مجھے خواب کم ہی آتے ہیں اور میں اکثر ان لوگوں کو نہایت رشک سے دیکھتا ہوں جن کے پاس ہر صبح درجن بھر خوابوں کی ایک فہرست ہوتی ہے اور وہ انہیں پوری تفصیل کے ساتھ آپ کو سنانا اپنا فرض سمجھتے ہیں چاہے آپ کو ان سے دلچسپی ہو یا نہ ہو۔ ہر شخص کو اس کے عقیدے ، خاندان ، رسم ورواج اور موسموں کے مطابق خواب آتے ہیں یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک مسلمان کو مہاتما بدھ خواب میں دکھائی دینے لگیں یا تبت کا کوئی بدھ لامہ حضرت یحییٰ کو خواب میں دیکھنے لگے۔ اس طور ایک افریقن اپنے خواب میں وہی جانور دیکھے گا جو اس کے آس پاس گھومتے ہیں اور انہی موسموں کے خواب دیکھے گا جو اس کے اپنے ملک کے ہوںگے یعنی ایک افریقی خواب میں یہ نہیں دیکھے گا کہ وہ اپنے برف سے بنے گھر ’’اگلو‘‘ میں قیام پذیر ہے اور وہ برفانی کتے جو اس کی گاڑی برفزاروں پر کھینچتے ہیں وہ کہیں گم ہوگئے ہیں اور وہ فکر مند ہے کہ اب مزید برفانی کتے کہاں سے حاصل کروں گا اس طور ایک اسکیمو کو یہ خواب نہیں آئے گا کہ وہ کسی صحرا میں پیاس کی شدت سے نڈھال ہے اس کا اونٹ فوت ہوچکا ہے اور دور دور تک کھجور کے کسی درخت کا نام ونشان نہیں۔ویسے میرے پورے خاندان والوں کو خواب کم ہی آتے ہیں یاد رکھئے کہ خواب آنے اور خواب دیکھنے میں واضح فرق ہوتا ہے میں ذاتی طور پر خواب تو بہت دیکھتا ہوں لیکن عالم بیداری میں اپنے خاندان اور اپنے ملک کی بہتری کے خواب کچھ خواہشوں کے خواب لیکن نیند کے دوران مجھے خواب کم ہی آتے ہیں اور اگر بھول چوک سے کوئی خواب آبھی جائے تو صبح تک یاد نہیں رہتا اس طور میری بیگم بھی ایک خواب فری خاتون ہیں مجھ سے شادی سے پیشتر کہا جاتا ہے کہ انہیں زندگی میں پہلی بار برے برے خواب آئے ،لیکن شادی کے بعد کچھ بھی نہیں آیا۔ صرف میں آیا۔جیساکہ میں نے عرض کیا ہے کہ ہمارے خاندان میں ہی خوابوں کا سلسلہ بہت کم ہے لیکن ایک بار میری چھوٹی ہمشیرہ کو ایک عجیب سا خواب آیا کہ ہم سب بہن بھائی یعنی چھ کے چھ کسی نامعلوم تاریکی میں بھاگے چلے جارہے ہیںاور ہمارے ساتھ ہمارا خالہ زاد بھائی ساجد بھی ہے پھر ہمارے سامنے ایک بلند دیوار آتی ہے جسے ہم تو عبور کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن ساجد وہ دیوار پار نہیں کرسکتا۔ بار بار کوشش کرتا ہے اور گر جاتا ہے اور پھر وہ کہتا ہے کہ آپ سب لوگ چلو میں پار نہیں آسکتا اور ہم اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اس خواب کے چند روز بعد کیپٹن ساجد کا جہاز کوئٹہ میں کرپش ہوجاتا ہے اور وہ شہید ہوجاتا ہے لیکن یہ ایک اتفاق بھی ہوسکتا ہے ایسے خواب آتے رہتے ہیں اور یہ خواب منطبق ہوگیا ابھی پچھلے دنوںا یک عزیز دوست نے بتایا کہ چوہدری صاحب مجھے خواب کم آتے ہیں لیکن میں نے دیکھا کہ میں نے اپنی بیوی کو باہوں میں اٹھایا ہوا ہے اور اس کا چہرہ عجیب سا ہے جیسے اس میں جان نہ ہو اور وہ بولتی نہیں کچھ روز بعد ان کی بیگم ایک شدید جان لیوا نوعیت کے مرض میں مبتلا ہوئیں اور وہ اسے باہوں میں اٹھا کر بستر پر لگارہے تھے تو ان کا کہنا ہے کہ اس کا چہرہ سراسر اس خواب جیسا تھا جیسے اس میں جان نہ ہو صدشکر کہ وہ اس موذی مرض سے بچ نکلیں اور اب ماشاء اللہ پھر سے مکمل طور پر صحت مند ہیں اوراپنے بال بچوں کی خوشیوں میں شریک ہیں شاہ صاحب کا یہ خواب بھی ایسا تھا کہ حقیقی زندگی میں اس کی تصویر ان کے سامنے آگئی۔میں نے ان خوابوں کی تہہ اس لیے باندھی ہے کہ مجھے بھی ایک خواب آیا اور میں آپ کو اس میں شریک کرنا چاہتا ہوں میں عرض کرچکا ہوں کہ مجھے خواب کم آتے ہیں اس لیے یہ خواب میرے ذہن پر نقش ہوگیا ہے اور بہت ہی مبہم اور منتشر سا خواب ہے غیر واضح ہے اور اس کی کوئی تصویر نہیں بنتی۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اور میری بیگم کسی اجنبی سرزمین میں سفر کررہے ہیں جس کی کچھ پہچان نہیں ہورہی کہ یہ کونسا ملک ہے یہاں باشندے کون ہیں کون سی زبان بولتے ہیں کچھ لوگوں کو روک کر پوچھتے ہیں کہ ہم دونوں یہاں اجنبی ہیں آپ بتائیے کہ یہ کونسی جگہ ہے اور وہ لوگ بولتے نہیں ہمیں دیکھتے جاتے ہیں لیکن چپ رہتے ہیں ہم دونوں حیران ہیں کہ ہم اگر سفر میں ہیں تو یہ تو معلوم ہو کہ کس ملک میں ہیں پھر ایک صاحب کہتے ہیں کہ ہمیں خود علم نہیں کہ یہ کونسا ملک ہے جس میں ہم رہتے ہیں ان کی صورت شکل پاکستانیوں جیسی ہے اور وہ اردوبولتے ہیں تو میں پوچھتا ہوں کہ آپ پاکستانی ہیں؟ تو وہ کہتے ہیں ہاں میں پاکستانی ہوں تو میں دریافت کرتا ہوںکہ آپ پاکستان سے کب آئے تو وہ حیران ہو کر کہتے ہیں کون سے پاکستان سے یہ نام تو میں نے پہلے کبھی نہیں سنا اس پر میں ان سے بحث کرنے لگتا ہوں کہ اگر آپ پاکستانی ہیں تو پاکستان سے آئے ہوں گے اور وہ ایک عجیب سی اداسی کے ساتھ کہتے ہیں سب لوگ یہاں اس اجنبی دیار میں ہمیں اس نام سے پکارتے ہیں لیکن ہم لوگ یہ نہیں جانتے کہ پاکستان نام کاکوئی ملک بھی ہے یا کبھی تھا ہمارا سفر پھر شروع ہوجاتاہے اور ہم کسی آبادی میں داخل ہوتے ہیں وہاں بازار بند پڑے ہیںا ور دور دور تک کوئی ذی روح دکھائی نہیں دے رہا یہاں بھی میں چند ہم شکل پاکستانیوں کو دیکھتا ہوں جو مجھ سے بات نہیں کرتے ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ یہ جو بھی ملک ہے یہاں کے باشندے ہمیں کیوں نظر نہیں آرہے صرف کہیں کہیں پاکستانی شکل کے لو گ چل پھر رہے ہیں اور سہے ہوئے ہیں ادھر ادھر چوکنے ہو کر دیکھتے ہیں ہم سے بات نہیں کرتے پھر ہم ایک آہنی پنجرہ دیکھتے ہیں جس کا سامنے کا حصہ عیاں ہے اور بقیہ پنجرہ مٹی میں دبا ہوا ہے اس پنجرے میںسینکڑوں لوگ قید ہیں اور وہ بھی پاکستانی شکل کے ہیں یہ پاکستانی سلاخوں میں چمٹے ہم دونوں کو حیرت سے دیکھتے ہیں ان کے قریب پنجرے کے باہر ایک بوڑھا شخص کھڑا ہے اور ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ یہ قیدکیوں ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ قید تو نہیں یہ تو خوش قسمت ہیں کہ انہیں یہاں پناہ مل گئی ورنہ بقیہ پاکستانی تو دربدر بھٹکتے ہیں مقامی آبادی سے بھیک مانگ کر پیٹ پالتے ہیں یہ پاکستانی مقامی چڑیا گھر میں جانوروں کی غلاظت صاف کرنے پر مامور ہیں انہیں صبح وہاں سے لے جاتے ہیں اور رات کو یہاں بند کردیتے ہیں میں اس بوڑھے سے کہتا ہوں کہ کیا آپ بھی نہیں جانتے کہ پاکستان ایک ملک تھا تو وہ کہتا ہے کہ مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ اس نام کا کوئی ملک شاید ہوتا ہوگا لیکن اگر ہوتا تو یہ پاکستانی یوں دربدر نہ ہوتے میں ہراساں ہو کر اپنی بیگم سے کہتا ہوں کہ جلدی کرو آؤ ہم اس اجنبی سرزمین سے واپس اپنے پاکستان لوٹ چلیں اور ہم پھر سے سفر کرنے لگتے ہیں اور ہمیں راستہ نہیں مل رہا۔میں نے یہ عجیب سا خواب جب دیکھا بیان کردیا حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ میں نے اپنی طرف سے اس میں کچھ شامل نہیں کیا میں جو خواب کم ہی دیکھتا ہوں مجھے اگر یہ خواب آیا تو کیوں آیا کیا یہ سچ ثابت ہوسکتا ہے؟۔

Daily Jinnah, 23-Apr-09

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks
  • Add to favorites
  • email

Related posts:

  1. آؤ مدینے چلیں ۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
  2. سیاحت کے شرعی مسائل – مستنصر حسین تارڑ
  3. ناشتے پہ ناشتہ – مستنصر حسین تارڑ
  4. یہ زندگی کے میلے۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
  5. بیٹی حقہ پیتی ہے ۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha