مجھے غصہ شوکت ترین پر نہیں ان کے ان ملاقاتیوں پر ہے جو ان کے دفتر جاتے ہیں اور ان کا یہ اعلان سن کر کہ ہمیں ساڑھے چار ارب ڈالر کی IMF سے اور 1.5 ارب ڈالر کی امریکہ سے 3 ارب ڈالر کی چین سے امداد مل گئی ہے ‘ واپس آجاتے ہیں لیکن انہیں ٹوک کر’ ایک لمحے کے لئے ٹوک کر یہ نہیں پوچھتے ”جناب یہ رقم خرچ کہاں ہوگی” کیا اس سے وہ ریلوے لائن زندہ ہو جائے گی جو برسوں پہلے 8775 کلومیٹر پر پہنچ کر دم توڑ گئی تھی ‘ اس رقم سے 781 ریلوے سٹیشنوں میں اضافہ ہوگا’ 102,176 کلومیٹر کچی سڑکیں پختہ کی جائیں گی’ 13,409 پوسٹ آفسز کی تعداد بڑھ جائے گی’ 1724000 ایڑیاں رگڑتے مریضوں کو ایک کی جگہ دو ڈاکٹر دیئے جائیں گے’ دانت درد کے 42,823 مریضوں کے لئے ایک کی بجائے دو ڈینٹسوں کا بندوبست کیا جائے گا’ 5,440 چیختے چلاتے مریضوں کو ایک نہیں دو چار نرسیں فراہم کی جائیں گی ‘ زچگی کے دوران مرنے والی 11,500 عورتوں کی زندگی بچانے کے لئے گولیوں اور ٹیکوں کا بندوبست کیا جائے گا’ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے 4 کروڑ لوگوں کے لئے ایک وقت کے کھانے کا انتظام کیا جائے گا’ ہوٹلوں’ ورکشاپس اور سڑکوں پر کام کرنے والے 32 لاکھ نابالغ بچوں کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے گا اور 3 کروڑ 82 لاکھ مزدوروں کی تنخواہوں میں ایک ایک ہزار روپیہ کا اضافہ کر دیا جائے گا۔ انہیں ٹوک کر’ ایک لمحے کے لئے ٹوک کر نہیں پوچھتے ”جناب کیا گارنٹی ہے یہ رقم بھی ان ایک سو بڑے مگرمچھوں کے اکاؤنٹس میں منتقل نہیں ہو جائے گی جو عوام کے 210 ارب روپے ”مار” کر بیٹھے ہیں’ ان 35 افراد کے خزانوں میں دفن نہیں ہو جائے گی جنہوں نے سو ارب ڈالر لوٹ کر غیر ملکی بینکوں میں جمع کرارکھے ہیں ‘ ان پانچ فیصد جاگیرداروں کا رزق نہیں بن جائے گی جو ستر فیصد قابل کاشت زمین پر قابض ہیں یہ رقم بھی 2015ء کے فائل ورک پر خرچ نہیں ہو جائے گی یہ بھی 96 وفاقی وزرائ’ وزرائے مملکت’ 8 مشیروں’ قومی اداروں کے 8 چیئرمینوں ‘ اڑھائی درجن پارلیمانی سیکرٹریوں اور سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے پچاس چیئرمینوں کا ساڑھے تین کروڑ روپے روزانہ خرچ پورا کرنے پر صرف نہیں ہو جائے گی’ 20 ارب روپے سالانہ کی طرح یہ بھی وزارتوں کے اخراجات’ سرکاری پٹرول’ ٹیلی فون ‘ بجلی’ گیس اور دفتر کے کرایوں پر خرچ نہیں کر دی جائے گی’ یہ بھی تین شیڈول بینکوں کے 697 ایڈوائزروں کی آٹھ کروڑ اکانوے لاکھ ماہانہ تنخواہوں پر خرچ نہیں ہو جائے گی۔”
انہیں ٹوک کر’ ایک لمحے کے لئے بھی

نہیں پوچھتے ”جناب آپ دعوے سے کہہ سکتے ہیں یہ رقم سینیٹ کے 100 ارکان کی تین کروڑ ساٹھ لاکھ ماہانہ تنخواہوں اور چار کروڑ تین لاکھ کی مراعات پر خرچ نہیں ہوگی’ یہ رقم بھی قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے ستاسی لاکھ چوہتر ہزار روپے کا ماہانہ خرچہ نہیں بن جائے گی ‘ یہ بھی 400 وفاقی اور صوبائی مشیروں اورسپیشل اسسٹنٹس کو صوابدیدی فنڈ’ سپیشل الاؤنسز اور ٹی اے ڈی اے میں نہیں دی جائے گی۔”
انہیں ٹوک کر’ ایک لمحے کے لئے بھی نہیں پوچھتے ”جناب کیا آپ یقین دہانی کراسکتے ہیں یہ رقم ارکان اسمبلی میں تقسیم نہیں ہوگی’ سرکاری ٹھیکیداروں کی جیب میں نہیں جائے گی’ فلیٹ نہیں خریدیں گے اس سے بلٹ پروف لینڈ کروزر اور مرسیڈیز نہیں خریدیں گے اس سے ذاتی فیکٹریاں نہیں لگائی جائیں گی ‘ اس سے جعلی سکول’ سڑکیں’ پل اور کاغذی نہریں’ ٹیوب ویل اور ٹینکیاں نہیں بنائی جائیں گی’ اس سے ڈیروں کو سکول اور احاطوں کو ہسپتال قرار نہیں دیا جائے گا اور اسے دوروں’ جلسوں’ ریلیوں اور کانفرنسوں پر ضائع نہیں کیا جائے گا۔”
انہیں ٹوک کر’ ایک لمحے کے لئے ٹوک کر پوچھا جائے تو مجھے یقین ہے کہ ان کے پاس کوئی گارنٹی’ کوئی دعویٰ اور کوئی یقین دہانی نہیں ہوگی یہ سینے پر ہاتھ رکھ کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کوئی وعدہ اور کوئی اعلان نہیں کرسکتے کیوں کہ یہ جانتے ہیں کہ اس سے ایک ڈالر بھی ان مستحق لوگوں تک نہیں پہنچے گا جن کی آزادی کے عوض یہ رقم حاصل کی گئی ہے ۔ مزدوران 9 ارب ڈالروں کے بعد بھی مزدور ہی رہے گا ‘ دہقان دہقان’ ان پڑھ ان پڑھ اور بیمار بیمار ہی رہے گا ‘ یہ زرد سورج اسی طرح اگے گا ‘ یہ محروم زندگی اسی طرح محروم رہے گی۔ خدارا صدر مملکت اس رقم سے غریبوں کی تقدیر بدلنے کی کوشش کریں’ مجھے پتہ ہے کہ آپ کوشش کریںگے لیکن بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ یہ رقم کھا جائے گی اور پاکستان کے غریب وہیں رہیں گے ۔
خدا کے لئے انہیں ٹوک کر ایک لمحے کے لئے ٹوک کر کہیے ”جناب پیالی میں چمچ ہلانا بند کردیں کیونکہ یہ طے ہوچکا ہے اگر چائے میں چینی نہ ہو تو لاکھ چمچ ہلائے جائیں چائے میٹھی نہیں ہوا کرتی۔”روزن

  2 Responses to “بیورو کریسی یہ رقم بھی کھا جائے گی ۔۔۔۔ ملک ریاض حسین کا کالم حقیقت”

  1. please choose some friendly font to write, please, it is hard to read

  2. I am really sorry for the inconvenience; let me see how I can solve this problem
    Regards

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha