اس خطے میں جاری عالمی اور علاقائی طاقتوں کی سٹریٹجک جنگ ہی سب سے بڑا عامل ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے ڈبل گیم اور سازش کی تھیوری میں بھی وزن نظرآتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ خود حکومت کی غلط پالیسیاں بھی قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں طالبان کی کامیابی اور حکومتی رٹ کے خاتمے کا موجب بن رہی ہیں ۔ بلاشبہ خوف اور دہشت بھی ایک بڑا عامل ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت کے مقابلے میں بعض حوالوں سے طالبان عوام کا دل جیتنے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں وجہ صاف ظاہر ہے۔ ہماری حکومت اسی عطار (امریکہ) کے لونڈے سے دوا لیتی ہے جو بیماری کا سبب بنا ہے ۔ تاویلات اور حکومتی ترجمانوں کے بیانات اپنی جگہ لیکن قبائلی علاقہ جات اور سوات کی صورت حال سے باخبر ہر فرد اعتراف کرے گا کہ وہاں پر سیکورٹی فورسز کو شکست ہوئی اور سوات سے لے کر باجوڑ تک اور پھر وہاں سے لے کر جنوبی وزیرستان تک آج طالبان کی حکومت قائم ہے ۔اس شکست کی سب سے بڑی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ عوام ان سیکورٹی فورسز اور اس حکومت کو امریکہ کا اتحادی گردانتے ہیں اور قبائلی عوام سے یہ توقع کوئی احمق ہی کرسکتا ہے کہ وہ امریکہ کے اتحادیوں کا ساتھ دے دیں گے ۔
میرے نزدیک قبائلی علاقوں میں فوج کو تعینات کرنا ، جس کا سہرا اس وقت کے پشاور کے کورکمانڈر علی محمد جان اورکزئی اپنے سرباندھتے تھے ، ہی بنیادی غلطی تھی ۔ قصور ان بے چارے سپاہیوں کا نہیں جو گھروں سے دوردراز ان سنگلاخ پہاڑوں میں خون بہارہے ہیں بلکہ قصور ان پالیسی سازوں کا ہے جنہوں نے ان کو اپنے لوگوں سے لڑنے کے اس ناپاک جنگ میں جھونک دیا۔ میں ایک دن پرویز مشرف صاحب سے کہہ رہا تھا کہ آپ نے قبائلی علاقوں اور سرحد میں تعینات سیکورٹی فورسز کے بے چارے اہلکاورں کو کاغذ کی کشتیاں دے کر سمندروں کے سفرپر روانہ کیا ہے اور اس جنگ میں ان کی شکست یقینی ہے ۔ تب وہ دعویٰ کررہے تھے کہ وہاں کے عوام نے ان کو ہار پہنائے اور ان کا خیرمقدم کیا ہے لیکن میرا ان کو جواب تھا کہ اس جنگ میں ، جس میں آپ امریکہ کے اتحادی ہیں ، پختون عوام کبھی بھی آپ کا ساتھ نہیں دے سکتے آج سوات اور قبائلی علاقوں میں تعینات سیکورٹی فورسز کے اہلکار اسی المیے سے دوچار ہیں ۔ وہاں کے عوام ان کو امریکہ کے اتحادی تصور کرتے ہیں اور اسی لئے اپنے ملک کے سیکورٹی اہلکار ہوتے ہوئے بھی وہ عوام کی محبتوں کا مستحق قرار نہیں پاتے جبکہ ان کے برعکس طالبان کو ان کی سخت گیری کے باوجود امریکہ کے خلاف برسرپیکار مجاہدین کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے ۔ مکرر عرض ہے کہ خوف اور دہشت بھی ایک عامل ہے لیکن پختونوں کی ایک بڑی تعداد اس لئے بھی طالبان کا ساتھ دے رہی ہے کہ وہ انہیں امریکہ جیسی ملعون قوت اور اس کے اتحادیوں کے خلاف برسرپیکار قوت سے تعیبر کرتے ہیں ۔
ہماری فوج بڑی منظم ، تربیت یافتہ اور پیشہ ور ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس کی تربیت ہندوستان جیسے دشمن کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے ۔ ان کی تربیت اس طرح کی گئی تھی کہ اگر وہ ہندوستان کے کسی علاقے پر آپریشن کرنے جائیں گے تو ان کے عوام کو بھی اپنا دشمن سمجھیں گے ۔ اب چونکہ ان کی تربیت اس طرح کی گئی تھی اس لئے جب وہ قبائلی علاقوں اور سوات میں آپریشن کرنے لگے تو وہ وہاں کے عوام کو بھی شک کی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ چونکہ طالبان کو عوامی حمایت حاصل تھی یا پھر وہ عام آبادی کے ساتھ رہتے تھے ، اس لئے ان کے خلاف کاروائیوں کے نتیجے میں عام لوگ بھی نشانہ بنے اور نتیجتًاسیکورٹی فورسز کے لئے ہمدردی میں کمی اور ان کی مزاحمت کرنے والے طالبان کے لئے اس میں اضافہ ہوتا رہا ۔ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے سیکورٹی اہلکار وہاں کے رسم و رواج اور عادات و اطوار سے بھی آگاہ نہ تھے ۔ یوں کئی مواقع پر ان کا رویہ مقامی لوگوں کو مشتعل کرنے کا موجب بنا جبکہ اس کے برعکس طالبان جو کہ ان علاقوں سے تعلق رکھتے تھے ، ان چیزوں کو مدنظر رکھتے رہے گذشتہ روز تحریک طالبان کے مرکزی رہنما اور بیت اللہ محسود کے ترجمان مولوی محمد عمر سے بات ہورہی تھی ۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ سوات کے طالبان کو لڑکیوں کی سکولوں کو کھولنے پر آمادہ کرلیں اور سکولوں اور پلوں کو اڑانے کا سلسلہ بند کردیا جائے کیونکہ اس سے حکمرانوں یا امریکہ کو نہیں بلکہ غریب پختونوں کا مستقبل تباہ ہورہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ وہ سوات کے طالبان کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم ان کا کہناتھا کہ سوات کے طالبان کا موقف ہے کہ چونکہ سیکورٹی فورسز ان سکولوں کو کیمپوں اور مورچوں کے طور پر استعمال کررہی ہیں ، اس لئے ان کو نشانہ بنانا طالبان کی مجبوری ہے ۔ یقینا سکولوں کی بندش یا ان کو اڑانا سوات کے طالبان کا ایک غلط اقدا ہے اور عوام کی اکثریت نے ان کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے لیکن دوسری طرف المیہ یہ ہے کہ حکومت لوگوں کے گھروں کو مسمار کررہی ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. طالبان کی کامیابی اور حکومت کی ناکامی کے چند اسباب (2)۔۔۔۔ سلیم صافی
  2. طالبان کی جنگ اور مذہبی قائدین کا کردار – سلیم صافی
  3. قوم اور تاریخ کے مجرم – سلیم صافی
  4. کاش !ہندوستان سے جنگ چھڑ جائے۔۔۔۔ سلیم صافی By Saleem Safi
  5. ہمارے لئے رونے اور دشمنوں کے لئے خوشی کا مقام ۔۔۔۔ سلیم صافی

One Response to “طالبان کی کامیابی اور حکومت کی ناکامی کے چند اسباب (1)۔۔۔۔ سلیم صافی”

  1. imtiaz says:

    Comments…..

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha