ایک شخص کے ہاتھ میں کہیں سے ایک روایتی چراغ لگا جس کے رگڑنے سے ایک تابعدار قسم کا جن برآمد ہوا اور اس نے کورنش بجا لاتے ہوئے کہا ”میرے آقا کیا حکم ہے؟“ مگر ساتھ ہی اس جن نے یہ وضاحت کردی کہ وہ گریڈ 14کا جن ہے چنانچہ وہ کوئی چھوٹا موٹا کام ہی کرسکتا ہے نیز اس کے بس میں اپنے آقا کی صرف ایک خواہش پوری کرنا ہے۔ آقا نے کہا ”ٹھیک ہے۔ تم یہ کرو کہ اسلام آباد سے واشنگٹن تک ایک پل بنا دو“ جن نے دست بستہ عرض کی ”میرے آقا! اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان پہلے ہی بے شمار پل ہیں اب آپ ایک اور پل کیوں بنانا چاہتے ہیں؟ ویسے بھی میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ میں بہت معمولی قسم کا جن ہوں یہ کام میرے بس سے باہر ہے، چنانچہ اگر آپ کوئی متبادل خواہش بتائیں تو مجھے تعمیل ارشاد میں خوشی محسوس ہوگی۔“ یہ سن کر چراغ کے مالک نے کہا ”ٹھیک ہے۔ تم یوں کرو کہ میرے صرف ایک سوال کا جواب دے دو، سوال یہ ہے کہ یہ عورت ذات کیا چیز ہے؟“ جن نے یہ سن کر ایک لمحہ کے لئے توقف کیااور پھر بولا ”میرے آقا! وہ پل یک طرفہ بنانا ہے یا دو طرفہ بنانا ہے؟“
میں نے یہ لطیفہ غالباً ایک بار پہلے بھی سنایا تھا لیکن میری مجبوری یہ ہے کہ جب بھی مجھے یوم اقبالمیں شرکت کے لئے کہا جاتا ہے اورساتھ یہ حکم بھی ملتا ہے کہ میں نے اقبال کے بارے میں گفتگو بھی کرنا ہے تو مجھے یہ لطیفہ یاد آ جاتا ہے اور میں منتظمین کو بتاتا ہوں کہ میں ایک بہت معمولی سا جن ہوں۔ اقبال ایسا نابغہ میرے قابو میں نہیں آسکتا۔ چنانچہ کوئی متبادل خواہش ہو تو بتائیں۔ مجھے تعمیل ارشاد میں خوشی محسوس ہوگی۔اس کے جواب میں ارشاد ِ عارفانہ یہ ہوتا ہے کہ ’خود اقبال کو بھی یہ پسند نہیں کہ آپ اس پر گفتگو کریں مگر کیاکریں قحط الرجال ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کی لاٹری بھی نکل آتی ہے“ چونکہ انسان کی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے لہٰذا میں مزید چوں چراں کرنے کی بجائے حامی بھر لیتا ہوں۔اب میں انہیں کیا بتاؤں کہ اقبال کے بارے میں ، میں اتنا ہی جانتاہوں جتنا اقبال میرے بارے میں جانتے ہیں۔ بہرحال تعمیل ارشاد تو کرنا ہی پڑتی ہے۔ بس یہ ہے کہ اس کے بعد بقیہ سارا سال اقبال کی روح سے معذرت کرنے میں گزر جاتا ہے۔
لیکن خواتین و حضرات ! اس کے باوجود میں آج کی تقریب میں اقبال کے حوالے سے کوئی اکیڈمک بات نہیں کروں گا۔ میں اگرچہ اقبال کا عاشق ہوں چنانچہ جس روز میں کلامِ اقبال  کے مطالعہ سے محروم رہوں میں خود کو ہجر کی آگ میں جلتا محسوس کرتاہوں میرا جو دن اقبال  کے ساتھ طلوع ہوتاہے وہ مجھے وصال کی لذتوں سے ہمکنار کرتاہے لیکن اس کے باوجود نہ مجھے آپ کو یہ بتانا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں انسان کی کمزوریوں کے سب سے بڑے وکیل تھے یا یہ کہ انہوں نے عالم اسلام کا کیس بھی ”خدا کی عدالت“ میں پیش کیا نہ مجھے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ بیسویں صدی کے سب سے بڑے شاعر ہونے کے علاوہ مشرق و مغرب کے علوم کے شناور تھے اورنہ یہ کہ وہ ماہر معاشیات تھے، فلسفی تھے اور اسلام کے سب سے معتبر شارح تھے۔ مجھے تو آج صرف یہ دیکھنا ہے کہ اگر اتنا بڑا شخص غلطی سے ہمارے درمیان پیدا ہو ہی گیا تھا تو ہم نے اس کے نظریات کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ عالم انسانیت اور عالم اسلام کی جو تصویر اقبال نے بنائی تھی اس میں رنگ بھرنے والے لوگ کون ہیں اور اس تصویر کا چہرہ بگاڑنے والوں کی سرپرستی کرنے والے عناصر کن طاقتوں کے نمائندے ہیں؟ میں نے یہ سوال اپنی ایک غزل کے دو اشعار میں بھی کیا تھا:
ایک شک کی نظر منظروں کی طرف
یہ دِیا کون ہے؟ ہوا کون ہے؟
کیا پتہ ان صداؤں کے گرداب میں
کس کی آواز میں بولتا کون ہے؟
امریکی سی آئی نے کمیونزم کو شکست دینے کے لئے دیگر بہت سے حربوں کے علاوہ ایک حربہ یہ بھی آزمایا تھا کہ اپنے ایجنٹ، کمیونسٹوں کی صفوں میں داخل کردیئے تھے جو اصلی کامریڈوں سے زیادہ بلند آواز اور زیادہ جوش و خروش سے ”کمیونزم آوے ای آوے“ کا نعرہ بلند کرتے تھے۔ یہ حربہ بہت کامیاب رہا چنانچہ Wave the red flag to defeat the red flag (سرخ پرچم کو سرنگوں کرنے کے لئے سرخ پرچم ہی لہرایا جائے) کے ”اصول“ پر عمل کے بہترین نتائج سامنے آئے!
خواتین و حضرات! آج ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ پاکستان زندہ باد کا نعرہ پورے جوش و خروش سے لگایا جاتا ہے لیکن اقبال  نے جس خودمختار اور باوقار پاکستان کا خواب دیکھا تھا اس کی دھجیاں امریکی ڈکٹیشن کی صورت میں اڑائی جاتی ہیں۔ میاں شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے کالم نگاروں سے گفتگو کے دوران صورتحال کی ابتری واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اب تو باتھ روم جانے کے لئے بھی باہر والوں سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ اقبال  کہتے رہ گئے:
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟
مگر ہم نے امریکہ کو اپنا ملجیٰ و ماویٰ سمجھ لیا ہے۔ ہمارا معاملہ اس شخص کا سا ہے جو پہاڑ کی چوٹی سے پھسلاتو اس کے ہاتھ میں درخت کی ایک شاخ آگئی۔ اب اس کے نیچے ہزاروں فٹ گہرے کھڈ تھے اور دور دور تک کوئی اس کی مدد کو پہنچنے والا نہیں تھا۔ اس نے بے بسی کے عالم میں چیخنا شروع کردیا ”کوئی ہے؟ کوئی ہے؟“ اس کی قسمت اچھی تھی۔ غیب سے آوازآئی ”میں تمہاراخدا ہوں، میں تمہیں بچا سکتا ہو لیکن اس کے لئے تمہیں میرے کے پرعمل کرناہوگا“زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا اس شخص نے کہا ”باری تعالیٰ! آپ جو کہیں گے میں وہی کروں گا“ اللہ تعالیٰ کی آواز آئی ”یہ جو تم نے درخت کی شاخ پکڑی ہوئی ہے اسے چھوڑ دو۔“ یہ سن کر اس شخص نے کچھ دیر سوچا اور پھر بآوازِ بلند کہا ”کوئی اورہے؟“ ہم لوگ بھی اس وقت یہی کر رہے ہیں ہمیں دہشت گردی کی امریکی شا خ سے لٹکا دیاگیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اگر تم نے یہ شاخ چھوڑی تو تباہ و برباد ہو جاؤ گے حالانکہ ہماری ساری تباہی و بربادی کی بنیاد یہ فرمانبرداری ہی ہے۔ ہمارے نیچے کوئی کھائی نہیں ہے اگر کوئی کھائی ہے تو وہ امریکہ کے لئے ہے جسے اس میں گرنے سے بچانے کے لئے ہم نے اپنا آپ داؤ پرلگا دیاہے۔ غلامی کی رسم تو پہلے سے چلی آرہی تھی لیکن پاکستان کو غلامی میں پختہ کرنے والا پرویز مشرف سیہمارے حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہئے بلکہ انہیں تسلی رکھنا چاہئے کہ امریکہ اس وقت بہت بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے وہ ان کی قسط وار حکم عدولی برداشت کرنے پر مجبور ہے چنانچہ وہ ہمارے حکمرانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا لیکن یہ کام بہت حکمت عملی سے ہونا چاہئے۔ اس بپھرے ہوئے بھینسے کو اگر ایک دم سرخ رومال دکھایا گیا تو پھر نقصان کے ذمہ داروہ خود ہوں گے۔
اقبال نے تو ایک خواب اور ہی دیکھا تھا اور وہ برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک فلاحی مملکت کا خواب تھا جہاں ان کے لئے دنیاوی آسائشوں کے علاوہ روحانی آسائشوں کی فراوانی بھی ہوگی لیکن اس نے اس خواب کی جو خوش رنگ تصویر بنائی تھی اسے بھی سفلی خواہشات کے تابع بنا دیا گیا ہے اور یہاں بھی سبز جھنڈے کو سرنگوں کرنے کے لئے ”سبزجھنڈا لہراؤ“ والی تکنیک اپنائی گئی چنانچہ اسلام کے کچھ ایسے شارح سامنے آئے ہیں جن کے مطابق بچیوں کو زیور ِ تعلیم سے آراستہ نہیں کیا جاسکتا، معصوم بچوں کو معذوری سے بچانے کے لئے پولیو کے قطرے نہیں پلائے جاسکتے، شلوار ٹخنوں سے اونچی ہونا ضروری ہے، دستار صرف کالے رنگ کی پہنی جاسکتی ہے، جمہوریت کفر ہے، پارلیمینٹ کفر ہے۔ ہائی کورٹ کفر ہے، سپریم کورٹ کفر ہے اور جو لوگ اس کفر کے نظام میں رہتے ہیں وہ بھی کفر کے مرتکب ہیں۔ بقول ابن انشاء کیسا دو ر آگیا ہے کہ پہلے ہمارے بزرگ لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا کرتے تھے اب خارج کرتے ہیں۔ ایک بے سُرے گلوکار کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک دفعہ کسی محفل میں مسعود رانا کا ایک مشہور گانا ”ٹانگے والا خیر منگدا“ گا رہا تھا جب اس نے گانا ختم کیا تو لوگوں نے ”ایک دفعہ اور ایک دفعہ اور“ کی آوازیں بلند کیں۔ گلوکار نے خوش ہو کر یہ گانا دوبارہ سنایا مگر ایک بار پھر اسی گانے کی فرمائش ہوئی۔ اس نے لوگوں کی فرمائش دوسری دفعہ بھی پوری کردی لیکن جب تیسری دفعہ بھی اسی گانے کی فرمائش ہوئی تو گلوکار نے کہا ”میں آپ کو اپنا ایک بہت اچھا گانا سنانا چاہتا ہوں۔“ اس پر مجمع بیک آواز بولا ”تم جب تک یہ گانا صحیح نہیں گاؤ گے ہم تم سے دوسرا گانا نہیں سنیں گے۔“ہمارے بعض مذہبی پیشوا بھی مولانا روم کے اس بے سُرے موذن کاکردار ادا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کی اذان سننے سے ایک کافر نے دوبارہ کفر اختیار کرلیا تھا۔ ان بے سُروں کا پیغام کرخت اور زمانے کے تقاضوں سے کوسوں دور ہے۔ اقبال  جس اجتہاد پر زور دیتے رہے اس کی طرف کسی نے توجہ ہی نہیں دی، چنانچہ اب اسلام ان کے ہاتھوں میں آگیا ہے جو قرآن سے کم اور کلاشنکوف سے زیادہ شغف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کفرسازی کی فیکٹری کھول لی ہے اور نہیں جانتے کہ ایک مسلمان کو کافر کہنے والے کے بارے میں حکم خداوندی کیا ہے۔ میں نے سن رکھا تھا کہ پاکستان میں 16کروڑ مسلمان بستے ہیں لیکن اب پتہ چلا ہے کہ یہ تعداد مغالطے پر مبنی تھی کیونکہ گزشتہ روز ان بے سْروں کی ٹی وی سے نشر ہونے والی ایک تقریر سے اندازہ ہوا کہ پاکستان میں مسلمانوں کی تعداد دس بارہ ہزار سے زیادہ نہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو اس متذکرہ مقرر کی شریعت کو مانتے ہیں بلکہ اور تو اورقاضی حسین احمد، برادرم منور حسن، مولانا سرفراز نعیمی، علامہ ساجد میر، مولانا ثروت اعجاز قادری، حافظ حسین احمد اور دوسرے تمام جمہوریت پر یقین رکھنے والے علما کاایمان بھی مشکوک ہے یعنی ”ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں“ والی صورتحال ہے۔متذکرہ تقریر کے بعد غالباً آج کے اس مجمع میں بھی کوئی مسلمان نہیں بچا۔ اگر کوئی بچا ہے تو وہ براہ ِ کرم ہاتھ کھڑا کرلے!
(مرکزیہ مجلس اقبال  کے زیراہتمام لاہور میں منعقدہ یوم اقبال میں پڑھا گیا)
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=347809

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha