جنرل محمد ضیاء الحق نے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف اپنی جنگ جیت لی تھی پھر وہ قتل کیوں کر دیئے گئے۔ کیا اس کے سوا بھی ان کا کوئی جرم تھا کہ وہ فتح کے تمام ثمرات امریکہ کی جھولی میں ڈالنے پر آمادہ نہ تھے اور کیا انہوں نے اس کے سوا بھی کسی حماقت کا ارتکاب کیا تھاکہ اپنی قوم کو انہوں نے اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ کیا ابھی اس نکتے پر غور کرنے کا وقت نہیں آیاکہ افراد اور اقوام غلطیوں سے نہیں، اپنی غلطیوں پر اصرار سے تباہ ہوتی ہیں؟
صدر زرداری کو ٹوکیو میں دہشت گردی کے خلاف آموختہ دہراتے دیکھنا تکلیف دہ تھا۔ ٹوکیو میں ٹی وی کے نمائندے سے یہ سوال کہ “جاپان اور امریکہ کے علاوہ کون کون سے ممالک پاکستان کو فراخدلی سے مدد دیں گے” اس سے بھی زیادہ اذیت ناک۔ کیا ہم، دنیا کی سب سے زیادہ سر سبز زمین پر بسنے والے لوگ ، دنیا کے بھکاری ہیں؟ کرہٴ ارض پر سب سے زیادہ فی کس زیرِ کاشت رقبے کا ملک، دنیا میں سب سے بڑے نہری نظام کی حامل قوم۔ کیا اب کشکول ہی ہماری علامت، شناخت اور پہچان ہے۔ زخموں پر نمک واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والی رپورٹ کا ایک پیراگراف ہے”اگر پاکستان کی حالت اسی طرح خراب ہوتی گئی تو اس منظر کو تصور میں لانا مشکل نہیں، جس میں جنرل کیانی جنرل مشرف بن جائیں گے اور باقاعدہ طور پر اقتدار پر قبضہ کر لیں گے… مگر اپنے” دوست مائیکل ملن “کو اطلاع دیئے بغیر نہیں کہ صورتِ حال ان کے قابو میں ہے اور جس قدر جلد ممکن ہوگا وہ جمہوریت بحال کر دیں گے “۔
امریکیوں کے ہولناک حد تک سنگ دلانہ رویّے کا ذمہ دار کون ہے۔ امریکہ یا خود پاکستان کے سترہ کروڑ عوام؟ اب تک تین اندازے سامنے آئے ہیں۔ ایک یہ کہ گزشتہ آٹھ برس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 64 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا، دوسرے 46/ارب ڈالر اور تیسرے 34/ارب ڈالر ۔ اگر سب سے کم تخمینے کو درست مان لیا جائے، اگر اس کے ساتھ یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ امریکہ بہادر سے ملنے والے 12/ارب ڈالر خرچ کرنے کی بجائے، بینکوں میں جمع کرادیئے گئے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان اب تک 22/ارب ڈالر خرچ کر چکا ۔ کیا پاکستانی معیشت امریکی معیشت سے دوگنا بڑی ہے؟ کیا امریکیوں نے پاکستان سے پوچھ کر افغانستان پر حملہ کیا تھا اور پاکستان نے وعدہ کیا تھاکہ وہ اس جنگ کے بیشتر اخراجات برداشت کرے گا؟
الجزائر کی جنگِ آزادی کے حامی فرانسیسی دانشور فرانزز فنین نے لکھا تھا “کبھی ایسا ہوتا ہے کہ غلام اپنے آقا کے ذہن سے سوچنے لگتا ہے”۔ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ یہ ہماری جنگ ہے۔ حد تو یہ ہے کہ قمر الزمان کائرہ بھی یہی کہتے ہیں، جن سے صداقت شعاری اور سلیقہ مندی کی کچھ امید کی جاتی ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ جب انہوں نے اپنی زخموں سے چور بہن کے بارے میں وزیرِ خارجہ سے بات کی تو انہوں نے بہت ہی ہتک آمیز لہجہ اختیار کیا۔ جسٹس بلال اب تعین کریں گے کہ کیا واقعی ایسا ہوا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سے انہوں نے کہا ہے کہ وہ وزارتِ خارجہ سے رابطہ کریں، بیس دن کے اندر اندر۔ معاملہ چونکہ عدالت میں ہے لہٰذا تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔
کیا اس ملک کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں؟ زرداری صاحب تو خیر لیکن میاں محمد نواز شریف کا مسئلہ بھی کیا صرف سترھویں ترمیم ہے۔اگر اٹھارویں ترمیم منظور کر لی جائے اور امید ہے کہ کرنی ہی پڑے گی۔ اگر میثاقِ جمہوریت پر عملدرآمد کا آغاز ہوجائے اور امید ہے کہ بڑے حصے پر بالآخر عمل کرنا ہی پڑے گا تو کیا سترہ کروڑ پاکستانیوں کے زخم مندمل ہو جائیں گے۔ اگر امریکہ افغانستان میں موجود رہے اور اس کے ڈرون طیارے قبائلی علاقوں پر بم برساتے رہیں۔ اگر بھارت بلوچستان میں اسلحہ بھیجتا رہے اور ہالبروک اعلان کرتے رہیں کہ افغانستان میں بھارت کا کردار بے حد اہم ہے تو کیا اٹھارہویں ترمیم اور میثاقِ جمہوریت کو قوم شہد لگا کر چاٹاکرے گی؟ نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کی صورتِ حال تشویشناک ہے،کسے معلوم نہیں کہ تشویشناک ہے اور برسوں سے ہے ۔ کیا ایک لیڈر کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ کلیشے میں گفتگو کرے یا ایک پروگرام اور لائحہ عمل پیش کرنے کی کوشش کرے۔ اس قوم کے حال پر افسوس ، جس کے لیڈر نواز شریف ، پرویز الٰہی، آصف علی زرداری اور جنرل پرویز مشرف ایسے لوگ ہوں۔
جنرل پرویز مشرف سے تو شاید غلام علی لنگڑا بہتر تھا، اپنے ذاتی مفاد کے لیے اس نے ٹیپو سلطان سے غداری کی لیکن اسے کبھی جواز پیش کرتے نہ دیکھا گیا۔ میسور میں برسات کا آغاز اپریل کے اوائل سے ہوتا ہے۔ ٹیپو نے اپنی جنگی حکمتِ عملی اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے ترتیب دی۔ عقب میں محل تھا۔ دائیں طرف عمارتوں کا سلسلہ اور سامنے کھلا میدان ۔ گھڑ سوار فوج کو وہیں سے حملہ آور ہونا تھا۔ بارش سے دشت کیچڑ ہوجائے گا اور محل سے توپوں کے گولے برسیں گے لیکن اس روز میسور کا آسمان نیلا تھا۔ غداری اور نظام حیدرآباد کی فوج کے طفیل جو انگریزوں کے ساتھ کھڑی تھی، حیدر علی کا بہادر سپوت اورمملکتِ خداداد ہار چکی تو مشرق سے بادل امنڈ کر آئے۔ انگریز فوج کے خیمہ و خرگاہ میں جشن کی تیاری تھی۔ ایک میجر کو تھوڑے سے فوجیوں کے ساتھ میدان میں چھوڑ دیا گیاکہ وہ تجہیزو تکفین کا انتظام کرے۔ بادل گہرے ہوتے گئے اور شب تاریک تر ۔ قبر کھودی جا چکی تو بارش کے پہلے قطرے گرے۔ سیاہ رات میں بجلی چمکی تو میجر نے دیکھا کہ میر غلام علی لنگڑے کا چہرہ آنسوؤں سے ترتھا۔
HAPPENED MIR SAHIB?” WHAT ” اس نے حیرت سے پوچھا”ایں صاحب شمانہ کشتہ ایم، ماکشتہ ایم” ” ان صاحب کو تم نے نہیں مارا” اس نے کہا”اسے ہم نے قتل کیا ہے”
DONT WORRY MIR SAHIB, YOU WILL BY PAID WELL” ”
(فکر نہ کیجیے، میر صاحب آپ کو فراخدلی سے ادائیگی کی جائے گی) ۔ اس نے کہا۔
امریکہ اور جاپان کے علاوہ کون کون سے ملک پاکستان کو فراخدلی سے مدد دیں گے؟ وقائع نگار کا جواب تھا: یورپی یونین ، سعودی عرب اور امارات ۔ معاف کیجیے، میں یہ بتانا بھول گیاکہ ٹیپو کی موت پر انگریزوں نے ایک دن اور نظام حیدرآباد نے سات دن تک جشن منایا تھا۔ نظام کو ٹیپو سے کیا خطرہ تھا ؟ کچھ بھی نہیں۔ گاہے غلام اپنے آقا کے ذہن سے سوچتا ہے ۔
پاکستان کی فراخدلی سے مدد کی جائے گی مگر کس چیز کے لیے؟ صرف اپنے ہی لوگوں کو قتل کرنے یا افغان عوام پر امریکی تسلط کو دوام عطا کرنے کے لیے بھی؟ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی ہی بتا سکتے ہیں مگر وہ ٹوکیومیں ہیں ہمیں ان کی واپسی کا انتظار کرنا چاہئے۔ گستاخی ہوتی ہے مگر ایک چھوٹا سا سوال ہے۔ فرض کیجیے امریکیوں نے ، جیساکہ بعض کو یقین ہے، عراق کی طرح دوتین برس بعد افغانستان سے واپس جانے کا فیصلہ کیا؟ بنگالیوں کے زخم اب تک مندمل نہیں ہوسکے حالانکہ وہ ہم سے بہت دور ہیں۔ ایک ہزار کلومیٹر اور 38 برس کی مسافت پر ۔ افغانستان کے ساتھ تو ہماری سرحد2400 کلومیٹر پر پھیلی ہے۔ تین ہفتے قبل کیا جانے والا سروے یہ کہتا ہے کہ امریکی عوام کی نگاہ میں پاکستانی ، دنیا کی پانچ سب سے زیادہ نا پسندیدہ اقوام میں سے ایک ہیں، ہزاروں زندگیوں اور اربوں ڈالر کی قربانی کے باوجود۔ امریکی اخبارات کہتے ہیں کہ ڈرون حملوں کے لیے، پرویز مشرف کی طرح صدر زرداری سے ایک غیر تحریری خفیہ سمجھوتہ موجود ہے۔
کائرہ اور رضا ربانی کہتے ہیں: ہر گز نہیں لیکن امریکی اخبارات طوطے کی طرح دہراتے ہیں” موجود ہے، موجود ہے” ۔ صرف صدرِ پاکستان ہی نہیں ، نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ ، نواز شریف، جنرل کیانی اور پاکستانی پارلیمنٹ کا بھی مذاق اڑاتے ہیں ۔ چیف جسٹس کی بحالی کا تجزیہ کرتے ہوئے ، وہ وکلاء کی برپا کردہ عظیم الشان عوامی تحریک کا تذکرہ محض حوالے کے طور پر کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہیلری کلنٹن ، ہالبروک اور ڈیوڈ ملی بینڈ نے نواز شریف کو یقین دلایا کہ انہیں ایک دن ان کے صدر یا وزیرِ اعظم بننے پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے “گزشتہ ہفتے جب سفیر ہالبروک اور مائیکل ملن نے اسلام آباد کا دورہ کیا تو انہوں نے (ججوں کی بحالی کے ) سمجھوتے کی تائید کی ۔ بڑے کھلاڑیوں سے انہوں نے ملاقاتیں کیں اور اس امید کے ساتھ لوٹے کہ وہ تینوں ( صدر زرداری، میاں محمد نواز شریف اور جنرل کیانی ) صوبہ سرحد کے طالبان کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دیں گے۔”
جنرل محمد ضیاء الحق نے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف اپنی جنگ جیت لی تھی ۔ پھر وہ قتل کیوں کر دیئے گئے۔ کیا اس کے سوا بھی ان کا کوئی جرم تھا کہ وہ فتح کے تمام ثمرات امریکہ کی جھولی میں ڈالنے پر آمادہ نہ تھے اور کیا انہوں نے اس کے سوا بھی کسی حماقت کا ارتکاب کیا تھاکہ اپنی قوم کو انہوں نے اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ کیا ابھی اس نکتے پر غور کرنے کا وقت نہیں آیاکہ افراد اور اقوام غلطیوں سے نہیں، اپنی غلطیوں پر اصرار سے تباہ ہوتی ہیں؟ ہنری کیسنجر نے کہا تھا : امریکہ کی دشمنی خطرناک ہے، مگر دوستی اس سے بھی زیادہ۔
Recent Comments