وطن عزیز جن مشکل حالات سے گزر رہا ہے ہرشخص اس سے آگاہ ہے اور ہر شخص کی یہ خواہش ہے کہ اسے امن و سکون کا کوئی لمحہ میسر ہو لیکن فی الحال یہ امید پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ اس گھٹاٹوب اندھیرے میں اقبال نے ہماری رہنمائی یوں کی ہے ملاحظہ فرمایئے:
گمان آباد ہستی میں یقیں مردِ مسلماں کا
بیاباں کی شبِ تاریک میں قندیل رہبانی
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کوجس نے
وہ کیا تھا، زور حیدر، فقر بُوذر، صدقِ سلمانی
ہوئے احرارِ ملت جادہ پیماکس تجمل سے
تماشائی شگافِ در سے ہیں صدیوں کے زندانی
ثباتِ زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میں
کہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تُورانی
جب اس انگارہٴ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پر رُوح الامیں پیدا
آپ نے اقبال کا تجویز کردہ نسخہ ملاحظہ فرمایا لیکن میری دانست میں اقبال کے تجویز کردہ نسخے میں کلیدی حیثیت ان اشعار کی ہے:
غلامی ِمیں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جوہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا!
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
میں نے ان اشعار کو کلیدی اہمیت کا حامل کیوں کہاہے اس لئے کہ ان پر عمل کرکے ہی ہم نجات کاراستہ تلاش کرسکتے ہیں ۔ میری دانست میں اس وقت جنرل اشفاق پرویز کیانی ہی اس ملک کی کشتی کو منجدھار سے نکال سکتے ہیں۔ تمام آثار و قرآئن اس طرف اشارہ کررہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ جنرل کیانی ان توقعات پر پورا اتریں گے جو قوم نے ان سے وابستہ کررکھی ہیں۔ میں اپنے اس کالم میں جو میں نے ان سے تین گھنٹے کی ملاقات کے بعدلکھا تھا واضح طور پر بتایا تھا کہ جنرل کیانی ہی اس ملک کی کشتی کو منجدھار سے نکال سکتے ہیں۔ اب میری توقعات کا امتحان ہونے کا وقت آگیا ہے اور مجھے امید ہے کہ میں اس امتحان میں سرخرو رہوں گا۔ انشاء اللہ
رؤف کلاسرا کی انکشافات سے لبریز رپورٹ
دی نیوز کے رپورٹر جناب رؤف کلاسرا نے اپنے اخبار میں ایک طویل تجزیہ لکھا ہے جس کے مطابق آئندہ ماہ نئے سیاسی سیٹ اپ کے لئے خاموش تیاریاں شروع ہوگئی ہیں اور کئی نئے” شریف الدین پیر زادے“ بڑی تبدیلی کے لئے بلیو پرنٹ کی تیاری کے لئے آئینی و قانونی ایشوز پر لگا دیئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سینئر سیاستدان حتیٰ کہ حکومت کے عہدیداربھی نجی طورپر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں معاملات درست کام نہیں کر رہے ۔ اس لئے کوئی نہ کوئی تبدیلی آنے والی ہے۔ رؤف کلاسرا کا کہنا ہے ”میں نے ایک ذریعے سے یہ بھی سنا ہے کہ ”سیاسی طوفان“ ہماری جانب بھی بڑھ رہاہے۔ کچھ بیک ڈورچینلز عدالتی اسٹیبلشمنٹ سے مل کر کھولے گئے ہیں تاکہ ایک اور نظریہٴ ضرورت جیسے قانون کی ضرورت کو سمجھا جا سکے۔
ہمیں یقین ہے کہ اب اس ملک میں نظریہٴ ضرورت کو کوئی زندہ نہیں کرسکتا۔ وکلاء کی بے مثال تحریک اورچیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی موجودگی میں آخر نظریہ ضرورت زندہ ہونا کس طرح ممکن ہے؟ رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف کو یقین ہے کہ نئے سیٹ اپ کی کلید ان کے پاس ہوگی۔ اگرچہ حکومتی ذرائع اس خبر کو غلط قرار دے رہے ہیں لیکن ایسی تردیدیں ہمیشہ سے جو وزن رکھتی ہیں ہم ان سے بے خبر نہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے میاں نواز شریف میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے اوروہ بالآخر صدر زرداری سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے خاموش کوششیں کرنے والی ان قوتوں کی منطق کے قائل ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم گیلانی اور دیگرکی انتہائی کوششوں کے باوجود نواز شریف نے اپنے وزراء کوگیلانی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کی اجازت نہیں دی۔ اس انکار سے نواز شریف نے تمام متعلقہ حلقوں کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ اسلام آباد کے موجودہ بندوبست میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نئی مجوزہ حکومت میں قومی زندگی کے مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے اچھی شہرت کے حامل بیس وزراء کی کابینہ ہوگی۔ اورنئی حکومت کادورانیہ کم و بیش ایک سال ہوگا۔ ایک سال بعد نئے انتخابات ہوسکتے ہیں اوراگرنواز شریف اکثریتی پارٹی کے لیڈر کے طور پر سامنے آتے ہیں توانہیں وزراعظم بننے کاموقع دیا جا سکتا ہے نئے سیٹ اپ میں اسٹیبلشمنٹ براہ راست ملوث نہیں ہوگی تاہم وہ نئی حکومت کی بھرپورحمایت کرے گی۔ خیال ہے کہ نئے متوقع بیس وزراء کے ناموں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ بجٹ کی منظوری کے بعد ہوگا۔ واشنگٹن بھی ایسے کسی انتخاب کے بارے میں نرم گوشہ رکھتاہے کیونکہ زرداری تیزی سے طاقت سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ وہ اس وقت مکمل تنہائی کا شکار ہوچکے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سندھ میں بدعنوانیوں کے شواہد خاموشی سے اکٹھے کئے جارہے ہیں۔
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=350031
Recent Comments