطرے سے خالی نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ویزا کے شعبے کے امریکی اور پاکستانی اہلکار نہائت منظم، مددگار اور خوش اخلاق تھے میں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پانچ برس بیشتر بہت کم ویزے جاری کئے جاتے تھے جب کہ اس بار دوتین حضرات کے علاوہ اکثر لوگوں کو ویزے جاری کردئیے گئے۔
ہم موٹروے کے راستے لاہور واپس آرہے تھے اور اپنے بچوں کی قربت محسوس کررہے تھے کہ اب ہم ان سے مل سکتے تھے ہم پرسکون تھے البتہ موٹروے پر سفر کرنے والے بیشتر حضرات پرسکون نہ تھے وہ ہمارے دائیں بائیں سے شائیں شائیں کرتے ڈیڑھ سو کلومیٹر کی رفتار سے بھی زیادہ پر اڑے جارہے تھے یہاں تک کہ ایک ڈبل ڈیکر بس بھی یقیناً ایک سو ستر کلو میٹر کی رفتار سے پرواز کرتی گزر گئی شائد ان لوگوں کو امریکی ویزے نہیں ملے تھے اس لئے طیش میں آئے ہوئے تھے موٹروے پولیس کی غالباً اس روز ہفتہ وار چھٹی تھی۔

Courtesy: Daily Jinnah, 16-May-2009

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha