مجھے ہیجڑے اچھے لگتے ہیں اچھے لگنے سے میری مراد یہ نہیں کہ وہ مجھے پیارے لگتے ہیں اگرچہ کچھ لوگوں کولگتے ہیں بلکہ میںان کی کچھ ایسی خوبیوںکامداح ہو جوعام لوگوں میں ناپید ہوتی جارہی ہیں مثلاً وہ کرپٹ نہیں ہوتے۔ عقیدے کے نام پرایک دوسرے کوقتل نہیںکرتے، سول انتظامیہ فوج یاعدلیہ میں نہیں جاتے ، صرف تالیاں بجا کربے ہنگم سے رقص کرکے رزق حلال کماتے ہیں ان میںسے کبھی کوئی اپنے بدن کے ساتھ بارود باندھ کر دوسرے ہیجڑوں کی ہلاکت کاسبب نہیںبنتا کہ ابھی تک یہ طے نہیںہوا کہ ہیجڑے بالآخر جنت یادوزخ میںجائیںگے بھی یانہیں اور اگر جنت میں جائیںگے تو وہاں ان کوکیاملے گا علاوہ ازیں انہیں خاندانی منصوبہ بندی کے لیکچر دینے کی ضرورت نہیںپڑتی کہ اس معاملے میں وہ قدرتی طورپر خودکفیل ہوتے ہیں غرض کہ وہ بے شمار خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں۔
ابھی پچھلے دنوں ٹیکسلا کی پولیس نے شادی کی ایک تقریب پرچھاپہ مار کر وہاں گانے گاتے رقص کرتے متعدد ہیجڑوں کودولہا کے چند عزیزواقارب سمیت گرفتار کرلیا کہ قانونی طورپر گانا بجانا منع ہے ہیجڑوں نے الزام لگایاہے کہ ان کے تین ساتھیوں کوتھانے میں لے جاکرزدوکوب کیاان سے تقریباً سوالاکھ روپے مالیت کے زیور اورسیل فون وغیرہ چھین کرانہیںحوالات میں بندکردیا اس ظلم پراحتجاج کرنے کی خاطر شی میل رائٹس کے صدر ہیجڑے الماس بخاری عرف بابی نے راولپنڈی کے تین سو ہیجڑوںسمیت ایس ایس پی کے دفاتر پرحملہ کردیا چند گملے توڑ دیئے اور پتھر پھینکے علاوہ ازیں انہوں نے پولیس کے خلاف نعرے لگائے لیکن وہ بھی تالیاں بجاتے اورگاتے ہوئے چند ہیجڑے رقص میںمشغول ہوگئے یاد رہے کہ گملے توڑنے یا پتھر برسانے سے کوئی ایک فرد بھی زخمی نہیںہوا کہ وہ پتھر بھی تو ذرا لچک کرپھینکتے تھے اس لیے نشانے پرکہاں لگنے تھے الماس بخاری صاحب یاشاید صاحبہ نے پنجاب کے وزیراعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ ان کے حقوق کاخیال رکھاجائے وہ اگر تالیاں نہ بجائیںگے گائیںگے نہیںتو کمائیںگے کہاںسے البتہ اگر انہیںحکومت کی جانب سے ملازمتیں مہیا کردی جائیں تو وہ رقص وسرور سے توبہ تائب ہوکرشریفانہ زندگی گزارنے پرتیار ہیں یہ ایسی فراخدلانہ پیشکش ہے کہ وزیراعلیٰ کواسے فوری طورپر قبول کرلیناچاہیے اورہیجڑوں کیلئے حکومت میںملازمتوں کابندوبست کرناچاہیے اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ انہیں کون سے محکموں میںملازمتیں دی جاسکتی ہیں۔ میرے خیال میںتو وہ ہرشعبے کیلئے موزوں ہیں کیونکہ حکومت کاکون ساایسا شعبہ ہے جہاں بدنی طور پرنہ سہی ذہنی طورپر پہلے سے ہی متعدد ہیجڑے موجود ہیں میںفساد خلق کے ڈر سے محکموں کے نام نہیںلیناچاہتا آپ خود سیانے ہیں آس پاس نظر کیجئے سمجھ جائیںگے جونہی کوئی نئی حکومت اقتدار میں آتی ہے تو اکثرت حضرات ہیجڑوں کی مانند تالیاں پیٹتے آجاتے ہیں کہ آہاجی ہمارے میاںصاحب آگئے صدقے جاؤں گیلانی صاحب بھی اپنے ملتان کے ہیں وغیرہ وغیرہ ویسے اگر انہیںٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے وارڈن بنادیاجائے تو ان کی کارکردگی نہایت سریلی ہوگی ان دنوں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ٹریفک سگنل بھی بجھے رہتے ہیںاور وارڈن حضرات کوچوک میںکھڑے ہوکرخود اشارے کرنے پڑتے ہیں اب ذرا تصور میں لائیے کہ ان کی جگہ اگر ہیجڑے کھڑے اشارے کر رہے ہوں تو یہ کیاہی لطف انگیز منظر ہوگا یوں ٹریفک بھی رواںدواں رہے گی اورتفریح کاسامان بھی ہوجائے گا یعنی پہلے تو وہ تالی بجاکر ذرا رقص کریںگے اور پھر کہیں گے سوہنیو لنگھ آؤ آپ ہی کی باری ہے لیکن صدقے جاؤں ذرا آہستہ کارچلانا ہم راہوں میں کھڑے ہیں اوراگر کوئی ڈرائیورنیم پلیٹ پران کانام پڑھ کرپکارے گا تو وہ کہیںگے جدوں ہولی جئی لیناںمیراناں میںتھاں مرجانی آں اوراگر اس روز موسم ذرا ابر آلود اوررومانوی ہوتو وہ نغمہ سراہوجائیںگے کہ آئے موسم رنگیلے سہانے غرض کہ بے شمار ممکنات ہیں۔
ویسے ہمیںچاہیے کہ ہم ہیجڑوں کوسنجیدگی سے لیںبلکہ ان کااحترام کریں کیوں کریں میںابھی عرض کرتاہوں آج کی طرح ماضی میں ہیجڑے تالیاں وغیرہ نہیںبجاتے تھے بلکہ شہنشاہوں کے مقرب ہوا کرتے تھے نہایت اعلیٰ عہدوں پرتعینات ہوتے تھے اور اکثر بادشاہ گرہوتے تھے کہ وہ ہمیشہ حرم کے انچارج ہوتے تھے اوربیگمات کی ریشہ دوانیوں میں برابر کے شریک ہوتے تھے میں نے ایک بار ہیجڑوں کی تاریخ کے بارے میںایک کتاب پڑھی تھی جس میںان خواجہ سراؤں کاتفصیلی تذکرہ تھا جنہوں نے سلطنت عثمانیہ کے دوران عروج حاصل کیا بلند ترین عہدوں پرپہنچے بلکہ فوجوں کی کمان بھی کی اوربہت کم لوگ اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ مقامات مقدسہ میں سے ایک کے نگہبان ہمیشہ سے خواجہ سرا رہے ہیںاوروہ ہمیشہ ایک خاص قبیلے سے آتے ہیںتو ان کااحترام لازم ہے ویسے تو ہمارے ہاں بھی ایسے حضرات بلند ترین عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں لیکن ان کی نشاندہی کرنا خطرے سے خالی نہیںہوتا اب دور کیاجانا ہم ادیبوں اورشاعروں میںبھی متعدد ایسے حضرات پائے جاتے ہیں جواپنی ہی عامیانہ شاعری کی توصیف میںہمہ وقت تالیاں بجاتے رہتے ہیں کہ صدقے جاؤں ایک غزل تو سن لو ویسے آپس کی بات ہے میںخود کبھی کبھار تالی بجا لیاکرتاہوں مجھ پربھی اثر ہوگیاہے۔
چندبرس پیشتر شمالی علاقہ جات میںکوہ نوردی کے بعد لاہور لوٹ رہاتھا تو ہم لوگ مانسہرہ کے قریب ناشتے کیلئے ایک ٹرک ہوٹل میںرکے ایک نہایت متشرع قسم کے بزرگ ہماری میز پرآگئے اورکہنے لگے تارڑ صاحب آپ تو ماشاء اللہ ایک مشہور دانشور ہیں میری خوش بختی کہ آج اتفاقاً آپ سے ملاقات ہوگئی میں آپ سے کچھ رہنمائی حاصل کرناچاہتاہوں ایک مسئلہ ہے جومجھے پریشان کرتاہے آپ سے مدد کاطالب ہوں۔ظاہرہے میں دانشور کے خطاب سے از حد پر مسرت ہوا اوراپنے آپ کوذہنی طور پرتیار کرلیا کہ وہ یقیناً مجھ سے ابن عربی یانطشے وغیرہ کے فسلفے کے بارے میںکچھ رہنمائی چاہیںگے جی فرمائیے میں نے مسکراتے ہوئے کہا،ذرا قریب ہوکربولے کیاایک ہیجڑے کی نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے؟میں نے بے چارگی سے اپنی کم علمی کااقرار کیاتو کہنے لگے یونہی اپنے آپ کودانشور مشہور کررکھا ہے اتنا سامسائلہ بھی حل نہیںکرسکتے اورداڑھی پرہاتھ پھیرتے مایوسی سے سر ہلاتے چلے گئے۔ اس کے باوجود کہ میں یہ نہیںجانتا کہ ہیجڑے کی نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے یانہیں میں ہیجڑوں کوپسند کرتاہوں کہ انہوں نے آج تک پاکستان کو کوئی نقصان نہیںپہنچایا جبکہ چند ذہنی ہیجڑوں نے اس کی بنیادیں کھوکھلی کردی
ہیںاورکررہے ہیں صدقے جاؤں۔

Source: Daily Jinnah 7-Feb-09

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha