اس ہفتے امریکی صدر باراک اوباما نے پاک افغان صدور کے ساتھ 20منٹ کی علیحدہ علیحدہ ملاقات کی، بعد ازاں تینوں کے درمیان 20منٹ تک سہ فریقی مذاکرات ہوئے۔صدر اوباما پاک افغان صدور پر جو باتیں واضح کرنا چاہتے تھے ان میں پہلی یہ کہ امریکہ کے ساتھ رولز آف بزنس تبدیل ہو چکے ہیں،افغان صدر کرزئی کے ساتھ وائٹ ہاؤس آئندہ ہفتہ وار ویڈیو کانفرنس نہیں کر ے گا نہ ہی پاکستانی صدر کے ساتھ طویل ٹیلیفونک بات چیت ہو گی جو ماضی میں ذاتی روابط کے باعث صدر بش کا طریقہ کار رہا مگر نتائج نہ دے سکا۔ دوسرا یہ کہ تینوں کے درمیان روابط کی بازپرس طے کردہ مشترکہ مقاصد اور ان کے حصول کی مانیٹرنگ کی بنیاد پر ہو گی۔
اس موقع پر صدر اوباما نے دونوں مہمان رہنماؤں کو حکومتی امور میں سوجھ بوجھ سے کام لینے کی صلاح دی جو بدترین بد انتظامی کا شکار ہیں۔ انہیں فعال حکومت اور مشترکہ دشمن القاعدہ و طالبان کے خلاف متحد ہونے کا کہا جو خطے کو جنگی جنون میں مبتلا کرکے بدترین انتشار کا شکار بنانا چاہتے ہیں، اور یہ کہ9/11کے بعد امریکہ کی القاعدہ طالبان کے خلاف جس جنگ کا آغاز ہوا،آج وہ پاکستان و افغانستان کی داخلی جنگ بن چکی ہے۔
پاکستان میں انتہاپسندی کے اس خطرے کا ادراک خطرناک حد تک سست روی کا شکار رہا۔اس کا ذمہ دار بڑی حد تک آزاد پاکستانی میڈیا ہے جس پر چھائی مذہبی وقوم پرستی کی سوچ نے عوام کو گمراہ کیا، طالبان کیلئے عوامی ہمدردی پیدا کی،فوج و حکومت کے خلاف مخاصمانہ سوچ کو بڑھاوا دیا۔آزاد میڈیا نے ہی اسلام آباد کے قلب میں واقع لال مسجد کے دہشت گردوں کیلئے ہمدردی و حمایت کی لہر پیدا کی (انہیں قرون وسطیٰ کے ہیرو کے طور پر پیش کیا جو امریکہ و فوج کے خلاف پرعزم ہیں)۔ اس عوامی لہر کے پیش نظر فوج اور حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔میڈیا ہی دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو امریکہ کی جنگ بنا کر پیش کرتا اور ساتھ منفی تاثر اجاگر کرتا کہ اگر امریکہ افغانستان سے نکل جائے تو خطے میں امن لوٹ آئے گا ، القاعدہ اور طالبان کا خطرہ ہوا میں تحلیل ہو جائے گا۔آزاد میڈیا نے ہی طالبان اور فوج یا حکومت کے درمیان ہر مضر اور منفی امن معاہدے کی پذیرائی کی ،اس میں 28فروری کا سوات امن معاہدہ بھی شامل ہے جس نے طالبان کو موقع دیا کہ سیاسی خلاء اور عوامی حمایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبہ سرحد کے بڑے حصے پر قابض ہو جائیں۔
خوش قسمتی سے حالیہ تین واقعات نے ہواؤں کا رخ تبدیل کر دیا ہے۔ سوات میں سرعام نوجوان لڑکی پر کوڑے برسانے اور اس پر عوامی ردعمل کے باوجود طالبان کا ڈھٹائی سے دفاع خصوصاً ملک بھر کے علماء کا ردعمل طالبان کے خلاف ایک مثبت لہر پیدا کرنے کا سبب بنا۔ دوسرا طالبان کے ترجمان نے جب آئین،قانون،جمہوریت،انتخابات،سول سوسائٹی،شخصی و اجتماعی آزادیوں کو غیر اسلامی قرار دیا، میڈیا کیلئے یہ سب نا قابل قبول تھا۔ طالبان کی میڈیا کو زبان بندی نہ کرنے پر ان کی خود ساختہ شریعت کے مطابق سزا دینے کی دھمکی سے صحافیوں میں غصے اور خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ طالبان کے زیر قبضہ علاقوں سے رفیوجی کیمپوں تک پہنچنے والے جس طرح طالبان کے خوف کا شکار ہیں میڈیا اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ فوج و حکومت سے ناراضگی بھی ان کے رویے میں نمایاں ہے کہ حفاظت کی بجائے انہیں طالبان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا، کہ جن کے خلاف آواز اٹھانے والوں کوطالبان کی خود ساختہ شریعت کے مطابق خوفناک نتائج بھگتنا پڑ تے تھے ۔
اگر پاکستان کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے یعنی وجود کو بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہیں تو ایجنڈے کے اہم ترین نکات کیا ہونا چاہیں۔ اشد ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن حکومت،فوج اور میڈیا ایک واضح نقطہ نظر اختیار کریں۔حکومت،فوج اور میڈیا کے درمیان طالبانی خطرے پر ہم آہنگی ہوچکی ہے،اگر ن لیگ وفاقی حکومت میں شامل ہو کر ذمہ داری بانٹ لیتی ہے تو منزل کا حصول آسان ہو جائے گا۔ امریکہ کو حامد کرزئی پر دباؤ ڈالنا ہو گا کہ پاکستان کے ساتھ کوئی تنازعہ نہ چھیڑے تاکہ پاکستان مغربی محاذ کی فکر سے آزاد رہے۔ بھارت کو کھلے دل سے پاکستان کے ساتھ دیرینہ تنازعات طے کرنا ہو ں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بدگمانیاں ختم ہوں اور عوام امن کے ثمرات سے مستفید ہو ں۔ دونوں ممالک کو امن مذاکرات کا عمل غیر مشروط طور پر جلد از جلد شروع کر دینا چاہئے۔
پاکستان و افغانستان کیلئے سیاسی حکمت عملی،فوجی و معاشی تعاون پر بات چیت کے دوران تین اہم امور پر پیش رفت کو میڈیا وہ اہمیت نہ دے سکا جو ملنا چاہئے تھی۔ خطے میں مفاہمت کے فروغ کے لئے یہ امور اہم ثابت ہوں گے۔پہلی اہم پیش رفت افغانستان اور پاکستان کے درمیان ’’مفاہمت کی یاداشت‘‘ ہے جس کے تحت جنوبی ایشیاء سے سنٹرل ایشیاء تک محفوظ تجارت کو فروغ دیا جائے گا۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ سے بھارت بھی مستفید ہو گا۔ دوسرا بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کے تنازعہ کو حل کرنے میں امریکی تعاون کی پیشکش ہے جو پاکستان کی زرعی معیشت کو محفوظ اور مضبوط بنائے گی۔ یہ دونوں محرکات علاقائی ممالک کے معاشی مفاد اور انحصار کے بنیادی عناصر ہیں۔تیسرا نکتہ جو انتہائی اہم ہے وہ یہ پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی روایتی بھارت مخالف سوچ بدلے جس کی وجہ ثقافتی بحران وریاستی شناخت کے مسائل ہیں اوریہی خطے کو طویل انتشار میں دھکیلنے کی بنیادی وجہ ہیں۔

Courtesy: Daily Jinnah 8th May 2009

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. پاکستان کو درپیش چیلنج!۔۔۔۔ نجم سیٹھی
  2. نائن الیون کی روحیں۔۔۔۔ نجم سیٹھی
  3. پاک امریکہ تعلقات نازک موڑ پر!۔۔۔۔ نجم سیٹھی
  4. صدر زرداری کی کارکردگی۔۔۔۔ نجم سیٹھی
  5. یہ کس کا کام ہے!۔۔۔۔ نجم سیٹھی

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha