قرون وسطیٰ میں سلطنت روما بازن طینی سلطنت کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کا دارالحکومت قسطنطنیہ تھا جو ان دنوں استنبول کہلاتا ہے۔انیسویں صدی کا ایک برطانوی مورخ اس سلطنت کی نوعیت بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ سلطنت مذہبی لیڈروں، خواجہ سراؤں اور عورتوں کی زہر آلود سازشوں کی یکساں کہانی اور خوفناک چالوں سے عبارت تھی۔ یوںبازن طین کی ترکیب وجود میں آئی جو سازشوں قتلوں اور غیر مستحکم سیاسی حالات کی ترجمان ہے۔
پاکستان میں اس وقت جوحالات ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ملک بھی بازن طین ریاست کاصحیح معنوں میں نقشہ پیش کر رہا ہے۔1947میں اس کی آزادی سے اب تک درجنوں سیاسی قتل ہو چکے
ہیں۔ حکومتیں‘ وزرائے اعظم ،صدور بڑی باقاعدگی سے آتے جاتے رہے۔ ان کا عروج و زوال پر پیچ سازشوں کامرہون رہا۔ایک بھی سویلین حکومت اپنی پانچ سالہ مدت میں نصف سے زیادہ مکمل نہ کر سکی۔ موجودہ حکومت کا مقدر بھی حسب معمول درمیان میں لٹک رہا ہے۔ ایک بہت پڑھے جانے والے اردو کالم نگار نے آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی سے اپنی حالیہ تنہائی میں ہونے والی ملاقات کی روئیداد لکھتے ہوئے پیشگوئی کی ہے کہ مارچ شروع ہونے والا ہے اور آصف زرداری کے دن گنے جا چکے ہیں۔ لہٰذا زیرو پوائنٹ سے ملنے والے اشاروں کی بناء پر ہم یہ قیاس آرائی کرنے پر مجبور ہیں کہ زرداری اب اپنے دوستوں اور دشمنوں سے ہوشیار رہیں۔
سازشی تھیوری (1): بظاہر وردی والے زرداری کو ایوان صدر میں برداشت نہیں کر سکتے اور نہ ان کا معدہ انہیں سپریم کمانڈر کے طور پر قبول کر سکتا ہے۔ لہٰذا انہوں نے ایم کیو ایم ، مسلم لیگ(ن) اور مسلم (ق) کو ہلہ شیری دی ہے کہ سترہویں ترمیم کے خاتمے کیلئے بل قومی اسمبلی میں لائیں تاکہ صدر کے غیر معمولی اختیارات لپیٹے جا سکیں۔ بظاہر انہوں نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی گردن میں بھی رسہ تنگ کیا ہے جنہوں نے اپنے آپ کو منوانا شروع کر دیا تھا۔ سب سے پہلے انہوں نے اپنے پرنسپل سیکرٹری کو برطرف کیا کیونکہ وہ زرداری کا بندہ تھا اور اب انہوں نے قومی سلامتی کے مشیر جنرل ریٹائرڈ محمود درانی کو اٹھا کر باہر پھینکا ہے جن کا تقررزرداری نے کیا تھا۔ اس جرات کا مظاہرہ انہوں نے وردی والوں کے اشارے پر کیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر اب یہ اعلانیہ کہتے پھر رہے ہیں کہ اجمل قصاب کے بارے میں جو انہوں نے متنازعہ بیان دیا اس کا اشارہ بھی انہیں وردی والوں سے ملا تھا۔ ابھی تک کسی سینئر وردی والے نے ان کے اس دعوے کی تردید نہیں کی۔ وزیراعظم اب یہ رٹ لگا رہے ہیں کہ اہم فیصلے افراد کی بجائے ’’سپریم پارلیمنٹ ‘‘کو کرنے چاہئیں۔ نتیجتاً پارلیمنٹ میں یہ کانا پھوسی شروع ہو گئی ہے کہ حکمران اتحاد اور اس کے لیڈروں کا مقدر فوری بدلنے والا ہے۔ سازش کے اندر ایک اور سازش امریکیوں کے ذہن رسا کا نتیجہ ہے جو زرداری کی بجائے نواز شریف کی حمایت کیلئے پر تول رہے ہیں۔ کیونکہ زرداری بہت غیر مقبول ہو چکے ہیں‘ جبکہ مؤخر الذکر کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ لہٰذا انہیں شرف قبولیت بخشنا ضروری ہے‘ تاکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ کو جاری رکھا جا سکے۔ حالانکہ امریکیوں کی شہرت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے استعماری مقاصد کے حصول کی خاطرہمیشہ غیر مقبول قوتوں اور حکومتوں کی پشت پناہی کی۔
سازشی تھیوری نمبر (2): زرداری چاہتے ہیں کہ مارچ میں سینٹ کے الیکشن سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے خلاف مسلم لیگ ق سے پینگیں بڑھا لیں،تاکہ اپنے خلاف بننے و الا بڑا اتحاد منتشر کر سکیں‘ پنجاب حکومت پر قبضہ کر سکیں اور اپنی صدارت کیلئے پارلیمانی خطرے کو فرو کر سکیں۔پارلیمنٹ میں بیٹھ کر شریف برادران کی نا اہلی کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ، لاہور سے شریف حکومت کے خاتمے کی تیاریوں کا پیش خیمہ ہے۔ گجرات کے چودھریوں اور پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے درمیان ملاقاتیں اب خفیہ نہیں رہیں اور یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حالات کس سمت جا رہے ہیں۔ نواز شریف اور گجرات کے چودھریوں کے ا ندرون و بیرون ملک خفیہ رابطے اور میل ملاپ اس کے توڑ کیلئے ہیں۔اس تھیوری کے حوالے سے شریفوں پر پہلا پتھر پنجاب کے ناظمین نے پھینکا ہے‘ جو صوبائی حکومت کی عملداری کیخلاف مزاحمت کیلئے شانے سے شانہ ملا کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ زرداری اس وقت چومکھی لڑ ر ہے ہیں۔ امریکن انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ آئی ایس آئی کے کردار اور اہمیت کو کم کریں‘ جو تمام پاکستان دشمن قوتوں کی سرغنہ بنی ہوئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وردی والے زرداری کے خلا ف ہو چکے ہیں اور ان کی چھٹی کرانا چاہتے ہیں۔ یقیناکوئی یہ بتانے اور سمجھانے کیلئے تیار نہیں کہ امریکی اب نواز شریف کی طرف داری کیوں کرنے لگے ہیں‘ جو ماضی میںان کے کبھی زیادہ مدد گار ثابت نہیں ہوئے۔
اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ غیر ملکی سازشیں بھی اپنا کام دکھا رہی ہیں۔ سب سے بڑا بین الاقوامی سازشی امریکہ ہے جو مبینہ طور پر پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے‘ کیونکہ یہ واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔ تاہم امریکہ جو کچھ کر رہا ہے اس کے نتیجے میں ایٹمی ہتھیار غلط پاکستانی ہاتھوں میں جانے کا پورا احتمال ہے۔ امریکیوں کی بلوچستان میں گیس اور تیل کے ذخائر پر بھی نظر ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ یہ ذخائر ہمارے پاس پہلے بھی موجود تھے‘ امریکہ نے بلوچستان پہ قبضے کا پہلے کیوں نہ سوچا؟ اس کی بجائے وہ اب تک پاکستان کی پیٹ ٹھونکتا رہا۔ ہمارے پاس ایسے ذخائر ہیں یا نہیں ہیں‘ اس سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ امریکہ ایک اور قبائلی علاقے پر قبضہ کرنے میں دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ جبکہ اس کے پنجے عراق اور افغانستان میں پہلے سے گڑھے ہوئے ہیں۔
سب سے بڑا علاقائی سازشی یقینا بھارت ہے‘ جواکھنڈ بھارت کے خواب کی تکمیل کیلئے یقینا پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے۔ لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ بھارت میں پہلے ہی 28کروڑ شر پسند مسلمان اور دلیت موجود ہیں‘ ان کی موجودگی میں وہ سولہ کروڑ مسلمان دہشت گردوں کا اضافہ کر کے اپنے مسائل بڑھانا کیوں چاہے گا؟
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اگر ان میں کوئی ایک یا تمام سازشیں کامیاب ہو گئیں تو پاکستان عدم استحکام کا شکار ہو گا‘ جس سے معیشت برباد ہو جائے گی۔ یہ سازش اہل پاکستان کیخلاف سب سے بڑی سیاسی سازش ہو گی۔ ہم بازن طینی دور کو خوش آمدید ہی کہہ سکتے ہیں!
daily jinnah
Recent Comments