میں نے اپنے گزشتہ کالم میں اچھو شیخ کی داستان سنائی تھی جو کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر بیٹھا کسی تیز دھار کانچ کے ٹکڑے سے اپنی گردن کاٹتا رہتا تھا اور اس عمل سے لطف اندوز ہوتا تھا یہاں تک کہ جب گردن کے زخم میں سے بہنے والے خون سے اس کی مٹھی آلودہ ہوجاتی تو بھی اسے کچھ خبر نہ ہوتی تھی اور وہ مسکراتا ہوا اپنے آپ کو ہلاک کرنے کے عمل میں مشغول رہتا تھا، اب یہ آپ کی صوابدید پر منحصر ہے کہ آپ اس داستان کو پاکستان کی موجودہ صورتحال پر کیسے منطبق کرتے ہیں۔
آج ’’ ہزار داستان‘‘ میں سے میں آپ کو ایک اور داستان سناؤں گا اور اس کا ماخذ بھی گاؤں میں بسر کیا ہوا بچپن کا ایک برس ہے۔ میں اسے ایک آپ بیتی کے طور پر پیش نہیں کر رہا بلکہ ایک ایسی داستان کی صورت میں سنا رہا ہوں جس میں آپ آسانی سے آج کا پاکستان دیکھ سکتے ہیں یعنی اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب میرے والد صاحب چوہدری رحمت خان تارڑ نے میرے ننھیال گکھڑ منڈی میں کچھ رقبہ ٹھیکے پر حاصل کرکے وہاں ایک جدید طرز کا سیڈ فارم قائم کیا جہاں وہ بیج تیار کئے جاتے تھے جو عام طور پر درآمد کئے جاتے تھے، ان میں سبزیوں کے علاوہ ولائتی پھولوں کے بیج بھی شامل ہوتے تھے۔ پاکستان کے قیام سے پیشتر سرینگر کی جھیل ڈل کے کنارے بھی والد صاحب نے اس نوعیت کا ایک فارم بنایا تھا جہاں اگائے جانے والے ڈہلیا کے پھول بلامبالغہ گوبھی کے پھولوں کے حجم کی برابری کرتے تھے چنانچہ ہم لوگ بھی لاہور سے ایک ڈیڑھ برس کیلئے گکھڑ منڈی شفٹ ہو گئے۔ مجھے نارمل سکول میں تیسری جماعت میں داخل کروادیا گیا اور یہ میرے لئے نہایت مشکل دن تھے، میری امی حسب سابق مجھے نہایت صاف ستھرے لباس میں سکول بھیجتیں، پالش شدہ بوٹ، کلف لگی سفید شلوار اور ایک چھوٹی سے اچکن اور بال وغیرہ بھی نفاست سے بنے ہوئے اور یہ ’’ گیٹ اپ‘‘ سکول کے بچوں کو پسند نہ آیا، کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی جب وہ گاؤں کی گلیوں میں صرف ایک کرتے میں گھوما کرتے تھے چنانچہ وہ ایک غول کی صورت میرے پیچھے لگ جاتے اور ’’ سونے کی چڑیا، سونے کی چڑیا‘‘ کے نعرے لگانے لگتے اور میں ہمیشہ روتا ہوا گھر واپس آتا، اور وہاں جب میں ڈیڑھ برس بعد لاہور لوٹا تو میرے دیہاتی ہو چکے لہجے کی وجہ سے رنگ محل مشن سکول کے خالص لاہوری بچے مجھے ’’ ہائے پت پینڈو، ہائے پت پینڈو‘‘ کہہ کر چھیڑتے اور میں یہاں بھی روتا ہوا گھر لوٹتا۔ نہ مجھے گاؤں نے مکمل طور پر قبول کیا اور نہ ہی شہر نے اور یہ صورتحال اب تک جوں کی توں چلی آرہی ہے۔
بہرطور یہ انہی دنوں کا قصہ ہے میں حسب معمول سونے کی چڑیا بنا، گلے میں بستہ ڈالے ہاتھ میں تختی پکڑے ایک سرد سویر میں سکول جا رہا تھا ریلوے لائن کے پار ہوا تو چادروں کے ایک کارخانے کے قریب میں نے گدھوں کا ایک ہجوم دیکھا اور ان میں سے اکثر گدھوں کی لمبی گردنیں خون سے تر تھیں میں ذرا قریب ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گدھوں کے اس غول کے اندر احمو کمہار کا گدھا پڑا ہے اور گدھ اس کی بوٹیاں نوچ رہے ہیں، میں نے ایک روز پہلے بھی اس گدھے کو یہاں دیکھا تھا یہ احمو کمہار کا تھا شاید وہ بیمار تھا یا زخمی تھا اور احمو اسے جان بوجھ کر یہاں چھوڑ گیا تھا لیکن تب وہ اپنے پاؤں پر کھڑا تھا، زندہ تھا اور دور دور تک کسی گدھ کا نام و نشان نہ تھا، ایک بچے میں جو قدرتی تجسس ہوتا ہے اس کے زیر اثر میں ذرا اور قریب ہوا، چند گدھ مجھے نزدیک ہوتے دیکھ کر پھڑپڑا کر پرے ہو گئے، اور تب مجھ پر ایک ہولناک انکشاف ہوا کہ احمو کمہار کا گدھا ابھی زندہ تھا، اٹھنے کی کوشش کرتا تھا اور پھر ڈھیر ہو جاتا تھا اور گدھ اس زندہ گدھے کی بوٹیاں نوچ رہے تھے، اور وہ نہایت منظم تھے، باری باری آگے بڑھ کر اپنا حصہ نوچتے تھے، اس لئے کہ وہ احمو کمہار کے گدھے کی پشت میں اپنی لمبی گردن یوں داخل کرتے کہ باہر صرف ان کا پھڑپھڑاتا ہوا وجود رہ جاتا اور وہ گدھے کے اندر اپنی چونچ سے اس کے گوشت کو نوچتے اور پھر اپنی گردن باہر نکالتے تو وہ خون سے رنگی ہوتی اور ان کی چونچ میں گدھے کی ایک بوٹی ہوتی، تب ایک اور گدھ اپنی باری کا منتظر آگے ہوتا اور اپنی چونچ اس کے اندر گھسیڑ کر اپنا حصہ نوچ کر گردن نکال لیتا اور زندہ گدھے کے زندہ گوشت کو نگلنے میں مشغول ہو جاتا، تمام گدھ نہایت تحمل سے اپنی باری کا انتظار کرتے، آپس میں نہ لڑتے جھگڑتے اور نہ ہی ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے کہ انہوں نے مشترکہ طور پر طے کر رکھا تھا کہ اس گدھے کو صلح صفائی سے کھانا اور نگلنا ہے۔ جب کبھی احموکمہار کے گدھے کے اندر داخل ہو چکی چونچ اس کا ماس ادھیڑتی تو وہ بے طرح تڑپتا، ایک مردنی اس کی آنکھوں میں اتر رہی تھی ، یہ منظر ایک چھوٹے سے بچے کے ذہن کو کیسے جھنجھوڑ کر خوفزدہ ہمیشہ کیلئے خوفزدہ کر سکتا ہے اس کا بیان ممکن نہیں ہے، میری ٹانگیں لرز رہی تھیں اور آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا۔
اس منظرمیں سب سے ہولناک حقیقت یہ تھی کہ ظاہری طور پر گدھے کے پورے بدن پر کوئی زخم نہ تھا ایک خراش تک نہ تھی لیکن اس کا اندرون ادھڑ چکا تھا اور نصف سے زیادہ کھایا جا چکا تھا، مجھے وہاں سے بھاگ جانا چاہئے تھا لیکن مجھے طیش آگیا، اگر وہ گدھا مر چکا ہوتا تو گدھ اس کے مردار کے حقدار تھے لیکن وہ تو زندہ تھا اور اس کے باوجود اس کی بوٹیاں نوچی جا رہی تھیں، میں نے آگے بڑھ کر اپنے تئیں گدھوں پر حملہ کر دیا، اپنی چھوٹی سی تختی سے ان کو مارنے لگا لیکن ان پر کچھ اثر نہ ہوا، وہ تختی لگنے سے ذرا پھڑپھڑاتے اور پھر بیٹھ جاتے، میں نے ایک گدھ کے دھڑ پر بھی تختی ماری جس کی گردن گدھے کے اندر گھسی ہوئی اپنے حصے کا گوشت نوچ رہی تھی پر اس پر بھی کچھ اثر نہ ہوا اور پھر شاید کسی گدھ نے میرے بازو پر چونچ ماردی اور یکدم میں لرز گیا کہ کہیں یہ گدھے کو چھوڑ کر مجھ پر حملہ آور نہ ہو جائیں میرے اندر کی بوٹیاں بھی نہ نوچ لیں اور میں لرزتا روتا ہوا گھر واپس چلا گیا جہاں مجھے تیز بخار نے آلیا،یہ منظر آج بھی پوری تفصیل کیساتھ میرے ذہن پر نقش ہے۔
اب آپ خود فیصلہ کیجئے کہ کیا آج بھی کوئی ایسا گدھا ہے جو بظاہر ٹھیک لگتا ہے لیکن گدھ اس کے اندر کا نصف ماس نوچ چکے ہیں؟
گدھوں نے طے کر رکھا ہے کہ ہم نے اس گدھے کو کھانا ہے لیکن اپنی باری آنے پر، منظم رہنا ہے، آپس میں کم از کم اس گدھے کو نوچنے کے معاملے میں جھگڑا نہیں کرنا، اپنی باری کا انتظار کرنا ہے، جب تک پچھلا گوشت حلق سے اتار کر ہضم کریں گے تب تک پھر سے باری آجائے گی اورگدھا ابھی زندہ ہے اور اذیت سے تڑپتا ہے۔ اور کوئی نہیں جو اس گدھے کی مدد کو پہنچے، کم از کم ایک چوٹی سی تختی سے ان گدھوں پر حملہ کر دے۔
کوئی ہے؟
Source: Daily Jinnah, 23-Jan-09
Related posts:








Inshallah, very soon these ‘Gidhs’ will be abolished by each other, and no doubt this dunkey will be start to recover but very slowly and steadily, but we have to start to hold ‘Takhti’ firmly and do commited to start. Jaago nation Jagoo, Zardari jaisay lotaray’Gidh’to maro ,Nawaz jaisay gidh ko maro, Altaf jaisay Khoon khar ‘Gidh’ ko maro.
As Mr. Mustaqeem defined the GIdhs of Pakistan i agree with him, Gidhs of Pakistan continuesly having their part to destroy the country, I thing its time to hold Takhti, once we have takhti then definatly Gidhs will afraid by nation, and Inshallah the day will arise when we will feel proun to say that I M Pakistani where Gidhs market has completly crashed so there is no Gidh item Available.
I agree with Mr. Mustaqeem and miss Neelofar Iqbal, no doubt we have a plenty of different types of GIDHS like Zardari, Nawaz and Altaf etc. and further more their subordinate GIDHS and our establishment and so on. We have a series of GIDHS in our country, but question is that who will hold that “Takhti”.It is only possible if we choose a really honest leader and jointly hold the “Takhti” under his leadership. The world is witness that such revolutions are taken place by the alive nations’ joint movements full of sacrifice enthusiasm, but unfortunately i find a dead nation arround me, i find no such patriots who are ready to hold that “Takhti”.