کاشف اسد
یہ بات اب حقیقت بن کر سامنے آ رہی ہے کہ ہم نے پاکستان میں تعلیم کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا فوجی حکومت ہو یا جمہوری حکومت ہر دور میں تعلیم کبھی بھی ہماری ترجیح نہیں رہی۔ آج تعلیم کے معیار اور خواندگی کے تناسب میں ہمارے ملک کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ارباب اقتدار تعلیم کی طرف کوءی توجہ دینے پر تیار نہیں، یہ بات بھی سب پر عیاں ہے کہ حکومت وقت تعلیم کی ترقی کے لءے جو مہم چلاتی ہے اس کا مقصد بین الاقوامی برادری خصوصا اقوام متحدہ کو مطمعن کرنا ہوتا ہے جو پاکستان میں تعلیم کی سہولتوں کے فقدان پر اپنی تشویش کا اظہار اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں۔ قومی اور صوباءی حکومتیں اس مہم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی امداد حاصل کرنے میں تو کامیاب ہو جاتی ہیں لیکن اس امداد کو صحیح مصرف میں خرچ نہیں کیا جاتا، نتیجتا وہ امداد حکومتی اللے تللوں اور اشتہار بازی کی مہم میں ختم ہوجاتی ہے اور تعلیم کے شعبہ جات میں صرف اجلاسوں کی کارواءیوں تک ہی فنڈ کا استعمال عمل میں آتا ہے۔
آج بھی ہمارا تعلیمی نظام ایک تجربہ گاہ بنا ہوا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس تجربہ گاہ میں تجربے بھی وہ لوگ کررہے ہیں جن کا تعلیم سے کوءی واسطہ ہی نہیں۔ صرف ذاتی تعلق اور اثر و نفوذ کی بنا پر انہیں اس شعبہ میں طبع آزماءی کا موقع دیا جاتا ہے کیونکہ بین الاقوامی امداد اور حکومتی بجٹ کو کہیں نہ کہیں استعمال بھی تو کرنا ہے اور اس کا نتیجہ پوری قوم اور اقوام عالم کے سامنے ہے کہ آج تک پاکستان میں کوءی تعلیمی نظام جاری نہ ہوسکا اور آنے والی ہر نءی حکومت نےنظام تعلیم میں رخنہ اندازی کرکے سرے سے نظام کا ستیاناس کردیا ۔ یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں خواندگی کا تناسب انتہاءی کم ہے اور خواندہ افراد میں ان کو بھی شامل کیا جاتا ہے جو صرف اپنا نام لکھنا جانتے ہیں۔
آنے والی ہر حکومت نے یہ دعویٰ کیا کہ تعلیم ان کی ترجیحات میں شامل ہے (خواہ آخری ہی ہو) لیکن اس کے لیے انہوں نے اپنی ساری توجہ سابقہ پالیسی کو ختم کرنے اور نءی حکمت عملی تشکیل دینے پر صرف کردی اور انہوں نے اساتذہ سے مشاورت کرنےکی بجاءے اپنے من پسند ارکان کو محکمہ تعلیم کے بجٹ پر تعینات کیا۔
یہ بات بھی دلچسپی سےخالی نہ ہوگی کہ ہر حکومت نے سابقہ حکمرانوں کی ایک حکمت عملی کو تسلسل سے جاری رکھا بلکہ اس میں ہر دور میں اضافہ کیا اور وہ ہے اساتذہ کا استحصال۔ ہر حکومت نے اساتذہ کرام کے استحصال کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور اگر پاکستان کے تعلیمی ڈھانچے کا جاءزہ لیا جاءے تو ایک حقیقت سب پر عیاں ہوجاتی ہے کہ پاکستان میں جس قدر استحصال اساتذہ کا کیا گیا شاید ہی کسی اور طبقہ ملازمین کے ساتھ ایسی زیادتی کی کوءی مثال سامنے آءے۔
پاکستان میں اس وقت سرکاری سطح پر اساتذہ کی لاکھوں آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ صرف پنجاب میں ایک لاکھ سے زاءید اساتذہ کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں اساتذہ کی بھرتی پر اکثر و بیشتر پابندی لگی رہی ۔ ۲۰۰۲ء میں حکومت وقت نے اساتذہ کی بھرتی کا سلسلہ شروع کیا۔ لیکن ان کو وہ پیکج دیا گیا جو ایک درجہ چہارم کے ملازم سے بھی کمتر تھا جبکہ اساتذہ کی کم از کم تعلیم قابلیت بی اے رکھی گءی اور اس کے ساتھ ایک تدریسی کورس بھی لازمی قرار دیا گیا۔ اگر دیگر محکمہ جات کو دیکھا جاءے تو اس قابلیت کے حامل افراد کو سکیل نمبر چودہ دیا جاتا ہے جبکہ اساتذہ کرام کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا اور کوءی بھی سکیل نہ کیا گیا بعد ازاں یہ معلوم ہوا کہ اساتذہ کی آسامیوں جن کو ایجوکیٹرز کا نام دیا گیاہے، ان میںسے ایلیمینٹری سکول ایجوکیٹر کو سکیل چودہ، سینیر ایلیمینٹری سکول ایجوکیٹر کو سکیل پندرہ اور سیکنڈری سکول ایجوکیٹر کو سکیل سولہ دیا جاءے گا اور بہت جلد ان کو مستقل بھی کردیا جاءے گا ۔ اس کے علاوہ ایجوکیٹرز کو تمام دیگر الاءونس بھی دیے جاءیں گے۔ اسی امید میں پانچ سال گزر گءے اور سال 2007 ء میں اس وقت کے وزیراعلٰی نے ایک مرتبہ پھر اساتذہ خصوصا کنٹریکٹ اساتذہ کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور گریجوایٹ اور اس سےبھی زیادہ اعلٰی تعلیم یافتہ اساتذہ، ایلیمنٹری سکول ایجوکیٹرز کو سکیل نمبر 9 میں پھینک دیا۔ حالانکہ تمام قواعدو ضوابط اور کم از کم تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر ان کا حق سکیل نمبر چودہ بنتا تھا لیکن جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق یہ ظلم کیا گیا۔
موجودہ حکو مت بھی تعلیم کے میدان میں انقلاب لانے کی بات کرتی ہے اور حکومت پنجاب نے اس سلسلے میں طلبہ کے وظاءیف میں بھی اضافہ کیا ہے اورکچھ درجات میں وظاءیف کی شرح بھی دُگنی کردی ہے اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی ہاءیر ایجوکیشن میں وظاءیف کی شرح سکول ایجوکیٹرز اور ریگولر ٹیچرزکی تنخواہوں سے بھی زیادہ ہے۔ کیا اس کو تعیلیمی ترقی کی پالیسی کہا جا سکتا ہے وظاءیف تو لاکھوں بلکہ کروڑوں میں سے چند سو یا ہزار طلبہ کو ہی ملیں گے اور ان کی شرح کو دگنا کرنے سے ان کو انفرادی فاءیدہ ہوگا جبکہ اساتذہ جو کل وقتی فراءیض انجام دے رہے ہیں اور ان کے ذمہ پوری قوم کی تربیت ہے اُن کا استحصال کرکے ہم کس طرح اعلٰی معیار کی تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ پوری دنیا میں قوموں نے اساتذہ کو اعلٰی وقار اور معیاری طرز زندگی دیا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ وطن عزیز میں اساتذہ کی حق تلفیوں میں آ نے والے ہر دن مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اگر معلم معاشی فکر میں مبتلا رہے گا تو اس کے لءے تعلیم و تعلم میں دشواریاں پیدا ہونگی اور وہ اپنی صلاحیتوں کو گھریلو حالات درست کرنے میں لگا دے گا۔ وہ توجہ کے ساتھ اپنے فراءض بطور مدرس انجام نہ دے سکے گا۔قابل صد افسوس بات یہ ہےکہ دیگر شعبوں میں میٹرک پاس ملازم کی تنخواہ بھی گریجوایٹ ایجو کیٹرز سے زیادہ ہے۔ انہیں دیگر تمام سہولتیں بھی حاصل ہیں جن میں پراوڈنٹ فنڈ، انشورنس،پینشن وغیرہ شامل ہیں جبکہ اعلٰی تعلیم یافتہ ایجوکیٹرز اس سے محروم ہیں۔
سابقہ وفاقی حکومت نے اساتذہ کے لءے ٹیچنگ الاوءنس کا اعلان کیا تھا لیکن اس وقت کی پنجاب حکومت نے وہ بھی اساتذہ کو نہ دیا جبکہ اضافی قابلیت کے الاءونس سے بھی ایجوکیٹرز کو محروم رکھا گیا ہے۔
وفاق میں ایف اے پاس اساتذہ کو سکیل نمبرچودہ دیا جاتا ہے اور بی اے پاس کو سکیل نمبر سولہ ، اگر اس حساب سے بھی دیکھا جاءے تو پنجاب کے ایجوکیٹرز کے ساتھ بے انتہا زیادتی ہو رہی ہے۔
موجودہ حکومت نے بھی تعلیم کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے موجودہ وزیراعلٰی پنجاب وقتا فوقتا اس بات کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ تعلیم کے بغیر کوءی قوم ترقی نہیں کرسکتی اور اپنی تقریروں اور پریس کانفرنسوں میں وہ تعلیم کے شعبہ کی بہتری کی باتیں بھی کرتے ہیں۔ لیکن انہوں نے بھی سابقہ حکومت کی اساتذہ کے استحصال پر مبنی پالیسی کو جاری رکھا ہوا ہے اور سابقہ حکومت کے طریقہ کار کے مطابق کنٹریکٹ پر ایجوکیٹرز کی بھرتی شروع کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ کنٹریکٹ سراسر استحصالی طریقہ ہے ۔ اس جاب میں ایک ایجوکیٹر اپنا خرچ پورا نہیں کرسکتا تو وہ ایک کنبہ کی دیکھ بھال کس طرح کرے گا
یہ بھی قابل توجہ مسءلہ ہے اور اس پر مناسب طریقہ کار اپنا کر قابو پایا جاسکتا ہے کہ لاہور، فیصل آباد، راوالپنڈی، ملتان وغیرہ میں ایسی اطلاعات سامنے آءی ہیں جن میں دیگر شہروں کے افراد بڑے شہروں کے ڈومیساءیل بنا کر ایجوکیٹرز کی خالی آسامیوں پر بھرتی ہوجاتے ہیں ۔ حالانکہ اس بات سے محکمہ تعلیم بھی با خبر ہے کہ ان کا تمام تعلیم ریکارڈ اورشناختی کارڈ بھی دوسرے کسی شہر کا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ان سے صرف نظر کرجاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ڈومیساءیل ہے جو کچھ اضافی رقم دے کر آسانی سے بنوالیا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ سے مقامی امیدواروں کی حق تلفی ہوتی ہے اور یہ بات چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں میں آبادی کی نقل مکانی کا باعث بھی بنتی ہے اور وہاں مساءیل میں اضافہ ہوتا ۔ اس لءے بھرتی میں اس بات کا بھی خیال رکھا جاءے کہ حتی الامکان اصل اور مقامی امیدوار کو ملازمت کا موقع ملے
ملک میں خواندگی کا تناسب اور معیار تعلیم بڑھانے کے لءے ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کی عزت اور وقار میں اضافہ کیا جاءے ۔ انہیں غیر معمولی پیکج دءے جاءیں ، ان کی جدید تقاضوں کے مطابق تربیت کی جاءے۔ خالصتا میرٹ پر بھرتی کی جاءیں۔ محکمہ تعلیم کو منظم کرنے کے لءے جدید ذراءیع کو بروءے کار لایا جاءے۔
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اساتذہ کے بغیر کوءی قوم ترقی نہیں کرسکتی اور اگر اساتذہ ہی مساءیل کا شکار ہو ں تو قوم مساءیل سے کس طرح نکل سکتی ہے۔
موجودہ وزیراعلٰی کے بار ے میں سننے میں آیا ہے کہ اپنے انتخابی جلسوں اور پریس کانفرنس میں انہوں نےکہا تھا کہ وہ اساتذہ کی تنخواہیں ججوں کے برابر کریں گے اگر یہ بات سچ ہے تووہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہوءے یہ تاریخی اعلان کریں قوم ان کا یہ احسان کبھی نہ بھولے گی اور یہ پاکستان میں تعلیم انقلاب کی طرف عظیم قدم ہوگا ۔
Related posts:








Recent Comments