تاریخ کے اس موڑ پر جب افغان سرحد کے ساتھ ہماری سات قبائیلی ایجنسیوں میں کسی بھی قسم کے حکومتی کنٹرول کا فقدان ہے اورجنت نظیر سوات دوزخ کی جیتی جاگتی تصویر بن کر آہستہ آہستہ قرون وسطیٰ کی طرف لوٹ رہا ہے ،بلوچستان کے بڑے حصے پر بے اطمینانی چھائی ہوئی ہے اور فوج کو اب وہ اخلاقی اتھارٹی اور کمانڈ حاصل نہیں جو کبھی اسے حاصل ہوا کرتی تھی تو ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کے محصور فیڈریشن میں بڑے بھائی کی حیثیت رکھنے والا پنجاب اپنی تاریخی ذمہ داری کی اہمیت کو سمجھ رہا ہے؟

اگر یہ کہا جائے کہ پنجاب وہ محور ہے جس کے گرد پاکستان زیر گردش ہے تو بیجا نہ ہوگا لیکن برائے کرم اسے پنجابی شاؤنزم نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے دیگر صوبوں کے حوالے سے عدم احترام پر مبنی بیان قرار دیا جائے۔یہ ایک سادہ حقیقت ہے جسکی بنیاد جغرافیہ، آبادی اور اقتصادی اثر و نفوذ پر مبنی ہے۔ دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب کے بھاری بھرکم وجود کو کافی عرصے تک سیاسی غلبے کے لئے جواز بنایا گیا جس سے پاکستان کا تو کم از کم کوئی بھلا نہ ہو سکا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ پنجابی غلبہ ہی تھا جس نے سانحۂ مشرقی پاکستان کی راہ ہموار کی اور پاکستان کو دولخت کردیا۔

ریکارڈ کی درستگی کے لئے یہ وضاحت ضرور کرتے چلیں کہ پاکستان پر حکمرانی کے ان سارے معاملات سے پنجابی کسان یا پنجابی ہنرمند کا کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ بیچارے بھی اتنے ہی بے گھربے زمین اور بے اماں تھے، جس قدر پاکستان کے دیگر علاقوں کے باشندے تھے۔ یہ پنجابی بیوروکریٹ اور پنجابی آرمی افسران تھے جنہوں نے نوقدامت پسندی neo-conservatism کے پنجابی ورژن کو نہ صرف یہ کہ سہارا دیا بلکہ اسکی ترویج و فروغ کے لئے بھی کوششیں کیں۔ نوقدامت پسندی پر مبنی یہ مکتبہ فکر ’’نظریہ پاکستان‘‘ کا پرچارک ہے اور خوش قسمتی سے اب صرف لاہور شہر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

نظریہ پاکستان سے تعلق رکھنے والا مکتبہ فکر اس امر کا پورا پورا لحاظ اور خیال رکھتا ہے کہ کسی بھی کیچڑ آلود معاملے میں انکے بوٹ گندے نہ ہونے پائیں۔ پاکستان کے موجودہ بدترین حالات کے باوجود لاہور آج بھی رہائش کے حوالے سے ایک دل پسند جگہ قرار دی جا سکتی ہے لیکن شہر لاہور کی خوش رنگ و پرآرام فضا سے جہاد کی نیکی و بھلائی اور بھارت کے ساتھ نہ ختم ہونے والی مقابلہ آرائی کا پرچاراب بھی جاری و ساری ہے۔حیرت انگیز امر تو یہ ہے کہ لاہور اب بھی بہترین مقامات کا حامل ہے جس میں مال کا علاقہ سرفہرست ہے جو ہمارے خیال میں برصغیر کا سب سے ذیادہ سٹائلش اور خوبصورت علاقہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یقین مانیں میںجب بھی اس علاقے سے گذرا ہوں تو اسے ایک حسرت آمیزللچائی نگاہ سے ہی دیکھا ہے۔

لیکن اب غلبے کے دن لد گئے۔ پاکستان اب اور ہی قسم کے درجنوں مسائل کے گرداب میں گھر چکا ہے۔ 1971میں بھارت اور مشرقی پاکستان میں نیشنلزم کے ہاتھوں جب پاکستان دولخت ہو گیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے باقیماندہ پاکستان کو ایک نیا پاکستان قرار دیا۔وہ غلط تھے۔ انکا پاکستان پرانے پاکستان کا ہی تسلسل محض تھا۔اور گرچہ ذوالفقار علی بھٹو اپنی جنریشن اور اپنے دور کے سیاستدانوں کے مقابلے میں انتہائی ذہین فطین تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے بھی وہی پرانی غلطیاں دہرائیں۔ انہوں نے بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کر دیا اور خود اپنے ہی عوام کے لئے جابر حکمران کا روپ دھار بیٹھے۔

اگر بھٹو ذرا محتاط رہتے اور ہوشیاری سے حکومت کرتے تو شاید پاکستان کو جنرل ضیاء الحق اور انکے منافقانہ اسلام سے بچا لیا جاتا۔دیکھئے ضیاء نے پاکستان کے ساتھ مذاق کر کے اسے کیسا مذاق بنا ڈالاہے۔ کیا ہمارے ملک سے بڑھکر کوئی ملک اسلامی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ضیاء نے اپنے مقاصدکے حصول کے لئے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر سے مشرف بہ اسلام کرنے کی کو ششیں شروع کر دیں۔

سو پھر واقعات کا تانا بانا بُنتے چلے جائیے۔ بھٹو نے ہمیں ضیاء کا تحفہ دیا، ضیاء نے ہمیں منافقت پر مبنی اسلامائزیشن کا تحفہ دیا اور اس منافقت کی کوکھ سے پہلے افغان جہاد نے جنم لیااور پھر اسی جہادی عفریت (ڈریگن) نے ہمیں القاعدہ اور اسی قبیل کے دیگر انتہا پسند گروہ ودیعت کئے جو آج بھی ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ اس موقع پر اگر یانکیز (امریکیوں کے لئے قابل نفرین طرز تخاطب) یہ سمجھتے ہیں کہ انکو اس سارے جھمیلے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے تو یقین رکھیں ، ایسا نہیں ہے، انہیں ایسا سوچنا بھی نہیں چاہئیے کیونکہ وہ بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے ہماری سرزمین پر عفریتوں کے بیج کاشت کر کے ہمیں یہ نوید سنائی کہ یہ ایک صالح عمل ہے اور ہمیں حوصلہ دیا کہ لگے رہو ، ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ اب وہ طالبان کیساتھ جنگ میں بھڑے ہوئے ہیںاور امریکی سیٹیلائیٹ القاعدہ کے روپوش سربراہ کی کھوج میں ہے لیکن لگتا ہے کہ یہ کھوج کچھ بے مقصد ہی جا رہی ہے لیکن جانے دیں ، انہیں بھی تو اس درد کا مزہ چکھ لینے دیں جس سے اس وقت پاکستان گذر رہا ہے کیونکہ بہرحال ہم دونوں ہی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

وزیرستان کے بیت اللہ محسود اور سوات کے مولانا فضل اللہ کا پاکستان بھی نیا پاکستان ہے ، آندھی طوفان کے جن تھپیڑوں نے اس نئے پاکستان کو وجود بخشا ہے اسکے مکمل اثرات و مضمرات کا فی الوقت احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ تاہم اس صورتحال میں پنجاب کا ٹاسک سمٹ گیا ہے، پنجاب ،سربیا نہیں جس نے یوگوسلاویہ کے بریک اپ میں اہم کردار ادا کیا بلکہ پنجاب کو وہ مضبوط مقناطیسی طاقت بننا ہے جس سے پاکستان کے پریشاں و منتشر اجزاء سمٹے رہ سکیں۔
لیکن اگر پنجاب کی گذشتہ دو ہزار سالہ تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے تو ہمیں مہاراجہ رنجیت سنگھ ورک کے علاوہ اور کوئی ایسی قابل ذکر ہستی نہیں دکھائی دیتی جسے اس مٹی نے جنا ہواور جس نے قابل ذکر طرز کی حکمرانی کی ہو، ہم افغانستان، ایران اور وسطی ایشائی سے آئے حکمرانوں کا تذکرہ نہیں کر رہے بلکہ خالص اس مٹی سے پیدا ہونے والے حکمرانوں کی بات کر رہے ہیں۔جی ہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے علاوہ ہمیں کوئی قابل قدر ہستی دکھائی نہیں دے رہی اور پھر ہم اس پر حیرت کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ آخر کیوں پنجاب نے ہمیشہ سیاسی سازشیوں کو ہی جنم دیا ہے۔ اسکندر مرزا کی ریپبلکنز ہو، ایوب خان کی کنونشن لیگ ہو یا پرویز مشرف کی قاف لیگ ہو۔پنجاب کی تاریخ ایسی ہی مثالوں سے بھری پڑی ہے، تو پھر اس میں حیرت چہ معنی دارد۔

لیکن اب قدرت نے پنجاب کے کاندھوں پر ایک تاریخی ذمہ داری عائد کر دی ہے۔ اگر پاکستان کے شمال اور شمال مغربی حصے میں آتش و آہن بپا ہے، اگر بلوچستان میں بغاوت کا علم بلند ہو چکا ہے اور اگر کراچی کے معاملات سے غلط قسم کے اشارے مل رہے ہیں تو پنجاب کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے کمفرٹ زون (آرام فرسا علاقہ )بن جانا چاہیئے تاکہ پاکستانی عوام یہ امید کر سکیں کہ یہ برا وقت ٹل جائیگا اور اچھا وقت جلد آئیگا۔ حالات سے تنگ آکر سوات اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں سے مقامی لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔لیکن اس وقت کیا ہو گا کہ مشکلات سے تنگ آئے ان لوگوں کو اگر پنجاب میں بھی صورتحال بہتر نہ ملے؟

سو چاند ستاروں کی گردش کیا کہہ رہی ہے۔ ہمارے پاس گورنر سلمان تاثیر کے حوالے سے ضائع کرنے کے لئے ذیادہ وقت نہیں ، گرچہ وہ دو دفعہ ایم پی اے منتخب ہو ئے ہیں اور انکی انتہائی کوششوں کے باوجود وہ ایم این اے نہ بن پائے لیکن اسکے باوصف ہم ان کے حوالے سے ذیادہ کلام کے قائل نہیں۔ ہاں ایک بات تو طے ہے کہ سلمان تاثیر کو یہ ایک خواہش لے ڈوبی ہے کہ وہ کسی لحاظ سے اہم حیثیت اختیار کر لیں اور اسکے لئے وہ کوئی بھی تباہ کن قسم کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن شومئی قسمت کہ پاکستان کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں یہ موقع نصیب نہیں ہو سکے گا، پاکستان میں اس وقت نئی قسم کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے اور اسلام آباد میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نہ صرف اپنے آپ کو منوانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ اپنی پرواز اور اڑان کو مزید اونچائیوں تک لیجانے کی کوششوں میں ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ تاثیر کسی زمانے میں پی پی پی میں تھے لیکن ہم بھی تو کسی دور میں اسی جماعت سے وابستہ تھے، تو پھر کیا ہوا۔ آج اگر کوئی سلمان تاثیر کو جانتا ہے تو انہیں صرف مشرف کی باقیات کے طور پر جانتا ہے۔ ہاں انکی موجودگی سے گورنر ہاؤس میں رنگا رنگی اور گہما گہمی کا سماں بندھا ہوا ہے۔ انہیں گورنر ہاؤس میں رہنے دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن انکے ’کہے کئے‘ کو ذیادہ سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو بہتر ہے۔ موصوف کوپارٹیاں دینے، کھانے پینے اور پینے پلانے سے جو علاقہ ہے ، اس حوالے سے تو ہمیں بس حسرت ہی رہی کہ کاش ہم بھی اس جود و سخا کا لطف اٹھاتے جو انہیں لاہور کے لالی وڈ والوں کی طرف سے حاصل ہے۔ چلیں چھوڑیں ، انہیں اپنے کنکشن بڑھانے اور پکے کرنے دیں اور چلیں امید کریں کہ اگر مستقبل قریب میں کوئی تقریب ہوئی تو وہ پرانی راہ و رسم کا ہی لحاظ کرتے ہوئے ہمیں مدعو فرمائیںگے۔

پنجاب کے حکمرانوں کو طرز حکمرانی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صوبے میں چیف منسٹر کی شہرت ہے، مشہور یہ ہے کہ ہمارے وزیراعلیٰ خاصے محنتی ہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری میٹنگ اور میٹنگوں کے لامتناہی سلسلے سے معاملات قابو میں نہیں آتے، ذیادہ میٹنگ بازی بھی کوئی اچھا شگون نہیں۔ کچھ وقت ایسا بھی ہونا چاہیے جب اجلاسوں سے ہٹ کر معاملات پر غور و فکر کیا جائے۔ اور کچھ وقت اچھے مثبت لوگوں سے بات چیت میں بھی گذارنا چاہیئے تاکہ ذہن میںنئے خیالات نمو پا سکیں اور ہمارے خیال میں لاہور میں اچھے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اور خوش قسمتی سے نظریہ پاکستان مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے کرسی نشین جنگجوؤں کے مقابلے میں سلجھے سمجھدار لاہوریوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔

بیوروکریسی پر حد سے ذیادہ اعتبار و انحصار بھی کچھ ذیادہ دانشمندی نہیں۔ بیوروکریٹس اس وقت بہتر ثابت ہوتے ہیں جب انہیں ’’نفاذ‘‘ یا اطلاق کا کام سپرد کیا جائے لیکن بیوروکریٹس سے سیاسی مشورہ لینا انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سیون کلب روڈ پر میٹنگز منعقد کرتے ہیں اور میں متعدد بار خود بھی ان میٹنگز میں شریک رہا ہوں لیکن ان اجلاسوں میں شرکت کے بعد (میرا زاویۂ نگاہ قطعی طور پر غلط بھی ہو سکتا ہے) مجھے یہ محسوس ہوا کہ ان اجلاسوں میں بابوؤں کی تعداد ضرورت سے کچھ ذیادہ ہے ، کچھ تو حاضر سروس ہیں اور کچھ ریٹائرڈ۔ میری خواہش ہے کہ ان اجلاسوں میں سیاستدانوں کی ذیادہ تعداد شرکت کرے، اس میں سیاسی کارکن شامل ہوں، عام لوگ شریک ہوں اور صحافیوں کو مدعو کیا جائے، جی ہاں صحافی جن پر انحصار کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ آپ کو پہاڑ کے دوسری طرف کا منظر پیش کرسکتے ہیں۔ جہاں تک سیون کلب روڈ کا تعلق ہے تو یقین مانیں یہ کسی ہسپتال کے وی آئی پی وارڈ کا حصہ دکھائی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا ابھی ابھی اردلی جراثیم کش سپرے کا چھڑکاؤ کر کے گیا ہو۔

پاکستان کے ابتدائی سالوں میں سول سروس کی سیاسی بالادستی اور غلبے نے ملک میں جمہوری سیاسی کلچر کے نمو اور فروغ کو انتہائی منفی طریقے سے متاثر کیا ہے۔لیکن ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ سول سروس کو اب وہ اثر و نفوذ حاصل نہیں رہا۔ پاکستان میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے اور عہد کا خاتمہ ایک ایسا وقوعہ تھا جس پر کوئی صف ماتم نہیں بچھی اور نہ ہی اس کی رحلت پر فاتحہ خوانی کیلئے کوئی ہاتھ آسمان کی طرف بلند ہوئے۔لیکن اسکے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ لاہور میں سول سروس سے تعلق رکھنے والا ایک مضبوط قبیلہ موجود ہے جو ملک میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے نظام کی بحالی کا خواہاں ہے۔ خواب دیکھنا اس قبیلے کے افسران کا حق ہے لیکن ان افسران کو یہ اجازت نہیں دی جانی چاہیئے کہ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی کوششیں بھی کریں کیونکہ اگر واقعی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا نظام بحال ہو گیا تو اس سے انتظامی امور میں حد سے ذیادہ الجھاؤ آجائیگا اور پریشانیاں بڑھیں گی، جس سے کسی کو بھلا نہیں ہوگا۔

یہ سہی ہے کہ ضلع ناظمین نے اپنے وقت میں خوب کُھل کر داؤ پیچ کھیلے اور افراتفری مچائی لیکن اسکی وجہ یہ تھی کہ وہ مشرف حکومت کے سیاسی آلۂ کاربن بیٹھے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور منتخب ضلعی سربراہان کا آئیڈیا کچھ اتنا برا بھی نہیں، ہاں اس نظام میں چند ایک ترامیم کی گنجائش ضرور موجود ہے جو بآسانی کی جا سکتی ہیں۔

اور اب بات آتی ہے پولیس فورس کی جسے ہر لمحہ بگڑتی لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال میں قانون کے نفاذ کی کُلی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، ایسے میں اگر سول سروس کو بھی قانون کی موشگافیوں میں الجھانے کا قصد کیا گیا تو اسے پولیس فورس بھی تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھے گی۔ ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ کے نظام کا مردہ دفنایا جا چکا ہے، اب گڑھے مردے اکھاڑنے سے معاملات ابتر ہو سکتے ہیں کیونکہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گذر چکاہے ۔ اب اگر ہم اس دور کی طرف پلٹنے کی خواہش کریں جو گذر چکا ہے تو یہ ہمارے خیال میں کوئی نیک شگون نہیں ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہر گز نہیں ہے کہ ہماری پولیس سروس کو اصلاحات کی ضرورت نہیں۔ یقین مانیں اگر پاکستان میں کسی کنسنٹریشن کیمپ کا وجود ہوتا تو پاکستانی عوام کی یہ شدید خواہش ہوتی کہ وہ پولیس کی ایک بڑی تعداد کو اس کیمپ میں گلتا سڑتا دیکھ سکتی۔ گذشتہ سال انتخابات کے موقع پرمیں نے اپنی آنکھوں سے خوابوں کا پردہ نہیں ہٹایا تھا اور میں ہر چیز کے متعلق خاصا پر امید اور خوش گمان تھا، اصلاحات میرے رگ و پے میں طوفان بپا کئے ہوئے تھیں۔ شاید اسی لئے میں نے یہ درخواست دے دی کہ مجھے اپنے ضلعے کے لئے براہ راست بھرتی شدہ پولیس افسران مطلوب ہیں یعنی پی ایس پی افسران۔ لیکن اپنے ضلعے چکوال میں ان پولیس افسران کے کارنامے دیکھ کر نہ صرف یہ کہ میری امیدوں پر اوس پڑ گئی ہے بلکہ اب تو میرے من میں شدید ترین شکوک و شبہات نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔

لیکن ان شکوک و شبہات کے باوجود میں یہ کہوں گا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریسی نظام کے مردے کو قبر سے نکال کر اس میں جان ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اگر دو بری چیزوں میں انتخاب مجبوری ہو جائے تو کم تر برائی پر اکتفا کرنا بہتر ہے۔

ختم شد۔

Daily Jinnah

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. طالبانیت کی روح غائب ہے۔۔۔۔ ایاز امیر
  2. جناح کی تعریف پر جسونت سنگھ بی جے پی سے باہر
  3. آٹھ سو سالہ تاریخ کا اعادہ – ایاز میر
  4. قائداعظم ، بھارتی سیکولرازم اور جسونت سنگھ کی کتاب۔۔۔۔ رانا عبدالباقی
  5. کون زیادہ طاقتور ہے، طالبان یا شوگر ملز مالکان۔۔۔۔ ایاز میر

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha